دکھائیں کتب
  • 11 تاریخ فرشتہ جلد اول (اتوار 12 مئی 2019ء)

    مشاہدات:1627

    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔تاریخ ہندوستان  کے متعلق بے شمار کتب  موجود ہیں   ان  میں سے تاریخ فرشتہ  بڑی اہم کتاب ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تاریخ فرشتہ ‘‘محمد قاسم فرشتہ (متوفی 1620ء) کی تصنیف ہے ہندوستان کی عمومی کتب ہائے تواریخ میں سے ایک مشہور تاریخی کتاب ہےیہ ہندوستان کی مکمل  تاریخ  ہے ۔ محمد قاسم فرشتہ نے  یہ کتاب ابراہیم عادل شاہ ثانی، سلطانِ بیجاپور (متوفی 1627ء) کے حکم سےفارسی زبان میں تصنیف کی صاحب کتاب  نے  اِسے ’’گلشن ابراہیمی‘‘ کا نام دیا مگر عوام میں یہ تاریخ فرشتہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ممبئی کے انگریز گورنر لارڈ الفنسٹن نے پہلی بار نہایت اہتمام کے ساتھ بڑی تقط...

  • زیر تبصرہ کتاب " تاریخ ہند پر نئی روشنی " دراصل ابن فضل اللہ عمری دمشقی ﷫ (المتوفی  764ھ) کی ایک ضخیم اور کئی جلدوں پر مشتمل  قلمی عربی کتاب "مسالک الابصار فی ممالک الامصار" کے ہندوستان سے متعلق ایک باب کا اردو ترجمہ ہے اور ترجمہ کرنے کی سعادت محترم خورشید احمد فارق نے حاصل کی ہے۔مؤلف موصوف ﷫نے اپنی کتاب میں عام معلومات اور جنرل نالج کی چیزیں جمع کی ہیں۔اس کتاب کا ایک قلیل حصہ خود مؤلف کی ذاتی آراء ،مشاہدات یا ہمعصر اشخاص مثلا سیاحوں،سفیروں اور معلموں کے بیانات پر مبنی ہے۔اور ہندوستان پر جو طویل باب ہے وہ بیشتر زبانی معلومات پر مشتمل ہے۔مؤلف موصوف نے اس باب میں اپنے ہمعصر سلطان محمد بن تغلق (المتوفی 782ھ)کے حالات اور سیرت پر سیاحوں،معلموں اور سفیروں کی زبانی روشنی ڈالی ہے۔ممکن ہے ان لوگوں کے بعض بیانات مثلا وہ جن کا تعلق تغلق شاہ کی فیاضی اور فوج کے اعداد وشمار اور تنخواہوں سے ہے،مبالغہ یا سہو سے آلودہ ہوں،تاہم بحیثیت یہ باب نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں ایسی نادر تاریخی،اجتماعی اور اقتصادی معلومات ہیں جن سے خود ہندوستان میں لکھی تاریخوں کا دامن خالی ہے۔اس کے علاوہ اس باب میں تغلق شاہ کی آئین جہاں داری اور پبلک  سیرت کی ایک ایسی تصویر بھی نظر آتی ہے جو اس تصویر سے بہت مختلف ہے جو بعض ہمعصر مؤرخوں نے ان سے ذاتی ناراضگی یا فقہی ومسلکی اختلاف کی بناء پر پیش کی ہے۔ (راسخ)

  • 13 تحریک آزادیٔ ہند اور مسلمان حصہ اول (جمعرات 25 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:4734

    مسلمان اور غلامی دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ اکٹھی نہیں ہو سکتی ہیں۔مسلمان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ غلامی کی فضا میں اپنے دین کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔اسلام غلبہ اور حکمرانی کے لئے آیا ہے ،دوسروں کی چاکری اور باطل نظاموں کی غلامی کے لئے نہیں آیا ہے۔اسلام نے مسلمانوں کا یہ مزاج بنایا ہے کہ وہ طاغوت کی حکومت ،خواہ کسی بھی شکل میں ہو اس کی مخالفت کریں اور خدا کی حاکمیت کو سیاسی طور پر عملا قائم کرنے اور زندگی کے ہر شعبے میں اسے جاری وساری کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اس وقت بہت نمایاں ہو کر ابھرا،جب سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد برطانوی استعمار کے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔چنانچہ سید احمد شہید نے جہاد کا اعلان کیا اور تحریک مجاہدین نے آخری دم تک دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا۔1857ء کی جنگ آزادی مسلمانوں ہی کے خون سے سینچی گئی۔تمام تر خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود مسلمانوں نے غیر اللہ کی غلامی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں "سمجھوتہ بندی" کی روش کو خاصی تقویت ملی۔ مسلمانوں کی حیثیت ایک ہاری ہوئی فوج کی سی تھی،جو ذہنی طور مغرب سے مرعوب ہو چکے تھے۔ان حالات میں مولانا مودودی ﷫نے احیائے اسلام کی جد وجہد کا آغاز کیا ،اور اسلامی تعلیمات کو عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا اور ذہنوں سے شکوک وشبہات کے ان کانٹوں کو نکالا جو الحاد،بے دینی اور اشتراکیت کی یلغار نے مسلمانوں میں پیوست کر دئیے تھے۔مولانا مودودی ﷫کی یہ کتاب" تحریک آزادی ہند اور مسلمان"اسی موضوع پر...

  • 14 جنوبی ایشیا میں مسلم بیداری کے سو سال (جمعہ 01 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1792

    امت مسلمہ کے زوال کے سلسلے میں کوئی حتمی یا یقینی بات متعین طور سے نہیں کہی جاسکتی کہ اس کا زوال کب شروع ہوا۔ البتہ محققین کی رائے کے مطابق شروع دور سے ہی عروج وزوال کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بارہویں صدی کے اواخر میں جب مسلمانوں کا سیاسی وعسکری زوال سامنے آیا، اور پھر تحقیق وتصنیف، اجتہاد وحرکت اور نئی دریافتوں اور ایجادوں کی راہ چھوڑ کر امت مسلمہ جمود وتعطل کا شکار ہوتی چلی گئی، اور اس کے نتیجے میں مسلسل پسماندگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس امت کا تنزل ہر میدان میں ہوا، سائنس، ٹکنالوجی، صنعت کاری، تہذیب وثقافت، علوم وفنون اور ادب وآرٹ وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک کہ ایک ترقی یافتہ قوم کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ ثریا سے تحت الثری تک پہنچ گئی اور ہر میدان میں ذلیل وخوار ہوکر رہ گئی۔قوموں کا عروج وزوال قوم کے افراد پر منحصر ہوتا ہے، جب کسی قوم کے افراد بیدار ہوتے ہیں تو وہ قوم ترقی کرتی ہے، اور جب اس کے افراد غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں تو اس قوم کو بھی پسماندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " جنوبی ایشیا  میں مسلم بیداری کے سو سال " محترم  انجینئر مختار حسین فاروقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی ایک سو سال (1910ء سے لیکر 2010ء تک )کی اجتماعی جدوجہد اور اجتماعی سفر کی داستان پیش کی ہے،جس کے سبب یکے بعد دیگرے تین عظیم عالمی مغربی سپر طاقتیں زوال پذیر ہو ئیں۔اس کتاب میں انہوں نے مسلمانوں کو یہ سبق پڑھایا ہے کہ اگر مسلمان اتفاق و اتحاد سے کام لیں تو آج بھی دنیا کی سپر پاور بن سکتے ہیں اور اندھیروں میں...

  • 15 رود کوثر (بدھ 18 فروری 2015ء)

    مشاہدات:3080

    شیخ  محمد اکرام (1908۔1971ء)چک جھمرہ (ضلع لائل پور ) میں پیدا ہوئے۔ گورنمٹ کالج لاہور اور آکسفورڈ میں تعلیم پائی ۔ 1933ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے اور سوات ، شولا پور، بڑوچ اور پونا میں اعلٰی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ آپ پونا کے پہلے ہندوستانی کلکٹر اور دسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اطلاعات اور نشریات کے ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے۔ پھر وزارت اطلاعات و نشریات کے جائنٹ سیکرٹری اور بعد میں کچھ مدت کے لیے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1955ء سے 1957ء تک مشرقی پاکستان میں متعین رہے ، پہلے کمشنر ڈھاکہ اور پھر ممبر بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ۔1958ء تک محکمہ اوقاف کے ناظم اعلیٰ پاکستان مقرر ہوئے۔دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ہندی مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ لکھی جو تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ آب کوثر ، رود کوثر ، موج کوثر ، غالب اور شبلی کے سوانح بھی مرتب کیے۔ برصغیر پاک و ہند کی فارسی شاعری کا ایک مجموعہ ارمغان پاک مرتب کیا۔ جو1950 ء میں شائع ہوا۔  علمی خدمات کی بنا پر حکومت ایران نے آپ کو نشان سپاس اور حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز کے اعزازات عطا کیے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹر آف لٹریچر کی اعزازی ڈگری ملی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رودِ کوثر‘‘ شیخ  محمد اکرام کی تصنیف ہے ۔جو کہ  برصغیر پاک وہند کے  مسلمانوں کی مذہبی ،ثقافتی اور علمی تاریخ  اور ان کے کارناموں پر مشتمل ایک اہم دستاویز ہے ۔اور اس  کو سلسلۂ کوثر کی دوسری کڑی کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کتاب میں عہد مغل...

  • 16 سفرنامہ مقبوضہ ہندوستان (منگل 06 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:995

    لفظ \\\"ہند\\\" عرب کے لوگ فارس اور عرب کے مشرقی علاقے میں آباد قوموں کے لیے استعمال کرتے تھے اور اسی سے ہندوستان کی اصطلاح برصغیر کے بیشتر علاقے کے لیے استعمال ہونا شروع ہو گئی۔ مختلف سلطنتوں اور بادشاہتوں کے تحت بادشاہتِ ہند کی سرحدیں بدلتی رہیں۔ آخر برصغیر پاک و ہند کا سارا علاقہ برطانوی تسلط میں آ کر \\\"برطانوی انڈیا\\\" یا \\\"ہندوستان\\\" کہلانے لگا۔ یہ صورتِ حال 1947ء تک برقرار رہی۔ اس میں موجودہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان شامل تھے۔ 1947ء کے بعد یہاں دو ملک بن گئے جنہیں بھارت اور پاکستان کہا گیا۔ بعد ازاں پاکستان کے مشرقی اور مغربی حصے علاحدہ ہو گئے۔ مشرقی حصہ بنگلہ دیش کہلایا۔ موجودہ زمانے میں ہندوستان سے کوئی واضح جغرافیائی خطہ مراد نہیں مگر عام زبان میں اس سے بھارت مراد لی جاتی ہے جو تکنیکی لحاظ سے غلط ہے۔ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سف...

  • مورخ اسلام قاضی اطہر مبارکپوری (1916ء - 1996ء) قصبہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نانا مولانا احمد حسین رسولپوری نےآپ کا نام  عبد الحفیظ رکھا۔ مگر قاضی اطہر سے مشہور ہوئے۔ اطہر آپ کا تخلص ہے، جوانی میں کچھ دنوں خوب شاعری کی، برجستہ اشعار کہتے تھے، پھر شاعری چھوڑ دی۔ قاضی اس لیے کہے جاتے ہیں کہ آپ کے خاندان میں ایک عرصہ تک نیابت قضا کا عہد قائم رہا۔آپ کے ہاں ابتدا میں بہت تنگی تھی۔ گزر اوقات بہت مشکل تھی۔ اس لیے زمانۂ طالب علمی میں ہی جلد سازی کا کام کرنے لگے۔ جلد سازی کے لوازمات اعظم گڑھ جا کر لاتے تھے۔ اس میں کئی گھنٹے صرف ہوتے تھے۔ لیکن اس کی وجہ سے انہوں نے تعلیم ترک نہ کی۔ کتابوں سے بہت محبت تھی۔ اس لیے پیسہ پیسہ جمع کرتے۔ جب اتنے پیسے جمع ہو جاتے کہ کوئی کتاب خرید لی جائے تو کتاب خرید لیتے۔ زندگی کا بڑا حصہ تنگی و ترشی میں گزرا۔ لیکن اخیر عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر رزق کے دروازے کشادہ کر دیے۔ حتیٰ کہ آپ کا شمار مبارکپور کے امرا میں ہونے لگا۔ بچپن سے ہی آنکھیں کمزور تھیں۔ لیکن ضعفِ بصارت کی وجہ سے کثرتِ مطالعہ سے نہیں رکے۔ اور نہ ہی اس چیز نے کثرت تصنیف و تالیف سے روکا۔ ےآپ  نے اپنے شہر مبارکپور میں ایک ادارہ ’’دائرہ حلبیہ‘‘ کے نام سے قائم کیا۔آپ کئی کتب کے مصنف ہیں  تاریخ آپ کا خاص موضوع ہے بالخصوص ہندوستان کی اسلامی تاریخ ۔ پاکستانی علما کے پاس آپ کی شخصیت اور تحقیقات کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ اسلامی تہذیب و تاریخ پر آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے علماء نے آپ کو  ’’محسنِ ہند...

  • 18 صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہندوستان میں (منگل 09 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2176

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمدﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ درس گاہِ محمدیہ ﷺ کی تعلیم و تربیت نے افرادِ انسانی کی ایک ایسی مثالی جماعت تیار کی کہ انبیاء کرام کے بعد روئے زمین پر کوئی جماعت ان سے بہتر سیرت و کردار پیش نہ کر سکی۔ وہ مقدس جماعت جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی کیا گیا اور جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "خیر امتی قرنی" (بخاری)"میری امت کی سب سے بہترین جماعت میرے عہد کے لوگ ہیں" یہ وہ جماعت تھی جن کی سیرت و کردار کے بارے میں دشمنوں نے بھی گواہی دی۔ یہ وہ عظیم جماعت تھی جنہوں نے دین اسلام کی آبیاری خود اپنے لہو سے کی اپنے مال و متاع، جان حتیٰ کہ اہل و عیال تک اللہ کے دین کے لیے قربان کر کے ہمیشہ کے لیے جنتوں کے وارث بن گئے۔ یہ وہ مثالی جماعت تھی جن کے دن میدان جہاد میں گزرتے اور راتیں اپنے رب کے حضور عبادت میں گزرتیں۔ زیر تبصرہ کتاب"صحابہء رسولﷺ ہندوستان میں" اکبر علی خان قادری کی تاریخی تالیف ہے۔ جس میں موصوف نے سر زمین پاک و ہند میں اشاعت اسلام کی ایمان افروز داستانیں رقم کرنے والے صحابہ کرا...

  • 19 عرب و ہند عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں (بدھ 13 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1748

    عرب ہند تعلقات انتہائی قدیم ہیں ،قدیم ز مانے سے دونوں کے درمیان مختلف قسم کے تجارتی ،معاشی اور مذہبی تعلقات پائے جاتے تھے ،اہل عرب ہندوستان کے سواحل پر آتے تھے اور ہندوستان کے باشندے عرب سے آمد ورفت رکھتے تھے ، ہندوستانیوں کی مختلف جماعتیں وہاں مستقل طور پر آباد بھی تھی جن کو عرب زط اور مید کے نام سے یاد کرتے تھے ،اسلام سے قبل ہی ہندوستان کی بہت سی چیزیں عرب کی منڈیوں میں فروخت ہوتی تھی ،ہندی تلوار ،مشک ،عود ،کافور ،مرچ ،ساگوان ،ادرک ،سندھی کپڑے عربوں میں بہت متعارف تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت عرب کے مختلف علاقوں میں ہندوستان کے لوگ آتے جاتے تھے اور وہاں مستقل آباد بھی تھے ،خود مکہ میں ہندوستان کے تاجر اور صناع موجود تھے ،آپ ﷺاور حضرات صحابہ ہند اور اہل ہند سے اچھی طرح واقف تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ عرب و ہند عہد رسالتﷺ میں ‘‘ قاضی محمد اطہر مبارکپوری صاحب کی ہے۔ اس کتاب میں زمانۂ نبوت کے عرب و ہند سے بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے آٹھ بڑے ابواب ہیں جن میں سے آخر کے تین ابواب (1) ’’پیغمبر اسلام اور ہندوستانی باشندے‘‘ (2) ’’عہد رسالت میں ہندو ستانی اشیاء کا استعمال‘‘ (3) ’’اسلام اور مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد‘‘ خاص طور پر پڑھنے کےلائق ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔( رفیق الرحمن)

  • یہ ایک مسلمہ حقیقت کہ اسلامی ریاست فلاحی ریاست ہوتی ہے اوراس کے سربراہ کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ریاست کے وسائل کوبلا تفریق جملہ عوام کی فلاح وبہبود اور بھلائی کےلیے استعمال کرےاور اورخاص طور سے غریبوں،ضرروت مندوں اور سماج کے کمزرو طبقات کے لوگوں کی ضرورت کاخیال رکھے اور انہیں مالی مدد فراہم کرے ۔زیرنظر کتاب '' عہدِاسلامی کے ہندوستان میں معاشرت،معیشت اور حکومت کےمسائل ''میں ظفر الاسلا م اصلاحی صاحب نے عہد اسلامی کے ہندوستا ن میں سماجی واقتصادی وسیاسی زندگی میں جو نئے مسائل ابھرے تھے ان کے متعلق علماء کی فقہی تشریحات اور حکمرانوں کے اقدامات کو درج ذیل چھ ابواب میں بیان کیا ہے ۔ 1۔عہد سلطنت کے علماء اور سماجی،معاشی وسیاسی مسائل2۔عہد سلطنت کی فقہی کتب اور غیر مسلموں سے تعلقات ومعاملات کے مسائل3۔سندھ میں غیر مسلموں کے ساتھ محمد بن قاسم کابرتاؤ اسلامی اصول وضوابط کی روشنی میں4۔عہد اسلامی کے ہندوستان میں بیت المال کا تصور او راس کی کارکردگی5۔آراضی ہند کی شرعی حیثیت عہد مغلیہ کے علماء کی نظر میں 6۔ شیخ احمد سرہندی او راہل حکومت میں شریعت کی ترویج۔(م۔ا)

     

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1126
  • اس ہفتے کے قارئین: 6376
  • اس ماہ کے قارئین: 34070
  • کل قارئین : 45930880

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں