مکتبہ عزیزیہ، لاہور

3 کل کتب
دکھائیں

  • 1 دین الحق بجواب جاء الحق ۔ حصہ اول (جمعرات 31 دسمبر 2009ء)

    مشاہدات:14461

    بریلوی مکتبہ فکر کے حکیم الامت مفتی اعظم احمد یار گجراتی نے بریلوی شریعت پر ایک ضخیم کتاب جاء الحق وزہق الباطل نامی تحریر کی جو کہ ان کے حلقہ فکر کے نزدیک انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے واعظین، خطباء و مفتیان عظام کا مبلغ علم اور معیار تحقیق یہی کتاب ہے جس میں بدعات اور خرافات ہفوات کو ایک جگہ جمع کر کے کتاب و سنت کے واضح نصوص کی تحریف کر کے شریعت مطہرہ کے صاف و شفاف پانی میں بدعات و رسومات کی ناپاک ملاوٹ کی ناکام کوشش کی ہے۔ دین الحق کے مطالعے سے قارئین اندازہ کر سکیں گے کہ فاضل مصنف محمد داؤد ارشد نے ان کی پیش کردہ بدعات کے سامنے کتاب و سنت کے نصوص کا کیسا مضبوط بند باندھ دیا ہے۔ مصنف نے مفتی صاحب کی پیش کردہ ہر دلیل پر عالمانہ و محققانہ تبصرہ پیش کیا ہے اور ناقدانہ تعاقب کیا ہے اس کے ساتھ جو صحیح حقیقت ہے اس کو کتاب و سنت کی روشنی میں واضح کیا ہے اور فی الواقع بیان کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ بلاشبہ ان کی یہ کاوش بدعت کے رد اور کتاب و سنت کے دفاع میں سنگ میل ثابت ہوگی۔

     

  • 2 خلافت رسالت (بدھ 09 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:1969

    آج مہذب دنیا کے لوگوں کا تقاضا ہے کہ ہمیں ایسا مذہب بتاو جو نہ صرف اخروی وعدہ جنت ہم کو دے،بلکہ دنیا میں بھی کمال ترقی تک پہنچائے۔مسلمان ان کے اس تقاضا کو پورا کرنے کے مدعی ہیں،کہتے ہیں کہ آو ہم اسلام میں آپ کو یہ کوبی دکھاتے ہیں۔اسلام کی تاریخ زندہ ہے وہ بتاتی ہے کہ اسلام نے محض اخروی وعدوں پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ دنیوی عزت دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔نہ صرف وعدہ کیا  بلکہ جو کہا وہ دلوا بھی دیا۔اسلام کی تاریخ میں اس کا بڑا واضح ثبوت موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ ابتداء میں تنہا تھے لیکن آخر عمر میں آ کر ایک باقاعدہ حکومت کے صاحب تاج وتخت ہو کر جلوہ نما ہوئے تھے۔اور ایسا ہونا کوئی اتفاقی امرنہ تھا بلکہ وعدہ خداوندی کی تکمیل تھا۔نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد خلافت کے مسئلہ پر شیعہ سنی میں عرصہ دراز سے تنازع چلا آرہا ہے،اور قدیم زمانے سے فریقین نے اس مسئلہ پر بڑی بڑی کتب لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" خلافت رسالت " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین ،امام المناطرین مولانا حافظ ثناء اللہ امرتسری﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شیعہ سنی کے اس قدیم تنازعے کو ایک جدید انداز سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 فتاویٰ عالمگیری پر ایک نظر (منگل 19 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:3353

    یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ ہمارا ملک خالص کتاب وسنت پر مبنی مکمل اسلام کے تعارفی نا م کلمہ طیبہ کے مقدس نعرہ پرمعرض وجود میں آیا تھا۔ جس کا ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ 1956ء، 1963ء اور پھر 1973ء کے ہر آئین میں اس ملک کانام اسلامیہ جمہوریہ پاکستان لکھا جاتا رہاہے اور سر فہرست یہ تصریح بھی ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا اور کتاب وسنت کےخلاف کوئی قانون نہیں بنایاجائے گا۔ 1973ء کے منظورشدہ آئین وہ آئین ہے جس پربریلوی مکتبِ فکر کے سیاسی لیڈرشاہ احمد نورانی،مولوی عبدالمصطفیٰ الازہری وغیرہما کےبھی دستخط ثبت ہیں۔اسی طرح جب صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے اسلامی نظام کی طرف پیش رفت کی ایمان پرور نوید سنائی تھی۔ جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب اس مملکت میں نظریاتی مقاصد ہی نہیں بلکہ در پیش سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، اورتمدنی مسائل کے حل کی راہیں بھی کھل جائیں گی۔ مگر افسوس کہ احناف کے ایک گروہ نے تمام مذکورہ حقائق اور ملکی تقاضوں سے آنکھیں موندکر کتاب و سنت کو نظر انداز کرتے ہوئے فقہ حنفی کے نفاذ کا نعرہ بلند کیا اور ملتان کے قاسم باغ سے یہ مطالبہ کر دیا کہ چونکہ فتاویٰ عالمگیری ہماری مکمل قانونی دستاویز ہے اور اس کا ہر ہر فتویٰ قرآن وحدیث کا عطر اور جوہر ہے۔ لہذا اس کو عوام میں نافذ کردیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب"فتاویٰ عالمگیری پر ایک نظر"مفتی محمد عبید اللہ خان عفیف حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک منصفانہ تحقیقی تصنیف ہے۔ مفتی صاحب نے احناف کی معتبر ترین کتاب "فتاویٰ عالمگیری" کے فتاوجات کو قرآن سنت کے میزان میں رکھ کر یہ بات واضح اور ثابت ک...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 915
  • اس ہفتے کے قارئین: 9598
  • اس ماہ کے قارئین: 43619
  • کل قارئین : 47904583

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں