دکھائیں کتب
  • 21 امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ (جمعرات 23 فروری 2012ء)

    مشاہدات:2383

    عداوتوں میں سے بد ترین عداوت وہ ہوتی ہے جو دوستی کے پیرائے میں اختیار کی جائے اور انسان کو پتہ ہی نہ چل پائے کہ اس لباس خلعت میں ملبوس شخصیت اس کی دوست نہیں بلکہ اس کی دشمن ہے۔انسان اپنے کھلے دشمن سے نقصان اٹھا سکتا ہے ،مگر دھوکہ نہیں کھا سکتا ہے۔لیکن دوستی کے لباس میں ملبوس دشمن سے انسان نقصان بھی اٹھاتا ہے اور دھوکہ بھی کھاتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کا مصداق بننے والے  حافظ ابو خالد ابراہیم المدنی ہیں،جو اپنے خود ساختہ شہوت پرستانہ نظریات کے لئے بہت سی احادیث نبویہ کو تختہ ستم بنا بیٹھے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو معیار اول قرار دیتے دیتے اسے اپنا ہتھیار بے بدل بھی بنا بیٹھے ہیں کہ جب چاہا جیسے چاہا اسے توڑ مروڑ کر مغربی تہذیب کا لبادہ اڑھا دیا۔زیر تبصرہ کتاب " امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ " فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے نام نہاد سکالر  ابو خالد المدنی کی انکار حدیث پر مبنی  کتاب " امراۃ القرآن "کا علمی وتحقیقی رد کیا ہے ۔ابو خالد مدنی نے اپنی کتاب میں پردے کو جاہلانہ رسم قرار دیتے ہوئے اسے ملاؤں کی رسم قرار دیا ہے اور پردے سے متعلق احادیث نبویہ کا انکار کر دیا ہے۔چنانچہ فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾نے اس کی اس بدنام زمانہ کتاب کا ایک علمی وتحقیقی جواب دیا ہے،اور مستند دلائل کے ذریعے اس کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر﷾ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اصلاح امت کا ذریعہ بنائے۔آمین...

  • جس طرح انسان مٹی اور روح کا حسین امتزاج ہے، اسی طرح انسان کو اللہ تعالی نے ذہن اور دل عطا کئے ہیں۔جس طرح اس دنیا کی زندگی روح اور جسم کے درمیان ایک داستان ہے، بالکل اسی طرح اس حیات دنیاوی میں انسان کے دل اور دماغ میں ایک کشمکش رہتی ہے۔اگر اکثر مواقع پر دماغ اپنی من مانی کرتا ہے تو دل بھی کئی مواقع پر دماغ پر فتح حاصل کر لیتا ہے اور انسان سے وہ کرواتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔قرآن وحدیث میں انسانی دل کو ذہانت کا منبع اور جذبات واحساسات رکھنے والا عضو قرار دیا گیا ہے۔تاہم بیسویں صدی کے وسط میں سائنس نے پہلی مرتبہ یہ حیرت انگیز دریافت کی کہ انسانی دل میں بھی انسانی دماغ کی طرح ذہانت کے خلئے پائے جاتے ہیں۔اس انقلابی  دریافت کے بعد پھر انسانی دل پر بحیثیت منبع ذہانت کے مغرب میں کئی سائنسی تحقیقات ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب " انسانی دل اور قبول اسلام، ایک مذہبی، سائنسی تجزیہ "محترم ڈاکٹر گوہر مشتاق صاحب،پی ایچ ڈی امریکہ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے یہی واضح کیا ہے کہ جو چیز اسلام نے آج سے 1400 سو سال پہلے بتا دی تھی ، سائنس آج انہیں دریافت کر رہی ہے، جو اسلام کے مذہب حق ہونے پر دلیل ہے۔(راسخ)

  • 23 انكار حديث سے انکار قرآن تک (جمعہ 04 جون 2010ء)

    مشاہدات:29352

    قرآن کریم اور احادیث مقدسہ اسلامی تعلیمات کاسرچشمہ ہیں ۔انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ جمایا توانہوں نے اپنے سامراجی مقاصد کی تکمیل کےلیے مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے جن نام نہادسکالروں کی کاشت کی۔ انہوں نے فتنہ انکار حدیث کی مہم شروع کردی۔الحمدللہ علمائے حق آگے بڑھے انہوں نےقرآن وسنت کے روشن دلائل  وبراہین سے انگریزوں اور ان کے لے پالک دانشوروں کے سارے حربے  بیکار کردئیے اور یوں مسلمانوں کی متاع ایمان  کو تباہ ہونے سے بچایا ایسے علماء کبار کی کہکشاں میں فاضل اجل مولانا عبدالسلام رستمی  حفظہ اللہ کا نام  ایک نادر اضافہ ہے انہوں نے اس کتاب میں قرآن وحدیث اور تعامل صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی روشنی میں سرسید،اسلم جیراج پوری اور غلام احمد پرویز جیسے قلمکاروں کی گمراہ کن تحریروں او ردورازکار تأویلوں  کے بخیے ادھیڑ دیئے ہیں  او ریہ حقیقت اچھی طرح اجاگر کردی ہے  کہ حدیث کا انکار در حقیقت قرآن کا انکار ہے  اسلام اطیعو اللہ واطیعوالرسول کا نام ہے قرآ ن کے ساتھ ساتھ جب تک صحیح احادیث پر پوری طرح یقین او رعمل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک ایمان کی لذت شناسی نصیب نہیں ہوگی ۔یہ کتاب اسی حقیقت کی ایمان افروز تفسیراور حجیت حدیث کی دل آویز دستاویز ہے ۔

     

  • 24 انکار حدیث حق یا باطل؟ (منگل 04 نومبر 2008ء)

    مشاہدات:22018

    منکرین حدیث کے تمام بنیادی شبہات کے دو ٹوک جواب پر مشتمل علمی و تحقیقی کتاب ہے۔ جس میں منکرین حدیث کی طرف سے پیش کئے جانے والے نام نہاد دلائل اور احادیث پر اعتراضات کا محکم براہین کی روشنی میں بھرپور جائزہ لیا گیا ہے۔ فتنہ انکار حدیث کے جائزے پر مشتمل اس کتاب میں ظنیات کی بحث، انکار حدیث کے اصولی دلائل، حجیت و کتابت حدیث، احادیث کے متفرق و متضاد ہونے کی حقیقت، اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور منصب رسالت کی حیثیت، نماز پنجگانہ اور منکرین حدیث، عذاب قبر اور ثواب قبر جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

  • 25 انکار حدیث کا نیا روپ (جلد اول و دوئم ) (پیر 22 مارچ 2010ء)

    مشاہدات:18952

    پاک و ہند میں علماء اہل حدیث کی خدمت حدیث اسلامی تاریخ کاروشن باب ہے اہل علم نے ہر دور میں اس کی تحسین کی پاک وہند سے کتب حدیث کے نہایت مستند متون شائع ہوئے اس خطہ زمین میں کتب حدیث کی نہایت جامع ومانع شروح وحواشی تحریر کیے گئے۔بر صغیر میں فتنہ انکار حدیث صدیوں سے زوروں پر ہےاس کی بعض صورتیں ایسے صریح انکار حدیث پر مبنی ہیں جس کے حامل کا مسلمان ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے اس فتنہ کے بنیادی اسباب میں دین سے لاعلمی ،غیر مسلم تہذیب سے مرعوبیت اور سیاسی وفکری محکومی سرفہرست ہے یہ پڑھے لکھے تجدد پسند حضرات کافتنہ ہے جوعلوم اسلامیہ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اسلام اور اس کے اوامر ونواہی سے جذباتی عقیدت رکھتے ہیں ۔فتنہ انکار حدیث  کو واضح کرنے اور عوام الناس کو اس سے متعارف کروانے کےلیے فدائیان کتاب وسنت نے دن رات محنت کی ان میں سے ایک غازی عزیر بھی ہیں جنہوں نے ’’انکار حدیث کا نیا روپ‘‘جیسی عظیم اور مفصل کتاب لکھ کر حدیث پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات کاحل پیش کردیاہے ۔اس کتاب میں جہاں منکرین قرآن وسنت کے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے وہاں حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسے اہم مضامین پر غازی صاحب نے اپنی مجتہدانہ بصیرت سے خوب روشنی ڈالی ہے جس کو پڑھنے کے بعد کسی صائب العقل او رسلیم الفطرت شخص کو حدیث کےمتعلقہ شکوک وشبہات دور کرنے میں مجال انکار نہیں رہتی۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔جس میں  حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسی اہم مباحث کی تفصیلی گفتگو کے ساتھ منکر ین حدیث امین احسن اصلاحی ک افکار کا کتاب وسنت کی روشنی میں...

  • 26 اوکسفرڈ ابتدائی انسائیکلوپیڈیا زمین اور کائنات (جمعہ 27 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1204

    کائنات میں زمین کے محل وقوع کی معلومات 400 برس کے دور بینی مشاہدات کا نچوڑ ہے، شروع میں زمین کو کائنات کا مرکزسمجھا جاتا تھا، اور کائنات صرف ان سیاروں پر مشتمل تھی جو ننگی آنکھ سے دیکھے جاسکتے تھے اور ان کے کنارے پر مستقل ستاروں کا کرہ تھا۔ سترہویں صدی میں شمس مرکزی نمونے کو تسلیم کئے جانے کے بعد ولیم ہرشل اور دوسروں کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ سورج وسیع ستاروں کی قرص نما شکل میں موجود ہے۔بیسویں صدی تک ایڈون ہبل کے مرغولہ نما سحابیہ کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں موجود ارب ہا ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے بیسویں صدی کے اختتام تک، کائنات کی کل ساخت خاصی واضح ہو گئی تھی، جہاں فوق جھرمٹ اور خالی جگہیں ریشوں اور خالی جگہوں سے وسیع جال بن رہے تھے۔فوق جھرمٹ اور خالی جگہیں کائنات میں آپس میں بندھی ہوئی سب سے بڑی ساختیں ہیں جن کا ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کائنات کا کوئی مرکز یا سرحد نہیں ہے، لہٰذا کوئی بھی مخصوص نقطہ ایسا نہیں ہوگا جس کی نسبت سے ہم کائنات میں زمین کے محل وقوع کو بیان کرسکیں۔ تاہم کیونکہ قابل مشاہدہ کائنات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کائنات کا ایسا حصّہ ہے جو ارضی مشاہدین کو نظر آتا ہے، اس تعریف کی رو سے زمین کائنات کا مرکز ہے۔ اس بات کا اب بھی تعین نہیں کیا جا سکا کہ آیا کائنات لامحدود ہے یا نہیں۔ بہت سے ایسے مفروضے بھی موجود ہیں جن کے مطابق شاید ہماری کائنات ان کثیر کائناتوں میں محض ایک مثال ہے؛ تاہم ابھی تک متعدد کائناتوں (multiverse) کے وجود کا کوئی مشاہدہ نہیں کیا جا سکا، کچھ تو یہ بھ...

  • انسان نے اپنے صدیوں کے روزمرہ مشاہدات سے اور تجربات سے مندرجہ ذیل اصول اخذ کئے تھے۔کہ یہ کائنات سمجھ میں آ سکتی ہے کیونکہ اس کے کچھ قوانین ہیں جو ہر جگہ یکساں طور پر نافذ ہیں۔ ان قوانیں کو جان کر فطری قوتوں کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ان قوتوں سے حسبِ منشاء ضرورت کا کام لیا جا سکتا ہے۔آج ہم اِن اصولوں کے ذریعے حاصل کردہ علم کو سائنس کا نام دیتے ہیں۔انسان نے جو سب سے پہلی سائنسی دریا فت کی تھی، وہ تھی " آگ" انسان نے دیکھا کہ آگ روشن ہے، جلا دیتی ہے، پکا دیتی ہے، جانوروں کو بھگا دیتی ہے، یہ توانائی ہے، اسے قابو کیا جا سکتا ہے ، اس سے کام لئے جا سکتے ہیں یہ سائنسی تجربات تھے۔ یہ اُس کی سائنس تھی۔ انسان کائنات کو صرف سمجھتا ہی نہیں تھا وہ تخلیق اور ایجاد کا ذہن بھی رکھتا تھا۔ فطری قوتوں کا حسبِ منشا استعمال کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے قوانین قدرت کو نئے رخ سے استعمال کرنا شروع کیا۔اپنے اختیارات سے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ استعمال ٹیکنالوجی کہلایا۔انسان نے جو سب سے پہلے ایجاد کی وہ پہیہ تھی ۔ اس نے دیکھا کہ گول چیز دیگر شکلوں والی اشیاء کی نسبت باآسانی حرکت کر سکتی ہے۔ اس قانون قدرت کو اس نے پہیہ بنا کر استعمال کیا۔ یہ اس کی ٹیکنالوجی تھی۔ آگ توانائی تھی ، سائنس تھی اور پہیہ ایجاد تھا، ٹیکنالوجی تھی۔پھر انسان نے دیکھا کہ جس کے پاس توانائی تھی وہ طاقتور تھا، اسی نے دوسروں پر سبقت حاصل کر لی تھی۔ جس کے پاس ایجاد تھی، اسی کے پاس قوت تھی وہ آگے بڑھ گیا ۔ ان کے استعمال سے انسان پر ترقی کے راستے کھل گئے۔یعنی آگ توانائی ہے پہیہ ایجاد ہے۔توانائی سائنس ہے...

  • 29 بابرکت رزق اور موجودہ دور کے فتنے (ہفتہ 16 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1963

    یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان نے اس دھرتی پر اپنی ضرورتیں لے کر قدم رکھا۔ کھانے کے لیے غذا، پینے کے لیے پانی، پہننے کے لیے لباس،گرمی،سردی، بارش، طوفان سے بچنے کےلیے گھر انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔اور اس کے زندہ رہنے کا دارومدار ان ضرورتوں پر ہےاسی طرح حسن پسندی کی حس بھی انسانی فطرت میں شامل ہے، جس کے تحت وہ ہر چیز میں حسن و خوبی کو پسند کرتا ہے۔ایسے ہی سہولت اور آسائش پسندی بھی انسانی مزاج کاحصہ ہے،جس کے لیے وہمیشہ بہتر سےبہتر کی تلاش میں رہتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق خالق کائنات میں سب بنیادی ضرورتیں، سہولتیں، آسائشیں، زیبائش کی ہر چیز اس کائنات میں پیدا کر رکھی ہے۔ اب انسان کو چاہیے کہ وہ ان آسائشوں سے اسلام کی تعلیمات کے مطابق فائدہ اٹھائے۔ مگر انسان عجلت میں آکر حلال وحرام کی تمیز کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور ہوس و لالچ کا شکار ہوتے ہوئے دنیا و آخرت میں خسارے کا سامان تیارکرتا ہے۔ زیر بحث کتاب"بابرکت رزق اور موجودہ دور کے فتنے"خالد گھرجاکھی کی تالیف کردہ ہے۔جس میں کسب حلال کی ترغیب دی گئی ہےاور وہ اسباب جن سے تجارت حرام ہوجاتی ہے ان کابڑے احسن انداز سے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو اجر عظیم سے نوازے اور بنی نوع کو کسب حلال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 30 تجدید و احیائے دین (منگل 12 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2148

    اسلام کی اصطلاحی زبان کے جو الفاظ کثرت سے زبان پر آتے ہیں ان میں سے ایک لفظ مجدد بھی ہے۔اس لفظ کا ایک مجمل مفہوم تو ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ جو شخص دین کو از سر نو زندہ اور تازہ کرے وہ مجدد ہے۔لیکن اس کے تفصیلی مفہوم کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔کہ تجدید دین کی حقیقت کیا ہے؟ کس نوعیت کے کام کو تجدید دے تعبیر کیا جا سکتا ہے؟ اس کام کے کتنے شعبے ہیں؟مکمل تجدید کا اطلاق کس کارنامے پر ہو سکتا ہے؟اور جزوی تجدید کیا ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تجدید واحیائے دین "جماعت اسلامی پاکستانی کے بانی مولانا سید ابو الاعلی مودوی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں آپ نے تحریک تجدید واحیائے دین کا بے لاگ تجزیہ کیا ہے، مجددین کی حقیقی عظمت کو اجاگر کیا ہے اور ان کے عظیم کارناموں کی اہمیت کو جس انداز میں بیان کیا ہے وہ نہ صرف آئندہ مورخین کے لئے ایک صحیح بنیاد فراہم کرے گی بلکہ دین کے خادموں کے دلوں میں ایک تازہ ولولہ، ایک نیا جوش اور دین کی سرفرازی کے لئےایک نئی تڑپ اور لگن پیدا کرے گی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 762
  • اس ہفتے کے قارئین: 6931
  • اس ماہ کے قارئین: 46499
  • کل قارئین : 47264223

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں