شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

  • نام : شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

کل کتب 27

دکھائیں
کتب
  • 26 #6678

    مصنف : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

    مشاہدات : 1666

    اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور

    (جمعرات 05 جولائی 2018ء) ناشر : شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
    #6678 Book صفحات: 85

    لفظ ٹارٹ  لاطینی زبان کےلفظ TORTUM    سے ماخوذ ہے جس کے معنی ٹیڑھے کے ہیں ۔ٹارٹ سے مراد کسی ایسے  فرض کی خلاف ورزی ہے جو کسی معاہد ےکی بنا پر عائد نہ ہو  او رجس کےنتیجے  میں کسی ایسے قطعی فرض کی خلاف ورزی ہو جس کا کوئی دوسرا شخص حق دار ہو یا کسی شخص کے  کسی محدود ذاتی، شخصی ، خانگی حق کی خلاف ورزی کی وجہ سےخاص نقصان پہنچے یا اس خلاف ورزی کی وجہ سے  عام  افراد کو نقصان پہنچے۔فقہ اسلامی  میں  ٹارٹ کا متبادل لفظ جنایہ ہے اور جنایہ  سےمرادایسا گناہ اور جرم  ہےجس کے کرنے سے انسان پر اس دنیا میں سزا یا قصاص واجب  ہوجاتاہے اور آخرت میں بھی  مستحق عذاب ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اسلام میں قانون ٹارٹ کا تصور‘‘ جناب ڈاکٹر علی خان نیازی کی کاوش ہے۔ جس   میں انہوں نے   قانون ٹاٹ کے تصور کو فقہ اسلامی  اور  جدید قوانین کی روشنی میں  تفصیلاً بیان کیا ہے۔(م۔ا)

  • 27 #6702

    مصنف : شہزاد اقبال شام

    مشاہدات : 2267

    دساتیر پاکستان کی اسلامی دفعات ایک تجزیاتی مطالعہ

    (اتوار 22 جولائی 2018ء) ناشر : شریعہ اکیڈمی اسلام آباد
    #6702 Book صفحات: 268

    اس میں کو ئی شک نہیں کہ قرآن وسنت میں متعدد ایسے کام اور اصول موجود ہیں جو اسلامی ریاست کے دستور کے لیے منبع واساس کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان سے انحراف کسی طرح روا نہیں۔دستور میں بیان متعدد امور کا تعلق انتظامی معاملات سے ہوتاہے ۔نظری امور ، پالیسی معاملات، بنیادی انسانی حقوق اور ہئیت حاکمہ کے فرائض کا قرآن وسنت میں بیان اصول واحکام کی روشنی میں انہیں کسی اسلامی ریاست کےدستور میں سمونا ضروری ہے جدید ریاستی تنظیم میں دستور کو سیاسی زندگی میں یوں بھی کلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے کہ دستور عوام اور اصحاب الرائے کی خواہشات کا ترجمان ہوتا ہے کہ اس سے کسی قوم کے ماضی کا بیان اور مآل کی طرف سے تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہ مقیاس ہے جس سے عوام کی امنگوں ،آرزؤں اور خواہشات کی پیمائش کی جاتی ہے ۔ یہی وہ قندیل ہے جسے لے کرملک کی ترقی کے لیے کوشش کی جاتی ہے اسی کی مدد سے ادارے وجود میں آتے ہیں۔دستور ہی وہ آئینہ ہےجس میں کسی ملک تاریخ کا عکس دیکھا جاسکتا ہے اور حال کا پرتو بھی اسی دستورمیں ملتا ہے ۔دستورمستقبل کاجامِ جم ہوتا ہے ۔یہ دستور ہی ہےجو ریاست میں اداروں کےوجود کا باعث بنتا ہے لوگوں کے طرزِ زندگی...

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1906
  • اس ہفتے کے قارئین 13581
  • اس ماہ کے قارئین 22319
  • کل قارئین51578620

موضوعاتی فہرست