محمد طیب محمدی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد طیب محمدی
    title-pages-allah-ki-qasam-jashne-eid-melad-al-nabi-quran-w-hadith-se-sabit-nahi-copy
    محمد طیب محمدی

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے اللہ اور رسولﷺکی اطاعت عقائد ،عبادات ،معاملات ، اخلاق کردار ہر الغرض ہر میدان میں قرآن واحادیث کو پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونےکی صورت میں ہوسکتی ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اور سلسلے میں صحابہ کرام کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہے جب مسلمان سنت ِنبویہ اور خلفائے راشدین کے طرز ِعمل کوچھوڑ دیں گے تو وہ دین میں نئے نئے کام ایجاد کرکے بدعات میں ڈوب جائیں گے اور سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے یہی حال اس وقت مسلمانوں کا ہے ۔متازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ زیر نظر کتاب’’اللہ کی قسم جشن عیلاد نبی قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ‘‘ محدث العصر مجتہد وفقیہ مولانا عبد المنان نورپوری ﷫ کےتلمیذ رشید مولاناطیب محمدی ﷾ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے عید میلاد کی تاریخ ،اس کی شرعی حیثیت ،عیدِ میلاد منانے والوں کے دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ عہد نبوی ،عہد صحابہ اوربعدکے ادوار میں اس مروجہ جشن میلا النبی ﷺ کو ئی ثبوت نہیں ملتا او راس کو منانا بدعت ہے ۔مصنف موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی متعدد کتب کے مصنف ہیں ۔مولانا عبدالمنان نوری پوری ﷫ کی حیات وخدمات پر مشتمل کتاب کےمرتب بھی آپ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی حسنہ کو شرف قبولیت بخشے اور اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-aur-tahli-katt-gai
    محمد طیب محمدی
    دنیا میں انبیاے کرام کو مبعوث ہی اس لیے کیا گیا تاکہ وہ دنیا کو شرک اور توہم پرستی کے گڑھے سے نکال کر توحید کے راستے پر گامزن کریں۔شیطان نے چونکہ قیامت تک کے لیے یہ عزم کیا تھا کہ وہ اللہ کی مخلوق کو رحمان کے راستے سے ہٹائے گا اور اس کی انتہائی شکل اللہ رب العالمین کے ساتھ بندوں سے شرک کروانا ہے۔ نبیﷺ جب مبعوث ہوئے تو عرب معاشرہ شرک کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ جگہ جگہ بت نصب تھے اور لوگ مختلف  توہمات کا شکار تھے۔ نبیﷺ نے ان تمام شرکیہ اعمال کو رد کرتے ہوئے خالص اللہ کی توحید کا پرچار کیا ۔ توہمات کی مخالفت کی اور عرب کی سرزمین سے تمام شرکیہ علامتوں کو ختم کردیا اور اپنے ہاتھ سے کعبہ میں موجود بتوں کو توڑا اور حضرت علیؓ کو تمام تصویروں کو مٹا دینے کا حکم دیا۔شرک و توہمات کا رجحان اسلام کے اندر بھی  در آیا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ خصوصا برصغیر میں قبرپرستی اور مختلف چیزوں او رمقامات کے تبرک کی آڑ میں پرستش کی جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی  واقعہ پہاڑی  پور تحصیل چک جھمرہ ضلع فیصل آباد میں ایک دربار کے احاطہ میں لگی ٹاہلی کے متعلق ہے کہ جو گرچکی تھی اوراسے کوئی وہاں سے ہٹاتا نہیں تھا معروف یہ تھا کہ صاحب قبر بزرگ اس ٹاہلی کو نہیں اٹھانے دیتے۔ محکمہ انہار نے بھی کرینوں کے ذریعے بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔ دربار سے ملحقہ گاؤں والوں کا اعتقاد پختہ ہوچکا تھا کہ یہ دربار والے بابا جی کی کرامت ہے اور لوگ درخت کو چھیڑتے تک نہ تھے کہ کہیں بزرگ کی طرف سے کوئی وبال نہ آئے۔ ارد گرد کے توحید پرست لوگوں سے اس بارے میں گفتگو ہوتی رہتی تھی او ریہ بات آخر کار چیلنج بنا کر پیش کردی گئی کہ کوئی بھی شخص اس ٹاہلی کے درخت کو کاٹنے کیلئے ہاتھ لگائے گا تو بابا جی اسے تکلیف میں مبتلا کردیں گے او ریہ چیلنج وہاں کی توحید پرست جماعت نے قبول کیا اور طے شدہ وقت کے مطابق اس ٹاہلی کو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کاٹ ڈالا گیا ۔زیر نظر کتابچہ محمد طیب محمدی کا مرتب کردہ ہے جس میں انہوں نے اسلامی تاریخ میں توہماتی مقامات اور اشیاء کے خاتمے کے واقعات کے ساتھ مذکورہ بالا ٹاہلی والا واقعہ بھی ذکر  کردیاہے۔ واقعہ کے بعد توحید و شرک سے متعلقہ آیات و احادیث کو بڑے اچھے پیرائے اور برمحل ذکر کردیا گیا ہے۔ شرک کے ظلمات میں یہ کتابچہ ایک کرن کی نور ہے اورلائق مطالعہ ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-jesa-karo-gey-wesa-bharo-gey
    محمد طیب محمدی

    جن لوگوں کے اعمال اچھے نہیں ہوتے ہیں یا وہ اچھائی کرنا نہیں چاہتے ہیں،وہ لوگ قیامت کے بارے میں مختلف قسم کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔کبھی کہتے ہیں قیامت نہیں آنی ہے،کبھی کہتے ہیں جزا وسزا نہیں ہوگی،کبھی کہتے ہیں اگر دوبارہ زندہ ہوئے تو جنت میں ہم ہی جائیں گے۔ایسے لوگ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلاء ہیں،ان کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہئے کہ انصاف کا دن ضرور قائم ہوگا اور انسان کو اس کے اعمال کے مطابق جزا وسزا ضرور ملے گی۔اللہ تعالی ہمیشہ انصاف کرتے ہیں اور قیامت کے دن بھی انصاف کریں گے۔اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا ہے اللہ تعالی نیکوکاروں کو تو جہنم میں پھینک دیں اور نافرمانوں اور سرکشوں کو جنت دے دیں،بلکہ ہر شخص سے اس کے اعمال کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء ہے،وہاں ہر انسان کو اس کے دنیا میں کئے گئے اعمال کے مطابق جزا وسزا ملے گی۔جبکہ ایک محدود حد تک اس دنیا میں بھی اللہ تعالی انسان کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا صلہ دے دیتے ہیں۔کارخانہ قدرت کا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔اللہ تعالی عدل وانصاف کا اختیار اپنے پاس رکھتے ہیں۔یہاں جو کوئی بھی ظلم کرے گا نظام عدل اس کو ظلم کا بدلہ چکھا دے گا۔ زیر تبصرہ کتاب" جیسا کرو گے ویسا بھرو گے "محترم محمد طیب محمدی کی کاوش ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالی کے نظام عدل کا اثبات کرتے ہوئے ظالموں کی اس غلط فہمی کو دور کیا ہے کہ آخرت بھی ان کے لئے ہی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جو جیسا کرےگا ویسا ہی بھرے گا۔جزا وسزا کا دن ضرور قائم ہوگا اور ہر انسان کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

    titel-pages-hafiz-abdul-mannan-noor-purira-copy
    محمد طیب محمدی

    حافظ عبد المنان نور پور ی﷫(1941ء۔26فروری2012؍1360ھ ۔3ربیع الثانی 1433ھ) کی شخصیت  محتاج  تعارف  نہیں ۔آپ زہد ورع اورعلم وفضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے  اقران معاصر میں ممتاز تھے  اللہ تعالیٰ نے  آپ کو  علم  وتقویٰ کی خوبیوں اور  اخلاق وکردار کی رفعتوں سے نوازا تھا ۔ آپ کا شمار جید اکابر علماء اہل حدیث میں  ہوتاہے حافظ  صاحب بلند پایا کے  عالمِ  دین  اور مدرس  تھے ۔ حافظ  صاحب  1941ءکو  ضلع گوجرانوالہ میں  پیدا ہوئے اور  پرائمری کرنے کے بعد دینی  تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے حاصل کی  ۔ حافظ صاحب  کوحافظ  عبد اللہ محدث روپڑی ،حافظ  محمد گوندلوی ، مولانا اسماعیل سلفی  ﷭ وغیرہ  جیسے عظیم  اساتذہ سے شرفِ تلمذ کا اعزاز حاصل ہے۔ جامعہ  محمدیہ  سے  فراغت  کے بعد  آپ  مستقل طور پر جامعہ  محمدیہ گوجرانوالہ میں  مسند تدریس  پر فائز ہوئے  او ر  درس  وتدریس  سے وابسطہ  رہے  اور طویل  عرصہ جامعہ  میں  بطور  شیخ الحدیث  خدمات  سرانجام  دیتے  رہے ۔ اوائل عمرہی  سے  مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونےکی وجہ سےآپ کو علوم وفنون میں جامعیت عبور اور دسترس  حاصل تھی  چنانچہ  علماء فضلاء  ،اصحا ب منبرومحراب  اہل تحقیق  واہل فتویٰ بھی  مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے  تھے  ۔  بے شمار  طالبانِ علومِ نبوت نے  آپ سے  استفادہ کیا حافظ  صاحب  علوم  وفنون کے  اچھے  کامیاب مدرس ہونےکے ساتھ ساتھ  اچھے  خطیب  ،واعظ ، محقق ،ناقد اور محدثانہ  بصیرت اور فقاہت رکھنے و الے مفتی  ومؤلف بھی تھے عربی اردو زبان  میں  آپ نے علمی و تحقیقی مسائل پر کئی کتب  تصنیف کیں۔آپ  انتہائی مختصر اور جامع ومانع الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرنے کےماہر،اندازِ بیان ایسا پر اثر کہ ہزاروں سوالوں کاجواب انکے ایک مختصر سےجملہ میں پنہاں ہوتا ،رعب وجلال ایسا کہ بڑے  بڑے  علماء ،مناظر او رقادر الکلام افراد  کی زبانیں بھی گویا قوت گویائی  کھو  بیٹھتیں۔حافظ صاحب  واقعی محدث العصر حافظ محمدگوندلوی﷫ کی علمی مسند کے صحیح وارث اورحقیقی جانشین ہونے کا حق ادا کیا۔  اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے(آمین)زیر نظر کتاب  حافظ عبد لمنان نورپوری﷫ کی  حیات وخدمات پر جامع کتاب ہے ۔جسے ان کے تلمیذِ خاص  مولانا محمد طیب محمدی ﷾ (مدیر ادارہ تحقیات سلفیہ،گوجرانوالہ )  نےمرتب کیا ہے ۔اس کتاب میں  مرتب موصوف نے  طویل مقدمہ تحریر کرنے کے بعد  42 ابواب قائم کیے ہیں جن  میں انہوں نے  حافظ نوری﷫ کا تعارف ،تعلیم وتعلم ،تدریس وتصنیف ،خطابت ،اساتذہ وتلامذہ  کے  علاوہ  حافظ صاحب مرحوم کی  شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ۔یہ کتاب حافظ صاحب مرحوم  کے تفصیلی تعارف اور  حیات وخدمات کے حوالے سے  گراں قدر علمی تحفہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ صاحب  کے درجات بلند  فرمائے  اور ان کی مرقد پر اپنے رحمتوں کانزول فرمائے  اور کتاب ہذا کے  مرتب کےعلم  وعمل میں  اضافہ اور ان کی  تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے  نوازے  (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    pages-from-deen-e-islam-wahi-ilahi-ka-nam
    محمد طیب محمدی

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے، جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے، بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔ زیر نظر کتاب "دین اسلام،وحی الہی کا نام" اسلام کے انہی عظیم محاسن پر مشتمل ہے ،جو محترم محمد طیب محمدی صاحب کی کاوش ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس وقت دنیا پر اللہ کا پیغام صرف اور صرف دین اسلام کی شکل میں موجود ہے،اس کے علاوہ دیگر تمام مذاہب میں تحریف وتصحیف ہو چکی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی دین اسلام پرصحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین (راسخ)

    pages-from-shetani-chaalon-ka-torr-aur-shari-tariqa-e-ilaaj
    محمد طیب محمدی

    جادو کرنا یعنی سفلی اور کالے  علم کے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوں او رصلاحیتوں کو مفلوج کرنا  او ران کو آلام ومصائب سے دوچار کرنے کی مذموم سعی کرنا  ایک کافرانہ عمل  ہے  یعنی  اس کا  کرنے والا دائرہ اسلام سے نکل جاتا  اورکافر ہوجاتا ہے یہ مکروہ عمل  کرنے والے  تھوڑے  سے نفع کے لیے  لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے اور ان کے امن و سکون کو برباد کرتے ہیں  جولوگ  ان مذموم کاروائیوں کا شکار ہوتے ہیں وہ عام طور پر اللہ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں  اس لیے  ان موقعوں پربھی  وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے  کی بجائے انہی عاملوں اورنجومیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جناتی  وشیطانی  چالوں اور جادوکے  توڑ اور شرعی علاج کے  حوالے سے  بازار میں کئی کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’ شیطانی چالوں کا توڑ اور شرعی یقۂ علاج‘ مولانا محمد طیب محمدی کی  تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے  کہ جو لوگ عاملوں، نجومیوں، کاہنوں، جادوگروں، اور پیشہ ورانہ  پیروں، فقیروں اور نام  نہاد دم درود کر کے پیسہ بٹورنے والوں کے پاس جاکر اپنا دین  وایمان او رعزتیں لوٹاتے ہیں وہ نادان لوگ اس کتاب سے استفادہ کر کے ہمیشہ  کے لیے ان نام نہاد جعلی عاملوں، پیروں  سے اپنا تعلق ختم کر کے مسنون اذکار اور فرائض کی پابندی کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے اپنا  تعلق مضبوط بنائیں تاکہ وہ ہر قسم کی پریشانی اور شیطانی چالوں سے مکمل محفوظ رہیں۔ (م۔ا)

    title-pages-qoul-e-faisal-copy
    محمد طیب محمدی

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔ زیر تبصرہ کتاب" قول فیصل"محترم مولانا محمد طیب مدنی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں  نے منکرین حدیث مدھو پور کے انکار حدیث پر مبنی کتابچے" ایمان وعمل ومخزن علم وبصیرت" کا مسکت جواب دیا ہے اورمستند دلائل کے ذریعے حجیت حدیث پر استدلال کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے  اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-page-ham-ahl-e-hadith-kiyoo-howy
    محمد طیب محمدی
    اسلام وحی الہی کی اتباع وپیروی سے عبارت ہے وحی قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت کی صورت میں امت مسلمہ کے پاس محفوظ حالت میں موجود ہے اللہ تبارک وتعالی نے بھی ہمیں یہیں حکم دیا ہے کہ ’’اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ‘‘یعنی اس شئے کی اتباع کرو جو تمہار ے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے اور ظاہر ہے کہ یہ وحی یعنی قرآن وحدیث کے سوا کچھ نہیں اہل حدیث کی صرف یہی دعوت ہے کہ امت فلاح وکامرانی او رکامیابی کا راز کتاب وسنت کی غیر مشروط اطاعت میں مضمر ہے یہ فطری سادہ اور شفاف دعوت ہر طبع سلیم کو اپنی جانب راغب کرتی ہے اور لوگ اپنے آبائی اور علاقائی مسالک ومذاہب کو چھوڑ کر اسے اپنا رہے ہیں زیر نظر کتاب میں چند ایسے ہی خوش قسمت افراد کی داستان بیان کی گئی ہے جنہوں نے وحی کی صدائے دل نواز پہ لبیک کہتےہوئے اپنی تقلیدی مسالک کو ترک کرکے عمل بالحدیث کا مذہب اختیار کیا ٹھنڈے دل اور وسعت قلب کے ساتھ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے انشاء اللہ حق کو قبول کرنے کا جذبہ بیدارہوگا اور خودساختہ فرقوں کی حقیقت نکھر کر نظر وبصر کے سامنے آجائے گی ہم خلوص دل کے ساتھ یہ کتاب ہدیۂ قارئین  کر رہے ہیں امید ہے اسی جذبے کو سامنے رکھتے ہوئے اس کتا ب کا مطالعہ کیا جائے گا



    title-pages-khutbat-e-shahid-copy

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت  کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب  میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان  خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے  اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری  گلستانِ  کتاب وسنت  کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان  کے لقب سے یاد کرتی  ہے۔خطباء  ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے  زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے  اور واعظین  ومبلغین کا بطریق احسن  علمی تعاون  ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام  دینے  کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء  ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع  میسر نہیں یا  جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے  خطبہ کی تیاری  کےلیے آسانی   ہوسکے  ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم  کے  ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات  قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ عصر ِحاضر میں   استاذی المکرم  ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ کی  تین جلدوں پر مشتمل زاد الخطیب  اور  فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ ﷾کی  کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب)  اسلامی  وعلمی  خطبات  کی  کتابوں کی لسٹ میں  گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ خطبات شاہد‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔صاحب کتاب میاں محمد سلیم شاہد صاحب  جماعت   اہل حدیث   پنجاب کے امیر ہیں اور گوجرانوالہ میں سول پائلٹ ہائی سکول  کے چئیرمین اور ساتھ ساتھ  خطابت کے فرائض  بھی انجام دے  رہے ہیں۔موصوف کے خطبات دینی ، اصلاحی دعوتی ، تبلیغی ، عقائد اور اعمال صالحہ کی ترغیب پر مشتمل ہیں۔موصوف تقریبا چودہ سال سے  خطبات کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان کے خطبات میں  سلاسلت اور جلالت کے ساتھ ساتھ  متانت اور سنجیدگی  بھی پائی جاتی ہے ۔ موصوف  کوتوحید سے  خاص محبت  ہے اپنے ہر خطبہ  میں  توحید کی بات کو کسی نہ کسی رنگ میں ضرور بیان کرتے ہیں ۔ لیکن سب وشتم نہیں کرتے  بلکہ  جذبہ خیرخواہی  سے سمجھانے کی پوری کوشش  کرتے ہیں۔ان کی بھر پور کوشش ہوتی ہے  کہ بات  سامعین کے دل تک پہنچ جائے اور وہ اپنی اصلاح کر کے جائیں۔فوز وفلاح کی خاطر اپنے خطبات کو مرتب کروا کر  فری تقسیم کرتے ہیں تاکہ دین کی بات زیادہ سےزیادہ عام ہوسکے ۔ خطبات کی  اس جلد  کو مولانا  محمد طیب محمدی صاحب  نے  بڑی حسن ترتیب  سے مرتب کیا  ہے ۔اللہ تعالیٰ مرتب اور میاں شاہد سلیم صاحب کی  کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کے علم وعمل میں برکت فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-tafheem-al-qari-urdu-tarjuma-irshad-al-qari-copy
    حافظ محمد گوندلوی

    امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور   ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی  محتاج نہیں  سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام   بخاری نے  6 لاکھ احادیث سے  اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں  بیٹھ کر فرمائی اور اس میں  صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ حدیث  نبوی    کے ذخائر میں صحیح بخاری کو گوناگوں فوائد اورمنفرد  خصوصیات کی  بنا پر اولین مقام   اور  اصح  الکتب بعد کتاب الله کا اعزاز حاصل ہے ۔بلاشبہ قرآن مجید کےبعد  کسی اور کتاب  کو  یہ مقام حاصل نہیں  ہوا ۔  صحیح بخاری  کو اپنے  زمانہ تدوین سے لے کر ہردور میں یکساں مقبولیت حاصل رہی ۔ائمہ معاصرین اور متاخرین نے صحیح بخاری کی اسانید ومتون کی تنقید وتحقیق  وتفتیش کرنے کے بعد اسے شرف قبولیت سےنوازا اوراس کی صحت پر اجماع کیا ۔ اسی شہرت ومقبولیت کی بناپر ہر دور میں بے شماراہل علم  اور ائمہ  حدیث  ننے   مختلف انداز میں  صحیح بخاری کی شروحات  لکھی ہیں  ان میں  فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو  امتیازی مقام   حاصل  ہے  ۔ زیر نظر کتا ب’’ تفہیم القاری اردو ترجمہ وتوضیح ارشاد القاری ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی﷫ کی  ’’ارشاد القاری الی نقد فیض الباری ‘‘ کی  پہلی جلد کا  اردو ترجمہ ہے ۔ارشاد القاری الی نقد فیض الباری    چار جلدوں میں طبع ہوچکی  جو کہ  حافظ محمد گوندلوی اوران کے  تلمیذ رشید  حافظ عبد المنان نوری رحمہما اللہ کا  علمی شاہکار ہے۔ارشاد القاری کے مطالعہ سے ایک  طرف  حدیث نبوی کی عظمت اور منہج سلف کی پاسداری ظاہر ہوتی   ہے تو دوسری طرف  حدیث نبوی پر جو تقلیدی رنگ چڑھانے کی سعی نامشکور کی گئی ہے اسکو قرآن وحدیث کے دلائل کے ساتھ صاف کردیاگیا ہے اور حدیث نبوی کی حقیقت کوخوب آشکار کیا گیا ہے شاہ صاحب نے جس رنگ ڈھنگ سے کلام کی اور جہاں کہیں اپنی طرف سےفنی اوراصولی بحث  کر کے بڑا نکتہ بیان کیا۔حافظ گوندلوی﷫ اور نورپوری﷫ نے اسی انداز سےاس پر نقد کیا ہے اور اسی فنی اور اصولی بحث کی حقیقت کوبیان کرتے ہوئے  اس کا صحیح معنی ومفہوم بتایاہے۔ارشاد القاری چونکہ عربی زبان میں تھی  جسے  طلبہ اور عام علماء کےلیے سمجھنا دشوا ر تھا ۔ حافظ عبد المنان نوری ﷫ کے شاگرد خاص مولانا محمد طیب محمدی  صاحب  نے ارشاد القاری کی   تفہیم کے لیے اس کے ترجمہ کاآغاز کیا   اور صرف ایک ہی جلد کاترجمہ کر کے شائع کیا  جو ان کی بہت بڑی کاوش ہے  ۔اللہ تعالیٰ  ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اور انہیں   ارشاد القاری کا مکمل ترجمہ  وتوضیح کرنے کی توفیق دے (آمین)( م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    title-pages-khutbat-e-ahle-hadith-copy
    سید سبطین شاہ نقوی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات اہل حدیث‘‘عوامی اجتماعات میں عوامی انداز میں علمی گفتگو کرنے والے عصر حاضر کے نامور خطیب سید سبطین شاہ نقوی﷾ کے19 علمی خطبات کا مجموعہ ہےسید صاحب کے خطبات میں دلائل کا سمند ر موجزن ہے۔جو ایمان کو تازگی روح کو پاکیزگی، عقائد کوپختگی اور عمل کوبیدار بخشتا ہے۔ جس کی موجیں عقائد باطلہ اور نظریات فاسدہ کوبہالے جاتی ہیں۔ شاہ صاحب کےخطبات خالصتاً علمی ، اصلاحی اور دعوتی حقائق پر مبنی ہیں۔کتاب کےمرتب جناب محمد طیب محمدی ﷾ مصنف ومرتب کتب کثیرہ نے سبطین شاہ نقوی صاحب کے تقریباً تیس خطبات کی کیسٹیں سن کر انہیں مرتب کیا ہے ۔شاہ صاحب نےتقریر میں جس حدیث سےاستنباط کیا ہے مرتب نے اس حدیث کو اصل کتاب سے دیکھ کر مکمل لکھ دیا ہےتاکہ پڑھنے والا کسی قسم کی تشنگی محسوس نہ کرے اوراستنباط کی حقیقت تک پہنچ جائے ۔اس کتاب میں تقریر کی چاشنی کے ساتھ ساتھ تحریر کالطف بھی موجود ہے۔(م۔ا)

    title-pages-khutbat-e-rehmani-copy
    عبد اللہ ناصر رحمانی

    فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی ﷾بلاشبہ پاکستان کے لئے علمی لحاظ سے سرمایہ اعزاز افتخار ہیں۔آپ کی لِلاہیت،تقویٰ، طہارت، رسوخ فی العلم کے اپنے خواہ غیر سبھی معترف ہیں، آپ ایک اچھے منتظم، بلند پایہ محقق، مثالی مدرس، داعی الی الحق ،بیدارمغز ،صاحب طرز ادیب وانشاءپرداز، اور سنجیدہ خطیب شمار کیے جاتے ہیں۔آپ طلباء کے لئے مشفق ،علماء کرام کے قدردان، اپنے پرائے سبھی کی بات خندہ پیشانی سے سننے کی عادت سے سرفراز ہیں۔ آئے دن آپ کے مقالات ومحاضرات علمیہ، ملکی اور غیر ملکی جرائد کی زینت بنے نظر آتے ہیں، جن سے آپ کی علمی بصارت وبصیرت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔شیخ موصوف۲۸دسمبر۱۹۵۵ء کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا بچپن اور جوانی اسی شہر میں گزری آپ کا ابتدائی اسم گرامی شکیل احمد تجویز ہوا تھا، مگر آپ کے استا د گرامی قدر مولانا کرم الدین سلفی نے تبدیل کرکے عبداللہ رکھا جس سے آپ نے شہرت پائی ،پرائمری کے بعد آپ کو آپ کے والد گرامی نے دین کے لیے وقف کردیا اور دارالحدیث رحمانیہ کراچی میں دینی تعلیم کےحصول کےلیے داخل کروایا۔اس وقت یہ دینی دانش گاہ بڑی شہرت کی حامل تھی۔ جہاں آپ نے آٹھ سال بڑی محنت ولگن سے تعلیم حاصل کی اور امتیازی نمبروں سے سندالفراغ اور دستار بندی سے سرفراز ہوئے۔ مزید علمی تشنگیٔ دور کرنے کی غرض سے آپ نے جامعہ الامام محمد بن سعود اسلامیہ یعنی ریاض یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اور وہاں چار سال تعلیم حاصل کی او رپھر وطن واپس آکر جامعہ رحمانیہ کراچی جیسے باوقار اسلامی ادارہ میں پورے آٹھ سال تک’’شیخ الحدیث‘‘ کے منصب جلیل پر فائزہوکر وطن عزیز کے طلبا کو علمی فائدہ پہنچاتے رہے۔ شیخ کو تفسیر،حدیث،اصول حدیث،فقہ،تاریخ ،سیرو فن رجارل پرمکمل دسترس حاصل ہے ۔ آپ نے دار الحدیث رحمانیہ ، جامعہ ابی بکر میں تدریسی فرائض انجام دینے کےساتھ دعوت وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کا کام بھی تندہی سے جاری رکھا آپ کی دعوت کا حلقہ بڑا وسیع ہے سامعین آپ کے علمی خطبات کو بڑے ذوق وشوق سے سنتے ہیں دعوت کےسلسلے میں آپ نے کئی بیرونی ممالک کے سفربھی کیے ہیں۔آپ جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر ہیں اور دعوت وتبلیغ کے سلسلے میں آپ سید بدیع الدین شاہ راشدی﷫ کےبعد بڑا نمایاں کام کیا ہے۔نیز آپ نے معهد السلفى للتعليم والتربية کراچی کے بانی و مدیر بھی ہیں اللہ تعالٰی اشاعت دین کے لیے آپ کی تمام کاوشوں کو شرف فبولیت سے نوازے ۔آمین زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات رحمانی ‘‘ شیخ عبداللہ ناصر حمانی ﷾ کے خطبات کامجموعہ ہے جسے جناب مولانا محمد طیب محمدی﷾ نے شیخ کی اجازت سے ان کےخطبات کو سی ڈیز سے سن کر جمع کر کے حسن ترتیب سےمرتب کیا ہے ۔طیب محمدی صاحب نے ابو الوفا عبداللہ محمدی صاحب کے تعاون سےشیخ عبداللہ ناصرحمانی ﷾ کےدعوت اہل حدیث سندھ میں مطبوعہ خطبات کو بھی اس کتاب میں شامل کردیا ہے ۔مولانا محمد طیب محمدی ﷾ نے فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی کے خطبات کوجمع ومرتب کے ان کی عصر حاضر کے منہج تخریج کے مطابق بہترین تخریج بھی کی ہے جس سے ان خطبات کی افادیت دو چند ہوگی ہے ۔(م۔ا)

    title-pages-maqalat-e-noor-puri-copy
    عبد المنان نورپوری

    حافظ عبد المنان نور پور ی﷫(1941ء۔26فروری2012؍1360ھ ۔3ربیع الثانی 1433ھ) کی شخصیت  محتاج  تعارف  نہیں ۔آپ زہد ورع اورعلم وفضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے  اقران معاصر میں ممتاز تھے   اللہ تعالیٰ نے  آپ کو  علم  وتقویٰ کی خوبیوں اور  اخلاق وکردار کی رفعتوں سے نوازا تھا ۔ آپ کا شمار جید اکابر علماء اہل حدیث میں  ہوتاہے حافظ  صاحب بلند پایا  عالمِ  دین   اور  قابل ترین مدرس  تھے ۔ حافظ  صاحب   1941ءکو  ضلع گوجرانوالہ میں  پیدا ہوئے اور  پرائمری کرنے کے بعد دینی  تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے حاصل کی  ۔ حافظ صاحب   کوحافظ  عبد اللہ محدث روپڑی ،حافظ  محمد گوندلوی ، مولانا اسماعیل سلفی  ﷭ وغیرہ  جیسے عظیم   اساتذہ سے شرفِ تلمذ کا اعزاز حاصل ہے۔ جامعہ  محمدیہ  سے  فراغت  کے بعد  آپ  مستقل طور پر جامعہ  محمدیہ گوجرانوالہ میں  مسند تدریس  پر فائز ہوئے   پھر اسی ادارہ  میں   درس  وتدریس  سے وابسطہ  رہے  اور طویل  عرصہ جامعہ  میں  بطور  شیخ الحدیث   خدمات  سرانجام  دیتے  رہے ۔ اوائل عمرہی  سے  مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونےکی وجہ سےآپ کو علوم وفنون میں جامعیت ،عبور اور دسترس  حاصل تھی  چنانچہ  علماء فضلاء  ،اصحا ب منبرومحراب  اہل تحقیق  واہل فتویٰ بھی  مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے   تھے  ۔  بے شمار  طالبانِ علومِ نبوت نے  آپ سے  استفادہ کیا حافظ  صاحب  علوم  وفنون کے  اچھے   کامیاب مدرس ہونےکے ساتھ ساتھ  اچھے  خطیب  ،واعظ ، محقق ،ناقد اور محدثانہ   بصیرت اور فقاہت رکھنے و الے مفتی  ومؤلف بھی تھے عربی اردو زبان  میں  آپ نے علمی و تحقیقی مسائل پر کئی کتب  تصنیف کیں۔آپ  انتہائی مختصر اور جامع ومانع الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرنے کےماہر،اندازِ بیان ایسا پر اثر کہ ہزاروں سوالوں کاجواب انکے ایک مختصر سےجملہ میں پنہاں ہوتا ،رعب وجلال ایسا کہ بڑے  بڑے  علماء ،مناظر او رقادر الکلام افراد  کی زبانیں بھی گویا قوت گویائی  کھو  بیٹھتیں۔حافظ صاحب نے   واقعی محدث العصر حافظ محمدگوندلوی﷫ کی علمی مسند کے صحیح وارث اورحقیقی جانشین ہونے کا حق ادا کیا۔  اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے(آمین) زیر  تبصرہ کتاب  ’’مقالات نورپوری ‘‘ مولانا حافظ عبد المنان نورپوری ﷫  کے ان خطبات ومقالات کا مجموعہ ہے  جو وہ   جامعہ محمد یہ  چوک اہل حدیث میں جمعہ کے روز نماز عصر کے بعد ماہوار درس  دیا کرتے تھے ۔ حافظ  صاحب  مرحوم   کے نامور شاگرد رشید  جناب  مولانا محمد طیب محمدی﷾ (مدیر ادارہ  تحقیقات سلفیہ،گوجرانوالہ)نے  حافظ صاحب کے ان  خطبات کو  احاطۂ تحریر لاکر  موضوعات  کے لحاظ  مرتب کر کے حافظ صاحب سے نظر ثانی کروا کر   حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے ۔۔ان خطبات ومقالات میں  خطباء وعلماء کےلیے علمی مواد موجود ہے ۔ مرتب  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷫ کے خطبات وغیرہ کو مرتب  کر کےشائع کرنےکے علاوہ حافظ صاحب کی حیات وخدمات پر  ایک  ضخیم  کتاب  مرتب کر کے بھی شائع کی ہے ۔اللہ تعالیٰ محترم محمد  طیب محمدی ﷾ کو  جزائے خیرسے  نوازے کہ انہوں نے  رقم کی توجہ پر اپنی مطبوعات کا  ایک  سیٹ  ادارہ محدث کی لائبریری کے لیے  ہدیۃً عنایت فرمایا۔(آمین) (م۔ا)

merratulbukhari-copy
یہ مجموعہ اوراق حافظ عبد المنان نور پوری صاحب کے ان دروس پر مشتمل ہے جو انہوں نے کتاب بخاری پڑھانے سے قبل طلبہ کو لکھوائے تھے۔ ہمارے ہاں زمانہ ماضی میں جہاں فتنہ انکار حدیث پروان چڑھا وہاں اہل الرائے احناف بھی آئمہ کی تقلید کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے میں پیچھے نہ رہے۔ ان دونوں قسم کے گروہوں کے باطل افکار و نظریات کااصولی رد کر کے محدثین کرام رحمہم اللہ کے اعتدال پسندانہ مسلک کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نیز اس کتاب میں علوم الحدیث، کتاب البخاری اور امام بخاری کی سیرت پر سیر حاصل گفتگو کے ساتھ علم الحدیث کی تعریف و اقسام، عہد نبوی میں کتابت حدیث اور تدوین حدیث کے دلائل اور ان پر منکرین کے شبہات کا ازالہ، حجیت حدیث کے قرآنی دلائل، بخاری کا صحیح موضوع، امام بخاری پر آئمہ کی تقریظ و تائید جیسی اہم ابحاث شامل ہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1772 مہمان آن لائن ہیں اور اراکین میں سے ایک رکن موجود ہے۔

  • jalal

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں