ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

20 کل کتب
دکھائیں

  • 1 اسلام اور مسیحیت بجواب کتب مسیحیہ (منگل 16 جون 2009ء)

    مشاہدات:19189

    دين اسلام ايك ايسا فطری اور عالمگیر مذہب ہے جس کے اصول وفرامین قیامت تک کے لوگوں کے لیے شمع ہدایت کی حیثیت رکھتے ہیں-جبکہ دیگر الہامی مذاہب تحریف کاشکار ہو ہو کر ضلالت وگمراہی کے گڑھوں میں جا پڑے- زیر نظر کتاب میں مولانا  ثناء اللہ امر تسری رحمہ اللہ نے اسلام اور مسیحیت کا موازنہ پیش کرتے ہوئے مسیحیت کے حامی پادریوں کی اسلام کے خلاف لکھی گئی تین کتب کا یکجا کافی و شافی اور مدلل جواب دیا ہے۔-کتاب کے شروع میں اسلام کے اصول مساوات پر روشنی ڈالتےہوئے اس مغالطے کا تفصیلی رد کیا گیاہے کہ اسلام میں عالمگیر ہونے کی صلاحیت نہیں-مزید برآ ں مسیحیت کی عالمگیری پر ایک نظرڈالتے ہوئے اسلام اور مسیحیت کے اصولوں کا موازنہ اور اسلام دین فطرت ہے، کے موضوع پر ایک علمی مقالہ پیش کیا گیا  ہے- تقابلی مذاہب کے مطالعہ سے شغف رکھنے والوں اور عیسائی مشنریوں کے گمراہ کن پروپیگنڈوں کے جواب میں یہ ایک جاندار تصنیف ہے۔

  • 2 معقولات حنفیہ (جمعہ 28 اگست 2009ء)

    مشاہدات:19484

    زير نظر مختصر سے رسالہ میں ابوالوفاء ثناء اللہ امر تسری نے مسلک حنفیہ کے اختیار کردہ ان مسائل کو سپرد قلم کیاہے جو قرآن وسنت کی نصوص  سے میل نہیں کھاتے، لیکن ہمارے بھائی بعض غلط فہمیوں کو بناء پر اپنے مؤقف پر نظر ثانی کرنے کو تیار نہیں ہیں-کتاب میں مولانا نے سات مسائل جن میں مفقود الخبر،مرتد کا حکم، حرمت مصاہرت،خیار بلوغ،در دہ دہ،اقتدائے مقیم بالمسافر اور تفریق بین الزوجین جیسے مسائل شامل ہیں پر کتاب وسنت اور مقلدین حضرات  کے مؤقف کو بیان کر کے ثابت کیاہاے کہ ان دونوں میں آپس میں کس حد تک تفاوت پایا جاتا ہے- نیز مولانا اشرف علی تھانوی کے رسالہ 'الحیلۃ الناجزہ المحلیلۃ العاجزہ' پر بھی تبصرہ کیا گیا ہے۔

     

  • 3 دفاع سنت (منگل 16 مارچ 2010ء)

    مشاہدات:13396

    یہ کتاب  شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری کی تالیف لطیف ہے جو در حقیقت ایک کتاب بنام ’’ہفوات المسلمین ‘‘ کاعلمی رد ہےجواگست  1922ء میں ایک رافضی اور بدعتی عقائد کے حامل مصنف کی طرف سے شائع ہوئی۔ جس میں اس نے اپنےفہم فاسد سےبعض احادیث صحیحہ کی غلط تعبیر وتشریح پیش کی ہے اور ’’والاناء یترشح یما فیہ ‘‘کےمصداق اپنے خبث باطن کے اظہار کی بھرپور کوشش کی ہے اور یوں وہ ذخیرۂ حدیث پر ردوقدح وارد کرنے کامرتکب بن گیاہے حالانکہ اس تمام سعی لاحاصل کی اساس اوہام وشبہات کےسوا کچھ نہیں اور یہ تمام شبہات اہواء نفس اور شہوات نفس کے نبیجہ میں ابھرتے ہیں ۔اس کتاب میں مولانا نے ہفوات المسلمین  والوں کے تما عقلی ونقلی اعتراضات کا جواب بالدلیل پیش کیا ہے ۔جو ان کے منہ پرایک کھلا طمانچہ ہے ۔
     

  • 4 تفسیر ثنائی جلد1 (منگل 26 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:27455

    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں آپ ایک عظیم محدث اور عظیم مفسر قرآن ہیں۔ مولانا کی مشہور زمانہ تفسیر قرآن اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ یہ تفسیر بھی تفسیر بالماثور ہے جس میں حسب موقع مختصر شرح ساتھ ساتھ کر دی گئی ہے اس کےعلاوہ مخالفین اسلام کے اعتراضات کا جواب بھی وقتاً فوقتاً دیا گیا ہے۔ بعض مقامات کے حل مطالب کے لیے شان نزول کا ذکر بھی کیا گیا ہے ہر آیت میں جہاں تک منقول تھا اس کو بھی نقل کیا گیا ہے۔مکتبہ قدوسیہ نے اس تفسیر کو تین جلدوں میں شائع کیا ہے جس کو ہم ہدیہ قارئین کر رہے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 5 تفسیر ثنائی جلد3 (جمعرات 28 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:23804

    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں آپ ایک عظیم محدث اور عظیم مفسر قرآن ہیں۔ مولانا کی مشہور زمانہ تفسیر قرآن اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ یہ تفسیر بھی تفسیر بالماثور ہے جس میں حسب موقع مختصر شرح ساتھ ساتھ کر دی گئی ہے اس کےعلاوہ مخالفین اسلام کے اعتراضات کا جواب بھی وقتاً فوقتاً دیا گیا ہے۔ بعض مقامات کے حل مطالب کے لیے شان نزول کا ذکر بھی کیا گیا ہے ہر آیت میں جہاں تک منقول تھا اس کو بھی نقل کیا گیا ہے۔مکتبہ قدوسیہ نے اس تفسیر کو تین جلدوں میں شائع کیا ہے جس کو ہم ہدیہ قارئین کر رہے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 6 برہان التفاسیر (جمعہ 27 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:24724

    جب سے دینِ اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے اسی وقت سے اس نور ہدایت کو بجھانے کے لیے اسلام دشمن قوتیں اپنی سی کوششیں کر رہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات کا بھی ظہور ہوتا رہا جنھوں نے حفاظت دینِ حق کی سعادت حاصل کی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کا شمار بھی ایسی عبقری شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے دفاع اسلام کا حق ادا کردیا۔ زیر مطالعہ کتاب کا پس منظر یہ ہے کہ سلطان محمد پادری صاحب نے اپنے رسالے میں ’سلطان التفاسیر‘ کے عنوان سے قرآن کریم تفسیر کی لکھنا شروع کی ظاہر سی بات ہے پادری صاحب کا مقصود قرآن کریم کو بائبل سے ماخوذ کتاب ثابت کرنا تھا ایسے میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کاقلم کیسے خاموش رہ سکتا تھا انھوں نے اپنے رسالے میں موصوف کے اعتراضات کا شائستہ انداز میں محاکمہ کیا اور دلائل کی قوت سے ان کا رد کیا۔ پادری صاحب زیادہ دیر تک مولانا کے دلائل کا سامنا نہ کر سکے اور پہلے پارے کے چوتھے حصے پر پہنچ کر بواسیرلاحق ہونے کا کہہ کر اس سلسلہ کو جاری رکھنے سے معذرت کر لی۔ تب تک مولانا کے مضامین کی 81 اقساط شائع ہو چکی تھیں۔ اس کتاب میں ان اقساط کو یکجا کر کے پیش کیا گیا ہے۔(عین۔ م)
     

  • 7 فتاویٰ ثنائیہ - جلد1 (ہفتہ 23 جون 2012ء)

    مشاہدات:22771

    مولانا ثناء اللہ امر تسری کی دینِ اسلام کے فروغ کے لیے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ خاص طور پر قادیانیت کے خلاف ہر محاذ پر انہوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس فتنہ کے آگے بند باندھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مولانا نے اپنی زندگی میں تمام دینی علوم کا دقت نظر سے جائزہ لیا اور قرآن و سنت کے قریب صائب آراء قائم کیں۔ کتاب زیر مطالعہ میں اسی شخصیت کے اپنی زندگی میں دئیے گئے فتاویٰ جات کو مولانا داؤد راز نے مرتب صورت میں پیش کیا ہے۔ اگرچہ بعض جگہوں پر ان سےاختلاف کی گنجائش موجود ہے اور ظاہر نبی کریمﷺ کی ذات گرامی کے بعد کسی بھی شخصیت کی تمام تر آراء سے اتفاق مشکل امر ہے۔ صحابہ کرام اور تبع و تابعین کے آراء سے بھی اس دور میں اختلاف کیا جاتا رہا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 8 اربعین ثنائی (جمعہ 09 نومبر 2012ء)

    مشاہدات:19606

    جمع حفاظت قرآن مجید کے بعد احادیث نبویہ اور سنن رسول اللہﷺ کے جمع و ضبط، حفاظت و صیانت پر جن احوال و ظروف اور ارشادات خاتم الانبیا نے صحابہ کرام اور تابعین عظام کو آمادہ کیا ہے ان میں ان بشارتوں کا بھی ایک خاص مقام ہے جن کی وجہ سے علمائے امت کےلیے صحرائے احادیث کے سنگ پاروں اور بحر آثار کے قطروں کو محفوظ کرنا ایک اہم علمی وظیفہ اور دینی خدمت بن گیا۔ نبی کریمﷺ نے چالیس حدیثوں کے حفظ و نقل پر جو عظیم بشارت دی ہے ا سکے پیش نظر خیر القرون سے اب تک بے شمار لوگوں نے حدیث کی حفاظت کی اور زبانی یا تحریری طریقہ سے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ صاحب کشف الظنون علامہ مصطفٰی بن عبداللہ معروف بکاتب چلپی نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے اپنے زمانے کے مشاہیرعلما میں سے تقریباً 75 علما کی 90 سے زائد اربعینات کا تذکرہ کیا ہے۔ شیخ الاسلام ثناء اللہ امر تسری کسی تعارف کےمحتاج نہیں ہیں انھوں نے بھی ’اربعین ثنائی‘ کے نام سے چالیس احادیث جمع کیں۔ مولانا محمد علی جانباز نے ان چالیس احادیث کی مختصر شرح کر دی جس کے بعد یہ کتاب افادہ قارئین کے لیے حاضر ہے۔(ع۔م)
     

  • 9 مقدس رسول بجواب رنگیلا رسول (جمعہ 25 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3935

    مفسر قرآن ، فاتح قادیان ،کثیرالتصانیف مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ 1868ء امرتسر میں پیدا ہوئے،اورمولانا سیّد نذیر حسین دہلوی ﷫ سے اکتساب علم کیا۔ ہفت روزہ ’’اخبار اہل حدیث‘‘ کے مدیر اور مؤسس تھے۔ادیانِ باطلہ پر گہری نظر تھی۔عیسائیت ، آریہ سماج ہندووں، قادیانیت اور تقلید کے ردمیں متعدد کتابیں لکھیں۔آپ نے سیرت مبارکہ صلی اللہ علیہ و سلم پر تین کتابیں تالیف کی تھیں،جن میں سے ایک زیر تبصرہ کتاب(مقدس رسولﷺ بجواب رنگیلا رسول) بھی ہے۔یہ کتاب اس زمانے میں لکھی گئی جب مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔"رنگیلا رسول " نامی کتاب خبیث ہندو راجپال کی شرارت تھی ،جس میں اس نے نبی کریمﷺ کی ذات بابرکات پر نہایت رکیک ،کمینے اور غیر مہذب اعتراضات کئے تھے۔اس کتاب کے بازار میں آتے ہی مسلمانوں میں انتہائی اشتعال پیدا ہو گیا اور اس کا جواب لکھنے کے مطالبے سامنے آنے لگے۔چنانچہ مولانا ثناء اللہ امرتسری میدان میں آئے اور (مقدس رسولﷺ)کے نام سے اس کانہایت متین،معقول،محققانہ اور قاطع جواب لکھا۔اور اس جاہل اور احمق ک...

  • 10 تبر اسلام (پیر 04 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2353

    بیسویں صدی کا ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف عالم دین ابو الوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مہاشہ دھرمپال کی کتاب"نخل اسلام" کے جواب میں لکھی گئے ہے۔یہ شخص گوجرانوالہ کا ایک مسلمان تھا۔جس کا نام عبد الغفور تھا۔1903ء میں پنڈت دیانند شرما کی تحریروں اور آریہ سماج کی شدھی تحریک سے متاثر ہو کر اسلام سے مرتد ہو گیا اور آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے،اور عبد الغفور سے دھرمپال بن گیا۔جس پر سماجیوں نے بڑی خوشی منائی اور جگہ جگہ جلوس نکالے۔اللہ تعالی مولف کی اس عظیم الشان کاوش کو قبول ومنظور فرمائے اور مسلمانوں کے لئے باعث ہدایت بنائے۔آمین(راسخ)


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1008
  • اس ہفتے کے قارئین: 3089
  • اس ماہ کے قارئین: 27617
  • کل قارئین : 47058442

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں