ہمارے بچے ہم سے کیا چاہتے ہیں(4739#)

ڈاکٹر یاسر نصر
محمد امان اللہ ناصر مدنی
مکتبہ بیت السلام الریاض
351
14040 (PKR)

دینِ اسلام میں بچوں کی تربیت پر بڑا زور دیا گیا ہے چنانچہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے بچوں کی صحیح تربیت اور نشو و نما کے لیے اپنے اخلاق وعادات کو درست   کر کےا ن کےلیے ایک نمونہ بنیں، پھر اس کے بعد ان کے عقائد وافکار اور نظریات کوسنوارنے کےلیے بھر پور محنت کریں اور ان کی اخلاقی اور معاشرتی حالت سدھارنےکے لیے ان کے قول وکردار پر بھر پورنظر رکھیں تاکہ وہ معاشرے کے باصلاحیت اور صالح فرد بن سکیں۔کیونکہ اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب و سنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کے حقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ تربیت اولاد پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ہمارے بچے ہم سےکیا چاہتے ہیں‘‘ ڈاکٹر یاسر نصر ﷾ کی عربی کتاب ماذا یرید أبناؤنا منا‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نےاس کتاب میں بچوں کی تربیت کے متعلق روشنی ڈالتے ہوئے بڑوں پر عائد ہونےوالے فرائض اور ذمے داریوں کواجاگر کیا ہے تاکہ ان اصول وضوابط کی روشنی میں قارئین اپنے بچوں کی صحیح اسلامی تربیت اور نشو ونما کے فریضے سے کما حقہ عہدہ برآہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ مؤلف، مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

عرض ناشر

25

نفساتی تربیت

27

سکون اوراطمینان کےحصول کےلیے چھے تربیتی ذرائع

27

نفسیاتی تربیت کےمفہومات

29

انسان کی عمومی اوربچے کی خصوصی ضروریات

32

آپ کےبچے کواطمینان کیسے مل سکتاہے ؟

33

اطمینان مہیا کرنے کی تربیتی ذرائع

34

نرمی اور حسن سلو ک

34

سختی بے رحمی اورحد سےزیادہ محاسبے سےاجتناب

35

بچے کےلیے مسرت وشاد مانی مہیا کرنےکی خاطر مطلوب وسائل کےلیے مسلسل جستجو

35

بچے کےساتھ مسلسل دلچسپی اوراس کےحالات  کامتواتر جائزہ

37

والدین کےمتعلق بچے کے اندیشوں کاازالہ

38

ضرورت مندبچوں کےساتھ خصوصی توجہ

39

بچے کی ذاتی ضروریات

39

انسان کی انفرادی ضروریات

40

ایمانی تربیت ہی ضروریات کو صحیح سمت پر گامزن کرتی ہے

43

تصحیح کےچھے لمحات

44

حیثیت وعزت کی بحالی کی ضرورت

46

بچے کی ذاتی اہمیت وحیثیت کےشعور کو مضبوط کرنےکےلیے آٹھ اقدامات

46

اپنی حیثیت اوراہمیت کونمایاں کرنےاوراسے تسلیم کروانے کےلیے بچے کے اختیار کردہ طریقے

48

اہم ترین نوٹ

50

اپنے بیٹے کواپنی توجہ کامرکز ومحود نہ بنائیں

50

بچے کواس کووسعت سے زیادہ ذمے داری نہ سونپیں

50

ایک بچے کادوسرے کےساتھ تقابل نہ کریں

51

بچے کےاندراس کی ذاتی اہمیت وحیثیت کےشعور کو مضبوط کرنےکے لیے آٹھ اقدامات

52

اپنے بیٹے کو وقت دیں

52

بچے کےدل میں اپنی قدروقیمت کااحساس اجاگر کریں

52

اپنے بیٹے کوآزادی دیں

53

اپنے بیتے کوپسندوناپسند کااختیار دیں

53

اس کی رائے کااحترام کریں

53

اپنے بیٹے کوکچھ ذمے داریاں سونپ دیں

54

اپنے بیٹے کی تعریف کریں

54

لوگوں کےسامنے اپنے بیٹے پر فخر کریں

54

محبت کی ضرورت

55

اہم ترین سوالات

55

بیٹے کےدل میں محبت کاپیغام دینے کےلیے چار اقدام

55

آپ کی محبت کی دس علامتیں

55

کیا ہمیں اپنی اولاد کےساتھ محبت ہے

56

اپنے بیٹے کو اپنی محبت کےذریعے سےمحبت کی تعلیم دیں

56

اپنے بیٹے کےدل میں محبت کی تعمیر کےلیے چار اقدامات

58

اپنے بیٹے کےسامنے اپنی محبت کااظہار کریں

58

اپنے بیٹے کی گفتگو کو بڑے انہماک اورتوجہ سے سنیں

59

اپنے بیٹے کو تحفے تحائف سےبھی زیادہ محبت کاعطیہ دیاکریں

59

محبت کےاظہار کےلیے آپ اپنے بیٹے پر اعتماد اوربھروسہ کریں

60

محبت اعتماد اوریقین کانام  ہے

61

اب آپ کابیٹا آپ سے محبت کرتاہے

63

آپ کےبیٹے کی آپ کےساتھ محبت کی دس علامات

63

سکون کی ضرورت

64

بچے کی زندگی میں سکون واطمینان کےچھے دشمن

64

اطمینان واسودگی مہیا کرنے کے لیے چھے تریبتی ذرائع

64

بچے کی زندگی میں اطمینان کو مضبوط ومستحکم کرنے کےلیے سات اقدامات

65

بچے کی زندگی میں سکون واطمینا ن کےچھے دشمن

66

ماں باپ کےمابین ختلافات اورلڑائی جھگڑے

66

قواعد وضوابط اورمناسب سزاوغیرہ کافقدان

67

والدین کاغائب رہنا یاان میں سے ہر ایک کااپنی ذمے داریوں سےسبک دوش ہوجانا

67

انسانی جذبات واحساسات کامفقود ہوجانا

68

ماں باپ کابے چین اوربے قرار رہنا

69

پدری اورمادری طریقوں کابدل جانا

69

اطمینان وآسودگی مہیا کرنے کےلیے چھے تریبتی ذرائع

70

نرمی اور ملائمت کاانداز

70

سختی بےرحمی اورحد سے زیادہ محاسبے سےاجتناب

70

بچے کو مسرت وشاد مانی مہیا کرنے کی خاطر مطلوبہ وسائل کی مسلسل جستجو

70

بچے کے ساتھ مسلسل دلچسپی اورا سکےحالات کامتواترجائز ہ

71

والدین کےمتعلق بچے کےاندیشوں کاازالہ

71

ضرورت مند بچوں کےساتھ خصوصی توجہ

72

بچے کے اطمینان کو مضبو ط کرنےکےلیے ساتھ اقدامات

73

ماں باپ کی اطمینا ن سےبھر پور زندگی

73

والدین کی اپنے بیتے سےمحبت

74

خاندانی ملاقاتیں

74

قواعد وضوابط

76

تجربہ وتحقیق کی دعوت

77

تربیت کےدائمی اورواضح ترین مقاصد

77

بچے کو پیار سے چھونا اوراسے گلے ؓگانا

78

خاندانی نسبت کو فروغ دینا

80

خاندان کےساتھ نسبت اورتعلق کومضبوط کرنےکے ذرائع

82

تعریف وستایش کی ضرورت

83

مثبت تعریف کےلیے معیاری اقدامات

86

مثبت تعریف کےلیے معیاری چھے عملی اقدامات

83

چھے عملی اقدام

88

شخصیت کےبجائے کامیابیوں پر زیادہ توجہ مرکوز رکھیں

88

کوشش اورمحنت کی بھی تعریف کریں چاہے یہ کامیابی سےہمکنار نہ بھی ہوئی ہو

88

اپنے بیٹے کی تعریف کرنےسےآپ اس سےاپنی محبت  کاثبوت مہیاکرتے ہیں

89

تعریف خوش دلی سےکریں محض اظہار تعلق کےلیے نہیں

90

حوصلہ افزائی کےمواقع پر خوب حوصلہ افزائی کریں

90

یہ وقت ضرورت تعریف کےلیے مستعدرہیں اوراس امر میں تاخیر نہ کیاکریں

91

دوسروں کی طرف سےاسے قبول کرنےکی ضرورت

92

چار نامناسب اورغلط تربیتی طریقے جوبچے کوو قبولیت اورپسندیدگی سےمحروم کردیتے ہیں

92

بچے کو اپنےلیے دوسروں کےہاں مقبولیت کی ضرورت کو مضبوط کرنے کے لیے دس طریقے

92

ماں باپ کاسلوک اوربچے کو سوچ

95

تربیت کےچار غلط طریقے جو بچےکوقبولیت اورپسندیدگی سےمحروم کردیتے ہیں

96

ہروقت بچے پر تنقید

96

بچے پر اس کی ذہنی وجسمانی وسعت سے زیادہ ذمے داری

96

بچے کا کسی دوسرے بچے کے ساتھ تقابل

97

بچے کی بےجا حفاظت اورنگرانی اوراس کے حد سےزیادہ ناز برداری

97

بچے کی قبولیت وپسندیدگی کی ضرورت کوکیسے فروغ  دیاجائے

99

بچےکی دوسروں کےہاں اپنی مقبولیت ثابت کرنے کےدس طریقے

100

بچے کو خود مختار ی دیں

100

بچے کو خود مختار فردہونے کی حیثیت کااعتراف کریں

100

اس کی کامیابیوں کو تسلیم کریں

101

اس کے ساتھ اپنی محبت کاکھل کر اظہار کریں

102

بچے کی تربیت  اورنشو ونما سے لطف اندوز ہوں

102

بچے کی آراو تجاویز کو قبول کریں

102

بچے کی جایز دوستیوں کو پسندیدگی کی نظرسے دیکھیں

103

اسے رائیگا ں اوربے کارنہ قراردیں بلکہ اس کوحوصلہ افزائی کریں

103

بچے پرتوجہ مبذول رکھنے کاطریقہ سیکھیں

104

اپنے بچےکےساتھ وہی سلوک کریں جس طرح کےسلوک کی آپ اپنے لیےتوقع کرتے ہیں

105

بچے کااپنے باپ کےنام مکتوب

106

اصلاح اورتنبیہ کی ضرورت

116

تہذیب واصلاح کی تین بنیادیں

116

نماز مثبت طرز تربیت کانمونہ

116

بچہ تادیب واصلاح کامحتاج ہوتاہے

117

تنبیہ اوراصلاح میں بچے کی خوش نصیبی پوشیدہ ہے

118

دوسروں کےتجربات سےاستفادہ کیاجائے

119

ادب آموزی احترام کےمنافی نہیں ہے

120

تہذیب اورفہمایش تو جائز ہے مگر سنگ دلی اوربے رحمی قطعا نہیں

121

ادب ضرور سکھائیں مگر گھات لگانے کی پالیسی سےاحتراز کریں

122

مشکل حالات میں اولاد کی تربیت

124

وقفہ

125

سزااورفہمایش کی ضرورت

126

وقفہ

129

اخلاقی تربیت کےمقاصد واہداف

130

تہذیب وتربیت کے بڑے طریقے

131

تربیتی عمل کوخوش اسلوبی کےساتھ نبھانے کےلیےسولہ طریقے

132

وقفہ

134

تہذیب وتربیت اورفہمایش کی تین بنیادیں

136

نظم وضبط

136

اہم ترین ملاحظہ

137

کیاوہ تدبر نہیں کرتے

138

فرماں برداریاورقابل اتباع نمونہ

138

بچہ صرف اپنے آئیڈیل اورنمونےکی پیروی کرتاہے

139

بچہ صرف اسی شخص کی پیروی کرتاہے جس سے وہ محبت کرتاہے یا جواسے پسند ہوتاہے

139

بچے کواعی اخلاقی اقدار اورعالی شان معیارات کی شناخت والدین کےساتھ تعلق کےذریعے ہی سے حاصل ہوتی ہے

141

اقوال سےزیادہ اعمال کی ترجیح دیں

141

اتباع وپیروی بچے کی ذاتی ضرورت ہوتی ہے

142

آپ اپنے بچے کےلیے بہترین نمونہ بن جائیں

142

واضح قواعدوضوابط اورخفیہ ترغیب وتحریک

143

خفیہ ترغیب وتحریک کی  دس مثالیں

145

واضح لائحہ عمل

146

زبان

146

تکرار

146

احساس اورجذبہ

146

تجریہ اورتربیت

147

نماز مثبت لائحہ عمل کانمونہ

148

محبت اورجذبے کی تعمیر

148

زبان

149

تکرار

149

تربیت اورتجربہ

150

کسی بھی لائحہ عمل کی تشکیل کےلیے کتنی مدت درکار ہوتی ہے

150

اچھی اورعمدہ تادیب کے عام اصول

151

تربیت کےلیے درمیانی راستہ اختیار کیاجائے

151

مشکلات کے حل کےلیے بچے کو شریک کیاجائے اوراس کی رائے لی جائے

152

تہذیب سے مقصود بچے کی معاملات میں اچھے تدبیر وانتظام کی تربیت ہونا چاہیے

153

باتوں پرتھوڑی اورکام پر زیادہ توجہ دی جائے

153

والدین کی تعظیم وتکریم کو فروغ دیاجائے

154

اولاد پر مثبت انداز سے نگرانی اورکنٹرول رکھاجائے

155

محبت اورانگرانی میں اعتدال کو ملحوظ رکھا جائے

155

حدسے زیادہ مادیت پرستی سےاجتناب کیاجائے

156

ہدایات اورنصیحتوں کی حکمت وعلت بیان کی جائے

157

اعلی اخلاقی اقدار اورشاندارمعیار کی تعمیر کی جائے

158

پوشیدہ اورمہمل احکامات کےبجائے واضح ہدایات کو استعمال کیاجائے

159

عمومی احکامات کےبجائے معین ہدایات دی جائیں

160

پوشیدہ اورمہمل قسم کی ہدایات

161

معین اورواضح ہدایات

161

ہر موقع پر سزا کونہ اختیار کیاجائے

161

مثبت اصلاح وتربیت کےتیرہ مختصر اصول

163

اعتماد کےذریعے سے مثبت اصلاح

164

بچے کےاعتماد کی چھے خصوصیات

164

ہم بچے کے اعتماد کو کس طرح تعمیر کرسکتے ہیں

164

اولاد کےساتھ سختی اورشدت کےچھے انداز

164

بچے کے اعتماد کی چھے خصوصیات

166

بلند حوصلگی

166

خود اعتمادی

166

عزت واحترام

166

ذمے داری کااحساس

167

بے آمیز صدق بیانی

167

خوبصورت گفتگو اورربط وتعلق کی مہارت

168

بچے کےاعتماد کوکیسے مضبوط کیا جائے

168

تیرہ اہم ترین عناصر (والدین کو چاہیے کہ وہ انھیں ہمہ وقت ملحوظ رکھیں

170

ملاحظہ

171

اولاد کےساتھ سختی اورتشدد کےچھے مظاہر

173

بچے کو حرکت سے روک دینا

173

بچے کی تذلیل وتحقیر کرنا

173

بچے کےساتھ زورزبر دستی کرنا

173

اولاد کی رائے پر غور وفکر کیےبغیر والدین کااپنی رائے کو مسلط کردینا

174

اولاد کےکردار وعمل کی ذاتی تشریح

174

دھمکی دینا(یہ سختی کی بدترین قسم ہے)

175

تہذیب واصلا ح اور تربیتی دور اندیشی

177

ضدی اورہٹ دھرم بچہ

178

اس واقع میں نقصان دہ تربیت کاکردار

181

اصلاح وفہمایش اورہلاکت خیز پابندیاں

183

گدھے کی آزادی

183

ہمارے بچے اورآزادی

186

اپنی اولاد کےساتھ ان کی سمجھ کےمطابق گفتگو کرو

188

بڑوں اورچھوٹوں مابین ناہموار اورغیر موافق گفتگو کےمنفی اثرات

188

ترمذی نے اسے بل  سےباہر نکال لیا

189

وحیۃ کلبی

190

ابو خلدون الحصری

191

کھیل کےذریعے بچوں کی تربیت

192

کھیل کی سات خصوصیات

192

کھیل  اورباہمی اعتماد

193

کھیل اورمشترکہ احساسات وجذبات

193

کھیل تفریح اوردلچسپی کاموقع ہوتاہے

193

کھیل کامیابی کی صلاحیتوں کی پروان چڑھانے کاذریعہ ہوتاہے

194

باپ کےاساسی کردار کاظہار کھیل کے ذریعے سے ہوتاہے

195

آؤکھیلیں اوردوڑیں

196

کھیل اورخود مختاری

197

بچے کےاعتماد کو مضبوط کرنے کےلیے سات اقدامات

198

شریعت کی روشنی میں تعلیم وتربیت

201

شریعت کی روشنی میں تہذیب اوراصلاح کےلیے چھے تدبیریں

201

شریعت کی روشنی میں تہذیب اصلاح کےلیے چھے تدبیریں

202

بچے (گھر میں داخل ہونے کےلیے )تین اوقات میں اجاز طلب کریں

202

بچوں کو احکامات واوامر کی اطاعت کااورمنہیات سےاجتناب کاحکم دیاجائے

203

بچوں کو نماز کاحکم دیاجائے

205

بچے کےرویوں کی اصلاح یاان کی پختگی کےلیے مسلسل  جائز ہ لیاجاتارہے

208

بچوں کو روزے رکھنے کاحکم دیا جائے

210

بچوں کو کلمہ شہادت بولنے کی عادت ڈالی جائے

214

نوتربیتی پیغامات

216

محبت کے ذریعے سے تہذیب واصلاح

219

باہمی محبت کے تعمیر کےلیے مددگارذرائع

219

پسندیدگی راستے  کی ابتداء ہے

221

شکر عمل بھی ہے اروایک رویہ بھی

223

اپنے بچے کے سامنے  اپنی محبت کااظہار کریں

225

اپنی محبت کے اظہار سے آپ کامرتبہ اوروقار قطعا مجروح نہیں ہوگا

228

محبت کےذریعے تہذیب وتربیت کےپانچ اقدامات

231

اپنے بچوں کو بوسہ دیجیے ان کےساتھ نرمی اورعفوودرگزر کاطریقہ اپنائیے

231

معمولی قسم کی غلطیوں سےدرگزر کیجیے اورنرمی وملائمت سے ان کی اصلاح کیجیے

232

جن سے آب محبت کرتے ہوں ان سے ہمددری کیجیے

233

اپنے پیاروں کی قدرافزائی کیجیے

234

جن سے آپ کو پیار ہے ان سے محبت شفقت اورہمددری سے لبریز گفتگو کیجیے

235

مسکرا ہٹ ،گفتگو اوربہترین پروش بچے کو منظم زندگی گزارنے کےلیے حوصلہ مہیا کرتی ہین

236

مثبت  اوربامقصد سز ا کے ذریعے سے اصلاح

242

حدیث شریف کےضمن میں آٹھ تربیتی اسباق

242

ساتویں سال سے بچوں  کی عادت سازی کاحکم

243

سات سال کی عمر میں بچوں میں سیکھنے کی استعداد حدسے زیادہ ہوتی ہے

247

تدریج اورتسلسل جہاں ایک تربیتی طریقہ کار ہے وہاں یہ انسانی مزاج کے ساتھ مطابقت بھی رکھتاہے

247

بڑوں کی ذمے داری بھی بڑی ہوتی ہے لہذا بچوں کو مارنے سے پہلے (غفلت برتنے کےجرم میں )بڑوں کو سز ا دی جانی چاہیے

247

مثبت تہذیب وتربیت کے لیے تین سال کافی ہے

248

نماز باقی تمام معاملات کےلےی اعلاترین نمونہ ہے

249

رسول اللہ ﷺ نےبہ نفس نفیس کبھی کسی کو نہیں مارا

250

بچوں کو احترام عزت محبت اوراعتماد کےذریعے ہی سے مودب بنایا جاسکتا ہے خوف اوردہشت کےطریقوں سےتو بالکل ہی  نہیں

20

سز ا کے مختلف اسلوب انصاف کے ترازو میں

252

ماں کے جس قدر زیادہ مارتی ہے بچے کارویہ اسی قدر بد سے بدتر ہوتاجاتاہے

253

مارپیٹ کا طریقہ  پسپائی اور مغلوبیت پر دلالت کرتاہے

253

مارپیٹ کےنقصانات پندرہ منفی نتائج

253

نرمی اورملائمت ہر شے کو خوبصورت بنا دیتی ہے

257

ماں باپ پیٹ کرنے کےلیے مجبور ہوجاتے ہیں

260

مثبت لائحہ عمل کےلیے چار اقدامات

260

والدین اوراولاد کے باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کےلیے دس اقدامات

260

انھوں نے (والدین اورمربیوں نے )مجھے مارا پیٹا تھا اس لیے میں بھی روتاہوں

262

کیا واقعتاہم اس عیب سےآزاد اورمحفوظ ہیں

262

کیاہم اپنے بچپن کے مظالم کواپنی اولاد میں منتقل کرنا چاہتے ہیں

263

اس وقت آپ کا اپنا احساس کیسا تھا

264

بچے کادماغ ظالمانہ برتاؤ سے فور ی طورپر متاثر ہوتاہے

265

خطرناک چوٹیں

266

احکامات صادر کرنےسے پہلے

268

کیا آپ کو یاد ہے

270

ہم ماریں یا نہ ماریں

271

آپ مارپیٹ کےذریعے سےکیوں سزا  دیتے ہیں

272

مارپٹائی کےلیے اصلی اورحقیقی سبب کو جاننے کی ضرورت

273

سز ا مسلط کرتے وقت

275

خارجی احساسات

275

خیالات

277

اندرونی احساسات

277

بھڑک اٹھنے سے اجتناب کریں

279

جسمانی حالت

289

تفکرات

279

احساسات

280

یہ لمبی فہرست کس لیے

281

ٹکراؤیا گریز سختی یا برداشت

282

ٹکراؤیا گریز

284

اپنی پالیسوں کو معین کرلیں اوراپنے آپ کو ناگہانی صورتحال کےلیے مستعد رکھیں

286

مثبت اورتعمیری لائحہ عمل کےلیے چار اقدامات

287

یقین کامل

287

مضبوطی اورخفیہ پیغام

287

غور وفکر

287

رویہ

288

اپنی توانائی کو تخریب کےلیے نہیں بلکہ تعمیر کےلیے محفوظ رکھیں

289

غیر معمولی سانحہ اوراس کی کہانی

290

پیار ے اباجان مجھے میرا ہاتھ لوٹا دیں

291

سختی اوربے رحمی کاشکار بچہ کیا محسوس کرتاہے

294

اے باپ ذرا آپ کو غور کریں

297

ہم اپنے بچوں کو کیوں مارتے ہیں؟

299

اعتماد کےفقدان

301

مارنے کی دھمکی

301

آپکو کیا طرز عمل اختیار کرناچاہیے

304

والدین اوراولاد کےباہمی تعلقات کی مضبوطی کےلیے دس اقدامات

305

گھر کےاندر آپ بطور مربی کس طرح مضبوط رہ سکتے ہیں

308

کیا آپ اپنی مداخلت میں حدسے توتجاوز نہیں کرجاتے

310

تبدیلی کی وقت اورمتبادل کی جستجو

312

ہمیں تبدیلی کےتقاضوں کوسمجھنا چاہیے

313

کشیدگی کےاظہار کےبجائے مشکلات کوحل کیا جائے

313

غصے اوراشتعال کابہترین استعمال

313

ایمان کی ضرورت

317

تربیت ایمانی کےاصول

317

ایمانی تربیت کیوں؟

318

پہلی حیثیت

319

دوسری حیثیت

319

تیسری حیثیت

319

چوتھی حیثیت

320

پانچویں حیثیت

320

عقیدے کی تعمیر

321

پہلی بنیاد

321

دوسری بنیاد

322

تیسری بنیاد

323

چوتھی بنیاد

323

پانچویں بنیاد

325

چھٹی بنیاد

326

ساتویں بنیاد

326

آٹھویں بنیاد

326

نویں بنیاد

327

گیارہویں بنیاد

328

خلاصہ

329

عبادت کےمکمل اورہمہ گیر مفہوم کوذہین میں راسخ کیاجائے

331

بچے کے ذہن میں  میں عبادت کےمقاصد کواجاگر کیاجائے

332

انسان کواپنے رب کی عباد ت کس لیے کرنی چاہیے

332

عبادت کےلیے بچے کو عادی بنانے کے مراحل

335

پہلا مرحلہ (نمونے کےطور پرنماز کومحبوب ومرغوب بنانے کامرحلہ )

335

دوسرا مرحلہ (تعلیم کامرحلہ )

336

تیسرا مرحلہ (تنفیذ اورحتساب کامرحلہ )

336

چوتھا مرحلہ (بچوں کومساجد کی طرف اپنے ساتھ لے جانے اورانھیں باجماعت نماز پڑھنے کاعادی بنانے کامرحلہ )

337

بچوں کو اپنے ساتھ مسجدوں میں لے نجانے کے متعدد فوائد

338

مسلمان شخص اپنی اولاد کو عبادت کی تربیت کیسے دے

339

روزے اورعبادت کی تعمیر

346

بچوں کےروزوں کےتربیتی فوائد

347

بچے کو آہستہ آہستہ عادت ڈالی جائے

348

بچہ کب روزہ  رکھے

348

بچہ کازکات

349

بچہ اورحج

348

ایمانی تربیت کے حوالے سےایک بات

350

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2261
  • اس ہفتے کے قارئین: 6418
  • اس ماہ کے قارئین: 30946
  • کل قارئین : 47103018

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں