ڈاکٹر یوسف القرضاوی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ڈاکٹر یوسف القرضاوی
    pages-from-islam-aur-secularism
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    ایک آزاد ملک میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور انہیں سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو،وہاں اسلام کا دائرہ کار کیا ہونا چاہئے؟وہ مسلمانوں کی فقط انفرادی زندگی ہی سے متعلق رہے یا ریاستی امور میں بھی اس کی بالا دستی کو تسلیم کیا جائے؟یہ مسئلہ ان فکری مسائل میں سر فہرست رہا ہے جو بیسویں صدی کے دوران پوری اسلامی دنیا میں زیر بحث رہے۔ مصر کو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ یہاں ان بنیادی فکری مسائل پر بھرپور بحث ہوتی رہی ہے،اور انہی مسائل میں اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کا مسئلہ بھی موجود ہے۔اس صدی کی تیسری دہائی میں علی عبد الرزاق کی "الاسلام واصول الحکم"نامی کتاب سامنے آئی۔ جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا حکومت اور اس سے متعلقہ مسائل اسلام کے دائرہ کار کا حصہ نہیں ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر مصر کے دینی حلقوں میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور اس موقف کی بڑے جوش وخروش سے تردید کی گئی۔الغرض بیسویں صدی میں دونوں نکتہ نظر کی متعدد کتب چھپ کر سامنے آئیں۔چند سال قبل مصر کے بائیں بازو کے ایک وقیع مفکر اور صاحب قلم جناب احمد فواد زکریا نے اپنی تحریروں سے خالص سیکولر نقطہ کی شدت سے وکالت کی ۔اس بار اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے عالم عرب کے نامور صاحب علم محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب سامنے آئے، اور زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور سیکولرزم ایک موازنہ" تصنیف فرما کر سیکولرزم کے تصور کی نفی کی اور اسلام کے نظام حکومت کے خدوخال کو واضح کیا۔کتاب اصلا عربی میں لکھی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی آپ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور دنیا میں اسلامی نظام حکومت کا نفاذ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-islam-aur-maashi-tuhaffuz
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    انسان روزِ اول سے ہی معاشی عدمِ تحفظ سے دوچار رہا ہےاوراپنے شکم کےتقاضے پورے کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہا لیکن عصر حاضر میں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی زبوں حالی کا مسئلہ ہے و ہ اس کے حل کے میں مجنونانہ مصروف کار ہے ۔ اس تگ ودو میں اپنے ہوش وحواس تک کھو بیٹھا ہے ۔ اس کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں مأوف ہوچکی ہیں معاشی تحفظ کے حصول کےلیے اسےجس راہ کی نشاندہی کردی جاتی ہے وہ اس کے نتائج وعواقب سے بے نیاز ہ کر اس پر دوڑ پڑتا ہے او رہلاکت وتباہی سے دو چار ہونے سے پہلے پیچھے مڑکر دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ معیشت کے سلسلے میں پریشان حال انسانوں کے لیے اسلام ایک سواء السبیل کی حیثیت رکھتا ہے جس کی پیروی انسان کو تمام لغزشوں سے بچار کر سیدھا منزلِ مقصود تک پہنچا دیتی ہے۔ اسلام نے انسان کےفقر وفاقہ اور معاشی زبوں حالی کاحل کا جو نقشہ پیش کیا ہے ونہایت متوازان او رمعتدل ہے۔ وہ معاشرہ اور فرد دونوں کی ضروریات واحتیاجات کو ملحوظ رکھتا ہےاور اسلامی نظام معیشت اخوت ومحبت اور صحت کاپیغام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلام کا معاشی تحفظ ‘‘ عالم ِاسلام کے عظیم سکالر علامہ یوسف القرضاوی کی عربی تصنیف’’مشکلۃ الفقر وکیف عالجھا الاسلام‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ علامہ موصوف نے بڑی شرح وبسط کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں اسلام کی معاشی تعلیمات پر وشنی ڈالی ہے اور یاثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے کہ صرف اسلام کا عدل اجتماعی ہی حقیقی معنوں میں انسانیت کو معاشی بوجھ سے نجات دلاسکتا ہے اور انہوں نے اس کتاب میں رائج الوقت معاشی نظریات سرمایہ داری اور اشتراکیت کی قاہرانہ اور ظالمانہ روح کوبھی بے نقاب کیا ہے۔ (م۔ا)

    pages-from-islam-mein-hilal-o-hram
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اورانبیاء ورسل ﷩ کےذریعے اپنےاحکامات ان تک پہنچائے۔اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کی پابندی کرنا عین عبادت ہے۔ منہیات سے بچنا اور حرام سے اجتناب کرنا ایک حدیث کی رو سے عبادت ہی ہے۔ حرام کےاختیار کرنے سے عبادات ضائع ہوجاتی ہیں اورایک شخص کو مومن ومتقی بننے کے لیے حرام کردہ چیزوں سےبچنا ضروری ہوتا ہےاور اسلام نےبہت سی اشیاء کوحرام قرار دیا ہے جن کی تفصیل قرآن وحدیث کے صفحات پربکھری پڑی ہے۔ بعض علما ء نےاس پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے علامہ یوسف قرضاوی کی زیرتبصرہ کتاب ’’اسلام میں حلال وحرام ‘‘ بڑی اہم ہے اس کتاب میں علامہ قرضاوی نےحلال وحرام پر مفصل بحث کی ہے۔ لیکن انہوں نے چند مقامات پر ٹھوکر کھائی ہےجس پر علامہ البانی اور دیگر علماء نے ان کاخوب محاکمہ کیاہے۔۔ البتہ مجموعی لحاظ سے کتاب بہت مفید ہے۔ محدث العصر علامہ محمد ناصر الدین البانی ﷾ نے اس کتاب کا بغور مطالعہ کیاا ور اس کی تمام احادیث کی فنی تخریج کی جس سے اس   کتا ب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اور اسی طرح فاضل مترجم جناب شمس پیر زادہ نے ترجمہ کے ساتھ ساتھ بعض مفید حواشی اورتبصرے بھی کیے ہیں جس سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔ اپنے موضوع پر یہ ایک نہایت جامع اور بے نظیر کتاب ہے اور مصنف کایہ دعویٰ بالکل صحیح ہے کہ حلال وحرام کے موضوع پر اسلامی لٹریچر میں یہ کتاب اولین اضافہ ہے۔کتاب ہذا کا زیر تبصرہ ایڈیشن کراچی سے شائع شد ہے ۔ اس کتاب کا جدید ایڈیشن دارالابلاغ کے مدیر جناب طاہر نقاش صاحب نے بڑی عمدگی کےساتھ شائع کیاہے ۔جس پر پاکستان کےنامور عالم دین مفتی مبشرربانی ﷾نے بعض مقامات پر تعلیق لگادی ہےاور محترم طاہر نقاش صاحب نے شیخ البانی اور شیخ صالح بن فوزان کی تعلیقات وتحقیقات کواردو قالب میں ڈھال کر اس کتاب(کا فٹ نوٹ میں) حصہ بنا دیاہے۔یہ ایڈیشن بھی ویب سائٹ پر موجود ہے ۔۔اللہ تعالیٰ،مصنف ، مترجم اور ناشرکی تمام مساعی جمیلہ کو قبو ل فرمائے ۔اورمسلمانوں کوحلال کھانے اور حرام سے اجتناب کرنےکی توفیق بخشے۔ (آمین)( م۔ا)

    title-pages-islam-main-halal-w-haram-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اپنی  عبادت کے لیے پیدا فرمایا اورانبیاء ورسل ﷩ کےذریعے اپنےاحکامات ان تک  پہنچائے۔اللہ تعالیٰ نے اوامر ونواہی کی پابندی کرنا عین عبادت ہے ۔ منہیات  سے بچنا اور حرام سے اجتناب کرنا ایک حدیث کی رو سے عبادت ہی ہے۔ حرام کےاختیار کرنے  سے عبادات ضائع ہوجاتی ہیں اورایک شخص کو مومن ومتقی بننے کے لیے حرام کردہ چیزوں سےبچنا ضروری ہوتا ہےاور اسلام نےبہت سی اشیاء کوحرام قرار دیا ہے جن کی تفصیل قرآن وحدیث کے  صفحات پربکھری پڑی ہے۔اور بعض علما ء نےاس پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے علامہ یوسف قرضاوی  کی  زیرتبصرہ  کتاب بڑی  اہم ہے اس کتاب میں علامہ قرضاوی نےحلال وحرام  پر مفصل بحث کی ہے ۔لیکن انہوں نے چند مقامات پر ٹھوکر کھائی ہےجس پر علامہ البانی اور دیگر علماء نے  ان کاخوب محاکمہ کیاہے۔اورپاکستان کےنامور عالم دین مفتی مبشرربانی  ﷾نے بعض مقامات پر تعلیق لگادی ہے ۔ البتہ مجموعی لحاظ سے کتاب کافی مفید ہے۔محترم طاہر نقاش صاحب نے شیخ  البانی اور شیخ صالح بن فوزان کی تعلیقات  وتحقیقات کواردو قالب میں ڈھال کر اس کتاب(کا فٹ نوٹ میں) حصہ بنا دیاہے ۔کتاب میں مذکورہ احادیث وغیرہ کی مکمل تحقیق وتخریج شامل کردی ہے تاکہ آسانی سے مراجع ومصادر تک رسائی  حاصل ہوسکے ۔اللہ تعالیٰ،مصنف  ، مترجم ،تحقیق وتخریج اور اس  پرحواشی  وغیرہ کا کا م کرنے  والے احباب اور ناشرکی تمام مساعی جمیلہ کو قبو ل فرمائے ۔اورمسلمانوں کوحلال کھانے اور حرام سے اجتناب کرنےکی توفیق بخشے (آمین)( م۔ا)

    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    اشتراکیت یا کمیونزم کے معاشی تصورات انتہا پسندانہ اور افراط وتفریط کا شکار ہیں ۔ ان کے خونیں پنجے میں انسانیت ابھی تک سسک رہی ہے ۔ ان سیکولر قوتوں نے چھوٹے اور غریب ملکوں کا استحصال کر کے انہیں ایک مستقل غریب اور پسماندگی کا شکار کردیا ہے ۔ان دونوں معاشی نظاموں کی افراط وتفریط کےمقابلے میں اسلام کا عادلانہ معاشی نظام عدل اجتماعی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کا ایک مستند تاریخی ریکارڈ رکھتا ہے۔ تمام معاشی نظاموں کا حقیقی ہدف انسانیت کو غربت سے نجات دلا کر ایک خوشحال زندگی کے وسائل وذرائع فراہم کرتا ہے مگر مادی سطح کے معاشی نظاموں میں کوئی بھی آج تک اس ہدف کے حتمی اور یقینی نتائج وثمرات حاصل نہیں کرسکا۔ مغرب کےان نظاموں میں فلاحی مملکت یامعاشرے کا تصور بھی حقیقی فلاح سے بہت بعید اور مواخات کی روح سے خالی دکھائی دیتا ہے۔اسلام کے معاشی نظام میں استحصال کی ہر شکل کو ممنوع اور مکروہ قرار دیا گیا ہے۔اسلام نےسود اور اس کی اساس پیدا ہونے والے فساد کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے ۔ اور معاشی نظام میں شرکت ومضاربت وتجاتی زندگی کے توازن کو عادلانہ سطح برقرار رکھا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام میں غریبی کا علاج‘‘ عالم اسلام کے نامور سکالر ڈاکٹر یوسف القرضاوی ﷫ کی ایک عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ۔ڈاکٹر قرضاوی نےاپنی اس وقیع علمی کتاب کو نو مستقل ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔اور اس مختصر کتاب میں اسلامی اقتصادیات کے اس مخصوص حصے سے بحث کی ہے جس کا تعلق غریبی اور اس کے علاج سے ہے ۔جس میں غریبی کے حقوق اور خاص طور پر ان وسائل پر روشنی ڈالی گئی ہےجن کےسہارے سماج کایہ پسماندہ طبقہ چین کا سانس لے سکے اور اسلامی دستور کے زیر سایہ اپنی خودی اور عزت کرسکے۔علامہ قرضاوی نے غربت وافلاس کےعلاج کو کتاب وسنت اور فقہائے مجتہدین کے مسلمہ اصولوں سے گہرا تقابل کرلینے کے بعد اس کتاب میں درج کیا ہے۔کتاب کے مطالعے سے قارئین کو خود اندازہ ہوگا کہ اسلام شروع سے غربت اور اس کے علاج، غریبوں کے حقوق کی حمایت اور ان کی مادی اور بنیادی ضرورتوں میں تعاون کا قائل رہا ہے ۔اوریہ ایسا امتیاز ہے جس سے ان مذاہب اور ازموں کادامن سدا خالی رہا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-islami-nizam-aik-freza-aik-zrorat-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی نظام ،ایک فریضہ ،ایک ضرورت "عالم عرب کے مشہور ومعروف اسلامی اسکالر اور مفکر محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی عربی تصنیف "الحل الاسلامی فریضۃ وضرورۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ محترم محمد طفیل انصاری صاحب نے کیا ہے۔مولف نے اپنی اس کتاب میں اسلامی نظام کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-iman-aur-zindagi-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    ایمان بعض غیر مرئی اور نامشہود حقائق کا اقرار وتصدیق ۔ایسا اقرار جو انسان کے رگ وپے میں رچ بس جائے کہ اٹھتے بیٹھتے زبان سے اسی کااظہارہو اور ایسی تصدیق کےاس کے متعلق دل میں ریب وتشکک کا کوئی شائبہ باقی نہ رہے ۔قرآن مجید اللہ تبارک وتعالیٰ کی آخری کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمدﷺ پر نازل فرمایا اس کتاب کے بہت سے مقامات پر اللہ نے کامیابی کامعیار ایمان اور عمل صالح کو قرار دیا۔ ایمان کی حقیقت کوسمجھنا ہر مسلمان کے لیے انتہائی ضروری ہے اس لیے کہ جب تک ایمان کی حقیقت کو نہیں سمجھا جائے گا اس وقت تک اس کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ایمان اورزندگی ‘‘عالمِ اسلام کے نامور مصنف علامہ یوسف قرضاوی کی عربی تصنیف ’’الایمان والحیٰوۃ‘‘کی تلخیص وترجمہ ہے۔یہ کتاب پہلے ماہنامہ ترجمان القرآن ،لاہور میں قسط وار شائع ہوتی رہی۔ بعدازاں اسے افادۂ عام کےلیے کتابی صورت میں شائع کیاگیا۔علامہ موصوف نے اس کتاب میں ایمان اور حیات ِ انسانی کےمابین گہرے ربط کو واضح کرتے ہوئے اس کےانفرادی واجتماعی دوائر پر ایمان کےاثرات بیان کیے ہیں نیز تفصیل سےبتایا ہے کہ دنیا میں حقیقی سعادت سے ہمکنار ہونے کےلیے دولتِ ایمان کا حصول از بس ضروری ہے۔نیز اس کتاب میں زیادہ تر ان اوصاف کی نشاندہی کی گئی ہے جو ایمان کے زیر اثرِ انسان میں پیدا ہوتے ہیں۔فاضل مصنف کو چونکہ جدید وقدیم علوم پر خاصی دسترس حاصل ہے۔ اس لیے آپ دوسرے افکارونظریات اورادیان ومذاہب کابھی ساتھ ساتھ جائزہ لیتے گئےہیں۔ او رجگہ جگہ عقیدۂ اسلام کی حقانیت وفوقیت کےاثبات کی بھی کامیاب کوشش کی ہے ۔(م۔ا)

    title-pages-taghayar-pazer-halat-me-tafiqha-k-taqaze-aur-hum-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    احکام شریعت کے فہم صحیح کو تفقہ کہتے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی فہم صحیح عطا فرماتے ہیں۔دین کے فہم صحیح کے لئے ضروری ہے کہ فقیہ کا ایک طرف خالق کائنات سے  اس کا رشتہ استوار ہو، دوسری طرف وہ خلق اللہ کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے آگاہ ہو۔وہ کتاب وسنت کا غواص بھی ہو اور اپنے عہد کے تقاضوں سے باخبر اور سماج کا نباض بھی ہو۔ دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" تغیر پذیر حالات میں تفقہ کے تقاضے اور ہم "عالم عرب کے معروف عالم دین محترم  داکٹر یوسف القرضاوی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  تغیر پذیر حالات میں تفقہ کے تقاضوں کو بیان فرما یا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف  کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-ruba-aur-bank-ka-sood-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر تبصرہ کتاب'' ربو اور بنک کا سود "عالم اسلام کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب کی عربی تصنیف  ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم عتیق الظفر صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو سود جیسی لعنت سے چھٹکارا عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-rasool-e-akram--saww--aur-taleem-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    دین اسلام میں تعلیم کی اہمیت مسلّم ہے۔ تاریخ انسانیت میں یہ منفرد مقام اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ سراسر علم بن کر آیا اور تعلیمی دُنیا میں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیامبر ثابت ہوا اسلامی نقطۂ نظر سے انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز تاریکی اور جہالت سے نہیں بلکہ علم اور روشنی سے کیا ہے۔ تخلیقِ آدم کے بعد خالق نے انسانِ اول کو سب سے پہلے جس چیز سے سرفراز فرمایا وہ علمِ اشیاء تھا۔ یہ اشیاء کا علم ہی ہے جس نے انسانِ اول کو باقی مخلوقات سے ممیز فرمایا اور قرآنِ حکیم کے فرمان کے مطابق تمام دوسری مخلوقات پر اس کی برتری قائم کی۔نبی کریمﷺ نے علم کے حصول اور اسے سیکھنے سکھانے پر ابھارا ،اس کےآداب بیان کیے اوراس کےاثرات کو واضح کیا علم اور اہل علم کو معزز ٹھہرایا،اس کے حصول سے پہلی تہی کے نقصانات سےآگاہ کیا اور اہل علم کی بات کوجھٹلانے ، اس کی دی ہوئی روشنی سےمنہ موڑنے اوراصحاب علم کو درخور اعتنانہ جاننے کی خرابیوں سے لوگوں کو مطلع کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ رسول اکرم ﷺ اورتعلیم ‘‘ عالم اسلام کے مشہور ومعروف اسلامی سکالر علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی تصنیف ’’ الرسول والعلم‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔علامہ یوسف قرضاوی نے اس کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے اور ان میں علم اور اہل علم کا مقام، رسول اللہﷺ اور تجرباتی علم ، اخلاقیات علم ، حصول علم کے آداب، تعلیم کی اقدار ومبادیات کو حدیث وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالنے کی ذمہ داری محترم ارشاد الرحمٰن صاحب نے انجام دی ہے۔اولاً یہ کتاب ہفت روزہ ایشیا،لاہور میں قسط وار شائع ہوئی بعد ازاں اسے کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔(م۔ا)

    pages-from-ghalba-e-islam-ki-bshaartain
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    دینِ اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لئے آیا ہے، اﷲ پاک نے اپنے آخری رسول حضرت محمدﷺکو ہدایت یعنی قرآن پاک اور دین حق یعنی اسلام دے کر بھیجا ہے تاکہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کردے اگرچہ مشرکین جن میں یہود ونصاریٰ بھی شامل ہیں جتنا بھی نہ چاہیں کہ دین اسلام غالب نہ ہو ۔ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (التوبہ، الفتح، الصف)  ترجمہ: اس (اللہ) نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اور اگرچہ مشرک ناپسند کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’غلبۂ اسلام کی بشارتیں‘‘ علامہ یوسف القرضاوی ﷫ کی عربی تصنیف ہے ’’المبشرات بانتصار الاسلام ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں دلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ لوگوں کا یہ خیال کہ اب ہم محض برے دن دیکھنے کے  لیے  زندہ  رہیں گے بالکل غلط ہے۔ کیونکہ قرآن اوراحادیث  میں ایسی بشارتیں موجود ہیں جن سے اس خیال کی  تردید ہوتی ہے۔ علامہ قرضاوی ہے نے ایسی تمام روایات اور احادیث پر گفتگو کی ہے اور ان کے صحیح مفہوم  ومنشا کو واضح کیا ہے۔

    pages-from-fataawa-dr-yousaf-al-qarzavi
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    بلا شبہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کلام الٰہی ہر قسم کی غلطی سے مبّرا و منزّا ہے۔ قرآن مجید اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے کامل و اکمل ترین کتاب ہے۔ یہ واحد آسمانی کتاب ہے جو اپنی اصل صورت میں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئی ہے۔ ہر دور میں مفسرین و محدثین نے مختلف انداز سے اس کی تفاسیر و شروحات کو قلمبند کیا اور بنی نوع آدم کی علمی تشنگی کی آبیاری کرتے رہے۔ اسی طرح مسلمانوں کا قدیم علمی ورثہ ایک ایسا بحرِ زخّار ہے جس میں ایک سے ایک بڑھ کر سچے موتی موجود ہیں لیکن جوں جوں ہم قدیم سے جدید زمانے کی طرف بڑھتے ہیں یہ موتی نایاب ہوتے جاتے ہیں لیکن ان جواہرات میں سے ایک جوہر ایسا بھی مل جاتا ہے جو یکبارگی ساری محرومیوں کا ازالہ کردیتا ہے۔ زیر نظر کتاب"فتاویٰ ڈاکٹر یوسف القرضاوی" جو کہ علامہ یوسف القرضاوی کے فتوجات پر مشتمل ایک کتاب ہے۔ جس کا اردو ترجمہ سید زاہد اصغر فلاحی نے نہایت مختصر مگر مکمل، سلیس اور عام فہم اسلوب کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ علامہ قرضاوی کے جوابات میں نہ تشدد کا رنگ شامل ہوتا ہے اور نہ سہل پسندی کی روش۔ جواب دیتے وقت موجودہ دور کے حالات اور ضروتوں کی بھی رعایت کرتے ہوئے قرآن و سنت سے دلائل کا اہتمام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

    title-pages-fiqah-al-zakar-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ  ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین  فرد کی انفرادیت  کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے  کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان  میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت  کے ساتھ اجتماعی زندگی  کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی  بینادی ارکان خمسہ میں سے  ایک  اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں  لفظ  ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت  میں  زکاۃ ایک  مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام  کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے  نقصانات  ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں  تفصیل سے اس کے احکام  ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ  یقینا کافر اور واجب القتل ہے  ۔یہی وجہ کہ  خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق  نے  مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو  اسے درد ناک عذاب میں  مبتلا  کیا جائے گا۔جس کی  وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں  زکوٰۃ کے  احکام ومسائل کےحوالے سے  بیسیوں  کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ فقہ الزکاۃ‘‘ مسائل زکاۃ کےبہت  سے  پہلوؤں پر محیط ہے ۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر یو سف القرضاوی   عالم اسلام  کے  معروف دینی رہنما  اور ہیں  ان کی علمی خدمات  نے  عالمِ اسلام پر گہرے اثرات مرتب کیے  ہیں ۔ انہو ں نے  اپنی اس کتاب میں وقت کے ایک بڑے چیلنج کا مؤثر اور شافی کافی جواب دیا ہے  اور اسلام کے مالیاتی نظام کا خاکہ پیش کر کے مسئلہ کا یقینی حل پیش کیا ہے۔یہ کتاب اہل علم کے ہاں مرجع کی حیثیت  رکھتی ہے ۔اصل عربی کتاب دو جلدوں میں ہے۔ جناب ساجد الرحمن  صاحب نے  اس کتاب کا سادہ   سلیس اور بامحاورہ ترجمہ  کیا۔ادارہ معارف اسلامی  نے  1981ء میں اسے پہلی بار شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم  اور ناشرین کی اس کاوش کو  قبول  فرمائے اور اسے   امت مسلمہ کےلیے نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-fiqah-al-zakar-copy
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ  ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین  فرد کی انفرادیت  کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے  کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان  میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت  کے ساتھ اجتماعی زندگی  کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی  بینادی ارکان خمسہ میں سے  ایک  اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں  لفظ  ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت  میں  زکاۃ ایک  مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام  کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے  نقصانات  ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں  تفصیل سے اس کے احکام  ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ  یقینا کافر اور واجب القتل ہے  ۔یہی وجہ کہ  خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق  نے  مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو  اسے درد ناک عذاب میں  مبتلا  کیا جائے گا۔جس کی  وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں  زکوٰۃ کے  احکام ومسائل کےحوالے سے  بیسیوں  کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ فقہ الزکاۃ‘‘ مسائل زکاۃ کےبہت  سے  پہلوؤں پر محیط ہے ۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر یو سف القرضاوی   عالم اسلام  کے  معروف دینی رہنما  اور ہیں  ان کی علمی خدمات  نے  عالمِ اسلام پر گہرے اثرات مرتب کیے  ہیں ۔ انہو ں نے  اپنی اس کتاب میں وقت کے ایک بڑے چیلنج کا مؤثر اور شافی کافی جواب دیا ہے  اور اسلام کے مالیاتی نظام کا خاکہ پیش کر کے مسئلہ کا یقینی حل پیش کیا ہے۔یہ کتاب اہل علم کے ہاں مرجع کی حیثیت  رکھتی ہے ۔اصل عربی کتاب دو جلدوں میں ہے۔ جناب ساجد الرحمن  صاحب نے  اس کتاب کا سادہ   سلیس اور بامحاورہ ترجمہ  کیا۔ادارہ معارف اسلامی  نے  1981ء میں اسے پہلی بار شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم  اور ناشرین کی اس کاوش کو  قبول  فرمائے اور اسے   امت مسلمہ کےلیے نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1649 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں