رمضان المبارک ؛فضائل،اَحکام ومسائل
فرضیت روزہ
رمضان کامہینہ مسلمانوں پرعطیہ خداوندی ہے۔اس کے تمام تراَحکامات اور حدود و قیود شارع کی حکمت بالغہ کی آئینہ دار اور یقینا اس کے پیداکردہ بندوں کے حق میں بہتر ہیں تبھی تو رب العالمین نے اس پرُانوار مہینے کے روزوں کو اپنے بندوں پرفرض قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ياَيهَا الَّذِينَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَيکُمُ الصِّيامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ (البقرہ:۱۸۴)
''اے ایمان والو ! تم پرروزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے اُمتوں پر تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔''
گویا یہ صرف اُمت محمدیہ پر ہی نہیں بلکہ دوسری اُمتوں پربھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض تھا۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْيصُمْهُ﴾ (البقرہ:۱۸۵)
''تم میں سے جو شخص اس مہینے میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے۔''
سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پررکھی گئی ہے اللہ کے ایک ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔''(صحیح بخاری:۸)
فضیلت رمضان و صائم
رمضان کامہینہ وہ بابرکت اَوقات کا پیریڈ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی تمام تر برکات کا نزول ہورہا ہوتا ہے اور بندہ اس مہینہ کے اَحکامات پر عمل کرکے اپنے خالق سے ان رحمتوں کو حاصل کرسکتا ہے۔اس مہینہ کی فضیلت میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ میں قرآن نازل فرمایا ہے۔ قرآن میں ہے:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَينٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ﴾ (البقرہ:۱۸۵)
''رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے باعث ہدایت ہے اور اس میں ہدایت کی اور (حق و باطل کے درمیان) فرق کرنے کی نشانیاں ہیں۔''
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[أتاکم رمضان شهر مبارک فرض اﷲ عزوجل عليکم صيامه تفتح فيه أبواب الجنة وغلقت أبواب الجحيم وسلسلت الشياطين]
''تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ پہنچا اور وہ بابرکت مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرمائے ہیں اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور اس میں شیطان جکڑ دیئے جاتے ہیں۔'' (سنن نسائی:۲۱۰۶)
دوسری روایت میں ہے:
[إذا دخل رمضان فُتحت أبوابُ الجنة وغلّقت أبواب جهنم وسُلْسلتُ الشياطين] (صحيح بخاری:۳۲۷۷)
''جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔''
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
[الصلوات الخمس والجمعة إلی الجمعة ورمضان إلی رمضان مکفرات ما بينهن إذا اجتنب الکبائر] (صحيح مسلم:۲۳۳)
''پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک گناہوں کو مٹا دینے والے ہیں جب کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔''







