غلام مصطفی ظہیر امن پوری

  • نام : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

کل کتب 7

  • 1 #5377

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 5369

    تحفۃ الاطفال

    (جمعرات 06 دسمبر 2018ء) ناشر : دار الاسلاف لاہور
    #5377 Book صفحات: 132

    اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد ہے۔اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔انسان کی اصل تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔ جو اپنے لال کو اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق وفرائض سے آگاہی فراہم کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلم گھرانوں میں بچہ زبان کھولتا ہے تو  گھر کی فضا لاالہ الا اللہ کی مشک بار لفظوں سے معطر  ہوجاتی ہے ۔اور حالات  کا مشاہدہےکہ جو لوگ اپنے بچوں کی دینی تربیت نہیں کرپاتے انہیں زندگی میں ندامت  وشرمندگی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ و...

  • 2 #5822

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 3697

    اللہ کہاں ہے ؟ ( امن پوری )

    (اتوار 07 جولائی 2019ء) ناشر : نا معلوم
    #5822 Book صفحات: 342

    اللہ کہاں ہے؟ یہ ایک  محض ایک سوال ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالیٰ  کی ذات مبارک سے متعلق ہے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ  الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى  سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہیں  اور یہی  اہل سنت  والجماعت (سلف صالحین) کا عقیدہ ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کے عرش پر مستو ی ہو نے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے جس طرح اﷲتعالیٰ کی شان کے لا ئق ہے اسی طرح وہ عرش پر مستوی ہے ہماری عقلیں اْس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہرجگہ موجود ہے کیونکہ وہ مکان سے پاک اور مبرا ہے البتہ اْس کا علمِ اور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے، اْس کی معیت ہر کسی کو حا صل ہے جس کی وضاحت کتب عقائد میں  موجود ہے ۔محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری ﷾ نے زیر نظرکتاب ’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘...

  • 3 #6217

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 3216

    آمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم

    (جمعرات 29 اکتوبر 2020ء) ناشر : دار التخصص و التحقیق جہلم
    #6217 Book صفحات: 226

    متنازعہ مسائل میں  سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے  بہت سارے  مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول  کو عید  میلادالنبی ﷺ او رجشن میلاد مناتے  ہیں ۔ لیکن اگر  قرآن  وحدیث اور قرونِ اولیٰ کی  تاریخ  کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے  تو  ہمیں پتہ چلتا ہےکہ  قرآن وحدیث  میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے  اور نہ  نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ  ہی اسکی  ترغیب دلائی ،  قرونِ اولیٰ یعنی  صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنہیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا  ان کے  ہاں  بھی اس  عید کا کوئی تصور نہ  تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے  اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید  کا کو ئی تصور  تھا اور نہ وہ اسے  مناتے  تھے  او ر نہ ہی  وہ اپنے شاگردوں کو اس  کی تلقین کرتےتھے  بلکہ نبی  کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منع...

  • 4 #6314

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 1372

    اقامۃ البرہان علٰی نور العرفان

    (منگل 23 مارچ 2021ء) ناشر : نا معلوم
    #6314 Book صفحات: 743

    قرآن  کریم  ہی وہ واحد کتاب  ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی  پر  عمل  پیرا  ہو کر  دنیا  میں سربلند ی  او ر آخرت میں نجات  کا  حصول ممکن ہے  لہذا ضروری  ہے  اس کے معانی ومفاہیم  کوسمجھا جائے ،اس  کی تفہیم  کے لیے  درس وتدریس  کا اہتمام کیا  جائے  او راس کی تعلیم  کے مراکز  قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی  کے لیے  ترجمہ قرآن اساس  کی حیثیت  رکھتا ہے ۔بہت سارے مکاتب  ہائے فکر نے قرآن  مجید کی تفاسیر وحواشی لکھے ہیں ۔اس حوالے سے ہرمکتب فکر کا ایک الگ مزاج ہے۔بعض لوگ تفسیر باالرائے پر دھیان دیتے ہیں اور بعضوں نے قرآن مجید میں تحریف کا نیا باب کھولا ہے ۔ کجھ فلاسفہ کے طریق پر تفسیر کرتے ہیں ۔اہل سنت کا مزاج سب سے ہٹ کر ہے ۔اہل سنت نے تفسیر کے لیے قرآن وحدیث اور فہم سلف کو مقدم رکھا ہے ۔یہی طریقہ اسلم اور احکم ہے ۔جو بھی اس رستے سے ہٹ جاتا ہے گمراہی والحاد کا شکار ہوجاتا ہے۔ محترم جناب...

  • 5 #6629

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 861

    امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ

    (جمعرات 17 فروری 2022ء) ناشر : نا معلوم
    #6629 Book صفحات: 30

    امام ابن جریر طبری عہد عباسی کے معروف مورخ و مفسر گزرے ہیں ۔اسلامی علوم کے زمانہ تدوین سے تعلق رکھنے کی وجہ سے علوم اسلامیہ پر گہرے اثرات ڈالنے والوں میں سر فہرست ہیں ۔گرانقدر تصنیفات چھوڑیں ،جن میں خاص طور پر صحابہ و تابعین کے اقوال سے مزین ایک ضخیم تفسیر "جامع البیان عن تاویل آی القران "المعروف تفسیر طبری اور حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لیکر اپنے زمانے تک کی مبسوط تاریخ "تاریخ الا مم و الملوک" اپنے موضوع پر بنیادی کتب کی حیثیت رکھتی  ہیں ،حنابلہ کے ایک گروہ کے ساتھ طویل مخالفت رہی ،جس کے متعدد اسباب تراجم کی کتب میں مذکور ہیں ۔اس طویل کشمکش کا اثر یہ ہوا کہ حنابلہ کے علاوہ دوسرے طبقات بھی ابن جریر کے مخالف ہوگئے ، منکرین حدیث  نے امام طبری کو اہل تشیع میں شمار کیا ہے ۔ علامہ  غلام مصفطیٰ ظہیر امن پوری  حفظہ اللہ  نے زیر نظر مضمون ’’ امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ ‘‘  میں اسی مغالطہ کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔(م۔ا)

  • 6 #6638

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 1119

    سید ابو الاعلٰی مودودی ( عقائد و نظریات )

    (ہفتہ 26 فروری 2022ء) ناشر : نا معلوم
    #6638 Book صفحات: 49

    سید ابو الاعلیٰ مودودی (1903ء – 1979ء) مشہور عالم دین اور مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی تھے۔ بیسوی صدی کے موثر ترین اسلامی مفکرین میں سے ایک تھے۔ ان کی فکر، سوچ اور ان کی تصانیف نے پوری دنیا کی اسلامی تحریکات کے ارتقا میں گہرا اثر ڈالا ۔ تاہم ان کی عبارات میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام ،صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین پر تنقید کی گئی ہے جس کا انہیں یا کسی اور کو اختیار حاصل نہیں؛ لہٰذا اکابر نے ان کے جادہٴ حق سے ہٹے ہوئے ہونے کا حکم لگایا ہے۔مولانا مودودی  ایسے افکار ونظریات کی  وجہ سے کئی اہل  علم اور مفتیان عظام نے ان پر نقد کیا ہے  جیسا کہ ’’ دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن‘‘کے مفتی  احمد الرحمٰن اپنے ایک فتوی میں لکھتے ہیں ’’ مولانا مودودی پر علماء نے کفر کا فتویٰ نہیں لگایا، البتہ ان کی تحریر میں بے شمار ایسی گم راہ کن باتیں پائی جاتی ہیں جو سراسر اسلام کے خلاف ہیں، اور علماءِ فن نے اس کی گرفت کی ہے، اور عل...

  • 7 #6654

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 537

    حدیث مصراۃ

    (بدھ 16 مارچ 2022ء) ناشر : نا معلوم
    #6654 Book صفحات: 21

    مُصَرَّاۃٌ ”سے مراد وہ جانور ہے ، جس کا دودھ اس کے تھنوں میں روک دیا گیا ہو تاکہ دودھ زیادہ نظر آئے۔ اگر کوئی شخص بکری یا اونٹ وغیر ہ کو بیچنے کے ارادے سے خریدار کو دودھ زیادہ باور کروانے کے لیے ایک دو دن تھنوں میں دودھ روکے رکھے تو یہ کام ناجائزو حرام اور دھوکا ہے ، یہ اقدام اس جانور کو عیب دار بنا دیتاہے ، اگر کوئی غلطی سے ایسا جانور خرید لے اور بعد میں اسے پتا چل جائے تو تین دن کے اندر واپس لوٹانے کا مجاز ہے ، لیکن جب جانور واپس لوٹائے گاتو جو دودھ پیا ہے ، اس کے عوض ایک صاع (دو سیر چار چھٹانک) کھجور دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدے تو اس کو تین روز تک اختیار ہے چاہے ،تو اس کو رکھ لے یا واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کاا یک صاع بھی دے۔‘‘ (صحیح مسلم : 928) ۔ زیر نظر کتابچہ ’’ <...

کل کتب 0

کل کتب 5

  • 0 #2760

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 3457

    دامنِ حدیث چھوٹنے نہ پائے

    (جمعہ 31 جولائی 2015ء) ناشر : دار العلم، ممبئی
    #2760 Book صفحات: 192

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔آج بھی بعض لوگ سرسری طور پر حدیث  کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دامن حدی...

  • 1 #4089

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 3405

    فضائل اہلحدیث ( جدید ایڈیشن )

    (جمعہ 09 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا
    #4089 Book صفحات: 114

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل...

  • 2 #4434

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 5395

    سیرۃ ابراہیم ؑ اور اسکے تقاضے

    (اتوار 07 مئی 2017ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا
    #4434 Book صفحات: 264

    سیدنا حضرت ابراہیم اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ...

  • 3 #4492

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 7486

    وفاۃ النبی ﷺ

    (بدھ 31 مئی 2017ء) ناشر : اسلامک بک کمپنی لاہور فیصل آباد
    #4492 Book صفحات: 335

    عام انسانوں کی طرح نبی کریم ﷺکی بھی وفات ہوئی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ :سیدناابوبکر صدیق نے فرمایا : لوگو ! دیکھو اگر کوئی محمد ﷺکو پوجتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمد ﷺکی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔پھر ابوبکر نے سورہ الزمر کی یہ آیت پڑھی) : اے پیغمبر ! تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے۔ (آل عمرٰن : 144)۔نبی کریم ﷺ کی زندگی کےآخری ایام ، مرض اور وفات کا تذکرہ اور کیفیت کا بیان کتب حدیث وسیرت میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ وفاۃ النبی ﷺ ‘‘امام ابو عبد الرحمٰن النسائی ﷫ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب وفاۃ النبی ﷺ کے متعلق احادیث کا خوبصور...

  • 4 #5975

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 2534

    سیرۃ ابراہیم ؑ عمل کے آئینے میں

    (منگل 24 دسمبر 2019ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا
    #5975 Book صفحات: 98

    سیدنا  حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن  مجید  میں وضاحت  سے  حضرت  ابراہیم ﷤ کا تذکرہ     موجود  ہے ۔قرآن  مجید  کی  25 سورتوں میں 69  دفعہ حضرت  ابراہیم ﷤ کا  اسم گرامی  آیا  ہے ۔اور ایک سورۃ کا  نام بھی ابراہیم ہے  ۔حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے   ماحول میں   آنکھ کھولی جو شرک  خرافات  میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات  کا مرکز تھا  بلکہ ان ساری خرافات کو  حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب  حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی  تو انہوں نے  سب سے پہلے  اپنے والد آزر کو اسلام کی  تلقین کی اس کے بعد  عوام کے سامنے اس  دعوت کو عام کیا اور پھر  بادشاہ  وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود  قوم  قبولِ  حق  سے منحرف رہی  حتیٰ کہ ...

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 3369
  • اس ہفتے کے قارئین 7500
  • اس ماہ کے قارئین 109354
  • کل قارئین70557558

موضوعاتی فہرست