کل کتب 77

دکھائیں
کتب
  • 11 #1730

    مصنف : عبد الہادی عبد الخالق مدنی

    مشاہدات : 3799

    ایک داستان عبرت

    (اتوار 23 جون 2013ء) ناشر : المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد توعیۃ الجالیات بالاحساء

    قصوں اور داستانوں سے انسان کی دلچسپی نیز اس کی اثر انگیزی اور سبق آموز کسی رد وقدح  اور اختلاف کے بغیر ایک تسلیم شدہ امر ہے۔ اللہ کا کلام قرآن مجید قصوں کی اہمیت پر شاہد عدل ہے۔ یہ کتابچہ  ’’ ایک داستان عبرت ‘‘  (ابو طالب کی وفات کا قصہ ) درحقیقت سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  بلکہ تاریخ اسلام کا ایک عبرتناک واقعہ کی تحقیق پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا مطالعہ کرنے والے تمام افراد کےلیے باعث ہدایت ونجات اور دنیا وآخرت میں نافع وکار آمد بنائے۔ آمین





     

  • 12 #1687

    مصنف : محمد طاہر نقاش

    مشاہدات : 5194

    بادشاہ کا ہاتھ کاٹ دو

    (پیر 13 مئی 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ ’جب فرشتہ بھیس بدل آ گیا‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ایک فرشتہ اندھے کا روپ دھار کر زمین پر آ جاتا ہے اور پھر وہ اور بھی روپ بدلتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد واقعات شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ یہ مفید تربیتی کہانیاں ننھے مجاہد اور بعض دوسرے رسائل و جرائد سے اخذ کی گئی ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 13 #1688

    مصنف : محمود احمد غضنفر

    مشاہدات : 4743

    بغداد کا تاجر اور بچوں کی عدالت

    (منگل 14 مئی 2013ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور

    بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ ادارہ دار الابلاغ نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے کہانیوں کے انداز میں تاریخ کے سچے واقعات قلمبند کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’بغداد کا تاجر اور بچوں کی عدالت‘  کے مصنف محترم محمود احمد غضنفر ہیں جن کی درجنوں کتب صحابہ کی سیرت کے مختلف درخشاں پہلوؤں پر مقبول عام ہیں۔ بچوں کے لیے یہ ان کی پہلی کہانی ہے جسے انھوں نے عربی ادب سے اخذ کر کے لکھا ہے۔(ع۔م)
     

  • 14 #5626

    مصنف : ابراہیم بن عبد اللہ الحازمی

    مشاہدات : 1589

    بہتر بدلہ

    (بدھ 12 جولائی 2017ء) ناشر : مکتبہ بیت السلام الریاض

    دین اسلام اپنے ماننے والوں کو اچھے اخلاق کی ترغیب دیتا ہے اور انہیں برے اور بد اخلاقی سے روکتا ہے، ہر وہ عادت جو معاشرہ میں خیر و بھلاائی کو فروغ دینے والی ہے اسلام اس کی دعوت دیتا ہے اور جو عادت معاشرہ میں شر اور فسادکو عام کرتی ہے اسلام اس سے منع کرتا ہے، ایک انسان کا اچھے اخلاق والا ہونا اسلام میں مطلوب اور مرغوب ہے ، اسلام نے اچھے اخلاق کو ایمان اور اسلام کی نشانی بتایا ہے، اور مسلمانوں کو یہ درس دیا ہے کہ برے اور گندے اخلاق کسی بھی  مومن  کے شایان شان نہیں ہیں۔ ایک انسان جسم اور روح کا مرکب ہوتا ہے، اس کا ظاہر اور باطن ہوتا ہے، اسلامی اخلاق اس انسان کے باطنی شکل وصورت کی ایک تصویر اور تمثیل ہے، جس کی اصل جگہ انسان کا اپنا دل ہے، اور یہی باطنی تصویر ایک مسلمان کی شخصیت کا اہم عنصر ہے، درحقیقت انسان اپنی لمبائی، چوڑائی، رنگ وروپ، فقیری اور مالداری سے نہیں جانا جاتا ہے بلکہ حقیقت میں انسان اپنے اخلاق اور اپنے سلوک سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔اخلاق حسنہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان اللہ کے لئے کسی چیز کو چھوڑ دے، اور جب کوئی آدمی اللہ کے لئے کوئی چھوڑتا ہے تو اللہ تعالی اسے اس سے بہتر بدلہ عطا فرماتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" بہتر بدلہ " فضیلۃ الشیخ ابراھیم بن عبد اللہ الحازمی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بہتر بدلے کے حوالے سے حیرت انگیز واقعات اور نصیحت آموز حکایات کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم فضیلۃ الشیخ سعید الرحمن ہزاروی صاحب نے جبکہ نظر ثانی حافظ عبد اللہ سلیم نے کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • 15 #6700

    مصنف : مرتضٰی انجم

    مشاہدات : 1586

    بیسویں صدی کے اہم واقعات

    (جمعہ 20 جولائی 2018ء) ناشر : یو پبلشرز لاہور

    بیسویں صدی جب  شروع ہوئی تو جنگ بوئر شروع ہوچکی تھی۔ابھی جنگ بوئر جاری تھی کہ روس جاپان جنگ کےلیے  راہ  ہموار ہونے لگی۔ اسی دوران جنگ بلقان شروع ہوگئی ۔ ادھر جنگ بلقان ختم ہوئی ادھر پہلی جنگ عظیم     کے بادل  دنیائے آسمان پر چھانے لگ جنگ عظیم لاکھوں انسانوں کےلہو سےہاتھ رنگنے کےبعد اپنے انجام   کو پہنچی تو ہٹلر نےاتحادیوں  کےہاتھوں جرمن قوم کی ذلت ورسوائی کا بدلہ لینے کے لیے دوسری جنگ عظیم کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں ہیرو شیما اور ناگا سا کی  پر ایٹم بم پھینکنے کے واقعات رونما ہوئے اور دنیا کو پہلی مرتبہ انسانی خون کی ارزانی کا احساس ہوا۔الغرض بیسویں صدی اپنے آغاز سےہی ہنگامہ خیز واقعات سے بھر پور اور کروڑوں انسانوں کےلہو سےرنگین نظرآتی ہے۔اس صدی نے جہاں انسان کو جنگوں کی ہولناکیوں کے سپرد کرنے کااہتمام کیا وہاں  انسان نے سیاسی تہذیبی ، تمدنی ، سائنسی ، معاشی ، طبی، اور لسانی میدان میں حیرت انگیز حدتک پیش رفت کی ۔ نئی ایجادات نے انسان کو تیز رفتار زندگی کی طرف مائل کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑی بڑی سلطنتیں سکڑ کر رہ گئیں اور نظریات  پھیلنا شروع ہوئے۔ برطانیہ کےاقتدار  کا سورج غروب ہوا اور دنیا کے نقشے پر نئی ریاستیں نمودار  ہوئیں جنوبی ایشیا کے مسلمانوں  نےقائد اعظم  کی قیادت میں برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کی ۔ بیسویں صدی کی ایجادات  نےانسان کو چاند پرپہنچا دیا کمپیوٹر کی ایجاد نےدنیا میں ایک انقلاب  برپا کردیا انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ کی بدولت دنیا  گلوبل ولج کی صورت  اختیا کرگئی ۔مرتضیٰ انجم صاحب نے زیرنظر کتاب’’بیسویں صدی کے اہم واقعات‘‘ میں اس صدی کےاہم واقعات کو اخباری حوالہ جات کے ساتھ یکجا کیا ہے جو اپنے اندر قارئین کےلیے دلچسپی کاساماں رکھتے  ہیں ۔(م۔ا)

  • 16 #3967

    مصنف : عرفان جمیل

    مشاہدات : 1964

    بے موسم پھل

    (منگل 12 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدہ مریم علیہا السلام وہ خاتون ہیں جنہوں نے سیدنا عیسیٰ ﷤ جیسے جلیل القدر پیغمبر کو جنم دیا۔رسول پاکﷺ کا فرمان ہے کہ "شیطان سب بچوں کو پیدا ہوتے وقت چھیڑتا ہے مگر حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں چھیڑ سکا۔ان کی والدہ نے بھی اللہ سے دعا کی تھی کہ اے اللہ ان کو ان کی اولاد کو شیطان سے بچائیو۔چناچہ ایسا ہی ہوا۔آپ علیہا السلام کے والد کا نام عمران ﷤اور والدہ کا نام حنہ علیہا السلام تھا۔ جب حضرت حنہ علیہا السلام والدہ حضرت مریم علیہا السلام کو حمل ہوا تو انہوں نے اللہ سے منت مانی کہ اگر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو وہ اسے ہیکل کی خدمت کے لیے آزاد چھوڑ دیں گی۔ یعنی دنیا کے کام ان سے نہ لیں گی۔ان کے ہاں لڑکی یعنی حضرت مریم علیہا السلام پیدا ہوئی تو ان کو تاسف ہوا کہ ان کی منت پوری نہ ہوسکی کیونکہ لڑکی ہیکل کی خدمت پوری طرح نہ کر سکتی۔جب سیدہ مریم علیہا السلام سن شعور کو پہنچیں تو سوال اٹھا کہ مقدس ہیکل کی امانت کس کے سپرد کی جائے تو ہر ایک نے خواہش ظاہر کی کہ مقدس امانت اس کے سپرد کی جائے۔چناچہ قرعہ ڈالا گیا،تو قرعہ حضرت زکریا ﷤ کے نام کا نکلا۔آپ ﷤اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اور حضرت مریم علیہا السلام کے خالو بھی تھے۔حضرت زکریا ﷤نے ہیکل کے قریب ہی ایک حجرہ حضرت مریم علیہا السلام کے لئے مخصوص فرما دیا تا کہ دن کے وقت وہ حضرت مریم علیہا السلام وہاں عبادت کر سکیں۔رات کے وقت وہ حضرت مریم علیہا السلام کو ان کی خالہ ایشاع یعنی اپنی زوجہ کے پاس لے جاتے اور حضرت مریم علیہا السلام رات وہاں بسر فرماتیں۔حضرت مریم علیہا السلام اپنے شب و روز عبادت میں صرف کرتیں۔ان کا زہد و تقویٰ بنی اسرائیل میں ضرب المثل بن گیا اور ان کی مثالیں دی جانے لگیں۔حضرت زکریا ﷤ جب حضرت مریم علیہا السلام کے حجرہ میں تشریف لے جاتے تو وہاں اکثر اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجے گئے پھل اور دیگر نعمتیں دیکھتے جن سے ان کو حضرت مریم علیہا السلام پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا اندازہ ہوجاتا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’بے موسم پھل‘‘جناب عرفان جمیل صاحب کی تحریر ہے۔ او ر دار السلام کی بچوں کے لیے سچی کہانیاں سیریز کاحصہ ہے ۔اس کتابچہ   مرتب نے بڑ ے اور منفرد انداز میں حضرت مریم علیہا السلام کی زندگی کے اہم واقعات کو دلچسپ کہانی کی صورت میں بیان کیا ہے ۔اور ثابت کیاکہ جب انسان اللہ تعالیٰ ایمان ویقین کے ساتھ عبادت کرتا ہے تو اللہ ہر انسان کی ضروریات کو پورارکرتا ہے۔ دار السلام کی بچوں کے لیے یہ منفرد کاوش ہے ۔والدین اپنے بچوں کو بازاری فضول کہانیاں ، اخلاق سے گرے ہوئے ڈائجسٹ او رناولوں کی بجائے ان سچی کہانیوں کو پڑھنے کی ترغیب دیں ۔(م۔ا)

  • 17 #3644

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 2238

    توبہ؟

    (منگل 06 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے جب تک انسان کاآخری وقت نہیں آجاتا  وہ توبہ کرسکتا ہے  اوراس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے  لیکن جب آخری لمحات آجائیں موت سامنے نظر آنے لگے جب انسان کو یقین  ہوجائے کہ بس اب وقت آگیا ہے اس وقت اگر وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے تو اس کی  اس توبہ کا کوئی اعتبار نہیں یا اس وقت کی توبہ قابل قبول  نہیں۔انسان   کی خصلت  ہے کہ  وہ  نسیان  سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت  وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے  گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے  کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے  توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے  معبود ومالک   کی ناراضگی  کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ  کریم  کے دربار میں  حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے  کا پکا عزم کرتےہوئے  توبہ کرتا ہے کہ اے  مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے  آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے  احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل  ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں  کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ  ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی  اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم  اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے  دنیاوالو! ہےکوئی  جو مجھ سے اپنے گناہوں کی  مغفرت طلب کرے ... ہے  کوئی توبہ کرنے  والا میں اسے  ا پنی  رحمت سے بخش دوں.زیر تبصرہ کتابچہ’’توبہ؟‘‘ محترم جنا ب اشتیاق احمد   صاحب کی کاوش ہے   جس میں  انہوں نے  ایک بہترین کہانی  کے انداز میں یہ بتایا کہ  اصل توبہ کیا ہے  او رسچی توبہ  کس کو کہتے ہیں؟ (م۔ا)

  • 18 #3642

    مصنف : ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

    مشاہدات : 1768

    تیرتی قبر ؟

    (پیر 05 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا یونس اللہ کے نبی تھے۔ آپ کے نام پر قرآن پاک میں پوری ایک سورت ہے۔ آپ کی قوم نہایت سرکش تھی۔ سالوں کی تبلیغ کے باوجود جب آپ کی قوم نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تو آپ نے اُن کو اللہ کی طرف سے سخت عذاب کی نوید دی، جس پر اُس قوم کے سرکش لوگوں نے حضرت یونس کی باتوں کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ “اگر تمہارے خدا کی طرف سے عذاب آنے والا تو تم ہمیں اُس کا وقت بتاؤ، جس پر حضرت یونس نے اُنہیں چالیس دن کے بعد عذابِ الٰہی کی خبر دی جوکہ اللہ کو ناگوار گزری کیونکہ اللہ نے اُس قوم کو عذاب سے ڈرانے کے لئے ہدایت کی تھی نہ کہ عذاب نازل کرنے کا وقت بتانے کی۔ دوسرے نادانی اُس وقت ہوئی کہ جب حضرت یونس عذاب کی نوید دینے کے بعد اُس وطن کو ترک کرکے چلے گئے اس دوران آپ کو اندازہ ہوگیا کہ رب تعالٰی کسی بات پر آپ سے ناراض ہوگیا ہے۔ جب آپ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو کشتی کو طوفان نے گھیر لیا۔ اُس وقت کے رواج کے مطابق کشتی کے ملاح اور دوسرے مسافر اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کشتی میں کوئی اللہ کا نافرمان بندہ سوار ہے، جس کی وجہ سے تمام کشتی والوں کو اس طوفان کا سامنا ہے۔ جس پر حضرت یونس نے اُن سے کہا کہ مجھے دریا میں پھینک دو، تم کو اس طوفان سے نجات مل جائے گی لیکن کشتی والوں نے کہا کہ آپ تو اللہ کے نبی اور نیک بندے ہیں، آپ کو کیسے دریا بُرد کیا جاسکتا ہے۔ آخر سب اس نتیجے پر پہنچے کہ قرعہ کرلیتے ہیں، جس کا نام نکل آئے گا، اُس کو دریا بُرد کردیا جائیگا۔ قرعہ کے نتیجے میں بھی حضرت یونس کا نام نکلا، دوبارہ قرعہ نکالا گیا، پھر حضرت یونس کا نام نکلا، بالآخر جب تیسری بار بھی قرعہ میں حضرت یونس کا نام نکلا تو حضرت یونس نے اُن سے اصرار کیا کہ اُنہیں دریا بُرد کردیا جائے۔ بالآخر آپ کو دریامیں ڈال دیا گیا۔ دریا میں آپ کو ایک عظیم القامت مچھلی نے نگل لیا اور آپ تقریباً چالیس روز تک اُس مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ چالیس دن کے بعد آپ نے رب تعالٰی سے یہ کلمات پڑھ کر لا اله الا أنت سبحانك اني كنت من الظالمين معافی مانگی۔جب حضرت یونس نے مندرجہ بالا کلمات پڑھ کر رب سے معافی مانگی تو آپ کی معافی قبول کرلی گئی اور اُس مچھلی نے آپ کو ساحل پر اُگل دیا لیکن مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے سبب، بہت کمزور اور ناتواں ہوگئے تھے۔ ۔ اللہ تبارک و تعالٰی کے حکم سےآپ کے رزق کے لئے وہاں ایک بیل اُگ گئی ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تیرتی قبر‘‘ ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے مچھلیوں کے متعلق اہم معلومات اوران کی اقسام اور مچھلیوں کے حوالے مختلف تاریخی واقعات بالخصوص سیدنا یونس کا واقعہ کہ جب وہ اپنی قوم سےناراض ہوکر چلے گئے تو انہیں چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا۔ مصنف نےاس واقعہ کو ایک دلچسپ کہانی کی صورت میں بیان کیا ہے۔(م۔ا)

  • 19 #3638

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 2233

    ثمود کی تباہی

    (ہفتہ 03 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    قوم ثمود یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی۔ فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا، پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرتا اس قوم کا خاص پیشہ تھا۔یہ قوم بھی پہلی بھٹکی ہوئی قوموں کی طرح  بت پرست تھی اور جب ان کے فسق و فجور حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق قوم ثمود میں ہی سے حضرت صالح   کو نبوت کا شرف دے کر مبعوث کیا تاکہ وہ ان بدکردار لوگوں کو اگلی قوموں کے انجام کی داستانیں سنا کر ان کو بتائیں کہ ان کے خوفناک انجام کو دیکھو اور اپنی سرکشی سے باز آؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اللہ  کے عذاب میں گرفتار ہوکر ان قوموں کی طرح دنیا سے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہوجاؤ۔جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح  کو نبی بنا کر قوم ثمود کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم کو جمع کرکے برے کاموں سے بچنے اور اللہ کی راہ اختیار کرنے کی ہدایت کی آپ نے اپنی قوم کو بار بارسمجھایا، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور ان پر اللہ  کے فضل و کرم جتائے، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔اے صالح، ہماری قوت، شوکت، دولت  کی فراوانی، کھیتوں کی سرسبزی، عالی شان مکانات، غرض یہ کہ دنیا جہان کے عیش و آرام جو ہمیں حاصل ہیں تیرے ہی الہ  کی طرف سے ہیں تو پھر وہ لوگ کیوں غریب اور نادار ہیں جو تیرے الہ کو ایک مانتے ہیں۔ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ وہ راست پر نہیں اور یہ ہمارے ہی معبودوں کی تو کرم فرمائیاں ہیں۔سیدنا صالح نے ان سے فرمایا کہ اس عقل و دولت اور شان و شوکت پر ہرگز گھمنڈ اورغرور نہ کرو۔ ایسی چیزیں پل بھر میں فنا ہوجایا کرتی ہیں۔قوم ثمود کو سب سے بڑا تعجب یہ تھا کہ ہم میں سے ہی ایک شخص کیسے نبی بن گیا اور اس پر اللہ  کا پیغام نازل ہونے لگا، اگر ایسا ہی ہونا تھا تو کیا ہم اس کے اہل نہ تھے، ہم جیسے رئیسوں اور بڑے آدمیوں کو چھوڑ کر اللہ نے غریب اور کمزور لوگوں کو اپنے پیغام کے لیے کیوں چنا۔حضرت صالح  نے بارگاہ الٰہی  میں دعا کی اور اللہ کا یہ نشان ایک اونٹنی کی صورت میں نمودار ہوا۔اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کے ذریعے یہ معجزہ بھی ان سرکشوں کو اللہ کی طرف راغب نہ کرسکا۔ تاہم آپ نے اپنی قوم کو نصیحت کی کہ یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ  کی طرف سے تم پر حجت ہے، اللہ تعالیٰ کا نشان تم پر ظاہر ہوچکا ہے، اگر تم اپنی بھلائی چاہتے ہو تو اس اونٹنی کو ہرگز ہرگز نقصان نہ پہنچانا، یہ آزادی سے جہاں چاہے چرے، ہاں ایک روز یہ اونٹنی چشمے سے پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے جانور دیکھو اس میں فرق نہ آئے۔کچھ دن تک اونٹنی کے حیرت انگیز واقعہ نے اس قوم کو حیران و پریشان رکھا اور وقتی طور پر اونٹنی سے کوئی معترض نہ ہوا، لیکن آہستہ آہستہ جن برائیوں کے ماحول میں انہوں نے پرورش پائی تھی وہ ابھرنے لگا اور انہوں نے سازش کرکے اونٹنی کو ہلاک کردیا جب حضرت صالح  کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔تین دن کے بعد کڑک اور گرج کی ایک ہیبت ناک آواز پیدا ہوئی، جس نے ہر انسان کو جو جس حالت میں تھا ہلاک کردیا، لیکن جو لوگ حضرت صالح  پر ایمان لے آئے تھے اس عذاب الہٰی سے بچ گئے، جب قوم ثمود پر عذاب نازل ہورہا تھا تو حضرت صالح  نے قرآن حکیم کے الفاظ میں اپنی قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:’’اے قوم، بلاشبہ میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تم تک پہنچادیا اور تم کو نصیحت کی، لیکن تم تو نصیحت کرنے والوں کو دوست ہی نہ رکھتے تھے‘‘۔ زیر تبصرہ کتاب’’ثمود کی تباہی‘‘ سلسلۃ قصص الانبیاء کا پانچواں  حصہ ہےاس کتابچہ  میں محترم  جناب اشتیاق احمد صاحب نے  سید نا صالح   او رانکی  قوم ثمود کی تباہی کےانجام کو  ایک کہانی اور مکالمے کی صورت میں  انتہائی آسان انداز میں  بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 20 #3621

    مصنف : اشتیاق احمد

    مشاہدات : 1569

    جان سے قیمتی

    (جمعہ 25 ستمبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "جان سے قیمتی" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئےایک منفرد اور کہانی کے انداز میں بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ ، جادو گر ، راہب اور ایمان دار لڑکے کا واقعہ بیان کیا ہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے  سلسلےبچوں کے لئے سچی کہانیاں  کی ایک کڑی ہے۔اس کتاب میں ایمان کی قدر وقیمت اور اہمیت کو ایک واقعہ کی روشنی میں کچھ اس انداز سے  بیان کیا گیاہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 961
  • اس ہفتے کے قارئین 12658
  • اس ماہ کے قارئین 51052
  • کل قارئین49408859

موضوعاتی فہرست