دکھائیں کتب
  • 31 بچوں کے اسلامی نام (جمعہ 27 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:51777

    اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو چیز بھی پیدا کی ہے  خواہ وہ انسان ہو جاندار، بے جان ۔غرض ہر چیز کی پہچان اس  کے نام سے ہوتی ہے ۔ اور نام انسان کی شناخت کاسب سے اہم ذریعہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے  حضرت آدم  کو بھی سب سے پہلے ناموں کی تعلیم دی تھی جب  بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مرحلہ نام رکھنے کا ہوتاہے خاندان کا بڑا بزرگ یا خاندان کے افراد مل کر بچے کا پسندیدہ نام رکھتے ہیں۔  اور  بعض لوگ اپنے بچوں کے نام رکھتے  وقت  الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور اکثر سنے سنائے ایسے نام رکھ دیتے ہیں   جو سراسر شر ک پر مبنی ہوتے ہیں۔ اور  نام رکھنےوالوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ  جو  نام رکھا اس کامطب معانی کیا  ہے اور یہ  کس زبان سے  ہے   حالانکہ اولاد کے اچھے اچھے نام ر کھنے کی شریعت میں بہت تاکید کی گئی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : َلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (سورہ  الحجرات:11) زیر نظر کتاب’’بچوں کے اسلامی نام ‘‘ محترم ارشد محمود صاحب  کی مرتب شدہ  ہے ۔  جس میں انہوں نے  زیادہ  سے زیادہ اسلامی نام  جمع  کرنے کی کوشش کی ہے اور  ان کے  معانی  بھی لکھ  دئیے ہیں  اور ہر نام کے معانی بتانے  کےساتھ ساتھ  ہر نام کے آگے  مختلف حروف تہجی مثلاً ا،ع،ہا،ف وغیرہ  سے یہ بھی  واضح کردیا ہے کہ یہ ...

  • 32 بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں (بدھ 04 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:20261

    دین اسلام میں بچوں کی تربیت اور نگہداشت کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور نبی کریمﷺ نے بچوں کو جنت کے پھول قرار دیا۔ بچے پر اثر انداز ہونے والے تین عوامل ہیں: گھر، مدرسہ اور معاشرہ۔ بچے کی زندگی پر سب سے زیادہ اثرات اس کے گھر کے ماحول کے ہوتے ہیں ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہے اس لیے ماں کی بچے کی تربیت میں خاصا محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ زیر نظرکتاب میں مصنفہ ڈاکٹر ام کلثوم نے تربیت اولاد میں والدین کے کردار کواجاگر کیا ہے۔ انہوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ بچوں کی تربیت کے ذیل میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو بہت خوبصورت انداز میں جمع کر دیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 33 بہو اور داماد پر سسرال کے حقوق (ہفتہ 11 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:4451

    اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان کواساسی حیثیت حاصل ہے ۔خاندان کااستحکام ہی تمدن کے کےاستحکام کی علامت ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے نصابِ حیات قرآن وحدیث میں خاندان کی تشکیل وتعمیر کے لیے واضح احکام وہدایات ملتی ہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ النساء اسی موضوع کی نمائندگی کرتی ہے ۔ نکاح وہ تقریب ِ باوقار ہے جس سےخاندان کےاساسی ارکان مرد وعورت کےسسرال کارشتہ ظہور میں آتاہے۔اسلام انسانی رشتوں میں باہمی محبت،احترام،وفا،خلوص،ہمدردی، ایثار ،عدل،احسان، اور باہمی تعاون کادرس دیتا ہے میکے ہوں یا سسرال دونوں اپنی جگہ محترم ہیں دونوں اانسان کی بنیادی ضرورت نکاح کےاظہار کا نام ہیں ۔دونوں ہر گھر کی تنظیمی عمارت کابنیادی ستون ہیں۔مرد وعورت پر سسرال کے حقوق کی ادائیگی اسی طرح یکساں فرض ہے جس طرح ان دونوں کی اپنی ذات کے حقوق ایک دوسرے پر یکساں فرض ہیں اگر دونوں میں سے کوئی ایک چاہتا ہے کہ اس کاشریکِ زندگی اس کے اقربا سے اچھا سلوک کرے تو اپنے زوج کے اقرباء سےاچھا سلوک کرنا اس کا اپنا بھی فرض ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’بہو اور دماد پر سسرال کے حقوق‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے۔اس میں انہوں نے قرآن وحدیث سےسسرال کے حقوق وفرائض کے بارے میں جو تفصیلات یا اشارات ملتے ہیں ان کو یک جا کرنے کی کوشش ہے۔ تاکہ وہ مربو شکل میں سامننے آجائیں ۔قرآن وحدیث وہ پیمانہ ہےجس پر ہم اپنی زندگی کی عمارت استوار کرنے کے پاپند ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے۔آمین (م۔ا)

  • 34 بیوی اورشوہر کے حقوق (منگل 17 اگست 2010ء)

    مشاہدات:18880

    نکاح وہ پاکیزہ شرعی طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک بیوی اورشوہرکاوجودہوتاہے ۔نکاح کی مشروعیت بنی نوع انسان پراللہ تعالی کاایک عظیم فضل واحسان ہے ۔یہی وہ شریف،منظم اورمحفوظ عمل  ہے جس سے ان کی نسل آگے بڑھتی ہے ،نسب معلوم ہوتاہے ،خاندان،رشتے اورتعلقات بنتے ہیں ۔ایک سماج اورمعاشرہ کی تعمیروتشکیل ہوتی ہے۔لیکن اس کےلیے ضروری ہے کہ میاں بیوی میں سے ہرایک اپنے فرائض سےباخبرہواوردوسرے کےحقوق کوپہچانے تاکہ نکاح کے جملہ مقاصدکاحصول ممکن ہوسکے ۔زیرنظرکتاب میں اسی کوموضوع سخن بنایاگیاہے۔حقیقت یہ ہے کہ کتاب مذکوراپنےموضوع پربہت ہی اہم ہے ۔زبان وبیان بہت ہی عمدہ ،دلکش اورعام فہم ہے۔قرآن وحدیث کی روشنی میں دنیاکےسب سے مقدس رشتہ کے باہمی حقوق کوبڑے ہی سیکس واچھوتے انداز میں پیش کیاگیاہے ۔ظلمت وتیرگی کےاس عہدمیں جہاں نکاح جیسے مقدس وپاکیزہ رشتے کوکسی کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اورجہاں میاں بیوی کے حقوق کی پامالی ایک عام چلن بن چکی ہے ،یہ کتاب راہنمائی کاایک چراغ ثابت ہوگی۔ان شاء اللہ

     

  • 35 بیویوں کے درمیان عدل (جمعرات 11 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2079

    اسلام دین فطرت  ہے ،اس  میں انسان کی روح اور جسم دونوں کے تقاضےپورے کرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نےکافی وشافی احکامات دئیے ہیں۔ تعدّدِ ازواج کاقانون اس کی جیتی جاگتی  مثال ہے۔ عدل کی شرط کے ساتھ مرد کویہ اجازت دی گئی ہ کہ  وہ  بیک وقت چار بیویاں اپنے عقد میں رکھ سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ  نے مردکو  دو تین چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دے کر  اسے کوئی اضافی سہولت ،عیش وعشرت کا موقع یا کوئی اعزاز وانعام  عطا نہیں کیا  جیسا کہ غیر مسلموں یا اسلام کےاحکامات سے  نابلد مسلمانوں کی اکثریت کاخیال ہے ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو مرد ایک سے زائد شادیاں کرتا ہے  وہ  خود کو ذمے داریوں کے شکنجے میں دو بیویوں کی صورت دوگنا ،تین بیویوں کی صورت میں تین گناہ اور چار بیویوں کی صورت میں  چار گنا جکڑ لیتاہے ۔اگر وہ اپنی  بیویوں میں  عدل وانصاف اور مساوات کا خیال نہیں رکھتا  تو وہ گناہگار  ٹھرتاہے ۔ جو شخص اپنی بیویوں  کے حقوق ادا کرنے  میں غفلت برتتا ہے  یا  جان بوجھ کر  ان کے حقوق غصب کرتاہے ۔احادیث میں اس کے لیے  اللہ تعالیٰ  کی طرف سے شدید پکڑ کی وعید سنائی گئی ہے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جس شخص کی دوبیویاں ہوں اوران کے درمیان عدل نہ کرے  توقیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک  حصہ گرا ہوا (فالج زدہ) ہوگا۔‘‘(سنن ابی داؤد) زیر  نظر کتاب ’’  بیویوں کےدرمیان عدل ‘‘ محترمہ&nb...

  • 36 تحفۃ الاطفال (جمعرات 06 دسمبر 2018ء)

    مشاہدات:1222

    اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد ہے۔اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔انسان کی اصل تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔ جو اپنے لال کو اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق وفرائض سے آگاہی فراہم کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلم گھرانوں میں بچہ زبان کھولتا ہے تو  گھر کی فضا لاالہ الا اللہ کی مشک بار لفظوں سے معطر  ہوجاتی ہے ۔اور حالات  کا مشاہدہےکہ جو لوگ اپنے بچوں کی دینی تربیت نہیں کرپاتے انہیں زندگی میں ندامت  وشرمندگی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ وہ اپنی نادانی اور بے خبری پر کف افسوس ملتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تحفۃ الاطفال‘‘  مولانا  غلام  مصطفیٰ  ظہیر امن پوری ﷾کی مرتب شد ہ ہے ۔ یہ کتاب  دو حصوں پرمشتمل ہے ۔پہلے  حصے کا نام تحفۃ الاطفال اور دوسرے حصے کا نام ’’ ریاض الاطفال‘‘ ہے  حصہ اول ’’ تحفۃ الاطفال‘‘ میں مسلمان ماؤں کی ضرورت کے پ...

  • 37 تربیت اولاد (منگل 05 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1871

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’تربیت اولاد‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو ﷾ کاتربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی رسالے کا ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ میں   شیخ موصوف نے   تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔ یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسل...

  • اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تربیت اولاد کا نبوی انداز اور اس کے زرّیں اصول ‘‘ محترم محمد نور بن عبد الحفیظ سوید کی اولاد کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے ایک جامع عربی کتاب ’’ منهج التربية النبوية للطفل ‘‘ کا سلیس اور بامحاورہ اردو ترجمہ ہے ۔ فاضل مصنف نے بیسیوں کتب سے استفادہ کرکے اس کتاب کو اس خوبصورت انداز سے مرتب کیا ہے ک...

  • 39 تربیت اولاد کے اسلامی اصول (اتوار 21 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1956

    اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔اپنی اولاد کی تربیت کے معاملہ میں سردمہری کامظاہرہ کرنے والوں کو کل قیامت کے روز جوکربناک صورت حال پیش آسکتی ہے۔ اس سے اہل ایمان کومحفوظ رکھنےکےلیے اللہ تعالیٰ نے پہلے سےآگاہ کردیا ہے۔ تاکہ وہ اپنی فکر کےساتھ ساتھ اپنے اہل عیال اوراپنی آل اولاد کوعذاب الٰہی میں گرفتار ہونے اور دوزخ کا ایندھن بننے سے بچانے کی بھی فکرکریں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تربیت اطفال کے اسلامی اصول ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد...

  • 40 تلاش درس گاہ ( برائے والدین ) (اتوار 19 فروری 2017ء)

    مشاہدات:956

    اسلام نے خاندان کوخاص اہمیت دی ہے اور چونکہ معاشرہ سازی کے سلسلہ میں اسے ایک سنگ بنیاد کی حیثیت حاصل ہے لہذا اسلام نے اس کی حفاظت کے لئے تمام افراد پر ایک دوسرے کے حقوق معین کئے ہیں اور چونکہ والدین کا نقش خاندان اور نسل کی نشو ونما میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے لہذا قرآن کریم نے بڑے واضح الفاظ میں ان کی عظمت کوبیان کیا ہے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔بنی نوع انسان پر حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد میں سے سب سے زیادہ حق اس کے والدین کا ہوتا ہے۔ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس  میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ آپ نے فرمایا :تیری ماں کا۔ اس نے دوبارہ اور سہ بارہ پوچھا: آپ نے فرمایا: تیری ماں کا۔ پھر فرمایا تیرے والد کا۔ ماں اللہ کے احسانات میں سے وہ احسان ہے جس کا جتنا بھی شکر بجا لایا جائے کم ہے۔قرآن پاک نے ماں باپ سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ ماں باپ اگرچہ مشرک بھی ہوں تب بھی ان سے بدسلوکی کرنے سےمنع فرمایا گیا ہے۔ ماں کی عظمت وشان  پرمتعدد آیات قرآنی اور احادیث نبویہ موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تلاش درس گاہ برائے والدین "محترم ابو العاصم عقیل خان صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے والدین کے مقام ومرتبے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے  سے متعلق قرآن مجید کی آیات  اور نبی کریم ﷺ کی  احادیث مبارکہ کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق دے ۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1414
  • اس ہفتے کے قارئین: 8813
  • اس ماہ کے قارئین: 37062
  • کل قارئین : 46505516

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں