دکھائیں کتب
  • 11 جہیز جوڑے کی رسم (منگل 13 دسمبر 2011ء)

    مشاہدات:17077

    دین  اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ،جو اہل اسلام کی عقائد ونظریات،عبادات  و معاملات سمیت ہر شعبہ زندگی میں مکمل راہنمائی کرتا  ہے،لیکن یہ اہل اسلام کا المیہ ہے کہ دین حنیف سے انحراف کے سبب امت اصل دین سے بہت دور اور رحمت ایزدی سے محروم ہے۔کفریہ عقائد و بدعات اور رسوم ورواج نے اسلام کا روشن چہرہ مسخ کردیاہے اور تہذیب وثقافت کے نام پر بدعات اور خلاف شریعت  رسوم کا عام چلن ہے۔ضرورت اس امر کی ہےکہ ہم اسلام  کی روح کو سمجھیں اوراصل اسلام پر عمل پیرا ہوں ، اسی میں عظمت ورفعت اور اخروی فلاح ممکن ہے –مروجہ رسوم میں سے انتہائی مہلک رسم جہیز ہے جس کی وجہ سے بے شمار نوجوان لڑکیاں شادی کی عمر عبورکر جاتی ہیں اور کتنے ہی خاندان قرضوں کے بوجھ تلے سسکتے بدحالی  کی زندگی گزار تے ہیں-جہیز ایک جابرانہ رسم ہے ،جس کی بے شمار قباحتیں ہیں ، زیر تبصرہ کتاب جہیز کی تباہ کاریوں سے آگاہی کے متعلق ایک اچھی کتاب ہے ، جس کا مطالعہ قارئین کے لیے بے حد مفید ہے۔(ف۔ر)
     

  • 12 جہیز کی تباہ کاریاں (پیر 14 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4147

    جہیز بنیادی طور پر ایک معاشرتی رسم ہے جو ہندوؤں کے ہاں پیدا ہوئی اور ان سے مسلمانوں میں آئی۔ خود ان کے ہاں اس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔اسلام نے نہ تو جہیز کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا کیونکہ عرب میں اس کا رواج نہ تھا۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ اس رسم سے پڑا تو اس کے معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء نے اس کے جواز یا عدم جواز کی بات کی۔ہمارے ہاں جہیز کا جو تصور موجود ہے، وہ واقعتاً ایک معاشرتی لعنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ پر ظلم ہوتا ہے۔اگر کوئی باپ، شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے، تو یہ اس کی مرضی ہے اور یہ امر جائز ہے۔ تاہم لڑکے والوں کو مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو جہیز دیا گیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ سیدنا علی ﷜ نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ سامان دیا تھا کیونکہ یہ دونوں ہی آپ کے زیر کفالت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دیگر دامادوں سیدنا ابو العاص اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادیاں کرتے وقت اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دیا تھا۔جہیز سے ہرگز وراثت کا حق ختم نہیں ہوتا ہے۔ وراثت کا قانون اللہ تعالی نے دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر شدید وعید سنائی ہے۔ جہیز اگر لڑکی کا والد اپنی مرضی سے دے تو اس کی حیثیت اس تحفے کی سی ہے جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔لیکن اس میں اسراف وتبذیر سےگریز کرنا چاہیے۔ زیرنظر کتاب ’’جہیز کی تباہ کاریاں‘‘ فاضل نوجوان مصنف کتب کثیرہ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین لاہوری...

  • 13 حرمت متعہ (بدھ 18 اگست 2010ء)

    مشاہدات:22870

    اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے ۔ انسان کی عزت وعصمت کے تحفظ کی خاطر اسلام میں نکاح کا حکم دیا گیا ہے تاکہ حصول عفت کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کی بقاء و تسلسل بھی جاری رہے۔ ایک گروہ کے ہاں نکاح کی ایک صورت متعہ کے نام پربھی رائج ہے جو اگرچہ صدراسلام میں جائزتھی ، تاہم حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ ہی میں بڑی وضاحت و صراحت سے اسے ناجائز و ممنوع قراردے دیا ۔اس کا جواز بھی بعض مخصوص اور اضطراری حالات سے خاص تھا ۔لیکن ایک مخصوص گروہ اب بھی اسے جائزسمجھتاہے اور اس کے حق میں اپنے تئیں بعض ’’دلائل‘‘بھی پیش کرتاہے ،جس سے عوام مغالطوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔زیرنظرکتاب میں علامہ محمدعلی جانباز رحمہ اللہ نے اس نوع کے جملہ’’دلائل‘‘کے تاروپود بکھیرکر رکھ دیئے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ متعہ قطعی حرام اور ممنوع ہے ۔اس کے لیے کتاب وسنت کے ٹھوس دلائل بھی پیش کیے ہیں ، جن سے مسئلہ پوری طرح نکھرکر سامنے آگیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر متعہ کو جائز قرار دے دیا جائے تو اس سے جنسی بے راہ روی کادروازہ چوپٹ کھل جائے گا جو اہل اسلام کی عفت وعصمت کے لئے زہرقاتل ہے ۔ امید ہے کہ زیرنظر رسالہ سے اس مسئلہ کی اصل حقیقت بے نقاب ہوکر قارئین کے سامنے آجائے گی ۔ انشاءاللہ

     

  • 14 حرمت متعہ بجواب جواز متعہ (جمعہ 05 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2381

    اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے ۔ انسان کی عزت وعصمت کے تحفظ کی خاطر اسلام میں نکاح کا حکم دیا گیا ہے تاکہ حصول عفت کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کی بقاء و تسلسل بھی جاری رہے۔ ایک گروہ کے ہاں نکاح کی ایک صورت متعہ کے نام پربھی رائج ہے جو اگرچہ صدراسلام میں جائزتھی ، تاہم حضورنبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ ہی میں بڑی وضاحت و صراحت سے اسے ناجائز و ممنوع قراردے دیا ۔اور ابدی طور پر اس کوحرام قرار دے دیا۔اب شریعت اسلامیہ میں متعہ او ر زنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔اب جو شخص متعہ کرتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے تو وہ گویا ایسے ہے جیسے اس نے زنا کیا یا زنا کی اجازت دی۔مگر ایک گمراہ فرقہ جس کولوگ رافضیہ یا شیعہ کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کاعقیدہ ہےکہ زنا متعہ کی صورت میں جائز ہی نہیں بلکہ بڑے درجے اور ثواب کا کام ہے ۔اور جو اس عمل سےمحروم رہا وہ رافضی یاشیعہ جماعت سے خارج ہے ۔ زیرنظرکتاب ’’حرمت متعہ بجواب جواز متعہ‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز﷫ کی تصنیف ہے۔جو انہوں نے ایک شیعہ عالم دین سید بشیرحسین کی کتاب جواز متعہ کےجواب میں تحریر کی ۔اس کتاب میں مولانا جانباز ﷫ نے دلائل کی روشنی میں جواز متعہ کےسلسلہ میں صحابہ اورائمہ اہل سنت کی طرف منسوب کی گئی غلط باتوں کی تردید کی ہے۔ اور کتاب وسنت کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا کہ متعہ قطعی حرام اور ممنوع ہے۔اوریہ واضح کیا ہے کہ متعہ ایک ایسا فعل ہے کہ جس کوکوئی باعزت اور دیندار انسان اپنی اولاد کے لیے جائز قرار نہیں دے سکتا۔ نیز ان تمام دلائل وبراہین کا رد کیاگیا ہے جو علمائے م...

  • 15 حرمت نکاح شغار (منگل 29 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1695

    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کی پر موڑپر راہنمائی کرتا ہےاسلام ہی کی بدولت ایک پرامن معاشرتی نظام قائم ہو سکتا ہے اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت اس کا خاندانی نظام ہے ۔اسلام نے انسان کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام مفاسد،فواحش اور برائیوں کا استیصال ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک خاندانی نظام بھی متعارف کروایا ۔اور نکاح کی صورت میں ایمان کی حفاظت کا مؤثر ذریعہ امت محمدیہ کو بتایا۔قبل از اسلام زمانہ میں جاہلیت و کفراور دیگر رسومات قبیح رواج عام تھااسی طرح نکاح جاہلیت کی بھی چند قسمیں مروج تھیں جن میں نکاح شغار خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کو ہمارے محاورےمیں بٹہ کا نکاح کہا جاتا ہے آپ ﷺنے خاندانی نظام کو ایک مثالی نظام سے ہمکنار کیا جس کی نظیر کسی اور مذہب و تمدن میں نہیں ملتی ۔ زیر نظرکتاب "حرمت نکاح شغار " " مولانا عبدالقادر حصاری﷫ "کی تصنیف ہے جس میں نکاح شغار )(نکاح بٹہ کی حرمت پر مستند دلائل اور عرب و عجم کے مفتیان کے فتاوجات کی روشنی میں نکاح شغار کے مفاسد کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی مصنف کی ا س کاوش کو قبول فرمائے اور امت محمدیہ کے لیے ذریعہ رہنمائی بنائے ۔آمین (عمیر)

  • شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔اسکی اہمیت کےپیش نظر  ہر قوم اور ہر مذہب نے اس کے لیے  اپنے اپنے معاشرتی اور مذہبی پس منظر  میں  طریقے وضع کر رکھے ہیں ۔یہ طریقے بہت سی رسومات کا مجموعہ  ہیں۔ان رسومات کے بعض پہلویا تو انتہائی شرم ناک ہیں یا  اہل  معاشرہ اور شادی کرانے والے شخص اوراس کے متعلقین کے لیے  مالی اور جسمانی  تکلف اور تکلیف کاباعث  ہیں۔دین اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’دورِنبوت میں شادی بیاہ کےرسم ورواج اور پاکستانی معاشرہ‘‘ م...

  • 17 دوسری شادی کیجیے (ہفتہ 23 جون 2018ء)

    مشاہدات:2000

    شادی انبیائے کرام کی سنت ہے، اللہ کا فرمان ہے : وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً (الرعد: 38) ترجمہ: ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا ۔‘‘ جو مسلمان نبی کی اس سنت سے اعراض کرے وہ مسلمان نہیں ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: النِّكاحُ من سنَّتي، فمن لم يعمَل بسنَّتي فليسَ منِّي (صحيح ابن ماجه:1508) ترجمہ’’ نکاح میرا طریقہ ہے اور جو شخص میرے طریقے پر عمل نہیں کرتا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔‘‘ جس نے طاقت رکھتے ہوئے شادی کرلی اس نے سنت پر عمل کیا، جو طاقت رکھنے کے باوجود شادی نہیں کرتا وہ تارک سنت ہے۔ رہا مسئلہ دوسری شادی کاتو یہ بھی مردوں کے لئے مباح ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ کثرت سے شادی کیا کرتے تھے، اسلام نے شادی کی حد متعین کی کہ اگر کوئی شادی کرنا چاہے تو چار تک اس کی حد متعین ہے۔ ایک سے زائد شادیاں بیویوں کے درمیان حقوق کی رعایت اور عدل وانصاف سے مشروط ہے ورنہ ایک ہی شادی پر اکتفا کرے۔قرآن میں اللہ نے پہلے دوشادی کا ہی ذکرکیا ہے پھرتین،پھرچار، ان میں انصاف نہ کرسکنے کی صورت میں ایک کواختیار کرنے کا حکم ملا۔ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً(النساء:3) ترجمہ: اور عورتوں میں سے جوبھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو،دو دو، تین تین، چارچار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کرسکنے ک...

  • 18 رسم مہندی اور مایوں (اتوار 28 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2629

    اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے   پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش   آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے   لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص   برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں    اور ان  رسومات میں بہت   زیادہ   فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے   جوکہ صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔شادی بیاہ کے  موقعہ پر  اداکی جانے والی رسومات میں سے   مائیوں اور مہندی دو جڑواں رسمیں ہیں ۔جنہیں  بیاہ کے موقع پر ہندو لوگ کرتے ہیں ۔ یہ دونوں رسمیں ہمارے  معاشرے میں عام ہیں حالانکہ ہم مسلمان ہیں اور ہند کافر ہیں ۔ مسلمان اور کافر کی رسمیں ایک جیسی کبھی نہیں ہو سکتیں ۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ مسلمان صرف مائیوں اور مہند ی ہی نہیں   اور بھی بہت سے ہندوانانہ رسومات ادا کرتے ہ...

  • 19 رسم نکاح اور شریعت کی مخالفت (جمعرات 01 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2760

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں گھیرے ہوئے ہیں بالخصوص برصغیر پاک وہند میں شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ان رسومات میں بہت زیادہ فضول خرچی اور اسراف سے کا م لیا جاتا ہے جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ زیر نظر کتابچہ شیخ ابن باز او رشیخ صالح العثیمین  کے ایک عربی رسالہ کاترجمہ ہے ۔ جس میں انہوں نے شادی بیاہوں پر رواج پائے جانے والے چند امور کی وضاحت کی ہے کہ بعض مسلمان جانتے بوجھتے اور بعض لاعلمی کی وجہ سےان پر اپنا قیمتی پیسہ پانی کی طرح بہار رہے ہیں ۔حقیقت ہے یہ کہ ظاہر ی طور پر ان کا کچھ بھی فائدہ نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ ا یسے بے فائدہ کاموں پر لٹایا ہوا سرمایہ روز قیامت ہمارے لیے وبال جان بن سکتا ہے ۔ کتابچہ ہذا کا اردو ترجمہ اور اس میں مناسب ترمیم واضافہ کا کام مخترم مولانا محمداختر صدیق ﷾ ( فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور و مدینہ یونیورسٹی ) نے سرانجام دیا ہے اللہ اہل اسلام میں رواج پاجانے والی رسومات کا خاتمہ فرمائے او ر تمام مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق فرمائے اور کتابچہ کو لوگوں کی اص...

  • 20 رشتہ ازدواج کے لیے آئیڈیل کی تلاش (پیر 21 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:5442

    اسلام  مسلمان کو ایک الگ اور جداگانہ طرز زندگی دیتا ہے۔جس کے تحت اس کا مقصد اولین یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبے  اور کیفیات میں اللہ کے ساتھ  اپنا تعلق مضبوط  رکھا جائے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان خوشی و غمی کی کیفیات اپنے اندر رکھتا ہے اور پھر ان کے اظہار کے لئے انسانوں نے ہی مختلف طریقے متعین کر رکھے ہیں۔ جنہیں ہم رسومات وغیرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ایسے ہی زندگی کی اہم ترین خوشی شادی کی تقریب ہے۔ اس میں اپنے رفیق حیات کا انتخاب ،تقریب شادی  منعقد کرنے کا طریقہ کار اور پھر بعد میں اس کے متعلق جنم لینے والے مسائل  کو اسلامی طریقے کے مطابق حل کرنے کے آداب ۔ یہ اور  اس کے متعلق دیگر  مسائل ۔یہ سب انسانی زندگی کے اہم ترین بلکہ ضروی مراحل ہیں۔عالم شباب میں پہنچنے ولے ہر انسان  کو تقریبا  ان مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔چنانچہ اس سلسلے میں شرعی  و اسلامی رہنمائی کی ضرورت تھی۔ زیرنظرکتاب اس  تقاضے کو احسن طریقے سے پورا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔اسلوب بیان انتہائی دلچسپ اور شستہ ہے۔اللہ مصنف محترم کو اجر جزیل سے نوازے۔ آمین۔(ع۔ح)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1756
  • اس ہفتے کے قارئین: 12628
  • اس ماہ کے قارئین: 46649
  • کل قارئین : 47937033

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں