محمد اسحاق بھٹی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد اسحاق بھٹی
میاں عبد المجید
1925-03-14
2015-12-22

ان کےدادا میاں محمد نہایت نیک انسان تھے دین داری،تقوی وصالحیت اورورع وعفاف کےزیورسےآراشدتھےان کےقلب و ذہن پراسلامی تعلیمات کےگہرےنقوش ثبت تھے۔وہ اپنےدل میں اسلام کی سچی محبت رکھتےتھے انہوں نےاپنےاس پوتےمحمداسحاق کوشروع سےہی علم وعمل کی راہ پرڈال دیا اوراسلامی تقاضوں کے مطابق اس کی تربیت کرناشروع کی گھرمیں ہی دادا نےقرآن پڑھایا اورتیسویں پارہ کی چندسورتیں حفظ کروادیں اوراردوکی کتابیں بھی پڑھادیں۔اسلام کی کتاب اول تاچہارم مولوی رحیم بخش کی پڑھادی اسی طرح حافظ محمدلکھوی کی بعض کتب انواع محمدی،زینت الاسلام اوراحوال الآخرت بھی پڑھادین تھیں۔ 1933ء میں جب محمداسحاق صاحب چوتھی جماعت کےطالب علم تھےتوان کےدادا ان کومولوی عطاء اللہ حنیف کی خدمت میں لےکرحاضرہوئے اورکہاکہ اس کوقرآن مجیدکاترجمہ اورتاریخ اسلام کےعلاوہ اس کےفہم کےمطابق دینی مسائل کی کتب پڑھادیاکریں۔چنانچہ مولانا عطاء اللہ کی خدمت میں رہ کرمروجہ علوم و فنون اورتفاسیرواحادیث کتب پڑھیں مولانا کےحکم پراسحاق صاحب حافظ گوندلوی اورمحمداسماعیل سلفی کی خدمت میں حاضرہوئے اوربخاری مسلم اوربعض دوسری کتب پڑھ کرسندفراغت حاصل کی۔

نام: مولانامحمداسحاق بھٹی۔

ولدیت: ان کےوالدگرامی کانام میاں عبدالمجیداوردادا کااسم گرامی میاں محمدتھا۔

ولادت:

مولانامحمداسحاق بھٹی  ﷫مارچ 1925ء کوکوٹ کپورہ(ریاست فریدکوٹ)میں پیداہوئے۔

تعلیم وتربیت: ان کےدادا میاں محمد نہایت نیک انسان تھے دین داری،تقوی وصالحیت اورورع وعفاف کےزیورسےآراشدتھےان کےقلب و ذہن پراسلامی تعلیمات کےگہرےنقوش ثبت تھے۔وہ اپنےدل میں اسلام کی سچی محبت رکھتےتھے انہوں نےاپنےاس پوتےمحمداسحاق کوشروع سےہی علم وعمل کی راہ پرڈال دیا اوراسلامی تقاضوں کے مطابق اس کی تربیت کرناشروع کی گھرمیں ہی دادا نےقرآن پڑھایا اورتیسویں پارہ کی چندسورتیں حفظ کروادیں اوراردوکی کتابیں بھی پڑھادیں۔اسلام کی کتاب اول تاچہارم مولوی رحیم بخش کی پڑھادی اسی طرح حافظ محمدلکھوی کی بعض کتب انواع محمدی،زینت الاسلام اوراحوال الآخرت بھی پڑھادین تھیں۔ 1933ء میں جب محمداسحاق صاحب چوتھی جماعت کےطالب علم تھےتوان کےدادا ان کومولوی عطاء اللہ حنیف کی خدمت میں لےکرحاضرہوئے اورکہاکہ اس کوقرآن مجیدکاترجمہ اورتاریخ اسلام کےعلاوہ اس کےفہم کےمطابق دینی مسائل کی کتب پڑھادیاکریں۔چنانچہ مولانا عطاء اللہ کی خدمت میں رہ کرمروجہ علوم و فنون اورتفاسیرواحادیث کتب پڑھیں مولانا کےحکم پراسحاق صاحب حافظ گوندلوی اورمحمداسماعیل سلفی کی خدمت میں حاضرہوئے اوربخاری مسلم اوربعض دوسری کتب پڑھ کرسندفراغت حاصل کی۔

اساتذہ:

مولانا اسحاق صاحب نےاپنےتعلیمی سفرمیں جن اساتذہ کرام سےاکتساب علم کیاان کےاسمائے گرامی یہ ہیں۔

1۔مولاناعطاء اللہ حنیف بھوحیانی۔

2۔حافظ محمدگوندلوی ۔

3۔شیخ الحدیث مولانا حافظ اسماعیل سلفی۔

درس وتدریس:درس نظامی کی تکمیل کےبعدمولانااسحاق بھٹی صاحب ایک سال محکمہ انہارہیڈسلیمانکی میں ہیڈکلرک رہےپھرمارچ 1943ء  تک وہاں مدرسہ مرکزالاسلامیں تدریسی فرائض سرانجام دیتےرہے۔اس دوران انہوں نےتحریک آزادی میں حصہ لیا اورفریدکوٹ کی جیل میں قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں۔

بھٹی صاحب مولاناآزادمرحوم کےبہت بڑےمداح اورعقیدت مندہیں۔

13 اگست 1947ء کومولاناابوالکلام آذاد سےملنے 21پرتھوی روڑنئی دہلی گئے۔پاکستان بننےکےبعدمولانا نے21اگست 1947ءکوایک قافلہ کےساتھ پاکستان میں قصور شہرمیں پہنچے۔اورپھراپنےخاندان کےساتھ چک نمبر53 گ ب منصورپور(تحصیل جڑانوالا،ضلع فیصل آباد)آگئے اورانہوں نےاس گاؤںمیں سکونت اختیارکرلی۔مولانا نےتجارت بھی کی۔جولائی 1948ءمیں مولاناکومرکزی جمعیت اہل حدیث کاناظم دفتر بنادیاگیاتھا۔مولانااسحاق بھٹی صاحب مولاناداؤد غزنوی کےساتھ15 سال رہےاوران کےساتھ چل کر جماعت کی ترقی کےلیےبہت کامک کیا۔ ہفت روزہ الاعتصام کااجراء 19اکست 1999ء کوگوجرانوالا سےہوا تو حنیف ندو ی کواسکا مدیربنادیا گیا کچھ عرصہ بعدمولانااسحاق کوانکا معاون مدیر بنادیا۔

جنوری 1958ءمیں بھٹی صاحب نےالاعتصام کی ادارت سےعلیحدگی اختیارکرلی اورچندمخلص دوستوں کےتعاون سےسہ روزہ ’’المنہاح،، جاری کیا۔یہ اخبارچودہ مہینےجاری رہاپھر بعض ماگیزیہ حالات اورمالی مشکلات کی وجہ سےاورخسارہ اٹھاکراپریل 1959ءمیں اس اخبار کوبندکردیا۔

مولانا داؤدغزنوی  کےکہنےپ سوا سال بعددوبارہ پھرالاعتصام میں واپس آگئے۔

21 اکتوبر1965ءمیں مولانااسحاق صاحب ادارہ ثقافت اسلامیہ سےمنسلک ہوگئے۔

تصانیف وتراجم:

ادارہ ثقافت اسلامیہ میں  رہ کربھٹی صاحب نےتصنیفی خدمات سرانجام دیں اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔الفہرست ابن الفدیم 2۔برصغیرپاک وہندمیں علم فقہ۔

3۔فقہائے ہند۔ 4۔برصغیرمیں اسلام کےاولین نقوش۔

5۔ارمغان حنیف۔  ان کےعلاوہ اردو دائرہ مصارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی کےلیےجمع وتدوین قرآن،فضائل قرآن ،مضامین قرآن،واقعات وقصص قرآن اوراعجازقرآن کےنام سےمفصل مقالات لکھے اس کےعلاوہ متعددموضوعات پر30۔32 مقالات لکھےہیں جوتمام کےتمام اردو دائرہ مصارف اسلامیہ کی مختلف جلدوں میں شائع ہوئے۔ان کےعلاوہ بھٹی صاحب نےمختلف شخصیات کےسوانخی خاکہ جات بھی تحریرکیےہیں۔

ان کےنام درج ذیل ہیں۔ نقوش  عظمت رفتہ،بزم ارجمنداں،کاروان سلف اورقافلہ حدیث ۔ یہ اشاعت پزیر ہوکرمنصہ شہودپرآچکےہیں۔

ان کےعلاوہ مولانا کےقلم سےدیگرکتب بھی ہیں جن کےنام یہ ہیں۔

1۔قصوری خاندان 2۔میاں فضل حق اوران کی خدمات ۔

3۔برصغیرمیں اہل حدیث کی آمد 4۔صوفی محمدعبداللہ۔

5۔میاں عبدالعزیزمالواڈہ 6۔قاضی محمدسلیمان منصورپوری۔

7۔مولاناابوالکلام آزاد،ایک نابغہ روزگارشخیصت۔

8۔برصغیرکےاہل حدیث خدام قرآن 9۔ریاض الصالحین اردوترجمہ۔

10۔ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ 11۔لشکراسامہ کی روانگی۔

12۔لسان القرآن جلدسوم 13۔چہرہ نبوت۔

14۔اسلام کی بیٹیاں 15۔ارمغان حدیث۔

16۔دبستان حدیث 17۔ہفت اقلیم۔

حوالہ: مؤرخ اہل حدیث مولانا محمداسحاق بھٹی حیات وخدمات:از مولانا محمدرمضان یوسف سلفی حفظہ اللہ۔

    pages-from-60-bakamaal-khawateen
    محمد اسحاق بھٹی

    اسلامی تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اورپاکیزہ  نمونہ پیش کرتی ہے۔ آج جب زمانہ بدل رہا ہے، مغربی تہذیب و تمدن  او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے، تہذیب مغرب کی دلدادہ مسلمان خواتین  او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزیدہ  خواتین کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر گمراہ اور ذرائع ابلاغ کی زینت خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف کی خدمات کو پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام کے ہردور میں عورتوں نےمختلف حیثیتوں  سے امتیاز حاصل کیا ہے ،اور بڑے بڑے عظیم کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ، تابعیات، صالحات کی زندگیاں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ان کے دینی، اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے نہ صرف دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں نجات کا ذریعہ  ہیں، بلکہ موجودہ دور کے تمام معاشرتی خطرات سے  محفوظ رکھنے کے بھی ضامن ہیں۔ اسلامی تاریخ میں ایسی خواتین بھی گزری ہیں جن کے سامنے اچھے اچھے سیاستدان اور حرب وضرب کے ماہر اپنے آپ کے بے بس پاتے تھے ان کی زبان کی کاٹ تلوار سے تیز تھی اوربعض کے اشعار دشمن کے لیے شمشیر برہنہ سے کم نہ تھے۔ ایک بہادر خاتون نے بنوامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خلافت کے حق دار نہیں ہیں اور اتنا بڑا اعزاز انہیں زیب نہیں دیتا۔تاریخ میں ایسی خواتین کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے شاہی غیظ وغضب کی بھی پرواہ نہیں کی اور شاہی خاندان کے بعض خودسر افراد کے غرور وتمکنت کا جنازہ نکال دیا۔ زیر تبصرہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب کا منتخب حصہ ہے جسے مکتبہ فہیم انڈیا کے مدیر نے ’’ساٹھ باکمال خواتین‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب 10 بہادر صحابیات اور 50 دیگر نامور تابعیات وصالحات کے دلنشیں تذکرہ پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

    title-pages-armaghan-e-hanif
    محمد اسحاق بھٹی
    مولانامحمدحنیف ندوی علیہ الرحمۃ ایک عظیم مفکر،جلیل القدرعالم اورمنفردادیب اوربلندپایہ فلسفی تھے ۔انہوں نے مختلف اسلامی موضوعات پرتیس کے قریب کتابیں تحریرکیں ۔مولانانے قرآن شریف کی تفسیربھی لکھی جوسراج البیان کے نام سے پانچ جلدوں میں شائع ہوئی ۔مولانامرحوم بے پناہ صلاحیتوں اورخوبیوں سے اتصاف پذیرتھے اوراسلام کے لیے ان کی خدمات انتہائی قابل قدرہیں ۔لیکن افسوس کہ عوام میں بہت کم لوگ ان سے واقف ہیں ۔ارباب ذوق کوان سسے روشناس کرانے کے لیے زیرنظرکتاب ’’ارمغان حنیف ‘‘پیش کی جاری ہے جس میں ان کی خدمات وسوانح زندگی بیان کیے گئے ہیں ۔یہاں اس حقیقت کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ مولاناکی فکرکے بعض پہلوارباب علم وتحقیق کی نگاہ میں محل نظرہیں ۔رحمہ اللہ تعالیٰ۔



    pages-from-molana-ahmad-din-gakharvi
    محمد اسحاق بھٹی

    برصغیر پاک وہند میں جن علمائے کرام نےتحریر وخطابت اور بحث و مناظرے کے ذریعے سےدین اسلام کی بھر پور خدمت کی اور مخالفین کے حملوں کی جواب دہی میں پوری تن دہی اور جاں فشانی سے حصہ لیا،ایسے اکابر علمائے دین میں امام المناظرین مولانا احمد دین گکھڑوی﷫ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ مولانا احمددین گھکڑوی﷫ بہت بڑے مناظر اور جلیل القدر عالمِدین تھے 1900ء میں ضلع گوجرانوالہ کے ایک مشہور مقام گکھڑ میں پیداہوئے اور مختلف اہل علم سے دینی تعلیم حاصل کی ۔مولانا ابھی کم عمر ہی تھے کہ والد گرامی انتقال کر گئے لیکن انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا دورانِ تعلیم ہی مولانا احمد دین کو وعظ وتقریرکا شوق پیدا ہوگیا تھا وہ بدعات او رغیر اسلامی رسوم و رواج کے سخت خلاف تھے اور ان پرکھل کر تنقید کرتے تھے ذہن ابتداہی سے مناظرانہ تھا دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ باقاعدہ طور سے تقریبا 1920میں مناظرے اور تقریر کےمیدان میں اترے۔ پھر عیسائیوں ،شیعوں، مرزائیوں اور بریلویوں سےان کے بے شمار مناظرے ہوئے او راس زمانے میں ان کے مناظروں کی سامعہ نواز گونج دور دور تک سنی گئی اور کامیاب مناظرکی حیثیت سے معروف ہوئے۔ آپ کی دینی خدمات اور خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ (1868۔ 1948ء) نے فرمایا تھا کہ میرے بعد مخالفینِ اسلام سے نپٹنے اور انہیں میدان مناظرہ میں زیر کرنے کے لیے احمددین موجود ہوگا۔ چناں چہ بعدکےحالات نےواقعی شیخ الاسلام امرتسری﷫ کی پیشین گوئی سچ کر دکھائی اور مولانا احمد دین کو بحث ومناظرہ کا جہاں بھی موقع ملا انھوں نے فریق مخالف کاپوری طرح سے تعاقب کیا اور فتح وکامرانی آپ ہی کے حصے میں آئی۔میدان مناظرہ میں ان کی کامیابیوں کی بناپر جماعت اہل حدیث کے معروف مناظر حافظ عبدالقادر روپڑیؒ۔   نے انہیں ’’استاذ المناظرین‘‘ کا لقب دیا تھا۔ زیر نظر کتاب ’’استاذ المناظرین مولانا احمد دین گکھڑوی‘‘ معروف مؤرخ اہل حدیث   مصنف کتب کثیرہ مولاناکی محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مولانا احمد دین کگھڑوی ﷫ کی دینی، تبلیغی وعوتی خدمات او ر بالخصوص ان کے مناظروں کی روداد اور واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مکتبہ قدوسیہ لاہور نے 2011ء میں شائع کیا تھا۔جس کے 250 صفحات تھے۔ اشاعت ک بعدیہ ایڈیشن جلد ہی ختم ہوگیا۔زیرتبصرہ اس کتاب کا جدید اضافہ شدہ ایڈیشن ہے ۔اس میں بھٹی صاحب نے تقریبا 160 صفحات کا اضافہ کیا ہے۔ اور اسے ’’دار ابی الطیب ،گوجرانولہ نے حسنِ طباعت سےآراستہ کیا ہے۔ اللہ مولانا احمدین او رمصنف کتاب مولانا بھٹی ﷫ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبور پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

    title-pages-istaqbaliya-w-sadarti-khatabat-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    قیامِ پاکستان کے بعد مسلک کے عنوان پر  سب سے پہلی غیر سیاسی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث  ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وطن عزیز کی وہ اولین تنظیم ہے جس نے وعظ وتبلیغ اور تحریر وتصنیف سےاسلام کے چشمۂ صافی کے آبِ حیات کے جام سرعام لنڈھائے اور تشنگان دین وعمل کی سرابی کا فریضہ انجام دیتی رہی ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے تحت  سال دو سال کےبعد کسی شہر میں ایک کانفرنس کا انعقاد   عمل میں لایا جاتا جس کی میزبانی کےلیے ہرشہر  کی جماعت کا ہر شخص مستعد ہوتا اسے جمعیت اہل حدیث کی سالانہ کانفرنس کا نام دیا جاتا۔ ہر کانفرنس کا صدر استقبالیہ کانفرنس کےپہلے اجلاس میں شہر انعقاد سے متعلقہ تاریخی ، جغرافیائی اور مسلکی خدمات کا تذکرہ کرتا اور اپنے رفقائے کار کی طرف سے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا۔کانفرنس کی صدارت کےلیے  ہر دفعہ ملکی سطح کی کسی اہم علمی اور خاندانی شخصیت کو منتخب کر کے ان کی خدمت میں صدارت قبول کرنے کی درخواست کی جاتی ۔صدارت کااعزاز قبول کرنے والے حضرات ِ گرامی کانفرنس کے لیے پہلے اجلاس کی صدارت بایں انداز فرماتے کہ خطبہ صدارت ارشاد فرماتے جس میں وہ مسلک کی حقانیت ، محدثین سےتعلق اوران کی خدمات کا تذکرہ بھی فرماتے۔مرکز کی افادیت ،اہمیت، خدمات اوراس کے مقاصد پر سیر حاصل تبصرہ بھی کرتے اوراصلاح واحوال کی تجاویزسے بھی  مرکزی جمعیت اہل حدیث کونوازتے ۔جماعت اہل حدیث کی اشاعتی خدمات ، رسائل وجرائد تو تاریخ میں  محفوظ ہوچکے ہیں ۔لیکن اس کی  تبلیغی خدمات کو  محفوظ کرنے کی ضرورت  تھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’استقبالیہ وصدارتی خطبات‘‘ میں مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ نے   دعوت وتبلیغ کی غرض سے  مرکزی  جمعیت کے تحت منعقد کی جانے والی تمام سالانہ  کانفرنسوں کے خطبہ ہائے صدارت واستقبالیہ  کو جمع کردیا ہے  موصوف نے  اولاً ان  خطبات کو تلاش کیا  مطبوعہ اور غیر مطبوعہ  خطبات میں طباعتی اغلاط درست کیں۔ پھر اپنی نگرانی میں ان کو کمپوزکرایا اور دوبارہ سہ بارہ ان کی تصحیح کی  تب کہیں جاکر یہ تاریخی دستاویز تیار ہوئی ہیں۔( م۔ا) 

    title-pages-islam-ki-batiyaan
    محمد اسحاق بھٹی
    موجودہ دور میں بعض مسلمان مغرب سے متاثر ہو کر انہی افکار و نظریات اور تہذیب کو اپنانا چاہتے  ہیں جو مغرب نے متعارف کروائے ہیں ۔ وہ زندگی کے ہر شعبے کی اسی طرح تشکیل کرنا چاہتے ہیں جس سے بہتر طریقے سے اہل مغرب کی تقلید ہو جائے ۔ کسی بھی انسانی سماج کی ترقی کا انحصار بہت حد تک اس پر ہے کہ وہ سماج اپنے اندر عورت کو کیا مقام دے رہا ہے ۔ اس سلسلے میں انسان نے اکثر طور پر ٹھوکریں ہی کھائی ہیں ۔ تاہم اسلام نے اس باب میں بھی ایک معتدل رائے اپنائی ہے ۔ آج اسلام پر اعتراض اٹھائے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام عورت کے دائرءکار کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیتا ہے ۔ جبکہ ایک غیر جانب دارانہ نظر سے اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعتراض بے بنیاد نظر آتا ہے ۔ کیونکہ تاریخ اسلام میں ہمیں ہرشعبہءزندگی میں خواتین کا نمایاں کردار نظر آتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی پہلو کو اجاگر کرنے کی ایک کڑی ہے جس میں مختلف اسلامی ادوار کی نمایاں خواتین کی سیرت و سوانح کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک تاریخی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے چناچہ سب سے پہلے امہات المؤمنین ، اس کے بعد بنات الرسول اور پھر جلیل القدر صحابیات کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح پھر سلسلہ وار اسلامی تاریخ کی ایک ترتیب کے ساتھ خواتین کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی صاحب  کے اخبار امروز جو کسی وقت ایک نمایاں اخبار ہوا کرتا تھا اس میں چھپے گئے قالموں کا مجموعہ ہے ۔ اللہ مصنف کو جزائے خیر سے نوازے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-barr-e-sagheer-mein-islam-key-awwaleen-nakoosh
    محمد اسحاق بھٹی
    تاریخ اور جغرافیہ کی قدیم عربی کتب کےمطالعے سےاندازہ ہوتا ہے کہ خطہ برصغیر جہاں علم و فضل کے اعتبار سے انتہائی سرسبز و شاداب ہے وہیں اسے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تابعین اور تبع تابیعین نے اس سرزمین پر قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کیں۔ زیر نظر کتاب میں انھی مقدس ہستیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو برصغیر میں تشریف لائیں۔ جس میں پچیس صحابہ کرام، بیالیس تابعین اور اٹھارہ تبع تابعین کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان کے وہ حالات بیان کیے گئے ہیں جو برصغیر سے متعلق مصنف کے علم و مطالعہ میں آئے۔ مولانا اسحاق بھٹی ادیب آدمی ہیں ان کے بیان کردہ تاریخی واقعات میں بھی ادب کی گہری چاشنی ہے۔ تمام حالات و واقعات حتی المقدور باحوالہ بیان کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-page-barry-sagheer-men-ahl-e-hadees-ki-aamad
    محمد اسحاق بھٹی

    برصغیر میں کتاب وسنت کو اپنے لائق اتباع قراردینے والے سرفروشوں کا گروہ تمام تر مسلکی گروہوں میں سب سے زیادہ مظلوم رہا ہے ہر کسی نے انہی پر مشق سخن  فرمانے کی کوشش کی ہے بڑے سے بڑے اعتدال پسند ذہنوں کا ذوق بھی اہل حدیث کےمعاملے میں بدذوقی کا شکار ہوا ۔اہل حدیث کے بارے میں جو کچھ کہا گیا او ر لکھا گيا اگر کوئی متجسسسانہ نقطہ نظر سے اسے یکجا کرنے کی کوشش کرے توکئی مجلدات تیار ہوجائیں گے ۔اہل حدیث کے  خلاف سب سے زیادہ اس بات کو اچھالا گیا کہ یہ گروہ فقط ڈیڈھ سو برس کی پیداوار ہے درود کا منکر او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاح ہے۔(نعوذباللہ)یہ کتاب اہل حدیث کے متعلق ان بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے جن کا عام مسلمان شکار ہیں  اور جہاں تک علماء کا تعلق ہے ان کا معاملہ ذرا مختلف ہے وہ جب بھی اپنے ذاتی وگروہی مفادات کی سطح سے بلند ہوکر اہل حدیث کے بارے میں سوچیں گے تویہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ تو خالص اسلام کی دعوت ہے جس کام مرکزی نقطہ شافع  روزمحشر صلی اللہ علیہ وسلم کی بلاشرکت غیرے اطاعت و فرمانبرداری ہے ۔کتاب میں اہل حدیث کی تعریف ،عقیدہ،برصغیر میں اہل حدیث کی آمد کے کارواں اور اہل حدیث کے اصول وضوابط  کے ساتھ ساتھ او ربہت سارے اہم مضامین کو بالتفصیل بیان کیا گیاہے ۔

     

    title-pages-barre-sagheer-main-ahle-hadith-ki-awwaliyat
    محمد اسحاق بھٹی
    اوّلیات اور اوائل کی اہمیت بطور خاص کارِ خیر  میں  مسلم ہے   قرآن میں  ارشاد باری تعالی ہے  السبقون الاولون من  المهاجرین والانصار اور اسی طرح حدیث میں  وارد  اوّلیات کا  احاطہ بعض ائمۂ محدثین نے  اپنی مستقل تصانیف اور بعض نے  اپنی کتابوں کےابواب میں  ضمناً کیا ہے  اوّلیات کا موضوع دراصل تاریخ وجغرافیہ سے متعلق ہے کہ فلاں نےفلاں  کام فلاں جگہ سب سے پہلے انجام دیا ۔اوّلیات کے مصنفین میں  کسی  نے  حدیث واثر میں  وارد اوّلیات کو ا پنی  کتاب کا موضوع بنایا ،کسی نے عام معلومات اور جنرل نالج کے طور پر مختلف  میدانہائے عمل کی اوّلیات کو جمع کیا اور کسی  نے مخصوس علاقے اور حضرات کی اوّلیات کو یک جا کیا ہے  اس سلسلے میں   عربی  زبان  میں  ابو ہلال العسکری کی  الاوائل اور  جلال الدین سیوطی  کی    الوسائل في معرفة الاوائل ‘‘ اور عبد اللہ نشمی  کی کتاب ’’ موسوعة الاوائل التاريخية قابل ذکر ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’بر صغیر  میں اہل کی اوّلیات ‘‘معروف  مصنف کتب کثیرہ  ذہبی زماں  مؤرخ اہل حدیث  مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے  جس میں   انہوں برصغیر میں اہل حدیث کی  نوقسم کی اوّلیات کی نشاندہی کی  ہے  جس میں  اختصار اور جامعیت کا حسین  امتزاج  پایا جاتا ہے  اردور زبان میں  اس  موضوع پر اپنی  نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے  اللہ تعالی  مولانا بھٹی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں   صحت وتندورستی  والی زندگی  عطا فرمائے  (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    title-pages-barre-sagheer-me-ilme-fiqah
    محمد اسحاق بھٹی
    زیر نظر کتاب معروف مؤرخ وسوانح نگار جناب محمد اسحق بھٹی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں برصغیر پاک وہند میں علم فقہ کی نشرواشاعت اور اس سے متعلقہ اہم کتب کا تعارف کرایا گیاہے۔ابتدا میں علم فقہ کے معنی ومفہوم پر روشنی ڈالی گئی ہے،پھر ماخذ فقہ،اجتہاد اور استنباط مسائل میں اختلاف پر بحث کی ہے۔اصحاب فتوی صحابہ وتابعین اور مختلف علاقوں میں مراکز فقہ کی بھی نشاندہی کی ہے اس کے بعد ائمہ اربعہ کے مناہج فقہ کا تذکرہ ہے بعدازاں بر صغیر میں فقہ کی آمد کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے اور پھر گیارہ فقہی کتابوں کا تعارف کرایا ہے ۔ان میں الفتاوی الغیاثیہ،فتاوی امینیہ ،فتاوی بابری اور فتاوی عالمگیری اہم ہیں۔یہاں اس امر کی نشاندہی ضروری ہے کہ اس سے ان کتابوں کا تعارف ہی مقصود ہے۔ان کے مندرجات کی توثیق یا مباحث کی تائید پیش نظر نہیں،اس لیے کہ اصل حجت کتاب وسنت ہیں ۔تمام مسائل انہی کی روشنی میں قبول کرنے چاہییں،جبکہ ان کتابوں کے مندرجات زیادہ تر مخصوص مکاتب فقہ کی تقلید پر مبنی ہیں۔اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔(ط۔ا)

    title-pages-bazm-e-arjamandaan
    محمد اسحاق بھٹی
    ’بزم ارجنداں‘ کے نام سے ہم مولانا اسحاق بھٹی کے تیار کردہ سوانحی خاکوں کو ’کتاب و سنت ڈاٹ کام‘ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ جس میں مولانا نے برصغیر کی 19 مشہور شخصیات کا انتخاب کر کے ان کے زندگی کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ مولانا ان حضرات کے بارے میں اپنے تاثرات و مشاہدات ضبط تحریر میں لائے ہیں جن سے ان کے تھوڑے یا زیادہ مراسم و تعلقات رہے ہیں۔ اس فہرست میں مقرر و واعظ بھی ہیں، میدان صحافت کے شہسوار بھی اور درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے بھی۔ مولانا ہر ایک بارے میں اپنی یادداشتیں اور واقعات نہایت بے تکلفی سے صفحات قرطاس پر منتقل کرتے چلے گئے ہیں۔ بھٹی صاحب کا اسلوب نگارش ایسا دلچسپ ہے کہ قاری اسے پڑھنا شروع کر دے تو اس میں جذب ہو جاتا ہے۔ الفاظ دست بستہ ان کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں اور لاکھوں کا جم غفیر ان کی مٹھی میں ہوتا ہے۔ انھوں نے جس شخصیت پر بھی لکھا ہے  اس کا پورا سراپا اپنے قارئین کے سامنے لے آئے ہیں۔(ع۔م)
    title-pages-tazkra-molana-ghulam-rasool-qalawi-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب اور موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا عبد الرشید عراقی مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔آمین زیر تبصرہ کتا ب’’تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی﷫‘‘ پاکستان کے نامور مؤرخ وسوانح نگار مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے سید نذیر محدث دہلوی ﷫ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے والے مولانا غلام رسول قلعوی ﷫ کےسوانح حیات نہیں بلکہ اس عہد کی پوری تاریخ سمودی ہے۔مولانا بھٹی مرحوم نے مولانا قلعوی کا خاندانی پس منظر،ان کی ولادت ، تحصیل علم ، اساتذہ کرام ، مولانا کی دعوتی وتبلیغی اور خدمات، مولانا کے مکاتیب،1857ء کی جنگ آزادی میں مولانا کی گرفتاری،مولانا غلام رسول کے چند معاصرین اور تلامذہ کاذکرخیر اور مولانا غلام رسول ﷫ کے تمام واقعات کو نہایت دل نشیں انداز اور انتہائی عمدگی کے ساتھ الگ الگ ابواب میں ترتیب دیا ہے۔کتاب کے اخر میں چند ابواب مولانا غلام رسول ﷫ کےاخلاف کے متعلق بھی شامل ہیں جن میں مولانا کی اپنی اولاد ،ان کےبھائیوں، بیٹوں ، بیٹیوں کی اولاد کاتذکرہ بھی شامل ہے۔یہ ابواب مولانا عصمت اللہ کے تحریرشدہ ہیں۔مولانا بھٹی مرحوم نے فقہائے ہند کی ایک جلد میں بھی 60 صفحات پر مشتمل مولانا غلام رسول قلعوی ﷫ کے حالات کا تذکرہ کیا ہے جو کہ 1989ء میں شائع ہوئی ۔ بعد ازاں 2009ء میں مولانا غلام رسول قلعوی کے پڑپوتے حافظ حمید اللہ اور ان کے رفقاء کے اصرار پر مولانا بھٹی مرحوم نےیہ کتاب تصنیف کی جو تقریباً 550 صفحات پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کو بڑے خوبصورت انداز میں مولانا علام رسول ویلفیئر سوسائٹی نے 2012ء میں شائع کیا ہے۔(م۔ا) 

    title-pages-tazkra-molana-muhyadeen-lakhwi-halat-khidmat-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    برصغیر بالخصوص پنجاب میں دین اسلام کی نشرو اشاعت، دعوت وتبلیغ، سماجی ورفاہی خدمات لکھوی خاندان کا طرۂامتیاز رہا ہے۔ بے شمار لوگ ان کے بزرگوں کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں توحید وسنت کی روشنی سے فیض یاب ہوئے۔عوامی خدمت کے اسی جذبے کے تحت یہ نصف صدی سے زائد عرصے سے سیاست میں بھی ہیں۔اگرچہ اس خاندان سے علمی وروحانی وابستگان کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہو ا ہے، تاہم ضلع قصور کاحلقہ این اے 140 ان کی انتخابی سیاست کا مرکز ہے، جہاں سے مولانا معین الدین لکھویؒ تین بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔ ۔1951ءمیں پنجاب میں ہونے والے پہلے انتخاب میں مولانا معین الدین کے بڑے بھائی  اور معروف اسلامی سکالر  پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے والد گرامی مولانا محی الدین لکھوی ﷫ تحصیل چونیاں سے ایم این اے منتخب ہوئے ۔ لکھوی خاندان  بالخصوص مولانا معین الدین لکھوی اور مولانا محی الدین لکھوی کے  متعلق کئی رسائل وجرائد میں  متعدد مضامین شائع ہوئے ہیں جو مختلف جگہ پر منتشر ہیں  مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھی ﷫ نے اس کتاب’’ تذکرہ مولانا محی الدین لکھوی ﷫ ‘‘ میں  تفصیل سے مولانا محی الدین لکھوی ﷫  کی حیات ، خدمات کے ضمن میں لکھوی خاندان  کا تفصیلی تعارف کو یکجا کردیا ہے ۔ اس  کتاب  میں شامل  پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے تفصیلی مقدمہ سے اس کتاب کی اہمیت دوچند ہوگئی  ہے ۔یہ کتاب مولانا محی الدین لکھوی اور لکھوی خاندان کے تعارف  وخدمات کے سلسلے میں ایک  دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ (م۔ا)

    title-pages-dabastane-hadees
    محمد اسحاق بھٹی
    حدیث پاک کی نشرواشاعت اور خدمت میں برصغیر کے علمائے کرام کا کردار انتہائی اہم ہے ۔تاریخ کے اوراق میں ان کے کارہائے نمایاں محفوظ ہیں۔اس خطے میں پیدا ہونے والے علمائے حدیث نے کتب حدیث کی بے مثال شروحات لکھیں اور اپنے اپنے انداز میں  یہ عظیم خدمت سرانجام دی۔اس ضمن میں اہل حدیث علما کی مساعی بہ طور خاص لائق تذکر ہ ہیں،کیونکہ یہ کسی خاص شخصیت یا مکتب فکر کے اصولوں کی روشنی میں حدیث کی تشریح نہیں کرتے بلکہ حدیث کو اصل قرار دیتے ہوئے اس سے مسائل اخذ کرتے ہیں ۔جماعت اہل حدیث کے معروف قلمکار جناب مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب نے زیر نظر کتاب میں برصغیر کے ان ساٹھ اہل حدیث علمائے کرام کا تذکرہ کیا ہے ،جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی تدریسی یا تصنیفی صورت میں تبلیغ واشاعت کا اہتمام کیا یا کسی مدرسے میں طلبا کو کتب حدیث پڑھائیں یا حدیث کی کئی کتب کا ترجمہ کیا یا اس کی شرح لکھی یا فتوی نویسی کی۔اس سے علمائے اہل حدیث کی سوانح زندگی اور حدیث شریف سے ان کی محبت وتعلق سے آگاہی حاصل ہوگی۔(ط۔ا)
    title-pages-ropri-ulmai-hadith-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی رحمہم اللہ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ  مختلف موضوعات  پر  تقریبا  80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی  )فرماتے ہیں  حافظ عبد اللہ  روپڑی  جیسا ذی علم اور  لائق استاد تمام  ہندوستان میں کہیں  نہیں ملےگا۔ہندوستان  میں ان کی نظیر نہیں۔ زیر نظرکتاب  ’’ روپڑی  علمائے حدیث‘‘ مؤرخ اہل  حدیث  محترم  مولانا محمد  اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے جس میں  انہوں  نے  حافظ عبد اللہ  محدث  روپڑی  کے تفصیلی حالات اور ان کی علمی  وتصنیفی  خدمات کو بیان کرنے کےساتھ ان کے بعض تلامذہ  کا بھی  مختصرا ًذکر کیا ہے  ۔اس کے بعد  محدث روپڑی کے برادران  میں  سے حافظ محمد حسین روپڑی(والد گرامی  حافظ عبدالرحمن مدنی﷾  مدیر اعلی  ماہنامہ محدث ،لاہور) اور حافظ عبدالرحمن کمیر پوری  کے  حالات  قلمبند کیے ہیں ۔اور پھر محدث  روپڑی کے بھتیجوں میں  سے خطیب ملت  حافظ  اسماعیل  روپڑی ،مناظر اسلام  حافظ عبدالقادر روپڑی ، عالم اسلام کے عظیم سکالر حافظ عبدالرحمن مدنی اور حافظ عبدالوحید روپڑی  وغیرہ کے حالات بیان کرنےکےعلاوہ  جامعہ اہل حدیث، ہفت  روزہ تنظیم  اہل  حدیث  چوک دالگراں،لاہور کےذمہ داران  حافظ عبدالغفار روپڑی اور حافظ عبد الوہاب روپڑی  کابھی مختصراً تذکرہ کیا ہے ۔روپڑی خاندان کے حالات واقعات کے معلومات حاصل کرنے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے  اس کتاب  میں ماہنامہ محدث ،لاہورکے بعض مطبوعہ مضامین بھی شامل ہیں۔اللہ تعالی اس خاندان کی دینِ اسلام کےلیےتمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے  (آمین)(م۔ا)

     

    seerat-ummahat-ul-momineen
    محمد اسحاق بھٹی

    اہل السنۃ والجماعۃ کےنزدیک ازواج ِ مطہرات تمام مومنین کی مائیں ہیں۔ کیونکہ یہ قرآنی فیصلہ ہے اور قرآن حکیم نے صاف لفظوں میں اس کو بیان کردیاہے:ترجمہ۔نبیﷺ مومنوں کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں(الاحزاب:6:33)۔ جن عورتوں کو آپﷺ نے حبالۂ عقد میں لیا انکو اپنی مرضی سے رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپﷺ نے ان سے نکاح کیا تھا۔ ان کوبرا بھلا کہنا حرام ہے۔ اس کی حرمت قرآن وحدیث کے واضح دلائل سے ثابت ہے ۔جو ازواج مطہرات میں سے کسی ایک پر بھی طعن   وتشنیع کرے گا وہ ملعون او ر خارج ایمان ہے۔ نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات کی سیرت خواتین اسلام کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ان امہات المومنین کی سیرت کے تذکرے حدیث وسیرت وتاریخ کی کتب میں موجود ہیں۔ اور اہل علم نے الگ سے بھی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت امہات المومنین‘‘برصغیر کے معروف سوانح نگار مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی مختصر تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی گیارہ ازواج مطہرات کا مختصر تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام کاوشوں کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو خواتین اسلام کےلیے نفع بنائے۔ (م۔ا)

    title-pages-fuqahai-pak-w-hind-tarwien-sadi-hajri-1-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-fuqahai-pak-w-hind-tarwien-sadi-hajri-3-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-fuqahai-hind-jadeed-audition-1-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ برصغیر پاک و ہند کے مشاہیر اہل قلم سے تھے۔ اُنہوں نے تصنیف و تالیف، تاریخ،صحافت اور شخصی خاکہ نگاری میں نام پیدا کیا اور شہرتِ دوام حاصل کی ۔ وہ بلا شرکتِ غیرے عصر حاضر کے عظیم مؤرخ ،بلندپایہ مصنف اور خاکہ نویس تھے۔ 70سال اپنے قلم سے دین اسلام اور اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔ مختلف موضوعات پر ان کی کئی دینی ،علمی ،تاریخی اور سیر و سوانح پر کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر آ کر لوگوں سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔شخصیت نگاری بھٹی صاحب کا من پسند موضوع تھا۔ اس پر ان کے گوہر بار قلم نے خوب جوہر دکھائے۔ بھٹی صاحب کی تصنیفی خدمات کا دائرہ دور تک پھیلا نظر آتا ہے،جس خوب صورت اور دل کش پیرائے میں اُنہوں نے مقتدر شخصیات کے ’شخصی خاکے‘تحریر کئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے ہم انہیں اس فن کا امام کہہ سکتے ہیں۔ اُن کی تحریروں میں حد درجہ شگفتگی اور سلاست پائی جاتی ہے ،ان کا اُسلوبِ نگارش دل نشیں ہے ۔ ان کے لکھے ہوئے سوانحی خاکے پڑھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شخصیات میدانِ زندگی میں متحرک اور سرگرمِ عمل ہیں اور ہم ان سے ہم کلام ہیں۔بھٹی صاحب مرحوم اپنی مصروف ترین زندگی بسر کرکے چند دن علیل رہ کر 22دسمبر 2015 کو اپنی خالق حقیقی سے جاملے (انا لله وانا اليه راجعون) زير تبصره كتاب ’’فقہائے ہند‘‘ مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی تصنیف ہےیہ کتاب پہلے ادارہ ثقافت اسلامیہ ،لاہور کی طرف سے 1974 سے 1989ء تک دس جلدوں میں شائع ہوئی ۔ تقریباً چالیس سال بعد محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے دارالنوادر کےاشتراک سے 10 جلدوں کو تین جلدوں میں یکجا کر کرکے نہایت عمدہ کاغذ پر بہترین کمپوزنگ کے ساتھ شائع کیا ہے۔اوراس ایڈیشن میں بعض مقامات میں اضافہ بھی کیاگیا ہے ۔اور قمری ماہ وسال کےساتھ عیسوی ماہ وسال بھی درج کردیے گئے ہیں۔اس کتاب میں پہلی صدی سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے برصغیر کے ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے اہل حدیث، حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی اور شیعہ علماے کرام اور فقہاے عظام کے حالات و واقعات نہایت ادب واحترام سے حیطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ہر بزرگ کے تذکرے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کس مسلک ومنہج، فقہ اور عقیدے کے حامل تھے اور علمی و عملی طور پر اُنھوں نے کیا کارنامے سرانجام دیے۔ یہ اپنے موضوع کی ایک نہایت تحقیقی کتاب ہے جو سینکڑوں فقہا کی زندگی کے علمی کارناموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے بہت سے فقہا کے حالات بھٹی صاحب نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے صفحۂ قرطاس پر مرتسم کیے ہیں۔ ہر جلد کے شروع میں لائق مصنف نے ایک جامع مقدمہ لکھا ہے جو اس دور کی علمی، ادبی ، سیاسی اور مذہبی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔تمام فقہاء علماء کے حالات کو حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس عظیم کتاب کے مقدمات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-fuqahai-hind-jadeed-audition-1-copy-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ برصغیر پاک و ہند کے مشاہیر اہل قلم سے تھے۔ اُنہوں نے تصنیف و تالیف، تاریخ،صحافت اور شخصی خاکہ نگاری میں نام پیدا کیا اور شہرتِ دوام حاصل کی ۔ وہ بلا شرکتِ غیرے عصر حاضر کے عظیم مؤرخ ،بلندپایہ مصنف اور خاکہ نویس تھے۔ 70سال اپنے قلم سے دین اسلام اور اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔ مختلف موضوعات پر ان کی کئی دینی ،علمی ،تاریخی اور سیر و سوانح پر کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر آ کر لوگوں سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔شخصیت نگاری بھٹی صاحب کا من پسند موضوع تھا۔ اس پر ان کے گوہر بار قلم نے خوب جوہر دکھائے۔ بھٹی صاحب کی تصنیفی خدمات کا دائرہ دور تک پھیلا نظر آتا ہے،جس خوب صورت اور دل کش پیرائے میں اُنہوں نے مقتدر شخصیات کے ’شخصی خاکے‘تحریر کئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے ہم انہیں اس فن کا امام کہہ سکتے ہیں۔ اُن کی تحریروں میں حد درجہ شگفتگی اور سلاست پائی جاتی ہے ،ان کا اُسلوبِ نگارش دل نشیں ہے ۔ ان کے لکھے ہوئے سوانحی خاکے پڑھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شخصیات میدانِ زندگی میں متحرک اور سرگرمِ عمل ہیں اور ہم ان سے ہم کلام ہیں۔بھٹی صاحب مرحوم اپنی مصروف ترین زندگی بسر کرکے چند دن علیل رہ کر 22دسمبر 2015 کو اپنی خالق حقیقی سے جاملے (انا لله وانا اليه راجعون) زير تبصره كتاب ’’فقہائے ہند‘‘ مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی تصنیف ہےیہ کتاب پہلے ادارہ ثقافت اسلامیہ ،لاہور کی طرف سے 1974 سے 1989ء تک دس جلدوں میں شائع ہوئی ۔ تقریباً چالیس سال بعد محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے دارالنوادر کےاشتراک سے 10 جلدوں کو تین جلدوں میں یکجا کر کرکے نہایت عمدہ کاغذ پر بہترین کمپوزنگ کے ساتھ شائع کیا ہے۔اوراس ایڈیشن میں بعض مقامات میں اضافہ بھی کیاگیا ہے ۔اور قمری ماہ وسال کےساتھ عیسوی ماہ وسال بھی درج کردیے گئے ہیں۔اس کتاب میں پہلی صدی سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے برصغیر کے ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے اہل حدیث، حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی اور شیعہ علماے کرام اور فقہاے عظام کے حالات و واقعات نہایت ادب واحترام سے حیطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ہر بزرگ کے تذکرے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کس مسلک ومنہج، فقہ اور عقیدے کے حامل تھے اور علمی و عملی طور پر اُنھوں نے کیا کارنامے سرانجام دیے۔ یہ اپنے موضوع کی ایک نہایت تحقیقی کتاب ہے جو سینکڑوں فقہا کی زندگی کے علمی کارناموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے بہت سے فقہا کے حالات بھٹی صاحب نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے صفحۂ قرطاس پر مرتسم کیے ہیں۔ ہر جلد کے شروع میں لائق مصنف نے ایک جامع مقدمہ لکھا ہے جو اس دور کی علمی، ادبی ، سیاسی اور مذہبی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔تمام فقہاء علماء کے حالات کو حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس عظیم کتاب کے مقدمات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-fuqahai-hind-jadeed-audition-1-copy-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ برصغیر پاک و ہند کے مشاہیر اہل قلم سے تھے۔ اُنہوں نے تصنیف و تالیف، تاریخ،صحافت اور شخصی خاکہ نگاری میں نام پیدا کیا اور شہرتِ دوام حاصل کی ۔ وہ بلا شرکتِ غیرے عصر حاضر کے عظیم مؤرخ ،بلندپایہ مصنف اور خاکہ نویس تھے۔ 70سال اپنے قلم سے دین اسلام اور اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔ مختلف موضوعات پر ان کی کئی دینی ،علمی ،تاریخی اور سیر و سوانح پر کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر آ کر لوگوں سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔شخصیت نگاری بھٹی صاحب کا من پسند موضوع تھا۔ اس پر ان کے گوہر بار قلم نے خوب جوہر دکھائے۔ بھٹی صاحب کی تصنیفی خدمات کا دائرہ دور تک پھیلا نظر آتا ہے،جس خوب صورت اور دل کش پیرائے میں اُنہوں نے مقتدر شخصیات کے ’شخصی خاکے‘تحریر کئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے ہم انہیں اس فن کا امام کہہ سکتے ہیں۔ اُن کی تحریروں میں حد درجہ شگفتگی اور سلاست پائی جاتی ہے ،ان کا اُسلوبِ نگارش دل نشیں ہے ۔ ان کے لکھے ہوئے سوانحی خاکے پڑھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شخصیات میدانِ زندگی میں متحرک اور سرگرمِ عمل ہیں اور ہم ان سے ہم کلام ہیں۔بھٹی صاحب مرحوم اپنی مصروف ترین زندگی بسر کرکے چند دن علیل رہ کر 22دسمبر 2015 کو اپنی خالق حقیقی سے جاملے (انا لله وانا اليه راجعون) زير تبصره كتاب ’’فقہائے ہند‘‘ مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی تصنیف ہےیہ کتاب پہلے ادارہ ثقافت اسلامیہ ،لاہور کی طرف سے 1974 سے 1989ء تک دس جلدوں میں شائع ہوئی ۔ تقریباً چالیس سال بعد محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے دارالنوادر کےاشتراک سے 10 جلدوں کو تین جلدوں میں یکجا کر کرکے نہایت عمدہ کاغذ پر بہترین کمپوزنگ کے ساتھ شائع کیا ہے۔اوراس ایڈیشن میں بعض مقامات میں اضافہ بھی کیاگیا ہے ۔اور قمری ماہ وسال کےساتھ عیسوی ماہ وسال بھی درج کردیے گئے ہیں۔اس کتاب میں پہلی صدی سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے برصغیر کے ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے اہل حدیث، حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی اور شیعہ علماے کرام اور فقہاے عظام کے حالات و واقعات نہایت ادب واحترام سے حیطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ہر بزرگ کے تذکرے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کس مسلک ومنہج، فقہ اور عقیدے کے حامل تھے اور علمی و عملی طور پر اُنھوں نے کیا کارنامے سرانجام دیے۔ یہ اپنے موضوع کی ایک نہایت تحقیقی کتاب ہے جو سینکڑوں فقہا کی زندگی کے علمی کارناموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے بہت سے فقہا کے حالات بھٹی صاحب نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے صفحۂ قرطاس پر مرتسم کیے ہیں۔ ہر جلد کے شروع میں لائق مصنف نے ایک جامع مقدمہ لکھا ہے جو اس دور کی علمی، ادبی ، سیاسی اور مذہبی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔تمام فقہاء علماء کے حالات کو حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس عظیم کتاب کے مقدمات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-fuqahai-hind-jadeed-audition-1-copy-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ برصغیر پاک و ہند کے مشاہیر اہل قلم سے تھے۔ اُنہوں نے تصنیف و تالیف، تاریخ،صحافت اور شخصی خاکہ نگاری میں نام پیدا کیا اور شہرتِ دوام حاصل کی ۔ وہ بلا شرکتِ غیرے عصر حاضر کے عظیم مؤرخ ،بلندپایہ مصنف اور خاکہ نویس تھے۔ 70سال اپنے قلم سے دین اسلام اور اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔ مختلف موضوعات پر ان کی کئی دینی ،علمی ،تاریخی اور سیر و سوانح پر کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر آ کر لوگوں سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔شخصیت نگاری بھٹی صاحب کا من پسند موضوع تھا۔ اس پر ان کے گوہر بار قلم نے خوب جوہر دکھائے۔ بھٹی صاحب کی تصنیفی خدمات کا دائرہ دور تک پھیلا نظر آتا ہے،جس خوب صورت اور دل کش پیرائے میں اُنہوں نے مقتدر شخصیات کے ’شخصی خاکے‘تحریر کئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے ہم انہیں اس فن کا امام کہہ سکتے ہیں۔ اُن کی تحریروں میں حد درجہ شگفتگی اور سلاست پائی جاتی ہے ،ان کا اُسلوبِ نگارش دل نشیں ہے ۔ ان کے لکھے ہوئے سوانحی خاکے پڑھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شخصیات میدانِ زندگی میں متحرک اور سرگرمِ عمل ہیں اور ہم ان سے ہم کلام ہیں۔بھٹی صاحب مرحوم اپنی مصروف ترین زندگی بسر کرکے چند دن علیل رہ کر 22دسمبر 2015 کو اپنی خالق حقیقی سے جاملے (انا لله وانا اليه راجعون) زير تبصره كتاب ’’فقہائے ہند‘‘ مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی تصنیف ہےیہ کتاب پہلے ادارہ ثقافت اسلامیہ ،لاہور کی طرف سے 1974 سے 1989ء تک دس جلدوں میں شائع ہوئی ۔ تقریباً چالیس سال بعد محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے دارالنوادر کےاشتراک سے 10 جلدوں کو تین جلدوں میں یکجا کر کرکے نہایت عمدہ کاغذ پر بہترین کمپوزنگ کے ساتھ شائع کیا ہے۔اوراس ایڈیشن میں بعض مقامات میں اضافہ بھی کیاگیا ہے ۔اور قمری ماہ وسال کےساتھ عیسوی ماہ وسال بھی درج کردیے گئے ہیں۔اس کتاب میں پہلی صدی سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے برصغیر کے ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے اہل حدیث، حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی اور شیعہ علماے کرام اور فقہاے عظام کے حالات و واقعات نہایت ادب واحترام سے حیطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ہر بزرگ کے تذکرے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کس مسلک ومنہج، فقہ اور عقیدے کے حامل تھے اور علمی و عملی طور پر اُنھوں نے کیا کارنامے سرانجام دیے۔ یہ اپنے موضوع کی ایک نہایت تحقیقی کتاب ہے جو سینکڑوں فقہا کی زندگی کے علمی کارناموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے بہت سے فقہا کے حالات بھٹی صاحب نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے صفحۂ قرطاس پر مرتسم کیے ہیں۔ ہر جلد کے شروع میں لائق مصنف نے ایک جامع مقدمہ لکھا ہے جو اس دور کی علمی، ادبی ، سیاسی اور مذہبی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔تمام فقہاء علماء کے حالات کو حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس عظیم کتاب کے مقدمات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-fuqahai-hind-jadeed-audition-1-copy-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ برصغیر پاک و ہند کے مشاہیر اہل قلم سے تھے۔ اُنہوں نے تصنیف و تالیف، تاریخ،صحافت اور شخصی خاکہ نگاری میں نام پیدا کیا اور شہرتِ دوام حاصل کی ۔ وہ بلا شرکتِ غیرے عصر حاضر کے عظیم مؤرخ ،بلندپایہ مصنف اور خاکہ نویس تھے۔ 70سال اپنے قلم سے دین اسلام اور اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔ مختلف موضوعات پر ان کی کئی دینی ،علمی ،تاریخی اور سیر و سوانح پر کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر آ کر لوگوں سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔شخصیت نگاری بھٹی صاحب کا من پسند موضوع تھا۔ اس پر ان کے گوہر بار قلم نے خوب جوہر دکھائے۔ بھٹی صاحب کی تصنیفی خدمات کا دائرہ دور تک پھیلا نظر آتا ہے،جس خوب صورت اور دل کش پیرائے میں اُنہوں نے مقتدر شخصیات کے ’شخصی خاکے‘تحریر کئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے ہم انہیں اس فن کا امام کہہ سکتے ہیں۔ اُن کی تحریروں میں حد درجہ شگفتگی اور سلاست پائی جاتی ہے ،ان کا اُسلوبِ نگارش دل نشیں ہے ۔ ان کے لکھے ہوئے سوانحی خاکے پڑھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شخصیات میدانِ زندگی میں متحرک اور سرگرمِ عمل ہیں اور ہم ان سے ہم کلام ہیں۔بھٹی صاحب مرحوم اپنی مصروف ترین زندگی بسر کرکے چند دن علیل رہ کر 22دسمبر 2015 کو اپنی خالق حقیقی سے جاملے (انا لله وانا اليه راجعون) زير تبصره كتاب ’’فقہائے ہند‘‘ مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی تصنیف ہےیہ کتاب پہلے ادارہ ثقافت اسلامیہ ،لاہور کی طرف سے 1974 سے 1989ء تک دس جلدوں میں شائع ہوئی ۔ تقریباً چالیس سال بعد محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے دارالنوادر کےاشتراک سے 10 جلدوں کو تین جلدوں میں یکجا کر کرکے نہایت عمدہ کاغذ پر بہترین کمپوزنگ کے ساتھ شائع کیا ہے۔اوراس ایڈیشن میں بعض مقامات میں اضافہ بھی کیاگیا ہے ۔اور قمری ماہ وسال کےساتھ عیسوی ماہ وسال بھی درج کردیے گئے ہیں۔اس کتاب میں پہلی صدی سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے برصغیر کے ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے اہل حدیث، حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی اور شیعہ علماے کرام اور فقہاے عظام کے حالات و واقعات نہایت ادب واحترام سے حیطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ہر بزرگ کے تذکرے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کس مسلک ومنہج، فقہ اور عقیدے کے حامل تھے اور علمی و عملی طور پر اُنھوں نے کیا کارنامے سرانجام دیے۔ یہ اپنے موضوع کی ایک نہایت تحقیقی کتاب ہے جو سینکڑوں فقہا کی زندگی کے علمی کارناموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے بہت سے فقہا کے حالات بھٹی صاحب نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے صفحۂ قرطاس پر مرتسم کیے ہیں۔ ہر جلد کے شروع میں لائق مصنف نے ایک جامع مقدمہ لکھا ہے جو اس دور کی علمی، ادبی ، سیاسی اور مذہبی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔تمام فقہاء علماء کے حالات کو حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس عظیم کتاب کے مقدمات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-fuqahai-hind-jadeed-audition-1-copy-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ برصغیر پاک و ہند کے مشاہیر اہل قلم سے تھے۔ اُنہوں نے تصنیف و تالیف، تاریخ،صحافت اور شخصی خاکہ نگاری میں نام پیدا کیا اور شہرتِ دوام حاصل کی ۔ وہ بلا شرکتِ غیرے عصر حاضر کے عظیم مؤرخ ،بلندپایہ مصنف اور خاکہ نویس تھے۔ 70سال اپنے قلم سے دین اسلام اور اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔ مختلف موضوعات پر ان کی کئی دینی ،علمی ،تاریخی اور سیر و سوانح پر کتب زیورِ طباعت سے آراستہ ہو کر منصۂ شہود پر آ کر لوگوں سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔شخصیت نگاری بھٹی صاحب کا من پسند موضوع تھا۔ اس پر ان کے گوہر بار قلم نے خوب جوہر دکھائے۔ بھٹی صاحب کی تصنیفی خدمات کا دائرہ دور تک پھیلا نظر آتا ہے،جس خوب صورت اور دل کش پیرائے میں اُنہوں نے مقتدر شخصیات کے ’شخصی خاکے‘تحریر کئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے ہم انہیں اس فن کا امام کہہ سکتے ہیں۔ اُن کی تحریروں میں حد درجہ شگفتگی اور سلاست پائی جاتی ہے ،ان کا اُسلوبِ نگارش دل نشیں ہے ۔ ان کے لکھے ہوئے سوانحی خاکے پڑھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے وہ شخصیات میدانِ زندگی میں متحرک اور سرگرمِ عمل ہیں اور ہم ان سے ہم کلام ہیں۔بھٹی صاحب مرحوم اپنی مصروف ترین زندگی بسر کرکے چند دن علیل رہ کر 22دسمبر 2015 کو اپنی خالق حقیقی سے جاملے (انا لله وانا اليه راجعون) زير تبصره كتاب ’’فقہائے ہند‘‘ مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی تصنیف ہےیہ کتاب پہلے ادارہ ثقافت اسلامیہ ،لاہور کی طرف سے 1974 سے 1989ء تک دس جلدوں میں شائع ہوئی ۔ تقریباً چالیس سال بعد محمد اسحاق بھٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے دارالنوادر کےاشتراک سے 10 جلدوں کو تین جلدوں میں یکجا کر کرکے نہایت عمدہ کاغذ پر بہترین کمپوزنگ کے ساتھ شائع کیا ہے۔اوراس ایڈیشن میں بعض مقامات میں اضافہ بھی کیاگیا ہے ۔اور قمری ماہ وسال کےساتھ عیسوی ماہ وسال بھی درج کردیے گئے ہیں۔اس کتاب میں پہلی صدی سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے برصغیر کے ہر مسلک سے تعلق رکھنے والے اہل حدیث، حنفی ، شافعی، مالکی، حنبلی اور شیعہ علماے کرام اور فقہاے عظام کے حالات و واقعات نہایت ادب واحترام سے حیطہ تحریر میں لائے گئے ہیں۔ہر بزرگ کے تذکرے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کس مسلک ومنہج، فقہ اور عقیدے کے حامل تھے اور علمی و عملی طور پر اُنھوں نے کیا کارنامے سرانجام دیے۔ یہ اپنے موضوع کی ایک نہایت تحقیقی کتاب ہے جو سینکڑوں فقہا کی زندگی کے علمی کارناموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ پہلی صدی ہجری سے لے کر تیرھویں صدی ہجری تک کے بہت سے فقہا کے حالات بھٹی صاحب نے بڑی محنت اور جاں فشانی سے صفحۂ قرطاس پر مرتسم کیے ہیں۔ ہر جلد کے شروع میں لائق مصنف نے ایک جامع مقدمہ لکھا ہے جو اس دور کی علمی، ادبی ، سیاسی اور مذہبی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔تمام فقہاء علماء کے حالات کو حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس عظیم کتاب کے مقدمات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھٹی صاحب کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-fuqahai-hind-1-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-fuqahai-hind-2-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-fuqahai-hind-3-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-fuqahai-hind-5--part-1-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-fuqahai-hind-4--part-1-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-fuqahai-hind-4--part-2-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    فقہائےکرام﷭نے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم  صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت  کا ہر ہر فردان  کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان  دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-qazi-muhammad-suleman-mansor-puri
    محمد اسحاق بھٹی
    برصغیر کے افق علمی پر انیسویں صدی کے نصف اوًل کے بعد چار سلیمان ایسے طلوع ہوئے ، جنہوں نے اپنے اپنے دائرہ علمی میں ایک امتیاز اور اختصاص  حاصل کیا۔شاہ سلیمان پھلواری، سید سلیمان اشرف، سید سلیمان ندوی اور قاضی سلیمان منصورپوری۔چاروں ملت اسلامیہ برصغیر کی علمی محفل کے گوہر شب چراغ تھے۔ان کی سرگرمیوں سے تہذیب اسلامی کو ایک نکھار اور وقار میسر آیا مگر ان میں قاضی محمدسلیمان کی شخصیت میں جو دلآویزی ، خاندانی وجاہت، علمی انہماک ، تدبر و تفکر، آداب و اطوار، زہد و ورع ، فہم و فراست ، امانت و دیانت ، تعلیمی اور تحقیقی استعداد کتاب و سنت کا ذوق اور عملی و کردار کے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔آپ رحمہ اللہ نے ایک مجاہد خاندان میں آنکھ کھولی۔اور کئی ایک موضوعات  پر متعدد تصانیف لکھیں۔ جن میں سے سیرت النبی ﷺ کو بالخصوص موضوع بنایا ہے۔سکھ اور انگریز حکومت کے ماتحت زندگی بسر کی اور علم و فکر آبیاری  میں مشغول رہے۔ قاضی  صاحب کی تعلیم و تربیت مشرقی ماحول میں ہوئی۔آپ رحمہ اللہ طبعا بہت ذہین و فطین تھے۔اس پر مستزاد یہ تھا کہ  آپ رحمہ اللہ کے ذوق مطالعہ نے چارچاند لگا دیے۔علوم دینیہ اور فارسی ادبیات  بھر پور استفادہ فرمایا۔زیرنظر کتاب قاضی  صاحب کی سوانح پر ایک جامع دستاویز ہے۔ جسے مولانا اسحاق بھٹی صاحب نے بڑی عرق ریزی  سے تیار کیا ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-qafla-e-hadith
    محمد اسحاق بھٹی
    یہ کتاب ان اصحاب علم وقلم کا تذکرہ ہے کہ جن کے شب وروز قال اللہ وقال الرسول کی صدائیں بلند کرتے ہوئے گزرے ہیں ۔ان میں سے اکثر لوگ حیات فانی سے حیات جاودانی کا مرحلہ طے کر چکے ہیں ۔ترتیب عنوانات کی رو سے ظاہری طور پر یہ روادا چھبیس اصحاب فضل کی نشاندہی کرتی ہے ،لیکن اس کے باطن میں جھانکنے کی کوشش کریں تو معلوم ہوا کہ اس میں اہل علم کی ایک دنیا آباد ہے۔یعنی ان چھبیس کے اسلاف،اساتذہ،تلامذہ،متاثرین،فیض یافتگان،ہم مکتب،ہم جماعت،دوست احباب اور مستفیدین کی متعدد قطاریں ہیں جو تاحد نگاہ دکھائی دیتی ہیں۔بہ الفاظ دیگر ایک شخص کے حالات میں کئی اشخاص کے حالات کی تہیں کھلتی گئی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ یہ سلسلہ دور  تک چلا گیا ہے ۔یہ کتاب اہل حدیث اصحاب علم کی تک وتازنوع بنوع کو اجاگر کرتی اور بتاتی ہے کہ ان میں سے کس کس بزرگ نے کیا کیا معرکہ آرائیاں کیں ا ور ان کے فکر وعمل کے حدود نے کس انداز سے کہاں تک وسعت اختیار کی۔تصنیف وتالیف میں یہ حضرات کہاں تک پہنچے،تحقیق وکاوش کی کن کن وادیوں میں قدم زن ہوئے ،درس وتدریس میں کہاں تک رسائی حاصل کی اور وعظ وتبلیغ کے میدانوں میں انہوں نے کیا اثرات چھوڑے۔یہ کتاب معروف مورخ مولانا اسحق بھٹی صاحب کے رشمات قلم کا نتیجہ ہے ،جن کا نام ہی معیار کتاب کی ضمانت ہے ۔(ط۔ا)
    title-pages-molana-ahmad-din-ghagarrvi
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا احمددین گھکڑوی﷫ بہت بڑے مناظراور جلیل القدر عالمِ دین تھے 1900ء میں ضلع گوجرانوالہ کے ایک مشہور مقام گکھڑ میں پیداہوئےاور مختلف اہل علم سےدینی تعلیم حاصل کی ۔مولانا ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدگرامی انتقال کرگئے لیکن انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا دورانِ تعلیم ہی مولانا احمد دین کووعظ وتقریرکا شوق پیدا ہوگیا تھا وہ بدعات او رغیراسلامی رسوم ورواج کے سخت خلاف تھے اور ان پرکھل کر تنقید کرتےتھے ذہن ابتداہی سے مناظرانہ تھا دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ باقاعدہ طور سے تقریبا 1920میں مناظرے اور تقریر کےمیدان میں اترے۔پھر عیسائیوں ،شیعوں، مرزائیوں اور بریلویوں سےان کے بے شمار مناظرے ہوئے او راس زمانے میں ان کے مناظروں کی سامعہ نواز گونج دور دور تک سنی گئی اور کامیاب مناظرکی حیثیت سے معروف ہوئے ۔زیر نظر کتاب معروف مؤرخ اہل حدیث مصنف کتب کثیرہ مولاناکی امحمد اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مولانا احمد دین کگھڑوی ﷫ کی دینی ، تبلیغی وعوتی خدمات او ربالخصوص ان کے مناظروں کی روداد اور واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے اللہ مولانا احمدین  کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور مصنف کتاب مولانا بھٹی صاحب کو تندورستی اور صحت عطا فرمائے اور ان دین ِاسلام کے لیے ان کی خدمات کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    title-pages-chamanastan-e-hadith-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب ،یاسات حاضرہ سے پوری طرح باخبر اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں عہد حاضر کے ممتاز اہل قلم میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی اور کوششیں ہیں ۔برصغیر پاک وہند کے ا ہل حد یث علما ء نے ہر میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کا بھٹی صاحب نے اپنی کتب میں تذکرہ کیا ہے۔ تدوین قرآ ن سےلےکر اس کے اعراب وتشکیل،تجویدوقراء ات تراجم وتفسیر،اعجاز القرآن،علوم القرآن اور دیگر بیسیوں عنوانات پر ہر دور میں علمائے امت نے ضخیم کتابیں تالیف کی ہیں کررہے اور کرتے رہیں گے ۔ان شاءاللہ زیر تبصرہ کتاب ’’ چمنستان حدیث‘‘ مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی﷫ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی دیگر کتابوں کی طرح برصغیر کے اہل حدیث علمائے ذی وقار کے حالات کی نقاب کشائی کی ہے ۔یہ وہ بوریا نشیں اور درویشانِ خدامست ہیں جنہوں نےزندگی کے ہرموڑ پر اپنے آپ کو قرآن وحدیث کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا۔اس کتاب میں بھٹی صاحب نے ایک سو علمائے کرام کے سوانح حیات درج کیے ہیں ۔ جن میں پندرہ حضرات کا تعلق تلمذ سید نذیر حسین محدث دہلوی ﷫ سے ہے اور 33 ان کا حضرات کا تذکرہ ہے جو حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی ﷫کے شاگردوں کےشاگرد ہیں۔ او رباون وہ حضرات ہیں حو اللہ کے حیات ہیں او رمختلف مقامات پر تصنیفی وتدریسی خدمات سرانجام ردے رہے ہیں ۔لیکن ان کا سلسلہ بھی بالآخر حضرت میاں صاحب کے شاگردوں کی لڑی سے جاملتا ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کی خدمات کوقبول فرماکر انہیں جنت الفرودس میں اعلی ٰ مقام عطافرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

    title-pages-guzar-ghai-ghuzran-copy
    محمد اسحاق بھٹی
    پیش نظر خود نوشت سوانح ’گزر گئی گزران‘ اردو زبان و ادب کے صاحب طرز ادیب اور ایک مخصوص اسلوب نگارش کی حامل شخصیت محترم اسحاق بھٹی صاحب کی آپ بیتی ہے جو برصغیر کی سیکڑوں ریاستوں میں سے مشرقی پنجاب کی ایک ریاست فرید کوٹ کے قصبہ کوٹ کپورہ میں 15 مارچ 1915ء میں پیدا ہوئے۔ فطرت نے انہیں تاریخ و تذکرہ اور سیر و سوانح کا ایک خاص تحقیقی ذوق اور علمی مزاج عطا کیا ہے۔ ان کے قلم سے بیسیوں تحقیقی کتابیں اور سیکڑوں علمی مضامین و مقالات زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکے ہیں۔ وہ کئی اداروں اور تنظیموں کے رسائل و جرائد کے مدیر رہے۔ بیسویں صدی میں پون صدی تک کی سیاسی، مذہبی اور سماجی تحریکوں کا مشاہدہ کیا۔ برصغیر میں ملت اسلامیہ کے تاریخی اور سیاسی جد و جہد کے وہ براہِ راست شاہد ہیں۔ گزشتہ ساٹھ سالوں سے ان کا قلم علمی اور تحقیقی جواہر پاروں کا ڈھیر لگا رہا ہے۔ مولانا نے اس کتاب میں اپنی زندگی کے کسی واقعہ کے کسی پہلو کو چھپانے کی کوشش نہیں کی اور ہر بات سچائی سے لکھ دی ہے۔ پروفیسر عبدالجبار ’گزر گئی گزران‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ بھٹی صاحب نے ’گزر گئی گزران‘ میں تجربات کا تنوع، مشاہدات کی گہرائی، واقعات کا استحضار، مطالعے کی وسعت، حافظے کی نعمت، اظہار کی قدرت، اسلوب کی ندرت اور دین کی حمیت جیسی اقدار اور خصائص کو پیش کر کے ادبیاتِ اردو کے دامن میں ایک مستقل معیار کی حامل آپ بیتی کا اضافہ کیا ہے۔‘‘ اس کتاب پر حرف اول کے عنوان سے پروفیسر عبدالجبار شاکر نے مقدمہ لکھا ہے۔ جو پروفیسر صاحب کی زندگی کی آخری تحریر ہے ۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
title-pages-taiseer-mustalih-al-hadithurdu
علم کی دوقسمیں ہوتی ہیں پہلا یہ کہ وہ علم استدلالی واستنباطی ہو دوسرا یہ کہ وہ علم خبرکے ذریعے حاصل کیا جائے۔خبری علم میں اذعان ویقین کی صرف یہ صورت ہےکہ خبردرست اور صدق پرمبنی ہو۔ محدثین نے اسی مقصد کو حاصل کرنےکےلیے خبر کی صداقت کے کڑےاصول وضع کیے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی علم کو محدثین کی اصطلاح میں اصول حدیث کےنام سےیاد کیاجاتا ہے۔ علم اصول حدیث وہ علم ہے جو محدثین نے صرف اس لئے وضع کیاتھا تاکہ احادیث رسولﷺ میں تحقیق کرسکیں۔ علما نے اس علم پرسینکڑوں کتابیں لکھی ہیں جوکہ اپنی الگ الگ خصوصیات کی حامل ہیں۔ تاہم مشکل اور ادق فنی اصطلاحات کی وجہ سے ایک عام قاری کےلیے ان کتابوں سے استفادہ کرنا جوئے شیرلانے کے مترادف تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر محمود الطحان نے اس کار عظیم کا بیڑا اٹھایا اور اس علم میں ایک آسان ترین کتاب آپ کے ہاتھوںمیں تھمادی۔ یہ کتاب نہ صرف آسان ہے بلکہ جامع بھی ہے اور اپنی جامعیت کے باوجود زیادہ طویل اورمختصربھی نہیں ۔ اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے۔آمین۔ (ع۔ح)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2020 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں