• title-page-ahkam-o-masayl-kitabosunnat-ki-roshni-men-copy
    ابو الحسن مبشر احمد ربانی

    یہ کتاب روز مرّہ کے مسائل سے متعلق فتاوٰی کا شاندار مجموعہ ہے جو محقق عالم ، فضیلۃ الشیخ ابو الحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجلۃ الدعوۃ اور ہفت روزہ غزوہ میں سالہا سال سے شائع ہوتے رہے۔ ان دونوں مجلوں میں بکھرے ہوئے ان انمول موتیوں کا جامع مجموعہ اس کتاب کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔ جو کہ ہزارہا فتاوٰی جات سے انتخاب ہے۔ نیز ہر فتوٰی مدلل اور کتاب و سنت کے دلائل سے بھرپور ہے۔ اختلافی مسائل پر فریق مخالف کے شبہات پیش کر کے ان کا رد بھی کیا گیا ہے۔ روز مرہ زندگی کے مسائل سے متعلق یہ فتاوٰی بلاشبہ ہر فرد اور ہر گھر کی ضرورت ہے۔ اسے خود بھی پڑھیں ، دوسروں تک بھی جیسے ممکن ہو پہنچائیں۔ نیز ہم اپنے قارئین سے پرزور التماس کرتے ہیں  کہ یہ کتاب خود بھی خریدیں اور دیگر احباب کو بھی حسب استطاعت تحفہ کیجئے۔

     

     

    "اہم نوٹ"

     

    ہم اس ویب سائٹ کے ذیلی فتاوٰی سیکشن پر تکنیکی نوعیت کے کام کا الحمدللہ آغاز کر چکے ہیں۔ اور یہ کتاب اس ضمن میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے کہ اسے یونی کوڈ میں ٹائپ کیا جائے۔ اگر ہمارے قارئین اس کتاب کی ٹائپنگ کے ضمن میں ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیں تو ہم سے ذیل کے ای میل ایڈریس پر رابطہ فرمائیں:

    webmaster (at) kitabosunnat.com

     

     

  • aa
    محمد عاصم الحداد
    اصول فقہ سے مراد ایسے قواعد و ضوابط ہیں جن سے کتاب سنت سے احکام کشید کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ پیش نظر کتاب ’اصول فقہ پر ایک نظر‘ میں فاضل مؤلف محمد عاصم الحداد نے مختلف مکاتب فکر کے اختیار کردہ انہی اصولوں پر ناقدانہ نگاہ ڈالی ہے۔ اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح فہم حاصل کرنے کے طریقوں کی وضاحت کی ہے۔ کتاب لکھتے ہوئے ان کے پیش نظر یہ مقصد یہ تھا کہ اصول فقہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود موادکا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کی افادیت اور عدم افادیت سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔ تاکہ امت مسلمہ چند مشہور ائمہ دین کے بیان کردہ اصولوں ہی پر تکیہ نہ کرے بلکہ ہر فرد کو فرمودات باری تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات عالیہ سے پوری طرح مستفید ہونے کا موقع میسر آ سکے۔

  • title-pages-al-ieqaf-fi-sabab-al-ikhtalf-copy
    محمد حیات سندھی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے  فروغ حاصل ہوا  ہے ۔  امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ الایقاف فی سبب الاختلاف ‘‘محترم مولانا محمد حیات سندھی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ﷫ نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف ﷫نے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • untitled-1
    ابن رشد
    فقہ کی کتب میں ’بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد‘ کو جو مقام حاصل ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ اسے علمی دنیا کی نہایت وقیع کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ دنیا کے اکثر مدارس میں یہ کتاب نصاب کا حصہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ علامہ ابن رشد کا انداز بیان ہے۔ موصوف سب سے پہلے کسی بھی مسئلے پر تمام فقہا کی آراء اور دلائل پیش کرتے ہیں اس کے بعد سبب اختلاف کا تذکرہ کرتے ہیں اور راجح مؤقف کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ اگرچہ بہت سی جگہوں پر انھوں نے صرف دلائل کے ذکر پر اکتفا کیا ہے اور راجح مؤقف کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا ہے۔ مصنف اگرچہ خود مالکی المسلک ہیں لیکن کسی بھی موقع پر جانبدار نظر نہیں آتے۔ اس مایہ ناز کتاب کا اردو قالب آپ کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی نے نہایت جانفشانی کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ لیکن پھر بھی بعض جگہوں پر جملے بے ربط سے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ کتاب ہر خاص و عام کے لیے لائق مطالعہ ہے۔ یقیناً اس سےدوسرے مسالک کے بارے میں منافرت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-barre-sagheer-me-ilme-fiqah
    محمد اسحاق بھٹی
    زیر نظر کتاب معروف مؤرخ وسوانح نگار جناب محمد اسحق بھٹی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں برصغیر پاک وہند میں علم فقہ کی نشرواشاعت اور اس سے متعلقہ اہم کتب کا تعارف کرایا گیاہے۔ابتدا میں علم فقہ کے معنی ومفہوم پر روشنی ڈالی گئی ہے،پھر ماخذ فقہ،اجتہاد اور استنباط مسائل میں اختلاف پر بحث کی ہے۔اصحاب فتوی صحابہ وتابعین اور مختلف علاقوں میں مراکز فقہ کی بھی نشاندہی کی ہے اس کے بعد ائمہ اربعہ کے مناہج فقہ کا تذکرہ ہے بعدازاں بر صغیر میں فقہ کی آمد کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے اور پھر گیارہ فقہی کتابوں کا تعارف کرایا ہے ۔ان میں الفتاوی الغیاثیہ،فتاوی امینیہ ،فتاوی بابری اور فتاوی عالمگیری اہم ہیں۔یہاں اس امر کی نشاندہی ضروری ہے کہ اس سے ان کتابوں کا تعارف ہی مقصود ہے۔ان کے مندرجات کی توثیق یا مباحث کی تائید پیش نظر نہیں،اس لیے کہ اصل حجت کتاب وسنت ہیں ۔تمام مسائل انہی کی روشنی میں قبول کرنے چاہییں،جبکہ ان کتابوں کے مندرجات زیادہ تر مخصوص مکاتب فقہ کی تقلید پر مبنی ہیں۔اس نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کا کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔(ط۔ا)

  • title-pages-tareekh-al-taqleed-copy
    حکیم محمد اشرف سندھو

    اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اسلام ایک کامل دین ہے ۔ ہر مسلمان شہادتین کے اقرار کے ساتھ حصراً دو چیزوں کا مکلف بن جاتا ہے یعنی کتاب و سنت۔ قیامت تک کے لئے دنیا کی کوئی طاقت ان دو چیزوں میں تفریق پیدا نہیں کرسکتی ۔ یہ کامیابی کی سب سے قوی اساس اور نجات کا مرکزی سبب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے قلوب و اذہان میں اس کی اہمیت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی ، چنانچہ انہوں نے اسی پر عمل کرکے رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لقب حاصل کیا۔ اسی لئے کتاب و سنت کا وہی مفہوم معتبر ہے جو اجماع و سلف صالحین سے ثابت ہے ، خیر القرون کے مسلمانوں نے بھی اسی کو اپنا کر  عالمِ کفر پر غلبہ پایا اور باطل ان کے سامنے سر نگوں تھا۔اس کے برعکس ایک حساس اور گھمبیر مسئلہ تقلید شخصی کا ہے ، جس کا آغاز قرونِ ثلاثہ کے بعد ہوا۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس سے ہر دور میں مسلمان تشتت و افتراق کا شکار ہوئے ہیں۔ اس نے اسلام کے مصفیٰ آئینہ کو دھندلا دیا۔ تقلید راہِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور مقلد کو تارکِ سنت بناتی ہے ۔ تقلید وحی کی ضد ، توحید کے منافی اور چوتھی صدی کی بدعت ہے۔اللہ تمام مسلمانوں کو اس سے محفوظ فرمائے۔ زیر تبصرہ کتاب "تاریخ التقلید" محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ پر بناء رکھتے ہوئے  تقلید کی تاریخ کو مرتب فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-tabdeli-halat-se-shari-ahkam-ki-tabdili-k-taswurat-maqala-m-phil
    حافظ طاہر اسلام عسکری
    فی زمانہ نفاذ شریعت کی کوششوں کے ذیل میں یہ سوال سنجیدگی سے سامنے آ رہا ہے کہ جن مسائل سے متعلق قرآن و حدیث میں واضح نصوص موجود ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان پر عمل میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں تو کیا ان کو بعینہ تسلیم کر لیا جائے یا حالات کے مطابق ان میں ترمیم و اضافہ ممکن ہے؟ اس وقت آپ کے سامنے حافظ طاہر اسلام عسکری صاحب کامل محنت اور جانفشانی کے ساتھ لکھا جانے والا ایم۔فل کا مقالہ ہے۔ جو کہ بنیادی طور پر اسی سوال کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیاہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے تین طبقات کا تذکرہ کیاہے۔ پہلا طبقہ وہ ہے جو قرآن و حدیث کے منصوص احکام کو غیر متبدل مانتے ہیں۔ دوسری طبقہ جدت پسندوں کا ہے جن کے مطابق سیاست، معیشت اور معاشرت سے متعلقہ اسلامی حدود وضوابط کو عصری تقاضوں کے پیش نظر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں تیسرا طبقہ ان علما کا ہے جو عقائد و عبادات میں تو کسی تبدیلی کے قائل نہیں ہیں لیکن حالات کے تحت معاملات سے متعلقہ احکام میں تبدیلی کی حمایت کرتے ہیں۔ محترم حافظ صاحب نے اس قسم کے تمام خیالات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اجتہاد کا درست تصور اور اس کا دائرہ کار واضح کیا ہے۔ علاوہ ازیں نصوص شریعت کی تبدیلی کے حق میں جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں اسلامی اصول تحقیق کی روشنی میں ان کاتحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ حافظ صاحب نے تبدیلی حالات سے متعلق عرب علما کے نقطہ نظر کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس مقالہ پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad3
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

  • title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad2-copy-copy
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

  • title-pages-tahqiqi-islahi-aur-ilmi-makalaat-jilad3
    حافظ زبیر علی زئی
    ’تحقیقی، اصلاحی اور علمی مقالات‘ دراصل محترم حافظ زبیر علی زئی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف مواقع پر رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب میں متنوع موضوعات پر تفصیلی ابحاث موجود ہیں خصوصاًعقائد، عبادات، سیر و التاریخ اور اسماء الرجال جیسے موضوعات پر سیر حاصل مباحث شامل کی گئی ہیں۔ محترم مصنف چونکہ دفاع حدیث اور خدمت مسلک اہل حدیث کے جذبے سے سر شار ہیں اس لیے انہوں نے حدیث یا اہل حدیث کے خلاف اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن اور مسکت جوابات سے نوازا ہے۔ کتاب کی دوسری اور تیسری جلد عقائد، مسلک اہلحدیث کی حقانیت ، نماز کے بعض مسائل اور تحقیق الروایات جیسے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایک بریلوی عالم کے جواب میں لکھے گئے ایک رسالے کو بھی کتاب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

  • pages-from-tasveer-sazi-aur-photography-ki-shari-haisiyyat
    گوہر رحمان

    اسلام شخصیت پرستی اور بت پرستی سے منع کرتا ہے،جو شرک کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔شرک کی ابتداء اسی امر سے ہوئی کہ لوگوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر پہلے تو اپنے نیک اور بزرگ لوگوں کی تصویریں بنائیں،پھر انہیں مجسمے کی شکل دی اور پھر ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔مغرب کی بے دین   حیوانی تہذیب میں بت سازی ،تصویر سازی اور فوٹو گرافی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،اور بد قسمتی سے مسلمان سیاست دانوں کی سیاست بھی مصورین اور فوٹو گرافروں کے گھیرے اور نرغے میں آ چکی ہے۔نبی کریم ﷺ کی اسلامی تحریک اورسیاست نہ صرف تصویر سے خالی تھی بلکہ تصویروں اور مجسموں کو مٹانا آپ ﷺ کے لائحہ عمل میں شامل تھا۔اگر دعوت وجہاد اور سیاست وحکومت میں تصویروں کی کوئی اہمیت ہوتی تو حرمین میں نبی کریم ﷺ کی تصویروں کے بینر لٹکا دئے جاتے،اور سیرت کی کتب میں   اس کا تذکرہ موجود ہوتا۔فوٹو گرافی تو عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ ﷢میں موجود نہیں تھی،البتہ تصویر سازی کے ماہرین ہر جگہ دستیاب تھے۔اگر تصویر بنانا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ﷢ضرور نبی کریم ﷺکی تصاویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لیتے۔زیر تبصرہ کتاب" تصویر سازی اور فوٹو گرافی کی شرعی حیثیت اور شبہات کا ازالہ "تصویر سازی کی اسی قباحت اور حرمت کےبیان پر مشتمل ہے،جو ایک سوال کے جواب میں مولانا گوھر رحمن کے تفصیلی جواب پر مشتمل ہے۔مولانا موصوف نے اس میں کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-taqleed-aur-ulmae-deoband-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرےفروغ حاصل ہوا  ہے۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے  اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب " تقلید اور علماء دیو بند "رئیس جامعہ لاہور الاسلامیہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی ﷫، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ﷫، مولانا محمود الحسن﷫، مولانا مرتضی حسن ﷫وغیرہ علماء  دیو بند کی تحریرات(جو انہوں نے اثبات تقلید میں مختلف پیرایہ میں لکھی ہیں)کے محققانہ ومنصفانہ جوابات دئیے ہیں۔ مولف موصوف ﷫ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-taqleed-ka-hukam-kitab-w-sunnat-ki-roshni-m-copy
    ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’تقلید کاحکم کتاب وسنت کی روشنی میں ‘‘ مفتی ومدرس حرم مکی ڈاکٹر وصی اللہ بن محمدعباس (پروفیسر ام القریٰ یونیورسٹی،مکۃ المکرمۃ) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب مقدمہ تمہید اور تیرا (13) فصول پر مشتمل ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں کتاب وسنت ،آثار صحابہ اور اقوال سلف سےاستدلال کا التزام کیا ہے ۔ تقلید کی مذمت اور اتباع سنت کی فضیلت پر یہ بڑی عمدہ کتاب ۔ محترم جناب حافظ حامد محمود الخضری ﷾ کی اس کتاب کی تخریج اورپروف ریڈنگ سے کتاب کی افادیت مزید دوچند ہوگئی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-taqleed-kia-he-copy
    بشیر الرحمٰن صدیقی

    کسی آدمی کی  وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ   ہو،نہ ہی  اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور ہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ  دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند  دہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے  فروغ حاصل ہوا  ہے ۔  امت کا  درد رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں ۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔زیر کتاب’’تقلید کیاہے ؟  تقلید کے موضو ع پر  مولانا چراغ دین  (اہل حدیث) اور  مولانا  قاضی شمس الدین  (دیوبندی ) مابین   تحریری مناظرہ کی  روداد ہے   جس  مولانا بشیر الرحمٰن صدیقی نے مرتب  کرکیا  اور  ادارہ ندوۃ المحدثین  گوجرانوالہ  نے   افادہ عام کے لیے شائع کیاہے ۔(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-taqleed-k-khoufnak-nataij-copy
    شبان اہل حدیث بہاولنگر

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں ۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعصب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’تقلید کے خوفناک نتائج‘‘فقیر والی کے حنفی مدرسے قاسم العلوم کے مولوی بشیر احمد قادری حنفی کے’’ترک تقلید کے بھیانک نتائج ‘‘ کاجواب ہے ۔اس کتابچہ میں مصنف نے دلائل وبراہین سے مولوی بشیر احمدقادری کے رسالے کے جواب دیا ۔ جس کے مطالعہ سے بخو بی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تقلید کتنی بری چیز ہے اورمقلد کا علم کتنا سطحی ہوتا ہے اوراس کے بلند بانگ دعوے کتنے کھوکھلے ہوتے ہیں ۔(م۔ا)

  • title-pages-touheed-say-jahil-shakhs-k-bary-me-shree-hukam
    ابو عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن عبد الحمید المصری
    اللہ تعالی ٰ نے جن و انس کو محض اس لیے تخلیق فرمایا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں،یعنی توحید کو عقیدہ وعمل کے اعتبار سے مان کر دکھائیں۔اسلام کا اساسی ترین مسئلہ،توحید ہی ہے ۔کوئی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ توحید سے با خبر نہ ہو۔لیکن افسوس کہ آج کلمہ گو مسلمانوں کی عظیم اکثریت توحید اور اس کے تقاضوں سے قطعاً بے خبر اور ناواقف ہے ۔زیر نظر کتابچے میں اس نکتے پر بحث کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھنے کے بعد کفریہ و شرکیہ امور کا مرتکب ہوتا ہے تو کیا جہالت اس کے لیے عذر بن سکتی ہے یا نہیں؟اس سلسلہ میں کافی تفیل ہے کہ وہ کفریہ و شرکیہ امر دین کی واضح اور جلی تعلیمات سے متعلق ہے یا تفصیلی اور خفی تعلیمات سے ؟مزید برآں کیا ان امور کا مرتکب مسلمان معاشرے میں رہتا ہے یا کافر معاشرے میں ،اس طرح کیا وہ نیا نیا مسلمان تو نہیں ہوا؟ان تمام مسائل پر اس رسالے میں بحث کی گئی ہے جو لائق مطالعہ ہے۔

  • title-pages-jannat-main-la-jana-wala-40-aamaal-copy
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
    انسانی جسم کی ساخت اورجبلت ایسی ہے کہ یہ مختلف اسباب ووجودکی بناء پرمرض کاشکارہوجاتاہے۔اسلام میں جسطرح نارمل حالات اورصحت وتندرستی کے حوالے سے احکام موجودہیں۔وہیں اللہ عزوجل نے بیماروں کے لیے بھی بعض رخصتیں اورخاص احکام نازل فرمائی ہیں ۔زیرنظرکتابچہ میں عالم اسلام کی مشہورعلمی شخصیت  علامہ ابن بازمفتی اعظم سعودی عرب نے انہی احکام کوبیان کیاہے ۔اس کی اہمیت کااندازہ اس سے کیاجاسکتاہے یہ اپنی نوعیت کاپہلاکتابچہ ہے ۔شیخ صاحب مرحوم نے اس میں ان تمام مسائل کاتذکرہ کیاہے جومریض کودرپیش آتے ہیں ،خواہ ان کاتعلق وضو،تیمم اورنماز کی مختلف حالتوں اورصورتوں وغیرہ سے ہویانرسز کے ساتھ معاملات ونگرانی اورخلوت وغیرہ سے ۔اسی طرح ڈاکٹرزاورنرسز کاآپس میں میل جول ،خلوت ،موسیقی کےعلاوہ موانع حمل جیسے قضیے بھی زیربحث آئے ہیں۔بنابریں یہ فتاوی ہسپتال کے عملہ ،مریضوں اورعام مسلمانوں کے لیے انتہائی مفیدہے ۔

  • title-pages-hujja-tulllah-al-baaligha
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    شاہ ولی اللہ دہلوی برصغیر کی جانی مانی علمی شخصیت ہیں۔ شاہ صاحب بنیادی طور پر حنفی المسلک تھے۔ وہ دور برصغیر میں تقلیدی جمود کا دور تھا اور فقہ حنفی کو حکومتی سرپرستی حاصل تھی۔شاہ ولی اللہ جیسے ماہر فقہ نے اسی مکتبہ فکر میں پرورش پائی تھی۔ لیکن جب آپ  حج کے لیے مکہ گئے تو وہاں سے عرب شیوخ سے درس حدیث لیا یہیں سے آپ کی طبیعت میں تفہیم دین بارے تقلیدی جمود کے خلاف تحریک اٹھی۔ وہاں سے تشریف لاکر سب سے پہلے آپ نے برصغیر کے عوام کو اپنی تحریروں سے یہ بات سمجھادی کہ دین کسی ایک فقہ میں بند نہیں بلکہ چاروں اماموں کے پاس ہے۔ یہ جامد تقلید کے خلاف برصغیر میں باضابطہ پہلی کوشش تھی۔ اس کے بعد شاہ صاحب نے  ساری زندگی قرآن و سنت کو عام کرنے کے لیے وقف کردی۔ پیش نظر کتاب ’حجۃ اللہ البالغۃ‘ بھی موصوف ہی کی مشہور و معروف تالیف ہے جس میں آپ نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ احکام شرع کی حکمتوں اور مصلحتوں پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انسانوں کے شخصی اور اجتماعی مسائل، اخلاقیات،  سماجیات او راقتصادیات کی روشنی میں فلاح انسانیت کی عظیم دستاویز کا خلاصہ ہے۔ اردو ترجمہ کرنے کے فرائض مولانا خلیل احمد بن مولانا سراج احمد نے ادا کیے ہیں۔ یہ اردو ترجمہ خاصا پرانا ہے اس لیے بہت سارے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو موجودہ اردو کتب میں متروک ہو چکے ہیں۔ اور کتابت بھی ہاتھ سے کی گئی ہے جس کی وجہ سے کتاب کا مطالعہ کرنا قدرے مشکل ہو گیا ہے۔ کتاب کی افادیت کی پیش نظر اس کو جدید اسلوب میں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-haqeeqat-ikhtlafe-mutalia-w-masala-roiat-hilal
    عبد الوکیل ناصر

    زیر مطالعہ چند صفحات پر محیط رسالہ میں مسئلہ رؤیت ہلال پر قیمتی آراء کا اظہار کرتے ہوئے احادیث و آثار کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں اختلاف مطالع کا اعتبار کیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے مطلع کے مطابق احکامات الٰہیہ کا پابند کیا گیا ہےمولانا عبدالوکیل ناصر نے ثابت کیا ہے کہ موجودہ دور کے بہت سے ’دانشور‘ حضرات جو یہ نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ساری دنیا کو ایک جگہ کی رؤیت کا پابند کر دیا جائے، کا مؤقف کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔

     

     

  • copy-of-title-pages-haqeeqat-e-taqleed-o-ijtihad
    محمد بن علی شوکانی
    یہ مسئلہ ایک طویل عرصہ سے استخوان نزاع بنا ہوا ہے کہ آیا اجتہاد کا دروازہ بند ہو چکا ہے یا کھلا ہے ،اور یہ کہ کیا ہر شخص پر ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے یا نہیں؟مقلدین حضرات کا کہنا ہے کہ اجتہاد کا مطلق کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب ہر شخص کے لیے ضروری ہے  کہ وہ ان ائمہ میں سے کسی ایک کی تقلید کرے ۔اس کے برعکس اہل حدیث کا کہنا ہے ہ باب اجتہاد تاقیامت واہے اور تقلید شخصی کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں،لہذا یہ درست نہیں۔زیر نظر کتابچہ امام شوکانی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے جو یمن کے ایک جلیل القدر عالم ،فقیہ،مفسر ،مجتہد اور محدث تھے۔امام صاحب رحمہ اللہ نے اس میں ارباب تقلید کے دلائل کا جائزہ لیا ہے اور ان کے مغالطوں کا تجزیہ کر کے ان کا تارو پود بکھیر دیا ہے ،نیز یہ بھی ثابت کیا ہے کہ خود ائمہ متبوعین نے لوگوں کو اپنی تقلید سے روکا ہے ۔امید ہے کہ مسئلہ تقلید کو سمجھنے کے لیے اس کا مطالعہ مفید ثابت ہو گا۔(ط۔ا)
  • title-page-dar-aamda-gosht-ki-shari-haisiyat
    عبد اللہ بن محمد بن حمید

    شرع متین میں حلت وحرمت کامسئلہ بنیادی واصولی مسائل میں شمارہوتاہے ،جسےکتاب وسنت میں مکمل شرح وبسط کےساتھ بیان کیاگیاہے ۔متعددآیات میں اسےکھول کربیان کردیاگیاہے۔شریعت میں اکل حلال کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے ۔اس سلسلہ میں یہ مسئلہ بھی بہت اہم ہے کہ جن جانوروں کاگوشت کھایاجاسکتاہے ،انہیں ذبح کون کررہاہے۔قرآن کی روسے اہل کتاب کاذبیحہ توجائزہے لیکن ان کے علاوہ کفارومشرکین کے ذبح کردہ جانورحرام ہیں ۔فی زمانہ مختلف اسلامی ممالک میں غیراسلامی ریاستوں  سے ذبح شدہ گوشت درآمدکیاجاتاہے ۔بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کے بارےمیں شرعی ہدایات سے آگاہ ہوں کہ کیاواقعی وہ شرعی ضوابط کےمطابق حلال ہے یانہیں ۔زیرنظرکتاب میں اسی مسئلے پرمدلل اورتحقیقی گفتگوکی گئی ہے۔جس کے مطالعے سے یقیناً یہ مسئلہ مکمل طورپرواضح ہوکرسامنے آجاتاہے ۔

     

     

  • deenmaintaqleedkamasla-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    یہ کتاب دراصل حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے تقلید  کے رد پر مشتمل  ان پانچ مضامین کا مجموعہ ہے جو ماہنامہ الحدیث حضرو میں قسط وار شائع ہوئے۔ فرق مسالک سے شغف رکھنے والے احباب جانتے ہیں کہ اہلحدیث اور احناف کے درمیان ایمان، عقائد اور اصول کے بعد ایک بنیادی اختلافی مسئلہ تقلید ہے۔ پھر اس کی بھی دو قسمیں ہیں تقلید مطلق اور تقلید شخصی۔ قرآن، حدیث ، اجماع اور آثار سلف صالحین سے تقلید کی یہ دونوں قسمیں باطل اور مردود ہیں۔ لیکن آج یہ مسئلہ امت مسلمہ میں شدید اختلاف کا موجب بنا ہوا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ اگر امت مسلمہ کبھی متفق و متحد ہوئی تو کتاب و سنت ہی پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ نہ کہ چار یا بارہ اماموں پر۔ دعوت غور و فکر اور تقلیدی اندھیروں سے کتاب و سنت کے دلائل کی روشنی سے دین کو سمجھنے کی دعوت دیتی یہ کتاب انشاء اللہ بہت سے رہِ گم کردہ مسافروں کو صراط مستقیم کی روشن شاہراہ کا رستہ دکھانے کا سبب بنے گی۔

     

     

  • title-pages-radde-taqleed-copy
    جلال الدین قاسمی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور ہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے  فروغ حاصل ہوا  ہے ۔  امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں ۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔زیر نظر کتاب ’’ رد تقلید ‘‘مولانا حافظ  جلال الدین قاسمی ﷾ کی  تقلیدکے  حوالے سے قرآن  وحدیث ، آثار صحابہ وتصریحات ائمہ عظام واقوال علماء کرام کی روشنی میں اہم کتاب ہے جس میں  انہوں  نے  لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے  اگاہ  کرنے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کی  ترغیب دلائی ہے  ۔ فاضل  مصنف دار العلوم دیوبند  کے  فاضل  اور اردو ،عربی ،فارسی، انگریزی اور سنسکرت کےعلاوہ اور بھی زبانوں میں آپ کو  مکمل دسترس حاصل ہے  ۔انہی امیتازی خصوصیات کی بناءپر علمی وادبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو عزت کی نگاہ سے  دیکھا جاتا ہے ۔فن خطابت پر جو  قدرتی ملکہ  آپ کو حاصل ہے وہ کمی ہی لوگوں کے حصہ میں آتا ہے ۔نیز صحافت کے میدان میں بھی آپ کی قابل  تحسین  خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اور  اللہ  ورسول  کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • rafa-ul-shukook-2
    جلال الدین قاسمی

    جب کوئی شخص حق کو تسلیم نہ کرنے کا ذہنی فیصلہ کر چکا ہوتو پھر وہ فرشتوں کو آسمان سے اترتا دیکھ لے یا مردے اس سے بات کرنے لگیں، تب بھی وہ حق کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اس فساد ذہن کی مختلف وجوہات میں سے ایک اہم ترین وجہ غلو فی الدین بھی ہے۔یہ غلو ہی کی تو کرشمہ سازیاں ہیں کہ یہود نے سیدنا عزیر﷤ کو،نصاری نے سیدنا عیسی﷤ کو اللہ کا بیٹا کہا۔ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمارے بعض مسلمانوں نے اپنے اپنے پیشواوں اور اماموں کو معصوم قرار دے دیا،اور ان کے اقوال کو حدیث نبوی پر بھی ترجیح دینے لگے۔اپنے اس موقف پر انہوں نے بے شمار کتب لکھیں ہیں اور اس کا خوب چرچا کیا ہے۔ایسی ہی کاوشوں میں سے ایک مذموم کاوش ایک   مولوی منیر احمد ملتانی نے کی ہے،جس نے "بارہ مسائل بیس لاکھ انعام" نامی کتاب لکھ کر عامۃ الناس کو گمراہ اور مرعوب کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے عوام تو مرعوب ہوں سو ہوں ،لیکن اہل علم کے نزدیک اس کی کوئی استنادی حیثیت نہیں ہے۔جب یہ کتاب منظر عام پر آئی تو دار العلوم دیو بند کے فاضل "مولانا جلال الدین قاسمی" نے ضروری سمجھا کہ اس کا جواب دیا جائے،چنانچہ مولف نے " رفع الشکوک والاوہام بہ جواب بارہ مسائل بیس لاکھ انعام "نامی یہ کتاب لکھ کر ایسا مدلل اور مسکت جواب دیا کہ مخالفین انگشت بدندان رہ گئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-asre-hazir-me-ijtamai-ijtihad-aik-tajziati-mutalia-p-1
    ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
    اصطلاح فقہاء میں‘احکام شرعیہ میں سے کسی چیز کے بارے میں ظن غالب کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح پوری پوری کوشش کرنا کہ اس پر اس سے زیادہ غور وخوض ممکن نہ ہو اجتہاد کہلاتا ہے‘گویا کہ ہر ایسی کوشش جوکہ غیرمنصوص مسائل کا شرعی حل معلوم کرنے کے لئے کی جاتی ہے، اجتہاد ہے۔اور اگر ایسی کوشش اجتماعی ہو یعنی وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کے تحت ہوتو اجتماعی اجتہاد کہلاتی ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہر علم کا دائرہ اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ ایک مجتہد اور فقیہ کے لئے ہرایک شعبہ علم میں مہارت پیدا کرنا تو دور کی بات ، اس کے مبتدیات کا احاطہ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے‘مزید برآں فقہ الاحکام( دین) سے متعلق مختلف علوم و فنون پر دسترس رکھنے والے علماء تو بہت مل جائیں گے لیکن فقہ الواقعہ(دنیا) سے تعلق رکھنے والے اجتماعی اور انسانی علوم ومسائل کی واقفیت علماء میں تقریبا ناپید ہے۔آج ایک عالم کو جن مسائل کاسامنا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ان متنوع مسائل کا صحیح معنوں میں ادراک اور شریعت کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنا اکیلے ایک عالم کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔اس لیے آج اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ علماء کی انفرادی اجتہادی کاوشوں کے بجائے اجتماعی سطح پر اجتہاد کے کام کو فروغ دیا جائے‘ ایسے ادارے اور فقہی اکیڈمیاں قائم کی جائیں جو اجتماعی اجتہاد کے اس کام کو آگے بڑھا سکیں‘ان اداروں میں عالم اسلام کے ممتاز اور جید علماء کو نمائندگی حاصل ہو۔علماء کے علاوہ مختلف عصری علوم کے ماہرین بھی اس مشاورتی عمل میں شریک ہوںتا کہ زیر بحث مسئلہ کوفنی نقطہ نظر سے سمجھنے میں علماء کی مدد کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس قسم کی ملی جلی فکری اوراجتہادی کوششوں سے مسئلہ اور زیادہ نکھر جائے گا، اور تعیین و اطلاق کی ایک لائق عمل شکل اختیار کر لے گا۔اسی طرح کا ایک اجتماعی اور شورائی اجتہاد ہی فقہ اسلامی کی معاصر ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے اورڈاکٹر محمود احمد غازی کے بقول اس اجتماعی اجتہاد کے نتیجے میںایک کوسمو پولیٹن یا اجتماعی فقہ امت مسلمہ کوحاصل ہو سکتی ہے جسے فقہ شافعی ‘فقہ حنبلی ‘فقہ مالکی یا فقہ حنفی کی بجائے ’فقہ اسلامی‘ کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے اور جو سب مذاہب اسلامیہ کے نزدیک قابل قبول ہو گی۔لیکن اس اجتماعی اجتہاد کے ضمن میں علماء کو دو باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا ایک یہ کہ اجتماعی اجتہاد کی صورت علماء کی کسی بھی مجلس یا ’لجنۃ‘ کا اصل مقصود حکم الہی کی تلاش ہو اور باہمی مفاہمت اس مقصد پر کسی طور بھی غالب نہ آنے پائے اور دوسری بات یہ کہ اس اجتماعی جتہاد کو اجماع کا درجہ دے کر اس کی بنیاد پر کوئی تقنین سازی کرتے ہوئے اس کے مخالف رائے رکھنے والے مجتہدین پر جبرااس کا نفاذ نہ کیا جائے۔
    اجتماعی اجتہاد کے موضوع پر ابھی تک ایک ہی کتاب سامنے آئی ہے جس کا نام ’ الاجتہاد الجماعی فی التشریع الاسلامی‘ہے۔یہ کتاب ڈاکٹر عبد المجید السوسوہ کی ہے۔ڈاکٹر السوسوہ کی اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد علماء میں اجتماعی اجتہاد کی شرعی حیثیت اور دلائل کے بار ے میں ایک علمی بحث کاآغاز ہوگیا۔بعض علماء نے اجتماعی اجتہاد کے حق میں اور بعض نے اجتماعی اجتہاد کی مخالفت میں مضامین لکھے ہیںاور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ علامہ البانی نے ’السلسلۃ الضعیفۃ ‘ میںالسوسوہ کی کتاب میں موجود بعض اصولی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ بعض دوسرے علماء مثلا مصطفی الزرقا،مصطفی الشلبی ،محمد یوسف موسی ،محمود شلتوت ،احمد شاکر، ڈاکٹر زکریا البری ،ڈاکٹر محمد عمارۃ، ڈاکٹر محمد الدسوقی ،شیخ عبد الامیرقبلان لبنانی ،محمد عبدہ،بدیع الزمان النورسی اور مفتی شام علامہ شیخ احمد کفتارونے بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ اجتماعی اجتہاد کی تائید میں لکھاہے۔ اس سلسے میں قابل ذکر کام پروفیسر ڈاکٹر طاہر منصوری صاحب کی کاوشوں کے نتیجے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام اجتماعی اجتہا د کے تصور و ارتقاء پر ایک علمی سیمینار کا انعقادہے۔ جس میں ملک بھر سے مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز اور جید علماء نے شرکت کی اور اجتماعی اجتہاد سے متعلق اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار کے مقالہ جات انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے تحت کتابی شکل میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔زیر نظر مقالہ بھی اجتماعی اجتہاد کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالہ سے ایک مستند دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی۔ ایچ۔ڈی (۲۰۰۳۔۲۰۱۰ئ)کے مرحلہ میں مکمل ہوکر جمع ہو چکا ہے ۔

  • title-pages-asre-hazir-me-ijtamai-ijtihad-aik-tajziati-mutalia-p-1
    ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
    اصطلاح فقہاء میں‘احکام شرعیہ میں سے کسی چیز کے بارے میں ظن غالب کو حاصل کرنے کے لئے اس طرح پوری پوری کوشش کرنا کہ اس پر اس سے زیادہ غور وخوض ممکن نہ ہو اجتہاد کہلاتا ہے‘گویا کہ ہر ایسی کوشش جوکہ غیرمنصوص مسائل کا شرعی حل معلوم کرنے کے لئے کی جاتی ہے، اجتہاد ہے۔اور اگر ایسی کوشش اجتماعی ہو یعنی وہ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کے تحت ہوتو اجتماعی اجتہاد کہلاتی ہے۔ آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہر علم کا دائرہ اتنا وسیع ہو گیا ہے کہ ایک مجتہد اور فقیہ کے لئے ہرایک شعبہ علم میں مہارت پیدا کرنا تو دور کی بات ، اس کے مبتدیات کا احاطہ کرنا بھی ناممکن ہو گیا ہے‘مزید برآں فقہ الاحکام( دین) سے متعلق مختلف علوم و فنون پر دسترس رکھنے والے علماء تو بہت مل جائیں گے لیکن فقہ الواقعہ(دنیا) سے تعلق رکھنے والے اجتماعی اور انسانی علوم ومسائل کی واقفیت علماء میں تقریبا ناپید ہے۔آج ایک عالم کو جن مسائل کاسامنا ہے وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ہیں۔ان متنوع مسائل کا صحیح معنوں میں ادراک اور شریعت کی روشنی میں ان کا حل پیش کرنا اکیلے ایک عالم کے لئے تقریباً ناممکن ہے۔اس لیے آج اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ علماء کی انفرادی اجتہادی کاوشوں کے بجائے اجتماعی سطح پر اجتہاد کے کام کو فروغ دیا جائے‘ ایسے ادارے اور فقہی اکیڈمیاں قائم کی جائیں جو اجتماعی اجتہاد کے اس کام کو آگے بڑھا سکیں‘ان اداروں میں عالم اسلام کے ممتاز اور جید علماء کو نمائندگی حاصل ہو۔علماء کے علاوہ مختلف عصری علوم کے ماہرین بھی اس مشاورتی عمل میں شریک ہوںتا کہ زیر بحث مسئلہ کوفنی نقطہ نظر سے سمجھنے میں علماء کی مدد کریں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس قسم کی ملی جلی فکری اوراجتہادی کوششوں سے مسئلہ اور زیادہ نکھر جائے گا، اور تعیین و اطلاق کی ایک لائق عمل شکل اختیار کر لے گا۔اسی طرح کا ایک اجتماعی اور شورائی اجتہاد ہی فقہ اسلامی کی معاصر ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے اورڈاکٹر محمود احمد غازی کے بقول اس اجتماعی اجتہاد کے نتیجے میںایک کوسمو پولیٹن یا اجتماعی فقہ امت مسلمہ کوحاصل ہو سکتی ہے جسے فقہ شافعی ‘فقہ حنبلی ‘فقہ مالکی یا فقہ حنفی کی بجائے ’فقہ اسلامی‘ کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے اور جو سب مذاہب اسلامیہ کے نزدیک قابل قبول ہو گی۔لیکن اس اجتماعی اجتہاد کے ضمن میں علماء کو دو باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا ایک یہ کہ اجتماعی اجتہاد کی صورت علماء کی کسی بھی مجلس یا ’لجنۃ‘ کا اصل مقصود حکم الہی کی تلاش ہو اور باہمی مفاہمت اس مقصد پر کسی طور بھی غالب نہ آنے پائے اور دوسری بات یہ کہ اس اجتماعی جتہاد کو اجماع کا درجہ دے کر اس کی بنیاد پر کوئی تقنین سازی کرتے ہوئے اس کے مخالف رائے رکھنے والے مجتہدین پر جبرااس کا نفاذ نہ کیا جائے۔
    اجتماعی اجتہاد کے موضوع پر ابھی تک ایک ہی کتاب سامنے آئی ہے جس کا نام ’ الاجتہاد الجماعی فی التشریع الاسلامی‘ہے۔یہ کتاب ڈاکٹر عبد المجید السوسوہ کی ہے۔ڈاکٹر السوسوہ کی اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد علماء میں اجتماعی اجتہاد کی شرعی حیثیت اور دلائل کے بار ے میں ایک علمی بحث کاآغاز ہوگیا۔بعض علماء نے اجتماعی اجتہاد کے حق میں اور بعض نے اجتماعی اجتہاد کی مخالفت میں مضامین لکھے ہیںاور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ علامہ البانی نے ’السلسلۃ الضعیفۃ ‘ میںالسوسوہ کی کتاب میں موجود بعض اصولی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ بعض دوسرے علماء مثلا مصطفی الزرقا،مصطفی الشلبی ،محمد یوسف موسی ،محمود شلتوت ،احمد شاکر، ڈاکٹر زکریا البری ،ڈاکٹر محمد عمارۃ، ڈاکٹر محمد الدسوقی ،شیخ عبد الامیرقبلان لبنانی ،محمد عبدہ،بدیع الزمان النورسی اور مفتی شام علامہ شیخ احمد کفتارونے بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ اجتماعی اجتہاد کی تائید میں لکھاہے۔ اس سلسے میں قابل ذکر کام پروفیسر ڈاکٹر طاہر منصوری صاحب کی کاوشوں کے نتیجے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے زیر اہتمام اجتماعی اجتہا د کے تصور و ارتقاء پر ایک علمی سیمینار کا انعقادہے۔ جس میں ملک بھر سے مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز اور جید علماء نے شرکت کی اور اجتماعی اجتہاد سے متعلق اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کیا۔سیمینار کے مقالہ جات انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے تحت کتابی شکل میں شائع بھی ہو چکے ہیں۔زیر نظر مقالہ بھی اجتماعی اجتہاد کے ماضی، حال اور مستقبل کے حوالہ سے ایک مستند دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی۔ ایچ۔ڈی (۲۰۰۳۔۲۰۱۰ئ)کے مرحلہ میں مکمل ہوکر جمع ہو چکا ہے ۔

  • title-pages-aqad-al-jayyad-fi-ahkam-al-ijtihad-w-al-taqleed-copy
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘رہی ہے۔ موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا  ہے ۔ امت کا  در د رکھنے والے  مصلحین نے  اس موضوع پر  سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید ‘‘امام الہند سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر محمد میاں صدیقی صاحب نے کیا ہے۔سید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ان نامور مصلحین ومجددین میں سے ہیں جنہوں نے برصغیر میں قرآن وسنت کی حقیقی تعلیمات کو متعارف کروایا۔آپ نے برصغیر کی تاریخ میں پہلی بار قرآن وسنت اور حدیث وسیرت کو اساس قرار دیا۔آپ کے خاندان نے قرآن وسنت کی جو بے مثال خدمت کی ہے وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-fatawa-as-haab-ul-hadees
    حافظ عبد الستار حامد

    اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے برصغیر پاک وہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل حد یث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ اصحاب الحدیث جلد نمبر4‘‘ جید عالم دین مفتی جماعت اہل حدیث ،شارح   صحیح بخاری شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد الستار حماد﷾ کے ان فتاوی ٰ جات کا مجموعہ ہے جو   کئی سالوں سے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ترجمان مجلہ ہفت روزہ اہل حدیث میں شائع ہورہے ہیں۔ جنہیں مکتبہ اسلامیہ کے مدیر محترم سرور عاصم صاحب نے جدید فقہی ترتیب کے مطابق مرتب کروا کر نہایت عمدہ طریقے سے چار مجلدات میں شائع کیاہے ۔جن میں ترجمہ کے ساتھ قرآنی آیات کا عربی متن ،تمام آیات واحادیث کے حوالہ جات نیچے حاشیہ میں درج کردئیے گئے ہیں ۔ اورہر سوال پر ایک مختصر مگر جامع عنوان قائم کیا گیا ہے تاکہ سوال کی نوعیت کا اندازہ ہوسکے ۔فتاوی ٰ اصحاب الحدیث کی جلد چہارم دراصل ہفت روزہ اہل حدیث (سال 2011تاسال 2013ء)میں شائع ہونے والے فتاویٰ جات کا مجموعہ ہے ۔اس جلد کو محترمہ حامدہ حماد صاحبہ نے بہت محنت او رعرق ریزی سےیکجا کیا پھر فقہی ترتیب وتبویب سے مرتب کیا۔اللہ تعالیٰ محترمہ کی علمی جدو وجہد کوشرف قبولیت سے نوازے اوراسے ان کےلیے ذخیرہ آخرت بنائے ۔اللہ تعالیٰ   محترم حافظ عبد الستار حماد﷾ کے علم وعمل اور عمر میں برکت فرمائے ۔ آمین)م۔ ا)

  • title-from-ftaawa-ilmiya
    حافظ زبیر علی زئی
    حافظ زبیر علی زئی کا شمار ان جید علما ء میں ہوتا ہے جو استنباط مسائل میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اصول تحقیق کے میدان کے بھی شہسوار تسلیم کیے جاتے  ہیں۔ آپ کے سامنے کتاب’ توضیح الاحکام‘ ان فتووں کا مجموعہ ہے جو شیخ محترم سے مختلف مواقعوں پر دریافت کیے گئے اور مختلف رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب کو دو جلدوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی جلد عقائد، طہارت، نماز، دعا اور جنازے کے مسائل سے عبارت ہے۔ دوسری جلد نکا ح وطلاق، جہاد، اخلاق و آداب اور خرید و فروخت جیسے مسائل سے پُر ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھر پور عرق ریزی کے ساتھ ایسے سوالات کے بالدلائل تفصیلی جوابات بھی جمع کیے گئے ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اختصار کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔


  • title-pages-ftaawa-ilmiya-jilad2
    حافظ زبیر علی زئی
    حافظ زبیر علی زئی کا شمار ان جید علما ء میں ہوتا ہے جو استنباط مسائل میں مہارت تامہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اصول تحقیق کے میدان کے بھی شہسوار تسلیم کیے جاتے  ہیں۔ آپ کے سامنے کتاب’ توضیح الاحکام‘ ان فتووں کا مجموعہ ہے جو شیخ محترم سے مختلف مواقعوں پر دریافت کیے گئے اور مختلف رسائل و جرائد کی زینت بنتے رہے۔ کتاب کو دو جلدوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی جلد عقائد، طہارت، نماز، دعا اور جنازے کے مسائل سے عبارت ہے۔ دوسری جلد نکا ح وطلاق، جہاد، اخلاق و آداب اور خرید و فروخت جیسے مسائل سے پُر ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھر پور عرق ریزی کے ساتھ ایسے سوالات کے بالدلائل تفصیلی جوابات بھی جمع کیے گئے ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور اختصار کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے۔
    [important color=blue title=پہلی جلد ]اس کتاب کی پہلی جلد ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کیجئے[/important]

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 172 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں