کل کتب 621

دکھائیں
کتب
  • 61 #2921

    مصنف : قاری محمد شریف

    مشاہدات : 3745

    التقدمة الشريفية في شرح المقدمة الجزرية

    (جمعرات 26 فروری 2015ء) ناشر : مکتبہ القراءۃ، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر عربی زبان میں بے شمار کتب موجود ہیں۔جن میں سے مقدمہ جزریہ ایک معروف اور مصدر کی حیثیت رکھنے والی عظیم الشان منظوم کتاب ہے،جو علم تجوید وقراءات کے امام علامہ جزری ﷫کی تصنیف ہے۔اس کتاب  کی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر  متعدد اہل علم نے اس کی شاندار شروحات لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " التقدمۃ الشریفیۃ فی شرح المقدمۃ الجزریۃ "بھی  مقدمہ جزریہ کی ایک مفصل شرح ہے جواستاذ القراء والمجودین قاری محمد شریف صاحب﷫ بانی مدرسہ دار القراء لاہور پاکستان کی کاوش ہے۔جو ان کی سالہا سال کی محنت وکوشش اور عرصہ دراز کی تحقیق وجستجو کا نتیجہ ہے۔اور شائقین علم تجوید کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔ تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 62 #5526

    مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

    مشاہدات : 3180

    الجمال والکمال تفسیر سورہ یوسف

    (بدھ 28 جون 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    سورۃ یوسف قرآن مجید کی 12 ویں سورت جس میں حضرت یوسف کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺکی مکی زندگی کے آخری دور میں یہ سورت نازل ہوئی۔سورہ یوسف قرآن مجید کی وہ واحد سورہ ہے جو اپنے اسلوب بیاں، ترتیب بیاں اور حسن بیاں میں باقی سے منفرد اور نمایاں ہے۔ پوری سورہ مبارکہ کا مضمون سیدنا یوسف کی سیرت کے نہایت اجلے پہلو، عفت و عصمت اور پاکیزہ سیرت و کردار پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ الجمال والکمال تفسیر سورہ یوسف‘‘ برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری ﷫ کی تصنیف ہے ۔قاضی صاحب نے جون 1921 ء کو سفر حج کیا اور اگست تک مکہ مکرمہ میں ہی قیام پذیز رہے ۔قاضی صاحب نے وہی سورۂ یوسف کی تفسیر لکھنے کا آغاز کیا 22 اگست 1921ء کو تقریبا دو مہینے میں اس سورہ کی تفسیرمکمل کرلی تھی۔خاتمۂ تفسیر کے دس بارہ صفحے انہوں نے واپسی کے وقت جہازمیں لکھے اور آخر کے بارہ چودہ صفحات ان مشاہیر کے مختصر حالات پر مشتمل ہیں جن کا ذکر تفسیر میں کیاگیا ہے ۔قاضی صاحب نے اس تفسیر میں مصر کی پوری تاریخ، وہاں کے دریاؤں ، نہروں ، تصنیف کے زمانے تک کےاخباروں ،پہاڑوں ، اہرام مصر ، اہم شخصیتوں کا ذکر کیا ہے¬۔ اور وہاں کی مختلف حکومتوں اور حکمرانوں کا تذکرہ بالترتیب کیا ہے ۔تفسیر کی زبان اور انداز بیان نہایت عمدہ ہے ۔ اس تفسیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر قاضی صاحب پورے قرآن مجید کی تفسیر لکھتے توایک جید سیر ت نگار ہونے کے ساتھ بہت بڑے مفسربھی ہوتے ۔قاضی صاحب نے دوسرے حج بیت اللہ سے بذریعہ بحری جہاز واپس آتے ہوئے 30 مئی 1930ء کو جہاز میں وفات پائی۔جہاز میں موجود مولانا اسماعیل عزنوی ﷫ نے ان کی نماز جناز ہ پڑھائی اور میت کو سمندر کی لہروں کے سپرد کردیاگیا۔اللہ تعالیٰ قاضی ﷫ کو جنت الفردو س میں اعلی ٰ مقام عطافرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 63 #2457

    مصنف : قاری محمد سلیمان دیوبندی

    مشاہدات : 3649

    الجواہر الضیائیہ شرح الشاطبیہ

    (اتوار 28 ستمبر 2014ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا  بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔شاطبیہ امام شاطبی  کی قراءات سبعہ پر اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔ اللہ تعالی نے اسے بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے،جو قراءات سبعہ کی تدریس کے لئے ایک مصدر کے حیثیت رکھتی ہے۔بڑے بڑے مشائخ اور علماء نے اس قصیدہ کی شروحات لکھنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھا ہے۔ شاطبیہ کے شارحین کی ایک بڑی طویل فہرست ہے،جسے یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ۔زیر نظر کتاب ''الجواھر الضیائیہ شرح  الشاطبیہ'' شیخ القراءقاری محمد سلیمان دیو بندی  کی تالیف ہے۔جس میں مولف  نے شاطبیہ کو انتہائی  آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ اور قراءات سبعہ سے متعلقہ تمام اہم مباحث کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی قراء ات  قرآنیہ  کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 64 #7012

    مصنف : قاری اظہار احمد تھانوی

    مشاہدات : 999

    الجواہر النقیۃ فی شرح المقدمہ الجزری

    (منگل 16 جولائی 2019ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر عربی زبان میں بے شمار کتب موجود ہیں۔جن میں سے مقدمہ جزریہ ایک معروف اور مصدر کی حیثیت رکھنے والی عظیم الشان منظوم کتاب ہے،جو علم تجوید وقراءات کے امام علامہ جزری کی تصنیف ہے۔اس کتاب  کی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر  متعدد اہل علم نے اس کی شاندار شروحات لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’الجواہر النققیہ فی شرح  المقدمۃ الجزریۃ‘‘شیخ القراء والمجووین القاری المقری اظہار احمد تھانویکی کاوش ہے ۔ قاری صاحب مرحوم  نے تجوید وقراءات کی دسیوں کتب سے استفادہ کرکے یہ شرح  مکمل کی ہے شارح نے اس میں قارئین کی آسانی کےلیے اصطلاحات بھی متعین کی ہیں ۔یہ شرح شائقین علم تجوید کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔ تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(م۔ا)

  • 65 #8069

    مصنف : قاری نجم الصبیح تھانوی

    مشاہدات : 264

    الجواہر فی قراءت امام ابن عامر

    (پیر 06 جنوری 2020ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی  کتب ِسماویہ میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔محدث لائبریری ،لاہورمیں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب’’ الجواہر  فی قراءات  امام ابن عامر   ‘‘ قاری نجم الصبیح  التھانوی﷾ کی تصنیف ہے ۔امام ابن عامر الشامی قراء سبعہ میں  سے ایک ہیں ۔ فاضل مصنف نے کتاب کے شروع میں  امام ابن عامر کے اصول قراءات کو  قواعد کی صورت میں تحریر کردیا ہے جنہیں سمجھ کر امام ابن عامر کی قراءت کو پڑھاجاسکتا ہے۔نیز  کتاب کو سمجھنے کے لیے  مصنف نے  ص8 پر  مزیدہدایات بھی درج کردی ہیں۔(م۔ا)

  • 66 #3144

    مصنف : رحیم بخش

    مشاہدات : 2561

    الخط العثمانی فی رسم القرآنی

    (ہفتہ 02 مئی 2015ء) ناشر : ادارہ نشر و اشاعت اسلامیات درجۂ قراءات، مسجد سراجاں، ملتان

    کلمات قرآنیہ کی کتابت کا ایک بڑا حصہ تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں اور رسم کے خلاف اس معروف کتاب کو رسم عثمانی یا رسم الخط کہا جاتا ہے۔تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو رسم عثمانی کے مطابق لکھنا واجب اور ضروری ہے ،اور اس کے خلاف لکھنا ناجائز اور حرام ہے۔لہذا کسی دوسرے رسم الخط جیسے ہندی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، تمل، پنجابی، بنگالی، تلگو، سندھی، فرانسیسی، انگریزی ،حتی کہ معروف وقیاسی عربی رسم میں بھی لکھنا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ درحقیقت کتاب اللہ کے عموم و اطلاق، نبوی فرمودات، اور اجماع صحابہ و اجماعِ امت سے انحراف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "الخط العثمانی فی الرسم القرآنی "مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی﷫ کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف نے خط، رسم الخط، خط کی تاریخ ،خط کی اقسام جمع قرآن وتشکیل قراءات کی مختصر تاریخ ،مصاحف عثمانیہ کی تاریخ ،قرآن مجید کے اعراب ،خموس واعشار اجزاء ومنازل جیسی مباحث پر گفتگو کی ہے۔ مولف موصوف﷫ علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 67 #8068

    مصنف : قاری نجم الصبیح تھانوی

    مشاہدات : 286

    الدرر فی قراءت امام ابو عمرو بصری

    (اتوار 05 جنوری 2020ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی  کتب ِسماویہ میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔محدث لائبریری ،لاہورمیں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب’’ الدرر فی قراءات  امام ابو عمروبصری ‘‘ قاری نجم الصبیح  التھانوی﷾ کی تصنیف ہے ۔امام ابوعمرو بصری قراء سبعہ میں  سے ایک ہیں ۔ فاضل مصنف نے کتاب کے شروع میں  امام ابوعمرو بصری کے اصول قراءات کو  قواعد کی صورت میں تحریر کردیا ہے جنہیں سمجھ کر امام ابوعمرو بصری کی قراءت کو پڑھاجاسکتا ہےنیز  کتاب کو سمجھنے کے لیے  مصنف نے  ص11 پرمزید ہدایات بھی درج کردی ہیں۔(م۔ا)

  • 68 #2456

    مصنف : محمد تقی الاسلام دہلوی

    مشاہدات : 2496

    الدرۃ المضیئۃ القرۃ المرضیۃ

    (جمعرات 25 ستمبر 2014ء) ناشر : مکتبہ القراءۃ، لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔الدرۃ المضیئہ علامہ ابن الجزری کی قراءات سبعہ کے بعد والی قراءات ثلاثہ  پر اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔ اللہ تعالی نے اسے بھی شاطبیہ کی مانند بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے،جو قراءات ثلاثہ کی تدریس کے لئے ایک مصدر کے حیثیت رکھتی ہے۔متعدد علماء  اور قراءنے اس کی شروحات لکھی ہیں، جنہیں یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے ۔زیر نظر کتاب '' قرۃ المرضیۃ شرح الدرۃ المضیئہ"شیخ القراءقاری فتح محمدپانی پتی کی تالیف ہے۔جس میں مولف  نے شاطبیہ کو انتہائی  آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ اور قراءات سبعہ سے متعلقہ تمام اہم مباحث کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔قاری فتح محمدپانی پتی علم قراءات کے میدان میں بڑا  بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر بیسیوں علمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات  قرآنیہ  کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 69 #8067

    مصنف : قاری نجم الصبیح تھانوی

    مشاہدات : 310

    العبیر فی قراءت امام ابن کثیر

    (ہفتہ 04 جنوری 2020ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی  کتب ِسماویہ میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔محدث لائبریری ،لاہورمیں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔زیر نظر کتاب’’ العبیر فی قراءت امام ابن کثیر    ‘‘ قاری نجم الصبیح  التھانوی﷾ کی تصنیف ہے  فاضل مصنف نے کتاب کے شروع میں  امام ابن کثیر کے اصول قراءات کو  تقریباً دس قواعد کی صورت میں تحریر کردیا ہے جنہیں سمجھ کر امام ابن کثیر کی قراءت کو پڑہا جاسکتا ہے ۔(م۔ا)

  • 70 #5226

    مصنف : شیخ عمر فاروق

    مشاہدات : 1947

    الفرقان

    (منگل 21 مارچ 2017ء) ناشر : جامعہ تدبر قرآن، لاہور

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار العلم ،اسلام آباد وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ ’’ الفرقان‘‘ محترم جناب شیخ عمرفاروق کے ہفت روزہ ’’ ایشیا ‘‘ میں درس قرآن کے عنوان سے سلسلہ وار شائع ہونے والے درس کی کتابی صورت ہے ۔موصوف نے اس میں الفاظ کے مادے ، ان کے ماضی ومضارع اور صیغے بڑےاہتمام سے پیش کیے ہیں ۔ نیز پورے مضمون کے پیغام سمجھانے کےلیے انہو ں نے بہت سےقدیم وجدید تفاسیر کامطالعہ کر کے حسب ضرورت ان دروس میں مختلف مفسرین کے اقتباسات بھی دئیے ہیں ۔ ہفت روزہ ’’ ایشیا ‘‘ میں شائع ہونے والے ان دروس قرآن کو قارئین نے بہت پسند کیا ہے توشیخ عمر فاروق صاحب اپنے ان دروس قرآن کو کتابی صورت میں مرتب کیااور مرتب کرتے وقت اسے مفید بنانے کی ہر ممکن سعی اور جستجو کی ہے ، بنیادی عربی گرائمر کے علاوہ فہم قرآن کے سلسلہ میں مفید مضامین کااضافہ بھی کیا ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 ... 4 5 6 7 8 9 10 ... 62 63 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1760
  • اس ہفتے کے قارئین 3605
  • اس ماہ کے قارئین 55638
  • کل قارئین49466964

موضوعاتی فہرست