ارشاد الحق اثری

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ارشاد الحق اثری
    title-pages-aaina-unko-dikhaya-to-bura-maan-gai
    ارشاد الحق اثری
    فقہی فروعی اختلافات نئے نہیں  بلکہ زمانہ قدیم سے ہی آرہے ہیں۔یہ اختلافات حضرات صحابہ کرام میں بھی تھے ۔ اسی طرح تابعین عظام اور ائمہ مجتہدین میں بھی تھے ۔ مگر وہ حضرات اس  کے باوجود باہم شیر و شکر تھے۔لیکن مقلدین مجتہدین کے دور میں  یہ فقہی اختلافات شدت اختیار کرتے چلے گئے اور امت کے  اندر انتشار و افتراق نے جنم لینا شروع کر دیا ۔ پھر وہ وقت بھی آگیا کہ یہی فقہی اختلافات باہمی کفر و فسق کی بنیاد بھی بننے لگے۔  حالانکہ اختلافات کا پیدا ہوجانا  ایک فطری امر ہے لیکن تشویش ناک  صورت حال اس وقت ہوتی ہے جب  یہ غیر انسانی رویے اور جنگ و جدال کی  شکل اختیار کرجائیں۔ زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جس کا سبب تالیف یہ ہے کہ عصر حاضر کے جید عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے اپنے معاصر ،دیو بندی مکتبہ فکر کے راسخ عالم دین مولانا سرفراز احمد صفدر صاحب کو ان کی تصنیفات میں  وارد شدہ بعض فکری و اجتہادی مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے آئندہ ایڈیشن میں تبدیلی کی درخواست کی۔ جس پر  مولاناسرفراز صفدر صاحب نے توجہ فرماکر اصلاح کرلی۔ لیکن ان کے بیٹے  حافظ عبدالقدوس صاحب  نے یہ محسوس کیا کہ والدگرامی کی یہ پسپائی حلقہ احباب میں باعث تشویش  بن رہی ہے ۔ چنانچہ  اس پر انہوں نے ارشادالحق اثری صاحب پر ایک کتاب لکھ ڈالی ۔ جس میں مولانا کی ذات گرامی کے ساتھ ساتھ مسلک اہل حدیث پر نیش زنی کی گی ۔ پھر مولانا ارشادالحق صاحب نے اس  کے جواب میں زیر نظر کتاب رقم فرمائی۔(ع۔ح)
    title-pages-aafat-e-nazar-aur-inka-ilaj
    ارشاد الحق اثری
    فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر عمر کے افراد میں جنسی بے روی بڑھ رہی ہے۔ اور اس کا نقطہ آغاز ہے بد نظری۔ جب سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر فحش لٹریچر کی ترویج و اشاعت برسرعام ہوتی ہے تو لامحالہ اس کے اثرات معاشرے پر بھی نظر آتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے ہمارے معاشروں میں روز بروز جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور زیادتی کے بعد قتل کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ چھ، چھ سال کی بچیاں اس درندگی کا نشانہ بن رہی ہیں۔ آنکھ خداتعالیٰ کی طرف سے عنایت کی جانے والی ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ فلہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق کرے۔ زیر نظر رسالہ میں ہم نے کتاب و سنت اور آثار سلف کی روشنی میں آنکھ سے پیدا ہونے والے فتنوں اور ان کے انجام سے خبردار کیا ہے اور ان کے انجام سے خبردار کیا ہے اور ان سے محفوظ رہنے اور بچنے کا طریقہ ذکر کیا ہے۔ اور اسی ضمن میں آنکھ کے متعلق بض دیگر مفید مباحث کا بھی تذکرہ آ گیا ہے جو یقیناً قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    untitled-1
    ارشاد الحق اثری

    يورپ کے مستشرقین کی نقالی میں ہمارے ہاں بھی بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوچکے ہیں جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش ہیں-کبھی تدوین حدیث کے عمل کو تیسری صدی ہجری کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے تو کبھی صحابہ کرا م کی احتیاطی تدابیر کو بنیاد بنا کر حدیث میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-اس سلسلے میں صحیح بخاری وصحیح مسلم پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا-اسی سلسلے کی ایک کڑی مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی کی کتاب ''مذہبی داستانیں'' ہے-جس میں صحیح بخاری ومسلم کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے محدثین کرام اور بعض صحابہ کرام بالخصوص حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین وغیرہ شامل ہیں، کے بارے میں اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا گیا - زیر نظر کتاب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے خالص علمی اور تحقیقی انداز میں تمام  اعتراضات کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی ان تمام روایات کا دفاع کیا ہے جن کو '' مذہبی داستانیں'' میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے-

    title-pages-ahades-e-sahi-bukhari-o-muslim-
    ارشاد الحق اثری
    صحیح بخاری و صحیح مسلم سے متعلق امت کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کے بعد یہ صحیح ترین کتابیں ہیں۔ ان کتابوں کے بارے علمائے امت کا یہ حکم بلاوجہ نہیں ہے احادیث کا اکثر و بیشتر ذخیرہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ کے دور میں مشہور تھا اسی ذخیرہ سے انہوں نے صحیح احادیث پر مشتمل مجموعہ مرتب کیا۔ ایک ایک حدیث اور ہر ایک کی سند کی خوب چھان پھٹک کی، خوب تحقیق و تدقیق کے بعد صحت کا یقین ہوا تو اپنی کتب میں درج کیا۔ اس کے بعد سیکڑوں محدثین کی نظریں ان پر مرتکز رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کتابوں کو امت مسلمہ سے تلقی بالقبول حاصل ہوا۔ لیکن پھر بھی کچھ لوگوں نے درایت و عقل کے حوالے سے صحیح احادیث کے رد کرنے کا شاخسانہ کھڑا کیا تو کسی نے صحیح بخاری و مسلم پر بلا جواز عمل جراحی کا شوق پورا فرمایا۔ اس بہتی گنگا میں مولانا حبیب الرحمٰن کاندھلوی نے بھی ہاتھ دھونا اپنا فرض سمجھا انہوں نے ’مذہبی داستانیں‘ نام سے کتاب لکھی جس میں انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی احادیث پر شدید نکتہ چینی کی بلکہ انہوں نے صحیح بخاری کو نامکمل کتاب قرار دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ امت مسلمہ کا اسے حدیث کا صحیح ترین مجموعہ قرار دینا بھی محض ایک مذہبی داستان ہے۔ اس کےعلاوہ بہت صحابہ کرام کے حوالہ سے بھی اوٹ پٹانگ باتیں لکھیں۔ زیر مطالعہ کتاب موصوف کی اسی کتاب کے جواب میں وجود میں آئی ہے۔ مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ ایک صاحب علم شخصیت اور حدیث و اصول حدیث کا خاص ذوق رکھتے ہیں انہوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ان احادیث کا بھرپور طریقے سے دفاع کیا ہے جن پر ’مذہبی داستانیں‘ میں تنقید کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں مقدمہ الکتاب میں کاندھلوی صاحب کی کتاب کا ایک طائرانہ جائزہ بھی پیش کر دیا گیا ہے جس سے مصنف کاندھلوی صاحب کی ’قیمتی‘ نگارشات کے خدوخال نمایاں ہو جاتے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-page-ahadees-e-hidaya-fanni-wa-tahqiqi-jaiza-copy
    ارشاد الحق اثری

    اس وقت پوری دنیا خصوصاً برصغیر پاک وہند میں فقہ حنفی کو خاصی پذیرائی حاصل ہے اور بلاتردد فقہ حنفی کی مشہور کتاب 'الہدایۃ' کو کتاب وسنت کا نچوڑ قرار دیا جاتا ہے-  یہ دعوی کس حد تک درست ہے ؟ اور کیا 'ہدایۃ' فی الواقع قرآن کی طرح ہے؟  اس کا شافی اور تسلی بخش جواب ہمیں اس کتاب میں ملے گا-  جس میں ''الہدایۃ''  میں بیان کردہ من گھڑت روایات، اوہام الہدایۃ اور صاحب ہدایۃ کی تضاد بیانیاں جیسے متعدد موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے اس کی مکمل فنی وتحقیقی حیثیت آشکارا کی گئی ہے-  اصل میں اب سے  کچھ عرصہ قبل مولانا محمد یوسف جے پوری نے 'حقیقۃ الفقہ' کے نام سے کتاب لکھی جس میں احادیث ہدایۃ پر نقد وتبصرہ کیا گیا تھا جس پر ایک حنفی عالم نے ماہنامہ 'البینات' میں ایک لمبا چوڑا مضمون لکھ مارا جس کےجواب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے استحقاق حق اور ابطال باطل کا فرض ادا کرتے ہوئے تفصیلی مضامین قلمبند کیے – زیر مطالعہ کتاب کچھ حک واضافہ کے ساتھ انہی مضامین کی یکجا صورت ہے- کتاب کے مطالعے  سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ فقہی مسلک کتاب وسنت کی مکمل تفسیر نہیں بلکہ اس بحر بے کنار کا ایک قطرہ ہے-

     

    asbaabikhtilafalfuqaha-copy
    ارشاد الحق اثری

    زیر تبصرہ کتاب دراصل شیخ محمد عوامہ کی تصنیف "اثر الحدیث الشریف فی اختلاف الفقہاء" ، جس کا خلاصہ دیوبندی آرگن ماہنامہ بینات میں شائع ہوا ، کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔ شیخ عوامہ نے اپنی کتاب میں ائمہ فقہاء کےاختلافات کے حقیقی عوامل بیان کرنے کے بجائے درحقیقت محدثین کرام رحمہم اللہ کے اس عام تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ میں حفظ و ضبط کی کمی تھی اور وہ دوسرے ائمہ حدیث کی نسبت حدیث کا کم علم رکھتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے ائمہ حدیث کے بارے میں اپنے روایتی عناد کا مظاہرہ بھی کیا ۔ ان کی انہی بے اصولیوں کا جائزہ اس کتاب میں لیا گیا ہے ۔ جب قرآن ایک، نبی ایک، قبلہ ایک، دین ایک ۔۔ پھر امت میں اتنے اختلافات کیوں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے متمنی ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ یقیناً بصیرت مہیا کرے گا۔ چونکہ یہ ایک دقیق علمی موضوع ہے۔ اس لئے عام حضرات کیلئے یہ کتاب تفہیم کے لحاظ سے کچھ مشکل ہو سکتی ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم اپنے قارئین سے درخواست کریں گے کہ وہ پھر بھی اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

     

     

    islam-aur-moseeqi-shubhat-aur-mughalitat-ka-izala-copy
    ارشاد الحق اثری

    ہمارے ملک میں متعدد طبقے موسیقی کی حرمت کے مسئلے پر خود بھی انتشار ذہنی کا شکار ہیں اور اس فکری انتشار کو پھیلانے میں بھی سرگرم ہیں۔ پہلے اس محاذ پر صرف وہی لوگ تھے جو دینی حلقوں میں مغرب زدہ یا سیکولر وغیرہ ناموں سے معروف تھے۔ یا پھر وہ طبقہ جو فسق و فجور کا رسیا تھا۔ لیکن اب منحرفین کا ایک گروہ بھی پیدا ہوگیا ہے ، جس نے ظاہری طور پر تو لبادہ مذہب کا اوڑھا ہوا ہے اور دعوٰی علم و تحقیق کا کرتا ہے۔ جن میں نمایاں شخصیت مسٹر جاوید احمد غامدی ہیں۔ جنہوں نے دیگر ضروریات دین سے تو انکار کیا ہے ساتھ ہی موسیقی کو مذہبی طور پر حلال ٹھہرانے کی بھی خوب کاوشیں فرما رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب میں غامدی صاحب کے ماہنامہ اشراق میں شائع ہونے والے مضمون "اسلام اور موسیقی" کا کتاب و سنت کی روشنی میں بھرپور تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ اور غامدی صاحب کی جانب سے پیش کئے جانے والے بزعم خود "دلائل" کے سارے تار و پود بکھیر دئے ہیں اور جتنی بھی کج فکری اور فن کاری کا مظاہرہ کیا تھا، اس کو علمی و تحقیقی دلائل کے ساتھ بے نقاب کر دیا ہے۔

    title-pages-islam-aur-moseeki-par-ishraq-ke-aitrazt-ka-jaeza
    ارشاد الحق اثری
    دین اسلام کی بنیاد قرآن مجید اور حدیث وسنت پر ہے۔دین میں کسی چیز کے حلال و حرام یا جائز و ناجائز ہونے کا مدار انہی پر ہے۔جمہور  امت اور فقہائے اربعہ رحمتہ اللہ علیہم انہی دلائل کی بنا پر موسیقی کو حرام و ناجائز قرار دیتے ہیں۔بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی موسیقی اور آلات موسیقی کی حرمت پر متفق ہیں۔لیکن غامدی حلقہ فکر موسیقی کو جائز اور مستحسن گردانتا ہے۔مولانا ارشاد الحق اثری نے ان کی تردید میں ایک کتاب لکھی تھی جس پر اہل اشراق نے مزید اعتراضات جڑ دیے۔زیر نظر کتاب میں انہی دلائل کا مکمل اور مسکت جواب دیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موسیقی کو جائز ٹھہرا کر یہ حضرات نوجوان طبقے کو خصوصاً افراد امت کو عموماً مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔ان کے  گمراہ کن استدلال کا شافی جواب مولانا اثری نے زیر نظر کتاب میں دیا ہے جو  لائق مطالعہ ہے۔

    Title Page---Aitekaaf-- Fazail o Ahkam o Masayal Maa Aurat Aitekaf Kahan Karay Masjid main ya Ghar
    ارشاد الحق اثری
    یہ کتاب دراصل اعتکاف کے موضوع سے متعلقہ دو مقالات کا مجموعہ ہے۔ ایک مقالہ فضیلۃ الشیخ ابو المنیب محمد علی خاصخیلی کی کاوش ہے اور دوسرا فضیلۃ الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی تحقیق ہے۔ اعتکاف کے مسائل کے حوالے سے عوام میں جو تشنگی پائی جاتی ہے یہ کتاب اس کا کافی حد تک ازالہ کرتی ہے۔ کتاب و سنت کے دلائل سے مزین اس کتاب میں اعتکاف کی تعریف، فضائل و اقسام، مسائل، فضلیت و عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کتاب کا ایک اہم مبحث دور حاضر کا ایک اختلافی مسئلہ کہ کیا خواتین گھر میں اعتکاف کر سکتی ہیں؟  بھی ہے۔اعتکاف کے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے۔

    title-pages-iala-us-sunan-fil-meezan-
    ارشاد الحق اثری
    کچھ عرصہ قبل  حنفی علما کو محسوس ہوا کہ محدثین نے اپنی کتب میں جو احادیث جمع کی ہیں ان میں ہمارے مذہب کے دلائل بہت شاذ ہیں اور ان  کی کتابوں میں ان کے فقہی رجحانات کا بہت اثر ہے۔ لہذا حنفی علما نے ایسی کتابیں لکھنے کا بیڑہ اٹھایا جن میں حنفی مذہب کے دلائل پر مشتمل احادیث جمع ہوں اس پر سب سے پہلے علامہ نیموی نے ’آثار السنن‘ کے نام سے کتاب لکھی اس کے بعد مولانا اشرف علی تھانوی نے مولانا احمد حسن سنبھلی کے ساتھ مل کر حنفی مذہب کی مؤید احادیث اور شرح و بسط سے ان پر روایتاً و درایتاً بحث کرنے کی کوشش کی۔ یہ کام کتاب الحج پر پہنچا اور اس کی ایک جلد شائع ہوئی تو  مولانا تھانوی نے اس کا جائزہ لینے کے بعد احمد حسن سنبھلی کو آڑے ہاتھوں لیا کہ انہوں نے اپنی طرف سے بہت کچھ بدل ڈالا تھا حتیٰ کہ مولانا تھانوی کی بہت سی تصحیحات کو بھی بدل دیا اور بقول ان کے کتاب کا اصل منہج ہی باقی نہ رہا۔ اس کے بعد مولانا عثمانی نے ا س کام کا بیڑا اٹھایا اور اس کو از سر نو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ اس کا نام ’اعلاء السنن‘ رکھا گیا جو کراچی سے سولہ جلدوں میں شائع ہوا۔ زیر مطالعہ کتاب میں اسی کتاب ’اعلاء السنن‘ کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مولانا ارشاد الحق اثری معروف عالم دین اور تبحر علمی میں بے نظیر ہیں۔ آپ نے اس کتاب میں ’اعلاء السنن‘ کی فقہی مباحث سے تعرض نہیں کیا بلکہ ان قواعد اور اصولوں کو ذکر کرنے پر اکتفا کیا ہے جن کو مولانا عثمانی نے حدیث کی تصحیح و تضعیف میں اختیار کیا ہے۔ احناف کو آئینہ دکھانے والی یہ ایک نہایت سنجیدہ اور علمی کاوش ہے جس میں اہل علم کے لیے بہت سا سامان موجود ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-page-imambukhariparbaazaiterazatkajaiza-copy
    ارشاد الحق اثری
    امام بخاری کی ذات میں اللہ تعالی نےاس قدر خوبیاں جمع کر دی تھیں جو شاید ہی کسی اور کے حصے میں آئی ہوں-امام صاحب کو سید المحدثین اور امام الدنیا جیسے بلند ترین القابات سے نوازا گیا اور آپ کی کتاب صحیح بخاری کو کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب تسلیم کیا گیا لیکن دفاع مسلک کیلئے کی جانے والی کوششوں میں امام بخاری اور ان کی کتاب صحیح بخاری احناف کی راہ میں یقیناً ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جس کیلئے حنفی علماء نے امام بخاری رحمہ اللہ جیسی عظیم شخصیت پر بھی اعتراضات اور تنقید سے قلم نہیں روکا۔ انہیں بد نصیب علماء میں سے ایک دیوبندی عالم حبیب اللہ ڈیروی صاحب ہیں جنہوں نے امام بخاری رحمہ اللہ کے25 اوہام جمع کر کے انہیں اپنی کتاب "ہدایہ علماء کی عدالت میں" کی زینت بنایا ہے۔  فضیلۃ الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے ان اوہام کی حقیقت طشت ازبام کی ہے کہ آیا یہ غلطیاں امام بخاری رحمہ اللہ سے ہوئیں یا ان کو وہم قرار دینے والے خود وہم و خطا کے مرتکب ہیں۔

    title-pages-imam-daar-qutni-copy
    ارشاد الحق اثری

    چوتھی  صدی ہجری کے نامور تاجدارِ حدیث  امام دارقطنی﷫ ( (306 – 385جن کے تذکرے کے بغیر چوتھی  صدی کی تاریخ  نا  مکمل رہے گی ۔ ان  کا  مکمل  نام یہ  ہے ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن النعمان بن دینار بن عبدللہ   الدار قطنی البغدادی ہے، انہیں امام حافظ مجوِّد، شیخ الاسلام، محدث کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کا تعلق بغداد کے محلہ دار قطن سے تھا جس کی وجہ سے انہیں الدارقطنی کہا جاتا ہے۔امام دارقطنی  نے  اپنے  وطن   کے علمی  سرچشموں سے سیرابی  حاصل کرنے کے بعد مختلف ممالک کا سفر کیا اور  بڑے بڑے ائمہ کرام سے تعلیم حاصل کی جن میں ابی القاسم البغوی، یحیی بن محمد بن صاعد، ابی بکر بن ابی داود، ابی بکر النیسابوری، الحسین بن اسماعیل المحاملی، ابی العباس ابن عقدہ، اسماعیل الصفار، اور دیگر شامل ہیں۔امام دارقطنی ، علل حدیث اور رجالِ حدیث ، فقہ، اختلاف اور مغازی اور ایام الناس پر دسترس رکھتے تھےحافظ عبد الغنی الازدی فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺکی حدیث پر اپنے  وقت  میں  سب سے بہتر دسترس رکھنے والے تین افراد  ہیں۔  ابن المدینی،  موسی بن ہارون اور امام  دارقطنی ۔امام  دارقطنی کی تصانیف 80 سے زائد ہیں۔ 385 ہجری کو ان کا انتقال ہوا اور بغداد کے قبرستان باب الدیر میں معروف الکرخی کی قبر کے نزدیک دفن ہوئے۔ زیر نظر کتاب’’امام دارقطنی‘‘ محققِ عصر  ممتاز عالم دین   مولانا ارشاد الحق اثری﷾ کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے  امام دار قطنی کی حیات خدمات کو   پیش کرنے کے ساتھ ساتھ  امام موصوف پر عائد کردہ الزامات کا مدلل جائزہ بھی لیا ہے ۔ خصوصاً السنن پر تبصرہ ، علل الحدیث ، جرح وتعدیل میں  امام دارقطنی کا مقام ، تالیفات وغیرہ  پر ان کی اہمیت کے پیش نظر  جامع بحث کی  ہے   اور بتایا  ہے کہ بعض فنون  حدیث میں تو امام دارقطنی سابق محدثین سے بھی بازی لے گئے ہیں اور بعض فنون میں انہیں سابقیت کا مقام حاصل ہے ۔امام دارقطنی کی   حیات وخدمات اور  ان کے علمی مقام  کو جاننے کےلیے  یہ  کتاب بیش قیمت علمی  تحفہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ کی تدریسی، تحقیقی وتصنیفی ،  علمی اور دعوتی خدمات کو  قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے  (آمین)(م۔ا)

    title-pages-tafseer-sora-fatir-copy
    ارشاد الحق اثری

    قرآن  مجید پوری انسانیت کے لیے  کتاب ِہدایت ہے  او ر اسے  یہ اعزاز حاصل ہے  کہ دنیا بھرمیں  سب  سے زیاد  ہ پڑھی جانے  والی  کتاب ہے  ۔  اسے  پڑھنے پڑھانے والوں کو  امامِ کائنات  نے  اپنی  زبانِ صادقہ سے  معاشرے  کے  بہتر ین  لوگ قراردیا ہے  اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ  تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت  کرتے ہیں۔  دور ِصحابہ سے لے کر  دورِ حاضر  تک بے شمار اہل  علم نے  اس کی تفہیم  وتشریح اور  ترجمہ وتفسیرکرنے کی  خدمات  سر انجام دیں اور  ائمہ محدثین نے  کتبِ احادیث میں  باقاعدہ  ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔اور بعض مفسرین نے  بعض سورتوں کی الگ الگ  تفسیر اور  ان کے  مفاہیم  ومطالب  سمجھا نے کےلیے  بھی کتب تصنیف  کی ہیں  جیسے  معوذتین ،سورہ اخلاص، سورۂ فاتحہ ،سورۂ یوسف ،سورۂ کہف، سورۂ ملک  وغیرہ کی الگ الگ تفاسیر قابل ذکر ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’ تفسیر سورۂ فاطر ‘‘ محقق دوراں  مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ کے محققانہ  قلم سے  ہفت روزہ الاعتصام میں  شائع ہونے والے  دروسِ قرآن کا  مجموعہ  جو  مسلسل الاعتصام میں شائع ہوتے رہے  ۔اس کی  افادیت کے پیش نظر  اس میں مزید حک واضافہ کے ساتھ  ادارۃ العلوم اثریہ ،فیصل آباد نے  اسے  کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔ جس میں  قرآن  مجید کے ترجمہ کےلیے  استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث  التفسیر مولانا  حافظ عبد السلام بھٹوی ﷾ کے ترجمہ کاانتخاب کیا گیا ہےجو عام فہم ہے۔ اور  آیات  سے متعلقہ متفرق فوائد ونکات جو کتب تفاسیر وغیرہ میں پائے جاتے ہیں  حتی الوسع انہیں اس تفسیر  میں  جمع کردیا گیا ہے ۔اللہ تعالی اسے  اہل علم ،طلباء  اور عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے  (آمین) (م۔ا )

    tafseer-sorah-kaaf
    ارشاد الحق اثری
    سورۃ ق کا شمار ان قرآنی سورتوں میں ہوتاہے جن میں ایمان کےبنیادی اصولوں کا بیان ہے۔ نبی کریمﷺ نماز فجر، عیدین اور خطبہ جمعہ میں اس سورۃ کی تلاوت فرماتے تاکہ بنیادی عقائد مستحکم ہوں، توحید و رسالت، حساب کتاب اورجزاو سزا کا تصور مستحضر رہے۔ اسی سورۃ کی اسی اہمیت کے پیش نظر مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے اپنے خطبات میں اس کی تعبیر وتفسیر پیش کی۔ انھی خطبات کو معمولی حک و اضافے کے ساتھ افادہ عام کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ مصنف محترم کا کہنا ہے کہ ہمارے واعظین اور خطبا حضرات سورۃ یوسف جیسی سورتوں کو تو موضوع سخن بناتے ہیں لیکن سورۃ ق جیسی اہم سورتوں پر گفتگو نہیں کرتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے سامنے اس سورۃکی تشریح و توضیح کی جائے تاکہ ان کے سامنے توحید ورسالت کے ساتھ ساتھ موت، قیامت، جزا و سزا، حساب کتاب، جنت و دوزخ کے بیان اور رسول اللہﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین پر مشتمل ہو۔ آیات کی تشریح میں قرآن کریم،احادیث نبویہﷺاور دیگر معتبر مصادر سے کام لیا گیا ہے اور کوئی بھی چیز بغیر حوالہ کے نقل نہیں کی گئی۔ مولانا کے بیان کردہ علمی نکات نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    pages-from-tafseer-sorah-yaaseen
    ارشاد الحق اثری

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہے   کہ دنیا بھرمیں سب   سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سے باب قائم کیے۔اور بعض مفسرین نے بعض سورتوں کی الگ الگ تفسیر اور ان کے مفاہیم ومطالب سمجھا نے کےلیے بھی کتب تصنیف کی ہیں جیسے معوذتین، سورہ اخلاص، سورۂ فاتحہ، سورۂ یوسف، سورۂ کہف، سورۂ ملک وغیرہ کی الگ الگ تفاسیر قابل ذکر ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تفسیر سورۂ یٰسین‘‘ محقق دوراں مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ کے محققانہ قلم سے ہفت روزہ الاعتصام میں شائع ہونے والے دروسِ قرآن کا مجموعہ ہےجو مسلسل الاعتصام میں شائع ہوتے رہے۔ اس کی افادیت کے پیش نظر اس میں مزید حک واضافہ کے ساتھ ادارۃ العلوم اثریہ ،فیصل آباد نے اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔ مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے آیات  سے متعلقہ متفرق فوائد ونکات جو کتب تفاسیر وغیرہ میں پائے جاتے ہیں حتی الوسع انہیں اس تفسیر میں جمع کردیا گیا ہے اور تفسیر سے قبل سورۃ یٰسین کی فضیلت میں منقول 20 احادیث واقوال کو بیان کر کے ان کی صحت وضعف کوبھی تفصیل سے تحریری کیاہے۔ اللہ تعالی اسے اہل علم ،طلباء اور عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین( م۔ا )

    title-page-tanqeehul-kalam-fee-tayeed-tozeehul-kalaam
    ارشاد الحق اثری

    زیر تبصرہ کتاب دراصل فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر لکھی گئ جامع و مستند، سنجیدہ و ٹھوس علمی دلائل سے مزین کتاب "توضیح الکلام" کے جواب میں حبیب اللہ ڈیروی صاحب کی جانب سے لکھی جانے والی کتاب "توضیح الکلام پر ایک نظر" کا جواب ہے۔ بلاشبہ تحقیق و تنقید سے علم ترقی کرتا ہے، کئی مخفی گوشے اجاگر ہوتے ہیں۔بشرطیکہ دیانتداری اور پوری دیدہ وری سے لکھا جائے۔ مگر ڈیروی صاحب کی یہ تصنیف بھی ان کی دیگر کتب کی طرح علمی ثقاہت سے فروتر ہے۔ حد یہ ہے کہ توضیح الکلام میں موجود کسی کتابت کی غلطی اور حوالہ دیتے ہوئے صفحہ کی غلطی پر بھی وہ آپے سے باہر ہو گئے ہیں۔ توضیح الکلام جیسی ٹھوس، سنجیدہ اور علمی کتاب کا جواب گالیوں ، بدتہذیبی اور غیظ و غضب کے اظہار سے دیا گیا ہے۔ حتٰی کہ محدثین کرام کو بھی محرف، خائن، دسیسہ کار، مجرم، ظالم، بداخلاق کہا گیا ہے۔ تفصیلات تو اس کتاب میں ملاحظہ فرمائیں۔ لیکن بہرحال، توضیح الکلام کے بعد تنقیح الکلام کے شائع ہونے سے فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر بہرحال ایک مستند و تحقیقی دستاویز تیار ہو گئی ہے۔

     

     

     

    title-page-tozeehul-kalam-fee-wujoobul-qirat-khalful-imam
    ارشاد الحق اثری

    نماز سے متعلقہ مسائل میں ایک اہم اختلافی مسئلہ فاتحہ خلف الامام یعنی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے یا نہ پڑھنے کا ہے۔ اس موضوع پر فریقین کی بیسیوں کتب موجود ہیں۔ فاتحہ خلف الامام کا انکار کرنے والوں کی طرف سے اس سلسلے کی جامع کتاب "احسن الکلام" شائع ہوئی ہے۔ جس کا کچھ جواب "خیر الکلام" میں حافظ محمد گوندلوی صاحب نے بخوبی دیا ہے۔ لیکن "احسن الکلام" کے نئے ایڈیشن میں "خیرالکلام" پر بھی اعتراضات کئے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "توضیح الکلام" اسی "احسن الکلام" کے محدثانہ جائزے اور تنقید متین پر مشتمل ہزار سے زائد بڑے سائز کے صفحات پر پھیلی ہوئی ایک بے مثال علمی و تحقیقی دستاویز ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں ٹھوس علمی دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں اور امام، مقتدی اور منفرد سب کیلئے یہی حکم ہے۔ دوسرے حصے میں مانعین کے دلائل کو محدثانہ نقد و نظر کی کسوٹی پر رکھ کر ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ مؤلف احسن الکلام نے اپنے مؤقف کو سنبھالا دینے کیلئے جو تاویلات فاسدہ کی ہیں، شاذ اقوال کا سہارا لیا ہے اور علمی خیانتوں کا ارتکاب کیا ہے، تدلیس و تلبیس اور دجل و فریب سے بھی دامن وابستہ رکھا ہے، فاضل مصنف شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے اپنے تعقبات میں ان پر ہر پہلو سے بڑی مدلل گفتگو بلکہ سخت گرفت کی ہے اور کوئی اہم و غیر اہم گوشہ تشنہ بحث نہیں رہنے دیا۔  بلاشبہ فاتحہ خلف الامام کے موضوع پر یہ کتاب ایک بحر زخار ہے۔ ممکن ہے کہ ٹھوس علمی گفتگو کو عام قارئین سمجھنے میں دقت محسوس کریں لیکن سمجھنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ کتاب و سنت ڈاٹ کام ٹیم اپنے قارئین کو یہ کتاب خریدنے، پڑھنے اور دوسروں تک پہنچانے کی پرزور اپیل کرتی ہے۔

     

     اہم نوٹ اس کتاب کے ٹھوس علمی دلائل کے جواب کی کوشش کے طور پر ایک کتاب حبیب اللہ ڈیروی صاحب نے "توضیح الکلام پر ایک نظر" کے نام سے شائع کی ہے۔ بلاشبہ تحقیق و تنقید سے علم ترقی کرتا ہے، اصلاح بھی ہوتی ہے اور کئی مخفی گوشے اجاگر ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ یہ کتاب بھی ڈیروی صاحب کی دیگر تصانیف کی طرح علمی ثقاہت اور ان کے درجہ و مرتبہ سے فروتر ہے۔ ڈیروی صاحب کی اس کتاب کا جواب الجواب شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے "تنقیح الکلام" میں بھرپور انداز میں دیا ہے۔ کتاب و سنت ڈاٹ کام کے قارئین جلد ہی یہ جواب الجواب بھی ان شاء اللہ ملاحظہ فرما سکیں گے۔

     

     

     

    title-page-falaah-ki-raahain-copy
    ارشاد الحق اثری
    اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مؤمنین کے لیے فوزو فلاح اور کامیابی کی  راہوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسے لوگ نمازوں میں خشوع وخضوع اختیار کرنے والے،لغوباتوں سے اعراض کرنے والے،زکوۃ ادا کرنے والے،شرمگاہوں و ا مانتوں کی حفاظت کرنے والے،عہد کی پاسداری کرنے والے  اور نماز کی حفاظت کرنےوالے ہوتے ہیں-زیر نظر کتاب میں ارشاد الحق اثری صاحب انہی فلاح کے راستوں  کو موضوع بحث لائے ہیں- نماز میں خشوع وخضوع کے حوالے سے بحث کرتے ہوئے خشوع ختم کرنے والے اسباب وذرائع کا ذکرکیا گیاہے اور خاشعین کی نماز کے چند ایمان افروز مناظرکو قلمبند کیا گیاہے-اس کے بعد لغو باتوں سے اعراض پر مدلل بحث کرتے ہوئے زکوۃ وصدقہ کی اہمیت اور زکوۃ کے اجتماعی نظام کے فوائد کو قلمبند کیا گیا ہے-مزید برآں  شرمگاہوں کی حفاظت کے ضمن میں صحابہ کرام کے عمل وکردار کی مثالیں بیان کی گئی ہیں اور ساتھ ساتھ زنا کے درجات،اغلام بازی،جانور سے بدفعلی اور استمناء بالید کی دلائل کی روشنی میں شرعی وضاحت کی ہےعلاوہ ازیں امانتوں اور عہدوں کی پاسداری کے سلسلے میں تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے نماز کی حفاظت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے-
    title-pages-qadiyani-kafar-kiyon-copy
    ارشاد الحق اثری

    اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپﷺ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی سب سے آخری اینٹ ہیں۔آپﷺکی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپﷺ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔ آپ ﷺنے فرمایا: میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ ﷺکے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔شریعت اسلامیہ کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ عمل کفریہ اور دائرہ اسلام سے خارج کر دینے والا ہے۔اور جو شخص بھی اس کے عمل کی تصدیق کرے گا یا اسے نبی قرار دے گا، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اللہ رب العزت نے اس کی حقیقت کو جھوٹ وفریب کا بے نقاب کرد یا ۔چنانچہ اس کے خلاف ایک زبر دست تحریک چلی جو اس کے دھوکے اور فریب کو تنکوں کی طرح بہا لے گئی۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے اسے اور اس کے پیروکاروں کو غیر مسلم قرار دے کر ایک عظیم الشان فیصلہ کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "قادیانی کافر کیوں؟"جماعت اہل حدیث کے معروف اور محقق عالم دین محترم ارشاد الحق اثری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے قادیانیت اور عقیدہ ختم نبوت کی شرعی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے قادیانیوں کے کافر ہونے کے دلائل بیان کئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-masla-raful-yadain-pr-aik-nai-kawash-ka-tehqiqi-jaiza-copy
    ارشاد الحق اثری

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے '' نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو'' (بخاری) نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام   کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ   نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 5 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب '' مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی  جائزہ "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین،محقق اور سکالر مولانا ارشاد الحق اثری صاحب ﷾کی تصنیف ہے ۔ جوانہوں نے گوجرانوالہ کے ایک حنفی  فقیہ مولانا سرفراز خاں صاحب کے ایک تلمیذ کی کتاب"نور الصباح" کے جواب میں لکھی ہے،اور اس کے پیش کردہ مغالطات  وادعات کا بھرپور جواب دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف ﷾کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    Title Page---Maslak Ahnaaf aur Molana Abdul Hayy Lakhnawi
    ارشاد الحق اثری

    اس بدیہی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قرآن مجید قیامت تک کے لیے کتاب ہدایت ، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تمام مسلمانوں کے لیے دستور العمل ہے-یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں بہت سے کبار علماء کرام نے تقلید جامد کو ترک کر کے کتاب وسنت کو غور وفکر کا منبع بنایا -انہی میں سے ایک نام مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علہ کا بھی ہے-جنہوں نے کتاب وسنت کی اصل نصوص کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا-زیر نظر کتاب میں مولانا کی ان آراء کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن میں انہوں نے معروف فقہی نقطہ نظر سے ہٹ کر مؤقف اختیار کیا ہے-مصنف نے  کتے کا جھوٹا برتن،گردن کا مسح الٹے ہاتھ سے،عصر کی نماز کا وقت،رفع الیدین ، فاتحہ خلف الامام جیسے مسائل پر اپنی آراء کا اظہار کرتے ہوئے تقلید شخصی کی بیخ کنی کی ہے- علاوہ ازیں موصوف نے میت کو غسل دینے سے غسل کرنا،تکبیرات عید،نماز استسقاء اور طلاق ثلاثہ کے متعلق کتاب وسنت کے اصل مؤقف کی جانب رجوع کرتے ہوئے عصر حاضر کے علمائے کرام کو دعوت فکر دی ہے کہ وہ تقلید وجمود کی بجائے براہ راست مذہب کے اصل سرچشموں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں-

    title-pages-mushaajraat-e-sahaabar
    ارشاد الحق اثری
    صحابہ کرامؓ کی عظمت کیلئے یہ بات ہی کافی ہے کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے ان کو اس دنیا میں ہی اپنی رضا و خوشنودگی کی خوش خبری سنا دی تھی۔ قرآن کریم نے بھی ان کو ’’خیر امت‘‘ اور ’’امت وسط‘‘ سے تعبیر کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دشمنان اسلام نے بھی صحابہ کرام کی نفوس قدسیہ کو ہدف تنقید بنانا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے۔ زیر نظر کتاب محقق عالم دین ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی ایک علمی و تحقیقی کاوش ہے جس میں انہوں نے صحابہ کرامؓ کا بھرپور دفاع کرت ہوئے اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ صحابہ کرامؓ اپنے باہمی مشاجرات و اختلافات کے باوجود عادل و صادق ہیں۔ امت کے ھدی خواں ہیں اور تمام سلف کا بھی یہی موقف ہے۔ اِس کتاب میں قابل مصنف نے یہ عرض کرنے کی کوشش کی ہے کہ تمام اہل سنت اور سلف امت کے نزدیک مشاجرات صحابہؓ کا حکم کیا ہے تاکہ عامۃ الناس اسے پڑھ کر صحابہ کرام کے بارے اپنے عقائد و نظریات کی اصلاح کر سکیں اور اس طرح کی مباحث و مسائل کو زیر بحث لانے سے گریز کریں جو مشاجرات صحابہ و اختلافات صحابہ پر مشتمل ہوں۔ کتاب میں قدیم و جدید علماء عرب و عجم کے ان اقوال، آراء اور فتاویٰ کا بیان ہے جو مشاجرات صحابہ سے متعلق ہیں۔ کتاب ہذا میں طوالت کے خدشہ کے تحت مقامِ صحابہ، عدالت صحابہ اور سبّ صحابہ کے متعلقات و مباحث پر قصدًا چھوڑ دیا گیا ہے۔ صرف مشاجرات صحابہ کے حوالے سے ائمہ و فقہاء کے اقوال و آراء اور فتاویٰ جات کو نقل کیا گیا ہے۔ کتاب خاص علمی تناظر میں لکھی گئی ہے۔ جو قابل مطالعہ اور لائق تعریف ہے۔(آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    Title Page---Maqalat Irshadul Haq Athri
    ارشاد الحق اثری
    عالم اسلام میں سے ایک مخصوص حلقے کے اس رویے کی کسی طور بھی تائید نہیں کی جاسکتی کہ اجتہاد کادروازہ بند ہوچکاہے- اگر اس مؤقف کو تسلیم کر لیا جائے تو معاشرہ یقینی طور پر جمود کا شکار ہوکر عصر حاضر میں پیش آمدہ نئے نئے مسائل کے حل سے عاری نظر آئیگا- مزید برآں اجتہاد کا دروازہ خود خدا تعالی نے امت  محمدیہ کے لیے کھولا ہے جس کی توثیق متعدد فرامین نبوی  سے ہوتی ہے-زیر نظر کتاب میں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے اجتہاد کا دامن تھام کر غیر تقلیدی رویہ اختیار کرنے والوں پر کیے جانے والے اعتراضات  کا علمی جواب پیش کیا ہے-مصنف نے مقلدین کی تنگ نظری اوراس سلسلے میں  مسلک اعتدال کا تذکرہ کرتے ہوئے  فقہاء کے مابین اختلاف کی نوعیت بیان کی ہے-علاوہ ازیں تراویح کی مسنون تعداد،حلالہ، عید میلاد کے بارے میں قرآن وسنت کا اصل مؤقف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ علامہ کوثری کے افکار ونظریات پر روشنی ڈالی ہے-مزید برآں ایسے ڈھیروں مسائل کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے جو کتاب و سنت کے حامیوں کے مابہ الامتیاز ہیں اورمقلدین حضرات  اپنی تقلیدی روش کی بناء پرواضح دلائل کے باوجود ان سے اعراض کیے ہوئے ہیں-

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maqalat-arshad-ul-haq-asri-2
    ارشاد الحق اثری
    عالم اسلام میں سے ایک مخصوص حلقے کے اس رویے کی کسی طور بھی تائید نہیں کی جاسکتی کہ اجتہاد کادروازہ بند ہوچکاہے- اگر اس مؤقف کو تسلیم کر لیا جائے تو معاشرہ یقینی طور پر جمود کا شکار ہوکر عصر حاضر میں پیش آمدہ نئے نئے مسائل کے حل سے عاری نظر آئیگا- مزید برآں اجتہاد کا دروازہ خود خدا تعالی نے امت  محمدیہ کے لیے کھولا ہے جس کی توثیق متعدد فرامین نبوی  سے ہوتی ہے-زیر نظر کتاب میں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے اجتہاد کا دامن تھام کر غیر تقلیدی رویہ اختیار کرنے والوں پر کیے جانے والے اعتراضات  کا علمی جواب پیش کیا ہے-مصنف نے مقلدین کی تنگ نظری اوراس سلسلے میں  مسلک اعتدال کا تذکرہ کرتے ہوئے  فقہاء کے مابین اختلاف کی نوعیت بیان کی ہے-علاوہ ازیں تراویح کی مسنون تعداد،حلالہ، عید میلاد کے بارے میں قرآن وسنت کا اصل مؤقف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ علامہ کوثری کے افکار ونظریات پر روشنی ڈالی ہے-مزید برآں ایسے ڈھیروں مسائل کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے جو کتاب و سنت کے حامیوں کے مابہ الامتیاز ہیں اورمقلدین حضرات  اپنی تقلیدی روش کی بناء پرواضح دلائل کے باوجود ان سے اعراض کیے ہوئے ہیں-

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-maqaam-e-sahaba
    ارشاد الحق اثری
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ نفوس قدسیہ ہیں ،جنہیں جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت ایمان میں زیارت نصیب ہوئی اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ مل کر دعوت وجہاد کے میدانوں میں کارہائے نمایاں سر انجام دیتے امت تک قرآن وحدیث کی تعلیمات کو روایت وعمل کے ذریعہ بھی انہی نے پہنچایا۔اس اعتبار سے ان کا مقام ومرتبہ انتہائی بلند وبرتر ہے ۔اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد سب سے افضل واعلیٰ مقام صحابہ کرام کا ہے ۔زیر نظر کتاب معروف عالم دین اور محدث زماں مولانا ارشادالحق اثری حفظہ اللہ کی تصنیف ہے ،جس میں بہت ہی علمی انداز سے صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کیا گیا ہے ۔قر آن وحدیث سے مناقب صحابہ رضی اللہ  عنہم کے بیان کے علاوہ بعض اصولی نکات کی بھی علمی توضیح کی ہے ۔جس میں عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مسئلہ بھی شامل ہے ۔بعض صحابہ کرام رضی  اللہ عنہم پر حرف گیری  کی حقیقت بھی واضح کی ہے اور اس سلسلہ میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا مکمل ازالہ کیا ہے ۔اس اعتبار سے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید ثابت ہو گا جس  سے دشمنان صحابہ کےمکروہ پراپیگنڈے کا موثر توڑ ہو گا او رصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت ورفعت نکھر کر سامنے آجائے گی۔(ط۔ا)
    title-page-maolana-sarfaraz-apni-tasnifat-k-aainy-men
    ارشاد الحق اثری
    دین اسلام کے بنیادی اور اہم ترین اصولوں میں سے  ایک اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں سے بالعموم اور اپنےمسلمان بھائیوں کےساتھ بالخصوص ،خیر خواہی ،ہمدردی  او ربھلائی کامعاملہ کیا جائے سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے   کو لوگو ں کو صراط مستقیم کی رہنمائی کی جائے  برائیوں اور معصیتوں سے خبردار کیا جائے اسی کا دوسرا نام ''فريضہ تبلیغ دین''  یعنی امر بالمعروف  ونہی عن المنکر ہے عصر حاضر میں جو حضرات خدمت دین کا  فريضہ  سر انجام دے رہے ہیں  ان میں ایک دیوبندی مکتب فکر کے نامور عالم دین حضرت مولانا محمدسرفراز صاحب  ہیں  جو ماشاء اللہ دو درجن کتابوں کے مصنف ہیں  اور ان کے حلقہ میں  ان کی تصانیف کو خوب پذیرائی  حاصل ہے لیکن چونکہ وہ تمام مسائل کو  اپنے مخصوص زاویہ نظر وفکر میں پیش کرتے ہیں  اس لیے اکثروبیشتر  اس کے تحفظ میں حد اعتدال سے تجاوز کرجاتے ہیں اپنے او ردوسرے مکتب فکر کے حضرات کےلیے عدل وانصاف کےپیمانے بھی ان کے ہاں مختلف ہیں جواصول اپنے دفاع میں ایک جگہ بڑی محنت وکاوش سے منتخب کرتے ہیں وہی اصول مخالف سمت میں آئے تواسکی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیتے ہیں اس طرح کی بہت سی ناانصافیاں  ان کی تصانیف میں نظر آتی ہیں جیسا کہ انشاء اللہ العزیز اس رسالہ سے عیاں ہوگابلاشبہ انسان غلطی وخطا کاپتلا ہے ہمارا یہاں مقصور الدین النصیحۃ کے ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کےتحت ان باتوں سے محض خبردار کرنا ہے ­حضرت مولانا صاحب کےحلقہ ارادت سے بالخصوص اور عام مسلمانوں سے بالعموم عرض کرناہے کہ وہ حضرت مولانا صاحب کےمزاج  اور ان کی ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ہمیشہ ''خذ ماصفا ودع ماکدر'' پر عمل کریں۔ مولانا سرفراز صاحب تو اس دارفانی سے رخصت ہو چکے اب ان کے جانشین احباب کی خدمت میں عرض ہے  کہ اگر آپ بھی ہمار ی یہ گذارشات درست او رحقیقت پر مبنی سمجھیں  تو للہ ان کی تصانیف کے آئندہ ایڈیشنوں میں  ان کی اصلاح کریں کیونکہ اس قسم کی بھول بھلیاں ایک  صاحب علم وفضل پر بدنما داغ ہیں-


    pakohindmainulamaiahlehadeethkeekhidmaatehadeethpdf02
    ارشاد الحق اثری
    اس کتاب میں مصنف ارشاد الحق اثری صاحب نے پاک و ہند میں علمائے اہلحدیث کی خدمات حدیث کو بیان کیا ہے جس  میں انہوں نے بے شمار جید علماء اہلحدیث کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ برصیغر میں اسلام کی آمد  کیسے ہوئی , حدیث سے بے اعتنائی کے چند واقعات کو بیان کرتے ہوئے چند رجال حدیث کا بھی ذکر کیا ہے جس میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ , شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ , عبد الغزیز رحمہ اللہ , مولانا عبد الرحمان محدث مبارکپوری رحمہ اللہ , مولانا شمس الحق محدث ڈیانوی رحمہ اللہ مولانا وحید الزمان خاں رحمہ اللہ , حضرت نواب صدیق الحسن خاں قنوجی رحمہ اللہ اور اہلحدیثوں کے تدریسی مراکز , اکابرین دیوبند کا انداز تدریس , حدیث کی تعلیم اشاعت میں روکاٹ , دیوبند کا اساسی مقصد , علمائے اہلحدیث کا طریقہ درس , علمائے اہلحدیث کی خدمات کا اعتراف اور اس کی تحسین , اہلحدیثوں کی تصنیفی خدمات , خدمات علمائے غزنویہ کو بیان کرتے ہوئے موصوف نے بے شمار کتب حدیث کا تعارف کرایا ہے جس میں صحیح بخاری , صحیح مسلم , سنن نسائی , سنن ابی داؤد , جامع ترمذی , سنن ابن ماجہ , مؤطا امام مالک جیسی بے شمار کتب کا تعارف کروایا ہے  اس کتاب کے مطالعہ سے علمائے اہل حدیث کی حدیث وسنت سے محبت اور اس کی تبلیغ واشاعت کا جذبہ نکھر کرسامنے آتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خدمت حدیث اہل حدیث کا طرۂ امتیاز ہے



    titel-deeen-e-islam-key-sath-
    بکر بن عبد اللہ ابو زید

    فی زمانہ کسی بھی بین الاقوامی اجتماع میں جب تمام مذاہب کے ماننے والوں کو جمع کیا جاتا ہے تو مشترکہ طور پر اس اجتماع کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ ’’ تمام مذاہب یکساں اور بر حق ‘‘ ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی پیروی سے کا ٰئنات کے خالق اللہ رب العالمین کی رضا اور خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے۔لہذا کسی ایک مذہب والے (خصوصاٌ اھل اسلام) کا اس بات پر اصرار کے اب تا قیا مت نجات کی سبیل صرف ہمارا دین و مذہب ہے یہ ایک بے جا سختی اور تشدد یا انتہا پسندی ہے، جس کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔پھر اس’’ نظریہ وحدت ادیان‘‘ کی تفصیل کچھ یوں بیا ن کی جاتی ہے کہ ’’ جب منزل ایک ہو تو راستوں کے جدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘ یعنی ہر مذہب والا ایک بزرگ و بر تر ذات کی بات کرتا ہے جسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے ، کبھی اللہ تو کبھی بھگوان اور کبھی God جبکہ حقیقتاٌ تمام مذاہب اللہ کی بندگی اور خوشنودی حاصل کرنے کے ذرائع ہیں ، اس لئے ہر مذہب میں حق و انصاف ، انسان دوستی اور انسانی بھائی چارے کی تعلیم دی گئی ہے لھذا تمام انسانوں کو تمام مذاہب کا برابر کا احترام کرنا چاہیے، کسی ایک مذہب یا دین کی پیروی پر اصرار تشدد اور بے جا سختی ہے ، وغیرہ وغیرہ۔صاحب علم و صاحب مطالعہ حضرات یقیناًاس بات سے اتفاق کرینگے کہ یہ ’’نظریہ وحدت ادیان ‘‘ ایک جدید اصطلاح ہے جسے اسلام دشمن عناصر نے یا احباب نما اغیار نے ایجاد کیا ہے۔اور یہ ایک انتہائی اور اسلام مخالف اصطلاح ہے ،جس کا اسلام نے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔چنانچہ متعدد اہل علم میدان میں آئے اور انہوں نے اس باطل نظرئیے کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔جن میں سے مولانا سلطان احمد اصلا حی کی کتاب ’’وحدت ادیان کا نظریہ اور اسلام ‘‘ بہت مفید دکھائی دیتی ہیں۔شیخ امین اللہ پشاوری نے بھی اپنے فتاویٰ ’’الدین الخالص‘‘ مجلہ نمبر ۹ میں گرفت فرمائی ہے۔شیخ ابن بازؒ نے بھی علمی انداز سے نکیر فرمائی ہے جسے ’’مجموع فتاویٰ و مقالات متنوعہ ‘‘ کی جلد نمبر ۲ میں دیکھا جا سکتا ہے ۔انہی کوششوں میں سے ایک یہ کاوش ڈاکٹر بکر ابو زید کی کتاب ’’الابطال لنظریۃ الخلط بین الادیان‘‘ ہے، جس کا اردو ترجمہ " اسلام کےساتھ یہودیت اور عیسائیت کی وحدت کے باطل نظریات کا رد "پاکستان کے معروف عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری نے کیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں اس باطل نظریئے کی ابتداء ،اس کے علم بردار اور اسے فروغ دینے والوں کو منکشف کرتے ہوئے قرآن وحدیث سے اس کا رد کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان مبارک کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
title-pages-aadab-e-al-dua-w-al-duwa-copy

دعاء  کا مؤمن کاہتھیار ہے  جس طرح  ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے  دشمن  سےاپنادفاع کرتا ہے  اسی طرح مؤمن کوجب  کسی پریشانی  مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے  تووہ  فوراً اللہ  کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے  دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے  کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس  دنیا کی  زندگی  میں  جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے  وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے  بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی  کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالی  ہے  ان بیماریوں کے لیے  جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے   دعائیں بھی  بڑی مؤثر ہیں۔بہت سارے  اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی  کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے  فائدہ  اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔اللہ کے دربار میں اپنی معروضات پیش کرتے وقت دربار عالیشان کے آداب کو  ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ زیرنظر کتاب ’’آداب  الدعا ءوالدواء‘‘جناب عبد الخالق محمد  صادق صاحب   نے اسی غرض سے مرتب کیا  ہے تاکہ  ہم  دعا کرنے کےوہ آداب وطریقے جو ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں  وہ  معلوم کر سکیں اور ان کے مطابق اللہ کی بارگاہ میں اپنی درخواستیں پیش  کریں۔صاحب کتاب نے صحاح وحسان  احادیث ہی درج   کی ہیں اور حتی  لمقدور کوشش کی ہے کہ کوئی ساقط عن الاعتبار روایت نقل نہ کی جائے  اور اس سلسلے میں عصر حاضر کے محققین محدثین کرام کی تصحیح وتحسین پراعتماد کیا ہے۔محقق العصر  مولانا ارشاد الحق  اثری ﷾  کی نظرثانی  سےاس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اور اپنےبندوں کو اس سے استفادہ کی توفیق بخشے۔ (آمین) (م۔ا)

title-page-bloghul-maraam-jild1
احكام ومسائل پر مشتمل مختصر اور آسان ترین کتابوں میں سے سب سے جامع اگر ’بلوغ المرام‘ کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا جس کے مؤلف بلند پایہ امام حافظ ابن حجر عسقلانی ہیں۔ بلوغ المرام کو جہاں مدارس دینیہ کے ابتدائی طلباء کے لیے بطور نصاب مقرر کیا گیا وہیں عوام میں بھی اسے بہت پذیرائی سے نوازا گیا۔ کتاب کی افادیت کو دیکھتے ہوئے عالم اسلام کی ممتاز شخصیت مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے اس کی عربی میں مختصر سی شرح بھی کی۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو ترجمہ ہے جس کے مطالعے سے آپ کو نماز، روزہ، حج ، اور زکوۃ سے لے کر نکاح وجہاد تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں قرآن کریم کی عملی تفسیر دیکھنے کو ملے گی۔
title-page-difa-e-saheh-bukhari

قرآن مجيدکےبعد سب سے زیادہ صحیح ترین اور قابل اعتماد کتاب ہونے کے شرف صحیح بخاری کو حاصل ہے۔ علماءے امت کا اتفاق ہے کہ اس کی تمام مرفوع ومتصل روایات کی صحت پر اجماع اور انہیں تلقی بالقبول حاصل ہے۔ لیکن تقلیدی جمود اور فقہی روایات کے دفاع میں نہ صرف صحیح بخاری کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ امام بخاری پر بھی طنز کے نشتر چلائے گئے۔ صحیح بخاری کو ناقص اور نامکمل ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تو اس کی احادیث کو ضعیف اور ناقابل عمل قرار دینے سے دریغ نہ کیا گیا۔ طرفہ تماشہ تو یہ ہے کہ اس کی بعض روایات کو قرآن پاک کے خلاف باور کرانے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی گئی۔ ان اعتراضات کی بارش کرنے والوں میں سے ایک نمایاں نام مولوی عمر کریم حنفی کا ہے جنہوں نے امام بخاری اور صحیح بخاری کو نشانے پر رکھتے ہوئے بہت سے رسائل  اور اشتہار تحریر کیے جن کا علمی اور سنجیدہ اسلوب میں مولانا ابوالقاسم سیف بنارسی نے مختلف رسائل میں جواب دیا۔ زیر نظر کتاب میں حافظ شاہد محمود نے بھرپور محنت کے ساتھ ابوالقاسم سیف بنارسی کے دیے گئے تمام جوابات کو جمع کیا ہے۔ یہ مجموعہ سات کتابوں پر مشتمل ہے:1۔ صراط مستقیم لہدایۃ عمر کریم۔ اس میں عمر کریم پٹنوی کے اشتہار کا مختصر جواب ہے۔2۔ الریح العقیم لحسم بناء عمر کریم۔ اس میں ذکرکردہ اشتہار کے بقیہ مباحث کو مفصل بیان کیا گیا ہے۔3۔ العرجون القدیم فی إفشاء ہفوات عمر کریم۔ اس میں امام بخاری کا دفاع اور ان کے حالات زندگی قلمبند کیے گئےہیں۔4۔ الخزی العظیم للمولوی عمر کریم۔ اس میں صحیح بخاری کی حدیثوں میں مطابقت ثابت کر کے عمر کریم کے اعتراضات کا دندان شکن جواب تحریر کیا گیا ہے۔5۔ ماء حمیم للمولوی عمر کریم۔ اس میں عمر کریم کے بارہ سوالوں کے جواب بیان کیے گئےہیں۔6۔ الأمر المبرم لإبطال الکلام المحکم۔  یہ ’’الکلام المحکم‘‘ میں کیے گئے اعتراضات کا مسکت اور جامع جواب ہے۔7۔ حل مشکلات بخاری۔ یہ کتاب پچھلی تمام کتابوں کا خلاصہ ہے۔المختصر اردو زبان میں دفاع صحیح بخاری پر اس قدر جامع کتاب پہلی بار منظر عام پر آئی ہے۔ اسے صحیح بخاری کے دفاع  پر مشتمل دستاویز کہا جائےتو بے جا نہ ہوگا۔

pages-from-seerat-encyclopedia-jilad-1

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں. حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے۔ اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے   جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔

زیر تبصرہ کتاب سیرت انسکائیکلوپیڈیا’’اللولؤ المکنون‘‘ 11جلدوں پر مشتمل اپنی نوعیت کا نہایت منور، منفرد اورممتاز علمی وتحقیقی وارمغانِ عقیدت ہے۔ یہ سیرت انسکائیکلوپیڈیا سیدالانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت مطہرہ پر بے مثالی علمی وتحقیقی ہدیہ عقیدت، رسول اللہ ﷺ کی قبل از پیدائش سے آپ ﷺ کی وفات تک کے مستند حالات وواقعات کا مکمل اور جامع تذکرہ، رنگین تصاویر، نقشوں، خاکوں، شجروں ور آیات سیرت پر مشتمل قرآنی خطاطی کا شاہکار۔ تاریخی واقعات اہم مقاما ت سے متعلق معلومات افزا حواشی رنیگین آرٹ پیپر اعلیٰ بیروتی طباعت اور خوبصورت آسان اور دلچسپ اندازِ بیان ہے۔’’اللؤلؤ المکنون‘‘کےمطالعے سےرسالت مآب ﷺکی مقدس زندگی کے ہر گوشے کےبارے میں علم وبصیرت کی بھر پور روشنی ملے گئی۔سیرت انسکائیکلو پیڈیا میں سیدنا محمد رسول اللہًﷺ کی پیدائش سےلے کر آپ کی وفات تک کےاحوال وآثار پوری جزئیات سمیت نہایت جامعیت سےپیش کرنےکی کوشش کی گئی ہے ۔دعوتِ اسلام سے پہلے جزیرہ نمائے عرب کے باشندوں، ان بودوباش ،سماجی رویوں اور جملہ خصائل کےعلاوہ ارد گرد کی اقوام کے حالات بھی بیان کیے گئے ہیں ۔تاکہ تاریخ انسانی کےسب سےعظیم اورسب سےروشن عہد کےآغاز کاپس منظر قارئین کے سامنے آجائے اور یہ حکمتِ الٰہی عیاں ہوجائے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت اوربعثت کے لیے جزیرہ نمائے عرب ہی کوخاص طور پر کیوں منتخب کیاگیا۔سیرت انسائیکلوپیڈیا میں نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ ترتیب زمانی کےمطابق مدون کی گئی ہے اورکوشش کی گئی ہے کہ یہ کتاب اسلوب اور تأثر کےاعتبار سےنبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کے مختلف مراحل اور حالات وواقعات کو ایک خاص معنویت کے ساتھ اجاگر کرے گی ۔ اس کا اسلوب بیان انتہائی سادہ آسان ،دلنشیں اور مدلل ہے۔ کتاب کےشروع میں ایک جامع مقدمہ رقم کیاگیا ہے جس میں سیرت کے موضوع اور اس کےخصوصی مطالعےکی اہمیت وضرورت کےاسباب بتائے گئےہیں۔ مختلف ادوار میں متداول کتبِ سیرت اور سیرت نگاروں کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ نیز مستشرقین اوران کے گرویدہ قلمی طائفے کاعلمی محاسبہ کیاگیا ہے۔ایک واقعے کی تمام روایات کو جمع کرنےکے بجائے مستند اورجامع روایت کا ذکر کیاگیا ہے۔البتہ جہاں روایت مختصر ہو وہاں متعددروایات کو حوالوں سمیت یکجا کردیا گیا ہے۔روایات کی اسناد ومتون کی صحت اور راویوں کے معتبر ہونے کا پورا پورا خیال رکھا ہے۔ کوشش کی گئی ہےکہ وہی روایات لے جائیں جنہیں محدثین کرام نے سیرت طیبہ کے ضمن میں قابلِ اعتناسمجھا ہے اور جہاں خلا پُر کرنے کے پیش نظر ضعیف روایات کا تذکرہ ضروری سمجھا گیا ہے وہاں ان کا ضعف واضح کردیا گیا ہے۔ تمام جلدوں میں ہر باب سے پہلے اس باب کےموضوع کی مطابقت میں ایک آیت نہایت خوبصورت خطاطی کی شکل میں سجادی گئی ہےجو اس باب کے کلیدی خیال کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ قرآنی آیات اور عربی متون کو سرخ رنگ دے کر امتیازی حیثیت دی گئی ہے ۔متن کتاب میں مذکور مشکل الفاظ کی شرح ،غیر معروف مقامات کی وضاحت وتعین اور مختلف اعلام وقبائل کی تعریف مختصر حواشی میں کردی گئی ہے ۔یہ حواشی ہر جلد کے آخر میں حروف تہجی کے اعتبار سے مذکور ہیں۔اماکن کی تفہیم کےلیے نقشوں کا خاص اہتمام کیاگیا ہے۔ بعض مقامات کی تعین کے لیے خاکوں سے کام لیا گیا ہے۔ تحقیق وتخریج   کابڑا عمدہ اہتما م کیا گیا ہے۔ نقشوں اور خاکوں اورشجروں کی الگ فہرست بھی مرتب کردی گئی ہے۔ اس انسکائیکلوپیڈیا کی آخری جلد اشاریے پر مشتمل ہوگی جس میں قرآنی آیات، احادیث نبویہ ، اقوال ِصحابہ ،اشعار اور مضامین ،مکمل فہرستوں کے ساتھ اعلام، اماکن، قبائل، اور مذاہب وفِرق وغیرہ کی فہرستیں بہی بہ اعتبار حروف تہجی شامل ہوگی۔ اور اس آخری جلد میں سیرت انسکائیکلو پیڈیا کےمصادر و مراجع کی تفصیلی فہرست بھی ہوگی۔ ( ان شاء اللہ )سیرت انسائیکلوپیڈیا دارالسلام کی عظیم الشان پیشکش شاہکار ہے۔ جسے   دارالسلام کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی زیر قیادت ،دارالسلام کے ریسر چ سکالرز کی ٹیم نے بڑی محنتِ شاقہ اور جانفشانی سےتیار کیا ہے اوراس میں عالمی سیرت نگار مولانا صفی الرحمن مبارکپوری ﷫ کےعلاوہ نامور علمائے کرام کے مشورے وتجاویز میں شامل ہیں۔ مزید برآں محقق دوراں مولانا ارشاد الحق اثری﷾ کی تحقیق، تنقیح وتصحیح اوراسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن اور معروف مترجم مولانامحمد خالدسیف﷾ کی نظرثانی سے اس کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس انسائیکلوپیڈیا کی تیاری میں شامل تمام احباب کی محنتوں کو قبول فرمائے اورانہیں اجر عظیم سے نوازے۔ اور امت ِمسلمہ کو اس کتاب سے مستفید فرمائے۔ آمین( م۔ا)

pages-from-maah-e-shawaal-ke-6-rozey

رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہیں، اورمسلمان کے لیے مشروع ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے جس میں فضل عظیم اوربہت بڑا اجر و ثواب ہے، کیونکہ جو شخص بھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ روزے بھی رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا اجروثواب لکھا جاتا ہے۔ سیدنا ابوایوب انصاری﷜ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺنے فرمایا: جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں۔ ( صحیح مسلم) لیکن عصر حاصر کے بعض روشن خیال مجتہدین ماہ شوال کے چھ روزوں کو مکرو ہ کہتے ہیں نیز امام مالک﷫  اور امام ابو حنفیہ﷫  سے بھی ان کی کراہت  منقو ل  ہے لیکن متا خرین نے ان سے اتفاق  نہیں کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ماہ شوال کے چھ روزے فضائل ومسائل اور شبہات کا ازالہ‘‘ المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر، کے ریسرچ سکالر اور المعہد السلفی ،کراچی کے مدرس محترم جناب مولانا حافظ محمد یونس اثری﷾ کی کاوش ہے۔ یہ کتابچہ در اصل کراچی کے ایک عالم دین مفتی زرو لی صاحب کے ایک کتابچہ’’ احسن المقال فی کراہیۃ صیام ستۃ شوال‘‘ کے تعاقب میں محدث العصر حافظ زبیر علی﷫ کی طرف سے تحریر کے گئے ایک مضمون ’’صحیح الاقوال فی استحباب صیام ستۃ من شوال‘‘ کا تکملہ ہے۔ اس مضمون میں حافظ زبیر علی﷫ نے مفتی زر ولی کے وہ اعتراضات جو اس نے شوال کے روزوں کی فضیلت سے متعلق اٹھائے تھے ان کا مدلل ومسکت جواب دیا تھا جسے اہل علم نے خوب سراہا اور اسے علماء و طلباء میں یکساں پذیرائی ملی۔بعد ازاں حافظ یونس اثری ﷾ نے حافظ زبیر علی زئی﷫ کے مضمون پر تکملہ کی صورت میں مفتی زرلی ولی کے رسالہ پر ایک اور تعاقب کیا ہے اور مزید دلائل سے مسئلہ مذکورہ کی حقانیت ثابت کرتے ہوئے ان اعتراضات کے جوابات بھی قلمبند کردیئے ہیں جنہیں شیخ زبیر علی زئی نے طوالت کی بنار پر یا غیر اہم سمجھتے ہوئے نظر انداز کردیا تھا۔ الغرض اس رسالہ میں مولانا زبیر علی زئی﷫ اورمولانا حافظ محمد یونس اثری﷾ نے شوال کے چھ روزں کے متعلق مفتی زرولی صاحب کے ان تمام شکوک وشبہات کا ازالہ فرمادیا ہے جو مفتی موصوف اور ان کے ہم خیال حضرات نے تجاہل عارفانہ کے طور پر پیدا کیے تھے یا محض اپنے امام کے فتویٰ کے تحفظ میں وارد کیے تھے۔ اللہ تعالیٰ دفاع حدیث کے سلسلے میں مولانا حافظ محمد یونس اثری﷾ کی اس علمی وتحقیقی کاوش کو قبول فرمائے اور اس کے ذریعے راہ حق کو قبول کرنے کی اپنے بندوں کو توفیق بخشے۔ (آمین) (م۔ا)

title-pages-ghustakhe-rasool-ki-saza-aur-uska-anjam

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہوئےاہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔زیر نظر کتابچہ '' گستاخ رسول کی سزا اور اس کا انحام'' محترم مولانا محمد زبیر آل محمد ﷾ نے اسی پس منظر میں تحریر کیا جس میں گستاخ رسول کی سزا اور اسکے انجام کوقرآن وحدیث کی روشنی میں پوری طرح اجاگر کیاگیا ہے اور اس کتابچہ کی نظر ثانی کا کا م محقق العصر مولانا ارشاد الحق اثری﷾ نے انجام دیا۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسلام دشمن قوتوں کی تمام سازشوں سے امت مسلمہ کو محفوط رکھے (آمین)(م۔ا)

 

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

 

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2022 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں