#6009

مصنف : قاری نجم الصبیح تھانوی

مشاہدات : 1837

تاریخ تجوید و قراءات

  • صفحات: 274
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 6850 (PKR)
(پیر 27 جنوری 2020ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

علم تجوید قرآن مجید کو ترتیل اور درست طریقے سے پڑھنے کا نام ہے علم تجوید کا وجوب کتاب وسنت واجماع امت سے ثابت ہے ۔اس علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خود صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو وقف و ابتداء کی تعلیم دیتے تھے جیسا کہ حدیث ابن ِعمرؓ سے معلوم ہوتا ہے۔فن تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک ہے ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری ہجری صدی کے نصف سے ہوا۔جس طرح حدیث وفقہ پر کام کیا گیا اسی طرح قرآن مجید کے درست تلفظ وقراءت کی طرف توجہ کی گئیعلمائے اسلام نے ہر زمانہ میں درس وتدریس اور تصنیف وتالیف کے ذریعہ اس علم کی دعوت وتبلیغ کو جاری رکها ، متقدمین علماء کے نزدیک علم تجوید پر الگ تصانیف کا طریقہ نہیں تها بلکہ تجوید علم الصرف کا ایک نہایت ضروری باب تها ، متاخرین علماء نے اس علم میں مستقل اور تفصیلی کتابیں لکھیں ہیں ، محمد بن مکی﷫ کی کتاب   اَلرِّعایَةاس سلسلہ کی پہلی کڑی ہے ، جوکہ چوتهی صدی ہجری میں لکهی گئی۔ علم قراءت بھی ایک الگ فن ہے ائمہ قراءت اور علماء امت نے اس فن  بھی پر ہر دور میں مبسوط ومختصر کتب کے تصنیف کی ۔ ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی  ایک طویل فہرست ہے  اور تجوید وقراءات کے موضوع    پرماہرین تجوید وقراءات  کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔   جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب  نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ عرب قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء  کرام اور  قراءعظام  نے  بھی  علم تجوید قراءات  کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔پاکستان میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ  سلفی قراء عظام  جناب قاری یحییٰ رسولنگری، قاری محمداریس العاصم ،قای محمد ابراہیم میرمحمدی  حفظہم اللہ اور ان کےشاگردوں کی  تجوید قراءات کی نشرواشاعت میں  خدمات  قابل ِتحسین ہیں  ۔مذکورہ قراء کی تجوید وقراءات کی کتب کے  علاوہ  جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور  کے کلیۃ القرآن ومجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور  کے زیر نگرانی شائع ہونے  والے  علمی مجلہ ’’ رشد ‘‘کےعلم ِتجویدو  قراءات  کے موضوع پر تین ضخیم  جلدوں  پر مشتمل قراءات نمبر  اپنے  موضوع  میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جس میں  مشہور قراء کرام کے   تحریر شدہ مضامین ، علمی  مقالات  اور حجیت  قراءات پر    پاک وہند کے  کئی  جیدمفتیان کرام کے فتاوی ٰ جات بھی شامل ہیں اور اس میں  قراءات کو عجمی فتنہ قرار دینے والوں کی  بھی خوب خبر لیتے ہوئے  ان کے  اعتراضات کے  مسکت جوابات دیئے گئے ہیں۔ زیر نظر کتاب’’تاریخ علم تجوید وقراءات ‘‘    استاذ القراء والمجودین قاری اظہار احمد تھانوی ﷫ کے خلف الرشید استاذ  القراء قاری نجم الصبیح  تھانوی﷾(صدر مدرس شعبہ تجوید واقراءات،مدرسہ تجوید القرآن رنگ محل،لاہور) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے حصہ اول  ’’ تاریخ تجوید‘‘ اور حصہ دوم  ’’ تاریخ قراءات ‘‘ پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

عرض مؤلف

7

﴿حصہ اول ﴾

تاریخ علم تجوید

 

ہدایت انسانیت اور اخلاقی تربیت کا منشور

10

چار بڑی آسماین کتب

11

حفاظت قرآن کریم

11

قرآن کی حفاظت بذریعہ تحریر

15

ادائیگی کی حفاظت

16

کلمات قرآن کی حفاظت

16

قرآن کی حفاظت بذریعہ حفظ

17

احادیث مبارکہ سے فضائل قرآن

19

اہمیت تجوید

23

تبدیلی حرف بالحرف

25

حرکات کو بڑھا کر پڑھنا

26

حروف مدہ کو گرا کر پڑھنا

26

تبدیل حرف بحرف

27

حرکات کو بڑھا کر پڑھنا

29

حرکات و سکنات کی تبدیلی

30

لحن جلی و خفی کا حکم

30

واجب شرعی

31

واجب اصطلاحی

31

غلط قرآن پڑھنے سےبچنے کا طریقہ

32

تجوید کی تعریف

33

علم تجوید کا موضوع

35

علم تجوید کی غرض و غایت

35

علم تجوید کا ثمرہ یا فائدہ

35

علم تجوید کی فضیلت

36

علم تجوید کی دیگر علوم سے نسبت

36

علم تجوید کا حکم

36

علم تجوید کے ارکان

37

حصول علم تجوید کا صحیح طریقہ

37

علم تجوید ہم تک کیسے پہنچا؟

38

میری روایت حفص کی اسناد

38

علم تجوید کی تدوین اور واضعین علم تجوید

41

من حیث القواعد

42

علم تجوید کی اہمیت

46

اہمیت و فرضیت تجوید احادیث مبارکہ کی روشنی میں

49

اہمیت تجوید اقوال صحابہ ﷢کی روشنی میں

52

تحسین صوت

61

تحسین صوت سے کیا مراد ہ ؟

61

تلاوت قرےن میں حسن صورت کی اہمیت

64

لحون عرب

66

منکرین تجوید کے کچھ اعتراضات اور ان کے جوابات

67

قرآن کی جمع و تدوین

80

ایک شبہ ارو اس کا رد

81

قرآن حکیم کی تحریری حفاظت

82

کاتبین وحی

87

مشہور حفاظ اور قراء صحابہ کرام اور صحابیات ﷢

88

دوسرا دور خلافت صدیقی ﷢میں قرآن کی جمع  و تدوین

89

دستور جمع صدیقی

92

تیسرا دور خلافت عثمانی ﷜میں قرآن کی جمع و تدوین

95

دستور جمع عثمانی

97

جامع القرآن کون ہے ؟

97

ایک شبہ اور اس کا جواب

98

قرآن پر اعراب ونقاط اور مزید تسہیلی اقدامات

100

مصاحف عثمانیہ کی تاریخ

104

مصحف مدنی

105

مصحف مکی

106

مصحف شامی

106

مصحف یمنی

107

مصحف بحرین

107

مصحف کوفی

107

مصحف امام

107

تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ میں ممتاز قراء کرام

108

﴿حصہ دوم﴾

تاریخ علم قرآءت

 

علم قرآءت کی لغوی تعریف

111

علم قرآءت کی اصطلاحی تعریف

112

علم قرآءت کا موضوع

113

علم قرآءت کی غرض و غایت

113

علم قرآءت کا فضل و شرف

113

علم قرآءت کی دوسرے علوم سے نسبت

114

علم قرآءت کا ماخذ

114

واضعین فن

114

علم قرآءت کا استمدار

114

علم قرآءت کا حکم

115

علم قرآءت کے مسائل

115

علم قرآءت کے تواتر کی شروط

115

علم قرآءت کی حقانیت سے متعلق احادیث

115

اول اس سے سات مختلف لغات مراد ہیں

126

دوم اس سے مراد اداء کا تغیر و تبدیل مراد ہے

126

(اول) اختلاف اسماء

128

(دوم) وجوہ اعراب کا اختلاف

129

سبعۃ احرف کی نوعیت

130

امت کے لیے سہولت اور آسانی

131

اعجاز قرآنی کے چیلنج میں توسیع

133

زبان و بیان کا تنوع مگر مفہوم متحد

133

کلام کی بلاغت اور اختصار

134

قرآءات کو یاد کرنے میں آسانی

134

احکام شریعہ کے استنباط میں آسانی

135

اجر و ثواب میں زیادتی

136

منکرین قرآءات کے اعتراضات او ران کے جوابات

137

قرآءت کا دارو مدار نقل پر ہے

165

کسی قرآءات کے متواتر یا شاذ معلوم کرنے کا طریقہ

166

ان تین ارکان کی مفصل تشریح و توضیح

168

رکن اول... نحوی وجہ سے موافقت

168

رکن دوم...رسم عثمانی سے مطابقت

169

رکن سوم ... قرآءت کا صحیح اور متصل سند سے ہونا

175

قرآءتات متواترہ اور شاذہ میں فرق اور امتیاز کے لیے کچھ اہم معلومات

182

قرآءت کے تواتر و عدم تواتر پر مزید ابحاث

196

علامہ ابن حاجب﷫کی رائے

197

علامہ ابن حاجب ﷫کی رائے پر علامہ جزری ﷫کا جواب

197

علامہ جزری﷫ یہ بیان نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں

209

کیا علم قرآءت خبر واحد کے قبیل سے ہے

217

صحابہ کرام ﷢ حضرات تابعین ﷭میں سے شیوخ قرآءات

224

صاحب اختیار ائمہ قرآءات

226

ائمہ عشرہ ، ان کے راوی اور طریق

228

قرآءت ، روایت اور طریق

232

خلط روایات اور طرق

233

چند مفید معلومات اور اصطلاحات

234

خلط فی الاختلاف المرتب

235

خلط فی الروایۃ بالالتزام

235

خلط فی الروایۃ بلا التزام علی حسب التلاوت

235

خلط فی الطریق بالالتزام

235

خلط فی الاقوال والا وجہ

236

خلط فی الطریق بلا التزام

236

اختلاف کی نسبت

236

اختلاف واجب و جائز

237

قرآءات میں کمی واقع ہونے کی وجہ

237

روایات کے کم ہونے کی وجہ

239

ائمہ اربعہ بعد العشرہ ، ان کے روایین اور طرق

240

موجودہ دور میں قرآءات کی مشہور کتب

241

التیسیر فی القراءات السبع

241

طیبۃ  النشر فی القراءات العشر المتواترہ

242

اتحاف فضلاء البشر فی القراءات الاربع العشر

242

ایک شبہ اور اس کا جواب

243

انکار قرآءت متواترہ کا حکم

245

کچھ ضروری مباحث

248

مصاحف عثمانیہ ’’سبعۃ احرف‘‘ بپر مشتمل ہونے کے ثبوت میں

248

قرآءات سبع بطریق شاطبیہ

259

میری قرآءات عشرہ بطریق طیبہ کی سند

261

آن لائن مطالعہ وقتی طور پر موجود نہیں ہے - ان شاءالله بہت جلد بحال کر دیا جائے گا

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2953
  • اس ہفتے کے قارئین 15433
  • اس ماہ کے قارئین 48589
  • کل قارئین64263886

موضوعاتی فہرست