اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #2120

    مصنف : محمد عظیم حاصلپوری

    مشاہدات : 4132

    خوابوں کا سفر

    (بدھ 04 جون 2014ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دوچار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتاہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہوجاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے ۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنےکی مانند بالکل آشکارہوجاتی ''اور نبی ﷺنے فرمایا ''نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ''خوابوں کی تعبیر ،احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے ۔ اس سلسلے میں متقدمین میں سے امام ابن سرین  کی کتاب قابل ذکر ہے جو کتاب وسنت ویٹ سائٹ پر موجود ہے ۔زیر نظر کتاب ''خوابوں کاسفر''از محمدحسن ظاہر ﷾ بھی اسی موضوع پر اہم کتاب ہے فاضل مصنف نے اس میں خواب کے متعلق احکام اور انبیاء و رسل،صحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین او رنیک لوگوں کےخواب جمع کرکے ان کی ضروری وضاحب بھی کردی ہے اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور قلم میں برکت عطاء فرمائے (آمین)( م۔ ا)

     

     

  • 2 #2244

    مصنف : محمد عظیم حاصلپوری

    مشاہدات : 3610

    پریشانیاں کیوں آتی ہیں

    (جمعہ 11 جولائی 2014ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    مصائب وآلام بیماری اور تکالیف  سب کچھ  منجانب اللہ ہے  اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا  حصہ ہے  کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ  کی ذات ہے ۔ لیکن جہاں تک  ان کے  اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا  نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے  ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے  شمار گناہوں کو  معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی  ضرورت  ہے  یعنی نفس پر اتنا  قابو  ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس  میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں  وہ  اداس اور بدل نہ  ہو۔ زیر نظر کتاب ’’ پریشانیا ں کیوں آتی ہیں؟ مصیبت آئے تو کیا کروں‘‘ محتر م مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ کی تصنیف ہے  جس کو انہوں نے  دوحصوں میں تقسیم کیا ہے  حصہ اول میں  انسان کو پیش آنے والی پریشانیاں  اور مصائب کے اسباب اور دوسرا حصہ میں جب  انسان تکالیف ،پریشانیاں ،مصائب  میں  مبتلا ہو تو جن امور کو اختیار کرنا چاہیے  فاضل مصنف نے ان کو  قرآن  واحادیث کی  روشنی میں  بڑے  احسن انداز میں بیان کردیا ہے ۔ اللہ  تعالی مصنف کی  اس کاوش کو شرف قبولیت  سے  نوازے او ر اس کتاب کو  عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے  (آمین) (م۔ا)

     

  • 3 #2293

    مصنف : قاری روح اللہ مدنی

    مشاہدات : 2480

    حضرت عمر کا قائدانہ کردار

    (ہفتہ 02 اگست 2014ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ  کاوہ روشن باب ہے جس  نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ  دیا ہے ۔ آپ  نے حکومت کے انتظام  وانصرام  بے مثال عدل  وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ  ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی  او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے  کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے  سے  قاصر ہے۔ انسانی  رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق  وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم  ﷜ کا  ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے  پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ  سادگی فروتنی  اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے  دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے  جس  نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ  بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر  فاروق ﷜  کے اسلام لانے اور  بعد کے  حالات احوال اور ان کی  عدل انصاف  پر مبنی حکمرانی  سے اگاہی کے لیے  مختلف اہل  علم  اور مؤرخین نے  کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈائریکٹر دار السلام)  وغیرہ کی کتب  قابل ذکر  ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’ حضرت عمر فاروق ﷜کا قائدانہ کردار‘‘ محترم قاری روح اللہ مدنی ﷾‘‘ کی  سیدنا حضرت  عمر بن  خطاب ﷜ کی سیرت  واحوال  کے متعلق  مختصر مگر جامع  کتاب ہے ۔ فاضل  مصنف نے  ایمان افروز اور دلکش  اسلوب میں  امیر المؤمنین  حضر  ت عمر فاروق ﷜ کی سیرت معطرہ کے رنگ برنگ پاکیزہ مناقب ،روح پرور رعایا پروری کے وقعات  کو بڑے  احسن انداز  بیان  میں کیا ہے  ۔اللہ تعالی ان  کی اس کاوش  کو قبول فرمائے  ۔اور تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢  کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق اور  عالم اسلام کے  حکمرانوں  کو سیدنا عمر فاروق ﷜کے نقشے قدم  پرچلنے  کی توفیق عطا فرمائے(آمین) (م۔ا) 

  • 4 #2840

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 6110

    منہاج الخطیب

    (پیر 26 جنوری 2015ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت  کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب  میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان  خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے  اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری  گلستانِ  کتاب وسنت  کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان  کے لقب سے یاد کرتی  ہے۔خطباء  ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے  زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے  اور واعظین  ومبلغین کا بطریق احسن  علمی تعاون  ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام  دینے  کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء  ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع  میسر نہیں یا  جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے  خطباء کی تیاری  کےلیے آسانی   ہوسکے  ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم  کے  ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات  قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی  کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب)  اسلامی  وعلمی  خطبات  کی  کتابوں کی لسٹ میں  گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’منہاج الخطیب‘‘ محترم مولانا  ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے  جوکہ  علماء  خطبا اورواعظین کےلیے  19 علمی وتحقیقی  خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب  کے آغاز میں  خطباء     اور واعظین  حضرات  کے لیے مصنف کا  تحریرکردہ’’  کامیاب  خطیب کےلیے  قابل غور  باتیں اور موجود ہ حالات میں  صحیح خطابت کا منہج ‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ  بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔  موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد  کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں  میں  شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے  علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف  جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں  حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی  بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف  ایک اچھے مصنف  ہونے کے ساتھ  ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد  میں خطابت کافریضہ انجام  دینے کےساتھ ساتھ  تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن  کتب کےمصنف ہے۔ جن  میں سے   چار کتابیں(خشبو ئے  خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا منہاج الخطیب کو  موصوف نے   بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے  اور  اس کتاب میں  کوئی روایت علی الاطلاق ضعیف نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو  شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں  اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
     

  • 5 #2859

    مصنف : عبد الملک القاسم

    مشاہدات : 2767

    جنت کی قیمت مگر کیا

    (ہفتہ 24 جنوری 2015ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے  انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے  تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جنت کی قیمت مگر کیا ‘‘ سعودی عرب کے  جید عالم دین  الشیخ  عبد المالک قاسم کی عربی تصنیف’’والثمن الجنۃ‘‘ کارواں اور سلیس ترجمہ  ہے ۔ مصنف موصوف نے  اس کتاب میں  نمازکو جنت کی قیمت  بتایا ہے  اوراس کی جوفکر نبی کریم ﷺ ،صحابہ کرام  ،تبع تابعین  اور سلف صالحین ﷭ میں پائی جاتی تھی اسے اپنے  اندر لاکر جنت کے حصول میں محنت کرنی چاہیے اور ان اعمال کو  اختیار کرنا چاہیے کہ جن کے کرنے سے جہنم کی آگ سے نجات او ر جنت میں  داخلہ ممکن ہے ۔اللہ تعالیٰ  اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو  جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمین(م۔ا)
     

  • 6 #3354

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 5584

    حصن الخطیب

    (منگل 21 جولائی 2015ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب وغیرہ ) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’حصن الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی مرتب شدہ ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے 16 علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب کے آغاز میں خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ’’ خیرخواہی کا چوتھا سبق‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چار کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا حصن الخطیب کو موصوف نے بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا) 

  • 7 #3355

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 4567

    مصباح الخطیب

    (بدھ 22 جولائی 2015ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت  کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب  میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان  خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے  اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری  گلستانِ  کتاب وسنت  کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان  کے لقب سے یاد کرتی  ہے۔خطباء  ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے  زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے  اور واعظین  ومبلغین کا بطریق احسن  علمی تعاون  ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام  دینے  کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء  ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع  میسر نہیں یا  جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے  خطباء کی تیاری  کےلیے آسانی   ہوسکے  ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم  کے  ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات  قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ  کی  کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب ، مصباح الخطیب ، حصن  الخطیب )  اسلامی  وعلمی  خطبات  کی  کتابوں کی لسٹ میں  گراں قدر اضافہ ہے ۔( م۔ا)

  • 8 #4198

    مصنف : عبد السمیع عاصم بن ابی البرکات

    مشاہدات : 14430

    خطبات اسلام سال بھر کی ترتیب کے ساتھ

    (جمعہ 05 فروری 2016ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد و صلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت و صدارت کی بلندیوں کو حاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب و سنت کے دلائل و براہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس و تقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات اسلام‘‘ جامعہ اسلامیہ اہل گوجرانوالہ کے مدرس جناب ابو طلحہ عبدالسمیع عاصم بن ابی البرکات احمدکی مرتب شدہ ہے۔یہ مجموعہ خطبات خاص عام ہرایک کے لیے مفید ہے۔ مرتب نےاس میں خطباء کی سہولت کے پیش نظرسال بھر کے مختلف مواقع کی مناست کےمطابق 60 سے زائد مضامین مرتب کرکے ان کی تخریج بھی کی ہے۔اور یہ کوشش کی ہےکہ ہر مضمون زیادہ سے زیادہ قرآنی آیات اوراحادیث مبارکہ سے مزین ہو۔ پوری کتاب میں تاریخی واقعات 20 سےبھی متجاوز نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے ہر عام وخاص کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 9 #4484

    مصنف : محمد عظیم حاصلپوری

    مشاہدات : 3711

    تحفۃ النساء المعروف خواتین کا انسائیکلوپیڈیا

    (منگل 24 مئی 2016ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    دین اسلام بنی نوع انسان کےلیے رحمت ورافت ہےاور اللہ کا کامل دین ہے جوزندگی کے تمامسائل میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جوشخص اسے اپنا لےگا وہی کامیاب وکامران ہے اور جواس سے بے رغبتی اختیار کرے گا وہ خائب وخاسر ناکام ونامراد ہوگا۔دینِ اسلام عقادئد ونطریات اور عبادات ومعاملات میں ہماری ہر لحاظ سے رہنمائی کرتا ہے ۔اس عارضی دنیا میں ہرمرد وعورت آئیڈیل لائف کے خواہاں ہیں ۔ وہ خود ایسی مثالی شخصیت بننا چاہتے ہیں جو مثالی اوصاف کی مالک ہو ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی عارضی زندگی میں ان کی ہر جگہ عزت ہو ، وقارکا تاج ان کے سر پر سجے ، لوگ ان کےلیے دیدہ دل اور فرش راہ ہوں، ہر دل میں ان کے لیے احترام وتکریم اور پیار کا جذبہ ہو ۔عام طور پر تولوگوں کی سوچ اس دنیا میں ہر طرح کی کامیابی تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے ۔ لیکن حقیقت میں کامیاب اور مثالی ہستی وہ ہے جو نہ صرف دنیا میں ہی عزت واحترام ،پیار، وقار، ہر دلعزیزی اور پسندیدگی کا تاج سر پرپہنے بلکہ آخرت میں مرنے کے بعد بھی کامیاب مثالی مسلمان ثابت ہو کر دودھ، شہد کی بل کھاتی نہروں چشموں اور حورو غلمان کی جلو ہ افروزیوں سے معمور جنتوں کا مالک بن جائے ۔ زیرتبصر ہ کتاب’’تحفۃ النساء االمعروف خواتین کاانسائیکلوپیڈیا‘‘ مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾کی تصنیف ہے۔اس میں انہوں نے خواتین کے جملہ احکام ومسائل کوقرآن وسنت سے مرتب کرنے کی سعی کی ہے۔اور عورتوں سےمتعلقہ دینی مسائل اور دنیاوی معلومات وتجربات اس کتاب میں جمع فرمادئیے ہیں۔یہ کتاب عورت کی ہرحیثیت یعنی ماں ،بہن ، بیوی اور بیٹی کے لیے راہنمائی کرے گے ۔خصوصا ازدوادی زندگی کوبہتر بنانے اورایک مضبوط، صالح باکردار طاقتور وتوانا اور روشن خیال اور اسلام کی محافظ وعلمبردار نسل کی تربیت کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس کتاب میں مسلمان عورت کی زیب وزینت کی قرآن وحدیث طب وحکمت اور جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں وضاحت کی گئی ہے۔نیز روزانہ زندگی میں پیش آنے والے معاملات مختلف قسم کی احتیاطی تدابیر ،بیماریوں کا علاج گھریلو چٹکلے اور سلیقہ مندی کے طریقے اس کتاب کاحصہ ہیں۔خواتین اسلام کے لیے یہ کتاب ایک انمول تحفہ ہے۔(م۔ا)

  • 10 #4657

    مصنف : ڈاکٹر مصطفی مراد

    مشاہدات : 2360

    جنت کی شہزادیاں

    (اتوار 15 مئی 2016ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    اسلام اللہ  کا کامل دین ہے جوزندگی کے تمامسائل میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جو شخص اسے اپنا لے گا وہی کامیاب وکامران ہے اور جواس سے بے رغبتی اختیار کرے گا وہ خائب وخاسر ناکام ونامراد ہوگا۔دینِ اسلام عقادئد ونطریات اور عبادات ومعاملات میں ہماری ہر لحاظ سے رہنمائی کرتا ہے ۔اس عارضی دنیا میں  ہرمرد وعورت آئیڈیل لائف کے  خواہاں ہیں۔ وہ خود ایسی مثالی شخصیت بننا چاہتے ہیں جو مثالی اوصاف کی مالک ہو۔ وہ چاہتے ہیں  کہ ان کی عارضی زندگی میں ان کی ہر جگہ عزت ہو، وقارکا تاج ان کے سر پر سجے، لوگ ان کےلیے دیدہ دل اور فرش راہ ہوں، ہر دل  میں ان کے لیے احترام و تکریم اور پیار کا جذبہ ہو۔ عام طور پر تولوگوں کی سوچ اس دنیا میں ہر طرح کی کامیابی تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ لیکن حقیقت میں کامیباب اور مثالی ہستی وہ ہے جو نہ صرف دنیا میں ہی عزت واحترام ،پیار، وقار، ہر دلعزیزی اور پسندیدگی کا تاج سر پرپہنے  بلکہ آخرت میں مرنے کے بعد بھی کامیاب مثالی مسلمان ثابت ہو کر دودھ، شہد کی بل کھاتی نہروں چشموں اور حورو غلمان کی جلو ہ افروزیوں سے معمور جنتوں کا مالک بن جائے۔ انسان خواہ مرد ہویاعورت ہو  اس کی نجات کا دار مدار اس کے نیک اعمال پر ہے ۔اوراعمال نیک سے  دامن بھرنے کےلیے شریعت نے کبھی تو دوزخ کی ہولناکیاں یاد کروائی ہیں۔اور کبھی ترغیب کے لیے جنت کی حسن آرائیاں پیش کی  ہیں ۔اس دنیا فانی میں انبیاء کرام کی جماعت ایسی تھی کہ وہ  سارے  کے سارے جنتی ہیں لیکن انبیاء کے علاوہ  بھی کچھ ایسی شخصیات ہیں کہ جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی گئی ہےجن میں صحابہ   کرام اور صحابیات رسول، ازواج انبیاء کےنام  شامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’جنت کی شہزادیاں‘‘ ڈکٹرمصطفیٰ مراد کی عربی  تصنیف  کا ترجمہ ہے ۔اس میں نے انہوں نے 11خواتین جنت حضرت سارہؑ، فرعون کی بیوی حضرت آسیہ، حضرت مریم، سید فاطمہ، حضرت خدیجہ بن خویلد، سیدہ عائشہ،  سیدہ حفصہ، سیدہ غمیصا، سیدہ ام ایمن، نسیبہ بنت کعب انصاریہ رضی اللہ عنہن کے تذکرہ  کوایک اچھوتے اور دلنشیں انداز میں پیش کیا ہے۔ اور اس کےبعد جنتی عورتوں کی صفات  پیش کی ہیں۔ اس کتاب کو عربی سے ادور قالب میں ڈھالنے کی سعاد ت جنا ب حافظ عباس انجم گوندلوی﷾ نے حاصل  کی ہے۔ یہ کتاب  عصر حاضر میں خواتین کے لیے گراں قدر تحفہ ہے۔ اسے مرد بھی پڑھیں، بیٹیوں کوپڑھائیں، بیویوں کوپڑھنے کی تلقین کریں۔ تاکہ وہ مطمئن ہوکر اس فنا کے گھر سے جانے سے پہلے بقا  کے در کے لیے زادراہ تیار کرلیں اور یورپ کی حیاء سے عاری عورتوں کی نقالی چھوڑ کر ان مثالی خواتین کونمونہ بنائیں۔ (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1349
  • اس ہفتے کے قارئین 7334
  • اس ماہ کے قارئین 45728
  • کل قارئین49324313

موضوعاتی فہرست