دکھائیں کتب
  • 1 ابو طیب محمد شمس الحق عظیم آبادی حیات و خدمات (بدھ 02 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:6091

    برصغیر پاک و ہند میں  حدیث اور محدثانہ طرز استدلال کے پہلو کو اجاگر کرنے کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ کا نام بہت یاد رکھا جائے گا۔آپ نے تقلیدی  جمود کو توڑ کر تحریک حریت فکر و عمل کی بنیاد رکھی۔آپ کے بعد  یہ تحریک  عسکری و علمی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔اگرچہ فکری ارتباط دونوں ہی دھاروں میں رہا لیکن ہر کوئی اپنے حلقے کا بہترین نمائندہ بن گیا۔علمی فکری دھارے کی نمائندگی کے لیے جو سرخیل سامنے آئے  ان میں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے عظیم شاگرد رشید جناب شمس الحق عظیم آبادی ہیں۔آپ نے حضرت شاہ ولی اللہ کے خواب کو تعبیر کا جامہ پہناتے ہوئے علم حدیث کی ایسی شرح کرنے کی کوشش فرمائی جو فقہائے محدثین کے طرز استدلال پر ہو۔اس سلسلے میں آپ کا یہ ارادہ تھا  کہ درس نظامی کےنصاب میں شامل کتب حدیث پر  کم از کم حاشیہ چڑھا دیا جائے۔ عون المعبود اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔آپ بے پناہ  اسلامی اور مسلکی غیرت کے حامل تھے۔منہج اہل حدیث کو اجاگر  کرنے کے لئے بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔ زیرنظر کتاب میں آپ کی دینی خدمات کو واضح کرتے ہوئے زندگی کے مختلف  گوشوں پر حاوی ہے۔ہم تہہ دل سے دعا گوہیں کہ اللہ آپ کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔آمین۔(ع۔ح)
     

  • 2 ارمغان حدیث (جمعرات 29 جون 2017ء)

    مشاہدات:1511

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ارمغان حدیث ‘‘ وطن عزیز کی معروف سوانح نگار مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔ موصوف نے اس مجموعۂ حدیث میں آداب واخلاق اور حقوق ومعاملات سےمتعلق ایک سو احادیث مبارکہ کو متن اور ترجمہ وتشریح کے ساتھ جمع کیا ہے ۔دنیا وآخرت کی زندگی کو معطر کرنے والا احادیث رسول ﷺ کایہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے ۔جس سے روشن خیالی کے اندھیروں سے نجات کی راہ ہموار ہوگی ۔ ان شاء اللہ (۔م۔ا)

  • 3 ارمغان حنیف (جمعہ 22 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:18453

    مولانامحمدحنیف ندوی علیہ الرحمۃ ایک عظیم مفکر،جلیل القدرعالم اورمنفردادیب اوربلندپایہ فلسفی تھے ۔انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پرتیس کے قریب کتابیں تحریرکیں ۔مولانانے قرآن شریف کی تفسیربھی لکھی جوسراج البیان کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ۔مولانامرحوم بے پناہ صلاحیتوں اورخوبیوں سے اتصاف پذیرتھے اوراسلام کے لیے ان کی خدمات انتہائی قابل قدرہیں ۔لیکن افسوس کہ عوام میں بہت کم لوگ ان سے واقف ہیں ۔ارباب ذوق کوان سسے روشناس کرانے کے لیے زیرنظرکتاب ’’ارمغان حنیف ‘‘پیش کی جاری ہے جس میں ان کی خدمات وسوانح زندگی بیان کیے گئے ہیں ۔یہاں اس حقیقت کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ مولاناکی فکرکے بعض پہلوارباب علم وتحقیق کی نگاہ میں محل نظرہیں ۔رحمہ اللہ تعالیٰ۔


     

  • 4 استاد پنجاب (منگل 28 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1961

    علماء علوم نبوت کے وارثوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ہماری اسلامی درسگاہیں انہی علوم ِنبوت کی درس وتدریس ،تعلیم وتعلم اوراس حوالے سے تزکیۂ نفوس کےادارے ہیں۔برصغیر میں اسلامی درسگاہوں کی ایک مستقل اورمسلسل روایت رہی ہے۔ اٹھارویں صدی میں شاہ ولی اللہ کےخاندان نے اس روایت کا سب سےروشن مرکز تشکیل دیا۔ اس خاندان کےایک چشم وچراغ شاہ محمداسحاق دہلوی سے سید نذیر حسین محدث دہلوی نے تیرہ سال تک تعلیم حاصل کی ۔شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی نے کامل 63 سال تک درس وتدریس کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ برصغیر میں علم حدیث کی تدریس کا سب سے مضبوط مرکز اورقلعہ انہیں کی قائم کردہ درسگاہ تھی ۔جس میں شبہ قارہ کے ہر حصے سےطلبہ استفادے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ایسے ہی تلامذہ میں ایک تلمیذ الرشید حافظ عبد المنان وزیرآبادی ہیں۔بیسویں صدی میں علوم حدیث کی روایت کومستحکم کرنے میں حافظ عبد المنان وزیر آبادی نےپنجاب میں سب سے زیاد فیض رسانی کےاسباب پیدا کیے ۔ حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی اپنےعہد میں پنجاب میں حدیث کے سب سےممتاز استاد تھےجن کےتلامذہ پنجاب کےہر حصے میں بالعموم اوراس علمی اور سلفی روایت کے چراغ روشن کرتے رہے۔مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی ﷫ کو اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ظاہری آنکھوں سے محروم کردیا تھا مگر ان کی دل کی آنکھیں روشن فرمادی تھیں۔ آپ کا شمار ممتاز محدثین میں ہوتا ہے شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محددہلوی ﷫ نےاپنے اس شاگرد کو جوعمامہ عطا فرمایا تھا اس عظیم شاگرد نے اس عمامے کاحق ادا فرمادیا۔پوری زندگی درس حدیث دیا ۔ مسند حدیث پر فائز ہونے کے بعد آپ نے اپنی زندگی...

  • 5 استاد گرامی مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (بدھ 31 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1214

    برصغیر پاک وہند میں مسلک صحابہ کرام اور تابعین عظام اور ان کے پیروکاروں کے مسلک کی ترویج واشاعت میں فحول علماء نے بڑی محنت اور کوشش کیں۔ اس راہ میں انہیں مالی اور بدنی مصائب سہنے پڑے۔ اُن پاک باز ہستیوں نے اپنے اپنے دور میں اشاعت اسلام کی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ یہ ہمارے محسن اور شکریے کے لائق ہیں۔ بیسویں سن عیسوی کے ممتاز علمائے اہل حق میں شیخ الحدیث حضرت مولانا ابو الطیب محمد عطاء اللہ حنیف کا اس گرامی نمایاں نظر آتا ہے۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  مولانا عطاء اللہ حنیف کے احوال وکوائف بیان کیے گئے ہیں۔ مصنف کا بے مثال حافظہ ہے کہ جو انہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصے کے واقعات اور احوال وکوائف اور ان کی جزئیات تک اس میں بیان کی ہیں۔اور اس میں انداز بیان بھی دلچسپ ہے کہ آدمی اس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ اور اس میں دی گئی تفصیلات اگرچہ اوراق پارینہ ہیں لیکن قاری کے لیے اوراق تارزہ ہی ہیں۔ یہ کتاب’’ استاد گرامی مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ‘‘ مولانا محمد اسحاق بھٹی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 6 اسمٰعیل شہید (جمعہ 25 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1060

    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحید خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل محدث دہلوی تھے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک محاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’شاہ اسماعیل شہید‘‘ آل پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ، لاہور کے سیکرٹری جناب عبد اللہ بٹ کی مرتب شدہ ہے دراصل یہ کتاب ان 12مقالات کا مجموعہ ہے جو’’ یوم شاہ اسماعیل شہید‘‘ کے موقع پر مشاہیر قلمکاروں نے پیش کیے گئے۔یہ مجموعہ مقالات دسمبر 1946ء میں ہوا۔ ان مقالات میں شاہ اسماعیل شہید کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بے نقاب کیا گیا ہے ۔ان مقالات میں وہ مقالات ہیں جو پہلے انگریز ی زبان میں شائع ہوئے...

  • شیخ الکل فی الکل شمس العلما، استاذالاساتذہ سید میاں محمد نذیر حسین محدث دہلوی ﷫(1805۔1902ء) برصغیر پاک وہند کی عظیم المرتبت شخصیت ہی نہیں بلکہ اپنے دور میں شیخ العرب و العجم، نابغہ روز گار فردِ وحید تھےسید نذیر حسین بن سید جواد علی میاں صاحب کے نام سے مشہور تھے ۔آپ نے سولہ برس کی عمر میں قرآن مجید سورج گڑھا کے فضلا سے پڑھا، پھر الہ آباد چلے گئے جہاں مختلف علما سے مراح الارواح، زنجانی، نقود الصرف، جزومی، شرح مائۃ عامل، مصباح ہزیری اور ہدایۃ النحو جیسی کتب پڑھیں۔پھر آپ نے ۱۲۴۲ھ میں دہلی کا رخ کیا۔ وہاں مسجد اورنگ آبادی محلہ پنجابی کٹرہ میں قیام کیا۔ اسی قیام کے دوران دہلی شہر کے فاضل اور مشہور علما سے کسب ِفیض کیا۔ ۔ یہاں آپ کا قیام پانچ سال رہا۔ آخری سال ۱۲۴۶ھ کو استادِ گرامی مولانا شاہ عبدالخالق دہلوی﷫ نے اپنی دختر نیک اختر آپ کے نکاح میں دے دی۔میاں صاحب محدث دہلوی نے شاہ محمد اسحق محدث دہلوی ﷫سےبھی بیش قیمت علمی خزینے سمیٹے۔ جب حضرت شاہ محمد اسحق دہلوی شوال ۱۲۵۸ھ کو حج بیت اللہ کے ارادے سے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو اپنے تلمیذ ِرشید حضرت میاں صاحب کو مسند ِحدیث پر بیٹھا کر گئے بلکہ تعلیم نبویؐ اور سنت ِرسول اللہؐ کے لئے انہیں سرزمین ہند میں اپنا خلیفہ قرار دیا ۔ عالم اسلام بالخصوص برصغیر کے مختلف علاقوں او رخطوں کے بے شمار تلامذہ کو آپ سے فیض یابی کا شرف  حاصل ہوا۔  زیر تبصرہ کتاب ’’ اضلاع بستی  وگونڈہ میں  میاں سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی ﷫کے تلامذہ کے دعوتی ،اصلاحی وتعلیمی اثرات ‘&lsquo...

  • فالشيخ أبو الحسن علي ميان الندوي رحمه الله من أبرز علماء القرن الحاضر الذين أسهموا في إحياء الأمة الإسلامية بكتاباتهم النافعة و مقالاتهم الفاضلة، و اعترف له بذلك العالَم الإسلامي كله، و كتابه " ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين " خير شاهدعلى علو ذوقه العلمي و قوة رأيه الفكري، و الحديث عن جهوده العلمية و الفكريه طويل، كتبت فيه مقالات علمية و رسائل جامعية، و الذي يعنينا هنا هو التنويه إلى جانب مهم من حياته ألا و هو تأثره بالتصوف و ميله عن منهج السلف في هذا الباب، فالشيخ على جلالته و علو منزلته كان غارقا في التصوف و شغوفا بالصوفياء، و روج هذا المسلك المنحرف في أرجاء كتاباته و دافع عنه في ثنايا مقالاته، و كان من الجدير أن ينبه على أخطائه و زلاته في هذا الجانب نصيحة لله و لكتابه و لرسوله و لعموم المسلمين. فتولى هذا المهمة الشيخ الفاضل المحقق صلاح الدين مقبول– حفظه الله- من علماء الهند السلفيين، خريج الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، فجمع كلام الشيخ الندوي من غصون كتبه و أثبت بما لديه من الميل والانحراف عن المنهج الصحيح في هذا الباب وغيره، و كل ذلك بأسلوب علمي نزيه عن السب و الشتم مع اعترافه للشيخ بما وهبه الله من العلم و الفضل، و الكتاب قد تم تأليفه في حياة الشيخ أبي الحسن و إرساله إليه لكي ينظر فيه و يبدي ما عنده من الملاحظات عليه، ولكن الشيخ لم تتسن له الفرصة بأن يطالعه بنفسه بل فوض الأمر إلى بعض رفقائه فيقرأه و يخبر الشيخ بخلاصة مضمونه، ولكن هذا الرفيق لم يوفق في إبداء الملاحظات الجادة، بل أتى بما هو يستغرب من الشيخ أبي الحسن و ممن ي...

  • مولانا محمد عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ  کی ذات متنوع صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی، ملی، سیاسی اور مسلکی خدمات خود ان کا تعارف ہیں۔ ہفت روزہ الاعتصام نے مولانا کی انھی خدمات کے باوصف ایک خاص ضخیم نمبر بیاد ’مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی‘ نکالا ہے۔ جس کے صفحات 1200 سے زائد ہیں۔ رسالے کو مختلف عناوین میں تقسیم کیا گیا ہے سب سے پہلے آپ کی سوانح کے ذیل میں متعدد مضامین یکجا کی گئے ہیں جس میں علیم ناصری اور مولانا اسحاق بھٹی جیسے مصنفین کے مضامین شامل ہیں۔ پھر ’شخصیت‘ کے نام سےعنوان قائم کیا گیا ہے جس میں حافظ ثناء اللہ مدنی، حافظ صلاح الدین یوسف اور حافظ محمد اسحاق صاحب جیسے متعدد علمائے کرام نے آپ کی شخصیت سے متعلق بہت سے گوشوں کا احوال بیان کیا ہے۔ اس کےبعد آپ کی علمی و تحقیقی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا محمد عزیر شمس، عبدالغفار حسن، ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری، حافظ صلاح الدین یوسف اور دیگر نے اظہار خیال کیا ہے۔ مولانا کو تدریس کا خاص شغف تھا آپ نے اپنی زندگی میں تیس، پینتیس برس تدریس کا فریضہ انجام دیااسی کے پیش نظر تدریسی کے عنوان سے آپ کی تدریسی خدمات کا تذکرہ موجود ہے۔ آپ کی ملی، سیاسی، مسلکی اور صحافتی خدمات تذکرہ کرتے ہوئےآخر میں آپ کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 10 الدر المنثور المعروف تذکرہ اہل صادق پور (منگل 06 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1950

    صادق پور انڈیا پٹنہ کاایک معروف قصبہ ہے اس قبصے کے علماء ومجاہدین کی سید ین شہیدین کی تحریک جہاد کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مولانا ولایت علی ، مولانا عنایت علی ، مولانا عبد اللہ ، مولانا عبد الکریم وغیرہم جماعت مجاہدین کے امیر بنے۔انگریز دشمنی میں یہ خاندان خصوصی شہرت رکھتا تھا۔ سیّد احمد شہید کے شہادت کے بعد اسی خاندان کے معزز اراکین نے تحریک جہاد کی باگ دوڑ سنبھالی۔ اندرونِ ہند بھی اسی خاندان کے دیگر اراکین نے تحریک کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ مولانا یحیٰ علی ، مولانا احمد اللہ ، مولانا عبد الرحیم عظیم آبادی کو اسی پاداش میں کالا پانی کی سزا ہوئی۔ انگریزوں نے ان پر سازش کے مقدمات قائم کیے۔معروف مقدمہ انبالہ بھی مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنے پر مولانا عبد الرحیم عظیم آبادی کے خلاف کیا گیا۔ جائیدادوں کی ضبطی ہوئی۔ حتیٰ کہ خاندانی قبرستان تک کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کی مجاہدانہ ترکتازیوں کا اعتراف ہر طبقہ فکر نے کیا۔مولانا عبدالرحیم عظیم آبادی مسلک اہل حدیث کے عظیم سرخیل قائد جید عالم دین اور عظیم مجاہد تھے۔آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہےآپ نےہندوستان کی تحریک آزادی میں نمایاں خدمات سرانجام دیں ۔آپ نےہندوستان کی سرزمین سےبرطانوی سامران کو نکالنے کےلیےگراں قدر خدمات سرانجام دیں۔آپ مجاہدین ہندوستان کے قائد رہے اور جماعت المجاہدین کےاعلیٰ عہدوں پر بھی سرفراز رہے ۔ان کے مجاہدانہ کارناموں کے جرم میں گورنمنٹ برطانیہ نے انہیں جزائرانڈیمان (کالاپانی ) کی سزا سنائی۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ الدر المنثور فی تراجم اہل صادق فور المعروف تذکرۂ اہل صاد...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1300
  • اس ہفتے کے قارئین: 3359
  • اس ماہ کے قارئین: 45221
  • کل قارئین : 46580531

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں