دکھائیں کتب
  • شہید ملت علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒسیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔علامہ صاحب ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ بچپن ہی سے بڑے ذہین او ر فطین ثابت ہوئے۔درس نظامی کی تکمیل کے  بعد  حصول  تعلیم  کےلیے  آپ مدینہ یونیورسٹی  تشریف لے  گئے وہاں شیخ ناصر الدین  البانی ،شیخ  ابن باز ،شیخ    شنقیطی  وغیرہم  جیسے  کبار اہل علم  سے شرف تلمذ  حاصل کیا ۔ مدینہ یونیورسٹی میں  شیخ  الحدیث  حافظ ثناء اللہ مدنی ،حافظ عبد الرحمن مدنی ،ڈاکٹر  محمد لقمان سلفی  حفظہم اللہ  آپ کے ہم کلاس رہے ۔علامہ  صاحب  وہاں سے  سند فراغت  حاصل کرکے   وطنِ عزیز میں واپس تشریف لے آئے  اور زندگی بھر  اسلام کی دعوت وتبلیغ ،نفاذ اسلام کی جدوجہد ،  فرق  باطلہ  کارد  او رمسلک حق اہل  حدیث کی ترجمانی  کرتے  ہوئے اپنے  خالق حقیقی سے جاملے ۔  آپ پر صحیح معنوں میں اہلحدیثیت کا رنگ نمایاں تھا۔آپ ایک تاریخ ساز شخصیت کے حامل تھے۔ آپ میدان خطابت  کےشہسوار  تھے ۔شیخ الحدیث مولانا حافظ اسماعیل سلفی ؒ نے آپ کو مولانا سید دائود غزنوی ؒ کی اور اہلحدیثوں کی قدیم تاریخ ساز مسجد ’’جامع مسجد چینیانوالی اہلحدیث ‘‘ کی مسند میں لا کر کھڑا کر دیا۔ آپ 16کتابوں کے مصنف  بھی تھے ۔ علامہ شہید ؒ مسلک اہلحدیث کے ماتھے کا جھومر تھے۔ ۔ علامہ صاحب ؒ نے قادیانیت ، شیعیت فتنے کو آڑے ہات...

  • 12 ماہنامہ رشد لاہور ( حرمت رسول ﷺنمبر) (جمعہ 13 جون 2014ء)

    مشاہدات:2067

    سید الانبیاء  حضرت  محمد مصطفی ﷺ مسلمانوں  کے لیے  مرکزِ ملت کی حیثیت رکھتے ہیں  اور آپ ﷺسے محبت وعقیدت  مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص  کاایمان اس  وقت تک مکمل قرار نہیں دیا  جاسکتا  جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے  کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے  رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے  بڑھ  کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ  امتِ مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم  ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط  ہے۔ دورِ  نبوی ﷺ میں  صحابہ  کرام ﷢ اور بعد کے ادوار میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے  ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر کسی بد بخت نے  آپﷺ کی  شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے  شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا  قتل کے  حوالے  سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت  میں  بے  شمار واقعات موجود ہیں  ۔اور اہل  علم  نے  تحریر وتقریر کے ذریعے  بھی  ناموس رسالت  کا حق اداکیا ہے  شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫نے اس  موضوع پر  ’’الصارم المسلول  علی شاتم الرسول ﷺ ‘‘کے  نام سے  مستقل کتاب&nb...

  • 13 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (اول) (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:18314

    ہمارا عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ کالجوں،یونیورسٹیوں کے وہ جرائد جنہیں طلبہ اپنے اَساتذہ کی رہنمائی میں مرتب کرتے ہیں عموماً معیاری اور تحقیقی نہیں ہوتے بلکہ ان کا اجراء اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلبہ کو تحریر وتدوین کی مشق کا موقع ملے جائے اور عملی کام کر کے اس شعبے میں ان کی صلاحیتیں نکھر جائیں۔  دینی جامعات کے ترجمان جرائد کا حال خاصہ پتلا ہے چہ جائیکہ کسی دینی جامعہ کے ایسے جریدے کی وقیع علمی حیثیت مشاہدے میں آئے جو اصلاً طلبہ مجلہ ہو۔ اس لحاظ سے ماہنامہ رشد کازیر نظر شمارہ ایک استثنائی مثال ہے جو دقیع علمی وتحقیقی حیثیت کا حامل ہے ۔ اس میں علم قراء ات جیسے ادق موضوع پر خصوصی علمی و تحقیقی مضامین شائع کئے گئے ہیں۔ماہنامہ’ رشد‘ کے اس شمارے کے مطالعے سے اس کے مضامین کے تنوع کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک طرف منکرین قراء ات اورمستشرقین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا گیا ہے تو دوسر ی طرف قراءات کے اثبات اوران کے شرعی دلائل اورعقلی استدلالات وفوائد کابھی تفصیلی ذکر کیا گیا ہے اور وہ بھی عمدہ اسلوب میں مترددین ومتشکّکین کی عقلی گرہیں کھولتا ہے۔ مزید یہ کہ مرتبین نے اس مجلہ میں علم تجوید وقراءات کے متعلق رسائل وجرائد میں شائع ہونے والے مضامین کا اشاریہ شائع کر کے گویا دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس شمارہ میں 1933ء سے لے کر اب تک 400 سے زائد مضامین کا اشاریہ مرتب کیا گیا ہے اور اسے علم قراءات ، حجیت و انکار قراءات، تدوین آداب تلاوت، قرآنی معلومات، فتاویٰ، قراء کا تعارف اور انٹرویو ز جیسے عنوانات کے تحت مصنف وار اور الف بائی ترتیب س...

  • 14 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (دوم) (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:13380

    علم قراءت کے موضوع پر ماہنامہ رشد کی یہ دوسری خصوصی اشاعت ہے-قرآن مجید علوم کا بیش بہا خزانہ اور گرانقدر مخزن ہے، علوم القرآن میں علم القراء ت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن دیگر علوم کی طرح یہ علم بھی قحط الرجال کا شکار ہے۔ علم القراء ا ت کی اس اہمیت کے پیش نظر ادارہ ماہنامہ رشد کی جانب سے ان خصوصی نمبرز کی اشاعت اس علم کی بہت بڑی خدمت ہے۔مجلہ کے عناوین اور مقالات جہاں ایک قاری کو بہت سی علمی معلومات فراہم کرتے ہیں وہاں ایک محقق کو مزید تحقیق کے لیے بہت سے پہلوؤں کی راہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ان عنوانات کا انتخاب ادارہ کا علم القراء ت سے گہری دلچسپی کا مظہر بھی ہے۔اس مجلہ کا ہر مقالہ علمی اعتبار سے ایک خصوصی اہمیت کا حامل ہے خصوصاً علم القراء ت سے متعلق کتب کی فہرست، بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹیوں میں لکھے گئے تحقیقی مقالات کی فہرست اور مخطوطات کی فہرست محققین کے لیے بہت سُود مند ہوگی۔ ۹۳۵ صفحات پر مشتمل یہ ضخیم مجلہ 53 مقالات پر مشتمل ہے۔ اس ادارہ سے شائع ہونے والا ماہنامہ ”محدث“ تحقیق کی دنیا میں اہم مقام کا حامل ہے، تحقیق کی وہ روایت اس مجلہ کے مقالات میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ بایں وجہ اس مجلہ کو علم القراء ت کا انسائیکلو پیڈیا کہنا بے جا نہ ہوگا۔ ادارہ رشد کی جانب سے اس سے قبل بھی متعدد خصوصی نمبرز شائع ہوچکے ہیں ان نمبرز میں قراء ت کا یہ خصوصی نمبر ایک بہترین علمی اضافہ ہے۔جبکہ تیسرا نمبر بھی زیور طبع سے آراستہ ہو رہا ہے جیسے ہی مکمل ہوگا  تو افادہ عام کے لیے اس کو بھی اپ لوڈ کر دیا جائے گا-ان شاء اللہ

     

    تجوید وقراءات  رشد  اشاعت خاص مجلات 
  • 15 ماہنامہ رشد کا علم قراءات نمبر (سوم) (اتوار 24 مئی 2015ء)

    مشاہدات:2356

    قرآن حکیم اللہ غزوجل کا مقدس کلام ہے دو صفت خداوندی ہے جس طرح اللہ رب العزت کی ذات بے مثال ہے اسی طرح اس کی صفات بھی بے نظیر ہیں قرآن کریم علوم معارف کا ایک بحربےکراں ہے علوم قرآن پر لکھی گئی کتب سے ان علوم کو تنوع او روسعت کااندازہ ہوتاہے علوم قرآن کاایک اہم گوشہ علم القراءات ہے یعنی قرآن کریم کو ازروئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم متعدد لہجوں میں پڑھا جاسکتا ہے ماہنامہ رشد نے علم القراءات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے علم قراءات پر خصوصی نمبر شائع کیے ہیں زیر نظر شمارہ حصہ سوئم ہے اس مین قراءات کی تاریخ وحجیت اور اس کے متعلقہ مباحث پر روشنی ڈالی گئی ہے علاوہ ازیں قراءات کے حوالے سے پائے جانے والے اہل استشراق اور ان کے مشرقی تلامذہ کے شبہات کا بھی مدلل ،ٹھوس اور علمی وتحقیقی انداز سے ازالہ گیا ہے نیز اس کے ساتھ متعدد قراء کرام کے سوانح بھی مربع کی گئے ہیں اسی طرح بعض معروف اہل علم کے انٹرویو اور علمی مکاتیب بھی شامل اشاعت ہیں رشد کے قراءات نمبر بلاشبہ علم قراءات پر ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں اور اشاعت علوم قرآنی میں منفرد مقام کے حامل ہیں باری تعالی ادارہ رشد کی اس کاوش کو شرف سے قبولیت سے نوازے او راہل اسلام کےلیے مفید ونافع بنائے-
     

  • اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان ر سالت سے سوال کرنے اور اس سوال کاجواب دینے کےادب آداب بھی سکھلائے ہیں ۔کتب فقہ وحدیث میں یہ بحثیں موجود ہیں او رباقاعدہ آداب المفتی والمستفتی کے نام سے کتب بھی لکھی گئیں ہیں ۔ اب عصر حاضر میں تو مفتی کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ ہر دور میں فتاووں کےاثرات دیر پار ہے ہیں ۔فتاوی کےاثرات کبھی کبھی تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ہندوستان میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ﷫کے فتوےکاہی اثر تھا کہ سید احمد شہید﷫ اور شاہ اسماعیل شہید﷫ کی قیادت میں مجاہدوں کی ایک تحریک اٹھی جس نےملک کو انگریزی استبداد سےنجات دلانے کےلیے کمر کس لی اور اس کی راہ کی صعوبتیں براداشت کرتے ہوئے 1831ء میں جام شہادت نوش کیا ۔ یہ اس فتویٰ کااثر تھا کہ ہندوستانیوں میں قومی شعور پیدا ہوا، ان میں آزادی کا احساس جاگا اور 1857ء میں انگریزوں کےخلاف ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑ دی۔ہندوستان میں آزادی کےبعد افتا کافریضہ کافی اہمیت اختیار کرگیا۔لیکن ہمارا دستور آئینِ اسلام کے شرعی قوانین سے قعطا میل نہیں کھاتا ۔ افتا کے نفاذ اور اس پر عمل کی آزادی بہت ہی محدود ہوچکی ہے ۔ حکومتی عدالتیں دار الافتا کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی ہیں۔بر صغیر پاک وہند کےعدالتی نظام نے انصاف کےحصول کوبہت...

  • 17 ماہنامہ محدث کا فتتہ انکار حدیث نمبر (بدھ 01 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:19191

    علم حدیث کی قدرومنزلت او رشرف وقار صرف اس لیے ہے کہ یہ شریعت اسلامی میں قرآن پاک کے بعد دوسرا بڑا مصدر ہے علم حدیث ارشادات واعمال رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ،حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فداہ امی وابی کی پاکیزہ زندگی کاعملی عکس ہے جو ہر مسلمان کی شب وروز زندگی  کےلیے بہترین نمہونہ ہے علم حدیث رفیع القدر،عظیم الفخر اور شریف الذکر ہے اس کے شیدائی فدائی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو لقب ’’محدثین ‘‘کے نام سے معروف ہیں۔اس کے مطالعہ سے ان شاءاللہ تعالی اس گروہ جو حدیث ختم رسل صلی اللہ علیہ وسلم کا دل وجان سے مخالف جوبزعم خود اہل قرآن کہلاتا ہے اگرچہ قرآن پاک سے انکا کوئی قطعی تعلق نہیں ان کے پیدا کردہ شکوک وشبہات کا خاطر خواہ ازالہ ہوگا چونکہ منکرین حدیث حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سادہ لوح لوگوں میں یہ تأثر پید ا کرتے ہیں کہ حدیث غیر محفوظ قرآن کے خلاف او رحدیث خود حدیث کے مخالف ہوتی ہے حالانکہ یہ صریحاً دروغ گوئی ہے۔اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا تعارف ،اس کے عمومی خدوخال ،تدوین حدیث،کتابت حدیث،حفاظت حدیث اور حجیت حدیث  پر بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہیں نیز دینی رسائل میں حجیت حدیث پر مضامین کا اشاریہ بھی پیش کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہر عام وخاص علوم حدیث  جیسے اہم علوم کی گہرائی تک  باآسانی  رسائی حاصل کرسکتا ہے ۔

  • مولانا عبد الرحمن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے ۔کتب کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات ملک کے معروف علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان الحدیث ، سہ ماہی منہاج لاہور وغیرہ ) میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔مولانا کیلانی نےفوج کی سرکاری ملازمت سے استعفی کے بعد کتابت کو بطورِ پیشہ اختیار کیا۔ آپ عربی ،اردو کے بڑے عمدہ کاتب تھے۔١٩٤٧ء سے ١٩٦٥ء تک اردو کتابت کی اور اس وقت کے سب سے بہتر ادارے ، فیروز سنز سے منسلک رہے ۔١٩٦٥ء میں قرآن مجید کی کتابت شروع کی اور تاج کمپنی کے لئے کام کرتے رہے ۔تقریباپچاس قرآن کریم کی انہوں نے کتابت کی ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ١٩٧٢ء میں حج کرنے گئے تو مکی سورتوں کی کتابت باب بلال(مسجد حرام ) میں بیٹھ کر اور مدنی سورتوں کی کتابت مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چبوترہ پر بیٹھ کر کی ۔یہ وہی قرآن کریم ہے جو پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے ان کے مانوس رسم الخط میں سعودی حکومت نے حمائل سائز میں چھاپا اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں چھپتا او رفری تقسیم ہوتا ہے یعنی پاکستان اور سعودی عرب میں مروجہ رسم قرآنی میں سب سے زیادہ چھپنے والے قرآن کی کتابت کی سعادت بھی آپ کو حاصل ہے ۔ تفسیر' تیسیر القرآن 'میں قرآن مجید کی اسی بابرکت کتابت کو ہی بطور متنِ قرآن شائع کیا گیا ہے کتابت کے سلسلہ میں موصوف نے خاندان کے بہت سے لوگو...

  • بلادِ حرمین شریفین بے شمار عظمتوں ، برکتوں اور فضیلتوں کے حامل ہیں ۔ تمام مسلمانوں کےدینی وروحانی مرکزہیں اور حرم مکی مسلمانوں کا قبلہ امت کی وحدت کی علامت اوراتحاد واتفاق کا مظہر ہے۔ پوری دنیا کےمسلمان نمازوں کی ادائیگی کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اوراس کے علاوہ دیگر اسلامی شعائر وعبادات حج او رعمرہ بھی یہاں ادا ہوتے ہیں ۔ دنیا کے تمام شہروں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سب سے افضل ہیں اور فضیلت کی وجہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ہونا جبکہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کا ہونا ہے۔ان دونوں کی حرمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔سعودی حکومت کی حرمین شریفین کے تحفظ اور دنیا بھر میں دین اسلام کی نشر واشاعت ، تبلیغ کے لیے خدمات لائق تحسین ہیں ۔ لہذا سعودی عرب کا دفاع اور حرمین شریفین کا تحفظ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کابھی دینی فریضہ ہے ۔ کیونکہ سعودی عرب میں حرمین شریفین امتِ مسلمہ کےروحانی مرکز ہیں ۔گزشتہ ایام میں سعودی عرب اور یمن کے مسئلہ میں کفر کے اماموں نے یمن کے حوثی باغیوں کی پشت پنائی کی اور ان کے ذریعہ مبارک سرزمین یمن کے حالات کو تباہ وبرباد کیا ان کا اصل ہدف بلاد حرمین شریفین تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حاکم سعودی عرب شاہ سلمان بن عبدالعزیز ﷾ کوحکیمانہ وبصیرانہ فیصلہ کرنے کی توفیق بخشی۔ انہوں نے ’’عاصفۃ الحزم‘‘ آپریشن کےذریعہ ان سرکش باغیوں کا بروقت علاج کیا اوران کی قوت کوپاش پاش کر کے رکھ دیا جس سے باغیوں کے پشت پناہیوں کی آنکھیں گھل گئیں کہ ابھی حرمین کےپاسبان زندہ ہیں ۔بلاد حرمین شریفین سے محبت رکھنے والے عالمِ اسلام کے م...

  • 20 مجلہ الواقعہ ( قرآن نمبر ) دسمبر 2013ء (ہفتہ 28 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2063

    سقرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تحریر وتصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں ہیں۔ زیر تبصرہ مجلہ الواقعہ کراچی نومبر۔دسمبر2013ء کی اشاعت خصوصی برائے قرآ...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1610
    • اس ہفتے کے قارئین: 15038
    • اس ماہ کے قارئین: 29859
    • کل قارئین : 46429451

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں