کل کتب 620

دکھائیں
کتب
  • 31 #5107

    مصنف : ڈاکٹر سید شاہد علی

    مشاہدات : 5715

    اردو تفاسیر بیسویں صدی میں

    (جمعرات 19 جنوری 2017ء) ناشر : مکتبہ قاسم العلوم، لاہور

    قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِ ہدایت ہے اور اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک حرف پر ثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِ صحابہ سے لے کر عصر حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم و تشریح اور ترجمہ و تفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سے باب قائم کیے۔ اور مختلف ائمہ نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں۔ جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم بھی ہوچکے ہیں۔ اور ماضی قریب میں برصغیرِ پاک وہند کے تمام مکتب فکر کےعلماء نے قرآن مجید کی اردو تفاسیر لکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ارد وتفاسیر بیسویں صدی میں‘‘ ڈاکٹر سید شاہد علی مرتب شدہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بیسویں صدی میں اردو زبان میں لکھی جانی والی مکمل تفسیریں، جزوی تفسیریں، اور حواشی کی صورت میں لکھی جانے والی تفسیروں کا تعارف پیش کیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں 26 مکمل تفسیروں کا تعارف۔ باب دوم میں 37 جزوی تفسیروں کا تعارف۔ باب سوم میں چار تفسیری حواشی کاتعارف پیش کیا ہے اور باب چہارم حوالہ جات پر مشتمل ہے۔ صاحب کتاب نے اگرچہ اس کتاب کو بڑی محنت سے مرتب کیا ہے 20 صدی میں اردو زبان میں لکھی جانے والی مکمل جزوی، تفسیری حواشی کو اس میں جمع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن راقم کے خیال میں اس کتاب میں ابھی تشنگی ہے کیونکہ مصنف تمام تفسیروں کا احاطہ نہیں کرسکے۔ مثلاً انہوں نے مکمل تفسیروں میں مولاناادریس کاندہلوی﷫ کی تفسیر معارف القرآن اور تفسیری حواشی میں اشرف الحواشی کاذکر نہیں کیا۔ تتبع و تلاش سے بیسویں صدی میں لکھی جانے والی مزید تفسیریں بھی مل سکتی ہیں۔ (م۔ا)

  • 32 #5228

    مصنف : خولہ ضیغم

    مشاہدات : 2083

    اساس القرآن

    (بدھ 22 مارچ 2017ء) ناشر : حسام پبلشرز لاہور

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے ہیں ۔تاکہ خدمت قرآن کے  عظیم الشان شرف سے مشر ف ہوں۔قرآن مجید اسی ہزار الفاظ پر مشتمل ہے۔مگر اصل الفاظ دو ہزار ہیں، جن کے بار بار آنے سے یہ اسی ہزار بن گئے ہیں۔ان میں سے 500 الفاظ اردو زبان میں کم وبیش استعمال ہوتے ہیں۔باقی 1500 الفاظ ہیں جنہیں اگر صحیح طرح سے یاد کر لیا جائے توقرآن مجید کو سمجھنا آسان ہو جاتاہے۔ زیرتبصرہ کتاب  ''اساس القرآن '' محترمہ خولہ ضیغم  صاحبہ کی کاوش ہے، جس  میں انہوں نے انہی بنیادی  1734 الفاظ کے لغوی واصطلاحی معانی   بیان کر دئیے ہیں تاکہ قرآن مجید کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولفہ موصوفہ کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • اسباب نزول قرآن اردو

    (بدھ 17 ستمبر 2014ء) ناشر : دار الاشاعت، کراچی

    قرآن  کریم آخری الہامی  کتاب اور عالمی وابدی سرڈچشمۂ ہدایت کی حیثیت سے پڑھنے سمجھنے اور معاشرے میں اس کے قوانین  کے اطلاق کے سلسلے  میں جس اہتمام کاتقاضا کرتا ہے وہ کسی طرح محتاج بیان نہیں ہے ۔ اس سلسلے  میں جاننا ضروری ہے کہ  قرآن کریم معاشرے میں اصلاح کے تدریجی طریق کار کے پیش نظر مختلف حالات میں نازل ہوتا رہا ۔ ا ن مخصوص حالات اور واقعات کی واقفیت  ہر مسلمان  فر د بالخصوص  ہر مبلغ کے لیے  از بس ضروری ہے ۔اس سلسلے میں  امت کےعلماء  کرام  نے  پوری کوشش کی ہے  اور آیات قرآنی کے شان نزول کو تفصیل  کےساتھ محفوظ کیا ہے ۔انہی مستند کتب اور مآخذ میں سے زیر  نظر  کتاب ’’اسباب  نزول القرآن‘‘  ہے جو امام ابو الحسن علی بن احمد بن محمد الواحدی کی تصنیف ہے ۔ جس میں قرآنی آیات کے اسباب یعنی  شان نزول کا  احاطہ کیاگیا ہے۔اللہ تعالی مصنف  مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو  شرف قبولیت سے  نوازے اور اس طالبان ِعلوم نبوت کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

  • 34 #5297

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 3960

    اسلام کے معاشرتی آداب سورۃ الحجرات کی روشنی میں

    (منگل 25 اپریل 2017ء) ناشر : اسلامک سروسز سوسائٹی لاہور

    سورۃ الحجرات قرآن مجید کی 49 ویں سورت جو حضرت محمد ﷺ کی مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس سورت میں 2 رکوع اور 18 آیات ہیں۔سورۃ الحجرات کےمضامین اورتفاسیر بالماثور کےمطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ سورۃ الحجرات ایک ہی دفعہ نازل نہیں کی گئی بلکہ حسب ضرورت اس کانزول کئی حصوں او رمختلف اوقات میں ہوا اس سورت کااجمالی موضوع اہل ایمان اورمسلمانوں کے ان امور کی اصلاح ہے جن کا تعلق ان کے باہمی معاملات او رمجمتع اسلامی سے ہوتاہے۔ ابتدائی پانچ آیتوں میں ان کو وہ ادب سکھایا گیا ہے جو انہیں اللہ اور اس کے رسول کے معاملے میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ پھر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہر خبر پر یقین کر لینا اور اس پر کوئی کارروائی کر گزرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی اطلاع ملے تو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خبر ملنے کا ذریعہ قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ قابل اعتماد نہ ہو تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے تحقیق کر لینا چاہیے کہ خبرصحیح ہے یا نہیں۔ اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ پھر مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، ایک دوسرے پر طعن کرنا، ایک دوسرے کے برے برے نام رکھنا، بد گمانیاں کرنا، دوسرے کے حالات کی کھوج کرید کرنا، لوگوں کو پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرنا، یہ وہ افعال ہیں جو بجائے خود بھی گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کرتےہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نام بنام ان کا ذکر فرما کر انہیں حرام قرار دے دیا ہے۔ اس کے بعد قومی اور نسلی امتیازات پر ضرب لگائی گئی ہے جو دنیا میں عالمگیر فسادات کے موجب ہوتے ہیں۔ قوموں اور قبیلوں اور خاندانوں کا اپنے شرف پر فخر و غرور، اور دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنا، اور اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے دوسروں کو گرانا، ان اہم اسباب میں سے ہے جن کی بدولت دنیا ظلم سے بھر گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مختصر سی آیت فرما کر اس برائی کی جڑ کاٹ دی ہے کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے پیدا ہوئے ہیں اور قوموں اور قبیلوں میں ان کا تقسیم ہونا تعارف کے لیے ہے نہ کہ تفاخر کے لیے، اور ایک انسان پر دوسرے انسان کی فوقیت کے لیے اخلاقی فضیلت کے سوا اور کوئی جائز بنیاد نہیں ہے۔ آخر میں لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اصل چیز ایمان کا زبانی دعویٰ نہیں ہے بلکہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کو ماننا، عملاً فرمانبردار بن کر رہنا، اور خلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کھپا دینا ہے۔ حقیقی مومن وہی ہیں جو یہ روش اختیار کرتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو دل کی تصدیق کے بغیر محض زبان سے اسلام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ گویا اسلام قبول کر کے انہوں نے کوئی احسان کیا ہے، تو دنیامیں ان کا شمار مسلمانوں میں ہو سکتا ہے، معاشرے میں ان کے ساتھ مسلمانوں کا سا سلوک بھی کیا جا سکتا ہے، مگر اللہ کے ہاں وہ مومن قرار نہیں پا سکتے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام کے معاشرتی آداب ‘‘ عالم اسلام کے عظیم اسلامی اسکالر مفسر قرآن سید ابو الاعلیٰ مودودی ﷫ کی تصیف ہے جسے انہوں نے سورۃ الحجرات کی روشنی میں انتہائی عام فہم انداز میں عامۃ الناس کے لیے مرتب کیا تھا۔یہ کتاب دراصل ان کی تفسیر ’’ تفہیم القرآن ‘‘ سے اخذ شدہ جسے عامۃ الناس کے استفادے کے لیے اسلامک سروسز سوسائٹی نے الگ سے شائع کیا گیا ہے ۔ (راسخ)

  • 35 #2532

    مصنف : احمد دیدات

    مشاہدات : 4059

    اسلامی نظام زندگی قرآن عصری سائنس کی روشنی میں

    (بدھ 08 اکتوبر 2014ء) ناشر : عبد اللہ اکیڈمی لاہور

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔زیر تبصرہ کتاب " اسلامی نظام زندگی،قرآن اور عصری سائنس کی روشنی میں " عالمی شہرت یافتہ ،عظیم اسلامی سکالر  ،مبلغ،داعی،  مذاہب عالم کےمحقق ،تقابل ادیان کے مناظراور عیسائی پادریوں کی زبانیں بند کردینے والے عظیم مجاہدشیخ احمد دیدات﷫  کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مصباح الرحمن صاحب نے حاصل کی ہے۔آپ  کا پیدائشی نام احمد حسین دیدات ﷫تھا۔ آپ کی  تقاریر کے اہم موضوعات، انجیل، نصرانیت، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، انجیل میں محمد ﷺ کا ذکر ، کیا آج کی اناجیل کلام اللہ ہیں وغیرہ وغیرہ ہوتے تھے۔ مولف ﷫نے اپنی تقاریر اور مناظروں کے ذریعے  عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دیں،جو رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔آپ نے اس کتاب میں  قرآن اور عصری سائنس کی روشنی میں اسلامی نظام زندگی پر گفتگو فرمائی ہے،اور اسلام کی روشن تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کر کے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ہے۔ اللہ تعالی دفاع اسلام کے سلسلے میں انجام دی جانے والی ان کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 36 #1265

    مصنف : قاری محمد یحییٰ رسولنگری

    مشاہدات : 20098

    اسہل التجوید فی القرآن المجید

    (منگل 24 اپریل 2012ء) ناشر : مکتبہ عزیزیہ پل بازار ساہیوال

    قرآن کریم کے حروف کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کرنا لازم و ملزوم ہے۔ بصورت دیگر قرآن کریم کے معانی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ فی زمانہ جہاں بہت سے لوگ قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے کا ذوق شوق رکھتے ہیں وہیں معتد بہ طبقہ ایسا بھی ہے جو اس حوالے سے سستی کا شکار ہے۔ شیخ القراء قاری یحییٰ رسولنگری حفظہ اللہ نے اسی ضرورت کے پیش نظر عام فہم انداز میں یہ کتاب تصنیف فرمائی۔ قاری صاحب نے روایت حفص سے متعلقہ جن قواعد کو نقل کیا ہے ان کا یاد کرنا نہایت آسان ہے ان قواعد کو مشق میں لا کر عوام الناس ایسی غلطیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں جن سے فساد معنی لازم آتا ہے۔ قاری صاحب کے بقول اگر اس کتاب کو اچھی طرح سمجھ کر پڑھ لیا جائے تو حفص کے قواعد پر مکمل عبور حاصل ہو جائے گا۔ (عین۔ م)
     

  • 37 #2804

    مصنف : قاری فتح محمد پانی پتی

    مشاہدات : 3009

    اسہل الموارد فی شرح عقیلۃ اتراب القصائد

    (بدھ 14 جنوری 2015ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

    کلمات قرآنیہ کی کتابت کا ایک بڑا حصہ  تلفظ کے موافق یعنی قیاسی ہے،لیکن چند کلمات تلفظ کے خلاف لکھے جاتے ہیں اور رسم کے خلاف اس معروف کتاب کو رسم عثمانی یا رسم الخط کہا جاتا ہے۔تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو رسم عثمانی کے مطابق لکھنا واجب اور ضروری ہے ،اور اس کے خلاف لکھنا ناجائز اور حرام ہے۔لہذا کسی دوسرے رسم الخط جیسے ہندی، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، تمل، پنجابی، بنگالی، تلگو، سندھی، فرانسیسی، انگریزی ،حتی کہ معروف  وقیاسی عربی رسم  میں بھی لکھنا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ درحقیقت کتاب اللہ کے عموم و اطلاق، نبوی فرمودات، اور اجماع صحابہ و اجماعِ امت سے انحراف ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب " اسھل الموارد فی شرح عقیلۃ اتراب القصائد "استاذ القراءوالمجودین قاری فتح محمد پانی پتی مہاجر مدنی ﷫ کی تصنیف ہے ،جو علم قراءات کے امام علامہ شاطبی﷫ کی علم الرسم پر لکھے منظوم قصیدے "عقیلۃ اتراب القصائد فی اسنی المقاصد"کی عظیم الشان اردو شرح ہے۔امام شاطبی ﷫کی اس کتاب کے دو سو اٹھانوے اشعار ہیں جن میں انہوں نے امام دانی﷫ کی کتاب" المقنع "کے مضامین کو نظم کر دیا ہے۔اس  میں انہوں  نے رسم عثمانی کے قواعد وضوابط کو بیان کیا ہے۔یہ کلمات قرآنیہ کے رسم الخط پر مبنی ایک منفرد  کتاب ہے۔ جس میں حذف، زیادت، ہمزہ، بدل اور قطع ووصل وغیرہ جیسی مباحث کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اگرچہ طلباءکے لیے  لکھی گئی ہے ،لیکن اپنی سہولت اور سلیس عبارت کے پیش نظر طلباء اور عوام الناس سب کے لیے یکساں مفید ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)

     

  • 38 #2747

    مصنف : سید ممتاز علی

    مشاہدات : 5230

    اشاریہ مضامین قرآن جلد۔1

    dsa (اتوار 14 دسمبر 2014ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سینکڑوں موضوعات پرمشتمل ہے۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں علامہ وحید الزمان  کی ’’تبویب القرآن فی مضامین الفرقان ‘‘، شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ اور ’’مضامین قرآن‘‘از زاہد ملک قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اشاریہ مضامین قرآن؍تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘شمس العلماء مو لانا سید ممتاز علی کی قرآن میں بیان شدہ مضامین کو جاننے کے لیے ایک اہم کاوش ہے۔ موصوف 1860ء کو راولپنڈی میں ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنےکےبعددار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور وہاں ممتاز اساتذہ سے   تعلیم حاصل کی ۔آپ زندگی بھر تصنیف وتالیف کے کام سے منسلق رہے ۔آپ نے چار رسالوں کااجراء کیا اور تقریبا 14 کتب تصنیف کیں جن میں سےاہم ترین کتاب’’ تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘ ہے ۔یہ موصوف کا بڑا علمی کارنامہ ہے جس کو آپ نے پچیس برس کی محنت سے ترتیب دیا ۔یہ آیات قرآنی کا ایک مبسوط اشاریہ ہے جو معانی ومطالب کےاعتبار سے مرتب کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک موضوع ایک ہی مقام پر بیان نہیں ہوا بلکہ ایک عنوان پر روشنی ڈالنے والی متعدد آیات مختلف مقامات پر ملتی ہیں ۔لٰہذا جوشخص کسی خاص موضوع کے ذیل میں آنے والی تمام آیات سے بیک وقت باخبر ہو نا چاہتا ہو اس کے لیے یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ پورا قرآن مجید شروع سے آخر تک نہ پڑھ لے اور یہ ایک دقت طلب مسئلہ ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ قرآن میں بیان شدہ تمام موضوعات سےمتعلق آیات ایک ہی مقام پرجمع کردی جائیں۔تاکہ ان سے کما حقہ استفادہ کیاجاسکے ۔اس ضرروت کے پیش نظر مولانا سید ممتاز علی نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی سے پانچ ہزار سے زائد عنوانات کا تعین کیا جو قرآن مجید کی جملہ آیا ت سے قائم ہو سکتے ہیں اور پھر ان کےذیل میں آنے والی تمام آیات ایک مقام پر جمع کردیں اور ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ بھی درج کردیا ہے۔یہ کتاب سات حصوں(کتاب العقائد،کتاب الاحکام، کتاب الرسالت،کتاب المعاد، کتاب الاخلاق، کتاب بدء الخلق، کتاب القصص) پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب قرآن مجید کے مضامین کو سمجھے او رجاننے کے لیے انتہائی مفید اور ہر لائبریری اور گھر میں رکھنے کے لائق ہے ۔ علماء واعظین ، مدرسین ، اورمناظرین   کے لیے از بس مفید ہے۔ اللہ تعالی مصنف کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین ( م۔ا)

  • 39 #2747

    مصنف : سید ممتاز علی

    مشاہدات : 5230

    اشاریہ مضامین قرآن جلد۔1

    dsa (اتوار 14 دسمبر 2014ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سینکڑوں موضوعات پرمشتمل ہے۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں علامہ وحید الزمان  کی ’’تبویب القرآن فی مضامین الفرقان ‘‘، شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ اور ’’مضامین قرآن‘‘از زاہد ملک قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اشاریہ مضامین قرآن؍تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘شمس العلماء مو لانا سید ممتاز علی کی قرآن میں بیان شدہ مضامین کو جاننے کے لیے ایک اہم کاوش ہے۔ موصوف 1860ء کو راولپنڈی میں ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنےکےبعددار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور وہاں ممتاز اساتذہ سے   تعلیم حاصل کی ۔آپ زندگی بھر تصنیف وتالیف کے کام سے منسلق رہے ۔آپ نے چار رسالوں کااجراء کیا اور تقریبا 14 کتب تصنیف کیں جن میں سےاہم ترین کتاب’’ تفصیل البیان فی مقاصد القرآن‘‘ ہے ۔یہ موصوف کا بڑا علمی کارنامہ ہے جس کو آپ نے پچیس برس کی محنت سے ترتیب دیا ۔یہ آیات قرآنی کا ایک مبسوط اشاریہ ہے جو معانی ومطالب کےاعتبار سے مرتب کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک موضوع ایک ہی مقام پر بیان نہیں ہوا بلکہ ایک عنوان پر روشنی ڈالنے والی متعدد آیات مختلف مقامات پر ملتی ہیں ۔لٰہذا جوشخص کسی خاص موضوع کے ذیل میں آنے والی تمام آیات سے بیک وقت باخبر ہو نا چاہتا ہو اس کے لیے یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ پورا قرآن مجید شروع سے آخر تک نہ پڑھ لے اور یہ ایک دقت طلب مسئلہ ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ قرآن میں بیان شدہ تمام موضوعات سےمتعلق آیات ایک ہی مقام پرجمع کردی جائیں۔تاکہ ان سے کما حقہ استفادہ کیاجاسکے ۔اس ضرروت کے پیش نظر مولانا سید ممتاز علی نے نہایت جانفشانی اور عرق ریزی سے پانچ ہزار سے زائد عنوانات کا تعین کیا جو قرآن مجید کی جملہ آیا ت سے قائم ہو سکتے ہیں اور پھر ان کےذیل میں آنے والی تمام آیات ایک مقام پر جمع کردیں اور ساتھ ساتھ ان کا ترجمہ بھی درج کردیا ہے۔یہ کتاب سات حصوں(کتاب العقائد،کتاب الاحکام، کتاب الرسالت،کتاب المعاد، کتاب الاخلاق، کتاب بدء الخلق، کتاب القصص) پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب قرآن مجید کے مضامین کو سمجھے او رجاننے کے لیے انتہائی مفید اور ہر لائبریری اور گھر میں رکھنے کے لائق ہے ۔ علماء واعظین ، مدرسین ، اورمناظرین   کے لیے از بس مفید ہے۔ اللہ تعالی مصنف کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین ( م۔ا)

  • 40 #5778

    مصنف : ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی

    مشاہدات : 1617

    اصدق القصص

    (ہفتہ 23 ستمبر 2017ء) ناشر : مدرسہ دار السنہ تگران آباد مکران

    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اوراثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر موڑ پر مکمل راہ نمائی کرتا ہے خوشی ہو یاغمی ہواسلام ہر ایک کی حدود وقیوم کو بیان کرتا ہے تاکہ کو ئی شخص خوشی یا تکلیف کے موقع پر بھی اسلام کی حدود سےتجاوز نہ کرے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام وتابعین کی سیرت وسوانح میں ہمیں جابجا پاکیزہ مزاح او رہنسی خوشی کے واقعات او رنصیت آموز آثار وقصص ملتے ہیں کہ جن میں ہمارے لیے مکمل راہ نمائی موجود ہے ۔ لہذا اہمیں چاہیے کہ خوش طبعی اور پند نصیحت کےلیے جھوٹے ،من گھڑت اور افسانوی واقعات ولطائف کےبجائے ان مقدس شخصیات کی سیرت اور حالات کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی روشنی میں ہم اپنے اخلاق وکردار اور ذہن وفکر کی اصلاح کرسکیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  صحیح اور ثابت قصص کو بیان کیا گیا ہے اور صرف بخاری ومسلم میں مروی ہونے والے واقعات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ اس کتا ب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے‘ پہلے حصے میں  پانچ فصول قائم کی گئی ہے۔ پہلی میں  انبیاء ورسل﷩ کے قصے‘ دوسری میں اللہ تعالیٰ کے عجائب قدرت پر دلالت کرنے والے قصے‘ تیسری میں فضائل اعمال والے قصے‘ چوتھی میں ایمانی نمونے والے قصے اور پانچویں میں برے نمونے والے قصے بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں تین فصول کا اہتمام ہے‘ پہلی میں نبیﷺ سے متعلق قصص وواقعات کو‘ دوسری میں صحابہ کرامؓ سے متعلق واقعات کو اور تیسری میں برے نمونے والے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ اصدق القصص ‘‘ ابوعبد الصبور عبد الغفور دامنی﷾ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 61 62 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 625
  • اس ہفتے کے قارئین 6610
  • اس ماہ کے قارئین 45004
  • کل قارئین49319256

موضوعاتی فہرست