علامہ احسان الہی ظہیر

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
علامہ احسان الہی ظہیر
حاجی شیخ ظہور الٰہی
1945-05-31
1987-03-30

دینی تعلیم کےلیے آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اورجامعہ سلفیہ فیصل آباد میں زیر تعلیم رہے۔اور1963ء میں مسجدابرھیمی میانہ پورہ میں خطابت فرماتے رہے۔ 1967ء میں آپ فارغ التحصیل ہوئے۔فارغ التحصیل ہونےکےساتھ آپ نےمولوی فاضل ،منشی فاضل اورادیب فاضل کےامتحانات بھی پاس کئے کچھ عرصہ تک آپ دارالحدیث چینیانوالی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔بعدازں آپ اعلی تعلیم کےلیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔اور اللیسانس فی الشریعہ کی اعلی ترین ڈگری لےکروطن واپس لوٹے۔اس کےبعد پےدرپے امتحانات دینےشروع کیےاوریوں ایم اے عربی۔اسلامیات۔اردو۔فاسی۔سیاسیات کی ڈگریاں حاصل کی۔

 

نام: علامہ احسان الہی ظہیر ۔

ولدیت: حاجی شیخ ظہور الہی۔

ولادت: حافظ علامہ احسان الہی ظہیرصاحب 31 مئی 1945ءبمطابق 18 جمادی الاولی 1364ھ بروزجمعرات سیالکوٹ میں ہوئی۔

تعلیم وتربیت:

دینی تعلیم کےلیے آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اورجامعہ سلفیہ فیصل آباد میں زیر تعلیم رہے۔اور1963ء میں مسجدابرھیمی میانہ پورہ میں خطابت فرماتے رہے۔ 1967ء میں آپ فارغ التحصیل ہوئے۔فارغ التحصیل ہونےکےساتھ آپ نےمولوی فاضل ،منشی فاضل اورادیب فاضل کےامتحانات بھی پاس کئے کچھ عرصہ تک آپ دارالحدیث چینیانوالی میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔بعدازں آپ اعلی تعلیم کےلیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔اور اللیسانس فی الشریعہ کی اعلی ترین ڈگری لےکروطن واپس لوٹے۔اس کےبعد پےدرپے امتحانات دینےشروع کیےاوریوں ایم اے عربی۔اسلامیات۔اردو۔فاسی۔سیاسیات کی ڈگریاں حاصل کی۔

اساتذہ:

آپ نےمندرجہ ذیل علماء کرام سےاپنی کشت علم کو سیراب کیا۔

1۔استادالاساتذہ شیخ الحدیث حضرت مولانا گوندلوی۔

2۔شیخ الحدیث حضرت مولانا ابوالبرکات احمدمدظلہ۔

3۔فضیلۃ الشیخ علامہ ناصرالدین البانی۔

4۔محمد امین الشنقیطی ۔

5۔فضیلۃ الشیخ عبدالقادر شیبۃ الحمدمصر۔

6۔فضیلۃ الشیخ عطیہ محمدسالم۔

7۔فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز ۔

8۔فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن العباد۔

درس وتدریس:

فراغت کےبعدکچھ عرصہ آپ دارالحدیث چینیانوالی  لاہور میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہےپھرمدینہ روانہ ہوئے اوروہاں تعلیم حاصل کرنے کےبعدجب پاکستان لوٹےتوجماعتی اورسیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیناشروع کردیا۔ 1972ءمیں تحریک استقلال میں شامل ہوئے اسی دوران آپ پرقتل وغیرہ کےمقدمات قائم کیےگئے۔اور قیدو بندکی صعوبتیں برداشت کیں۔مختلف مقدمات اوراپنوں کی بے وفائی کی وجہ سے 1978ءمیں تحریک سےدستبردارہوگئے۔اورآپ کو ہفت روزہ اہلحدیث کارئیس مقرر کیاگیا۔

اس دوران حافظ محمدگوندلوی سےشرف دامادی حاصل ہوا۔ ادارتی خدمات کے ساتھ ساتھ آپ جامع مسجد اہل حدیث چینیانوالی رنگ محل لاہور میں خطبہ جمعہ ارشادفرمانے لگے اور یہ سلسلہ بہت عرصہ تک جاری وساری رہا۔اورلاہور کےاطراف و اکناف سےلوگ کھینچ کھینچ کرخطبہ سننے کے لیے تشریف لاتےتھے۔

اندرون ملک اوربیرون ملک جمعیت اہل حدیث جس کےمولانا ناظم اعلی تھےکاتعارف کروانےمیں آپ کی کاوش اور صلاحیتیں اور قابل صدمبارکباد ہیں۔علاوہ ازیں آپ نےجمعیت اہل حدیث کےدفتر کےلیے مرکز کےطور پردوستوں کےتعاون سےانتہائی خطیر رقم خرچ کرکے 53لارنس روڑ لاہور میں ایک وسیع وعریض جگہ خریدی۔جہاں آپ نےمجلس شوریٰ منعقدکروائی ۔اورجمعہ احباب جماعت نےاس مرکزی خریداری پرآپ کوخراج تحسین پیش کیا۔

تصنیفات وتالیفات:

حافظ احسان الہی ظہیر﷫ صاحب نےبہت سی کتب تحریر فرمائی ہیں آپ کےاب تک کےتحریرسرمایہ کی تفصیل ذیل ہیں۔

1۔الشیعہ واہل بیت عربی(اس کتاب میں شیعہ فرعومہ کی جب  اہل بیت کی حقیقت آشکار کی گئی ہے۔

2۔الشیعہ والسنہ(عربی )(یہ کتاب علامہ صاحب کی شیعہ کی موضوع پراولین تحریری کاوش  ہے۔

3۔الشیعہ والقرآن (عربی)(شیعہ ازم پریہ علامہ صاحب کی تیسری معرکہ الآراء کتاب ہے۔

الشعية والتشیع (فرق وتاریخ)(عربی)اس کتاب میں علامہ صاحب نےشیعہ کی مکمل تاریخ پس منظراور اس کےمختلف فرقوں کابذکرہ کیاہے۔

5۔البریلویہ (عربی)(اس کتاب میں بریلویت کی تاریخ بریلوی عقائدانکی تعلیمات اور انکی خرافات کا تذکرہ ہے۔

6۔القادیانية(عربی) 7۔البائية نقدد تحلیل (عربی)

8۔البانیہ عرض ونقد (عربی ) 9۔التصوف 10۔الاسماعیلیہ

11۔بین الشیعۃ و اہل السنۃ 12۔دراستہ فی التصوف

علامہ صاحب کی یہ کتابیں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سعودی عرب ودیگراسلامی کی یونیورسٹیو ں کےنصاب میں شامل ہیں۔

کلیمات ثناء: علامہ حافظ احسان الہی ظہیر کی شخصیت ملکی اور بین الاقوامی طور کی تعارف کی محتاج ہے۔عوامی حلقوں میں وہ بلند پایہ۔ ممتاز اور منفرد خطیب کی حیثیت سےمعروف ہیں۔ان کی خطابت کاجاہ چشم۔رعب وادب۔ولولہ۔ہمہمہ اورطفطنہ پرمخالف وموافق سےخراج تحسین وصول کرچکاہے۔ان کی آواز کی گھن گرج سےعوامی اجتماعات میں دیدنیی  سےکیفیت ہوتی تھی۔علمی حلقوں میں آپ ایک قدآوار علمی شخصیت سمجھےجاتےتھے۔اردو کےساتھ ساتھ عربی کےایک ممتاز اورقادرالکلام متکلم۔ادیب اورعالم دین ہیں۔علم دین کےہر شعبہ میں دسترس حاصل ہے۔بلکہ عر بی زبان میں آپکوگفتگوکرتےہوئےدیکھ کریہ محسوس ہوتاہےکہ آپ کی مادری زبان عربی ہے۔یہی وجہ کہ آپ نےمختلف فرق یاطصہ پرتحقیق کرکےجوکتب شائع کی ہیں عرب ممالک میں انکی بہت پزیرائی ہوئی ہےاور انہیں ہاتھوں ہاتھ لیاگیا آپ کی ان کتب کودیکھ کرآدمی حیران رہ جاتاہےکہ ایک عجمی آدمی کیونکر عربی زبان میں ایسےعلمی جواہرکے بار ے میں اورتحقیقی سرمایہ مہیا کرسکتاہے۔آپ نےباطل فرقوں کےعقائداورنظریات پرجس تحقیقات اورواقعاتی طو رپرروشنی ڈالی ہےوہ قابل تحسین ہے۔

شہادت:

جمیعت اہل حدیث کےناظم اعلی،مسلک اہل حدیث کےبیباک ترجمان حضرت علامہ احسان الہی 30مارچ 1987ءبمطابق 29 جمادی الاخریٰ 1407ھ بروز پیرنماز فجرکےبعد4بجے صبح 22گھنٹے ریاض میں گزارنےکےبعدزخموں کی  زلائےہوئے تقریبا 42برس کی عمرمیں ریاض کےفیصل ہڑی ہسپتال میں اپنے خالق حقیقی سےجاملے۔یادرہےآپ 23 مارچ 1987ءمیں لچھمن سنگھ راوی روڑمیں اہل حدیث یوتھ فورس کےزیراہتمام جلسہ میں سیر ت النبی کےموضوع پرخطاب کےدوران بم کےایک خوفناک دھماکہ میں شدیدزخمی ہوگئےتھے۔

حوالہ: تذکرہ علماء اہل حدیث ازمحمدعلی جانباز۔

    title-page-ahbabedeobandkeekaramfarmayainahlehadeespar-copy
    علامہ احسان الہی ظہیر
    دين اسلام كى ماننے والوں میں مختلف گروہ پائے جاتے ہیں-ہر گروہ کے پاس اپنی سچائی کے لیے دلائل اور براہین موجود ہیں لیکن سچا اور کھرا اس کو سمجھا جائے گا جو قوی دلیل کے ساتھ گفتگو کرے-بڑوں کی باتوں اور کثرت افراد کو دلیل بنانا کوئی اصول نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکین کو تبلیغ فرماتے تو وہ بھی اپنے حق میں جو دلیل پیش کرتے وہ یہی ہوتی تھی کہ ہمارےآباؤ اجداد یوں کیا کرتے تھے یا یہ کام کرنے والے اتنی بڑی تعداد موجود ہیں اور تم نہ کرنے کے کہنے والے تھوڑی تعداد میں ہو-اسی لیے دین اسلام اطاعت اور اتباع کا حکم دیتا ہے تقلید جامد کا نہیں یہ وجہ ہے کہ دین اسلام ہر دورمیں مسلمانوں کی راہنمائی کر سکتا ہے جب اس میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رہے گا اور تقلید کا دروازہ بند رہے گا-مصنف نے اس کتاب میں مختلف فقہی مسائل کے تذکرے کے ساتھ مختلف کوتاہیوں کی طرف اشارہ کیا ہے-خاص طور پر نبوت ورسالت کا مقصداور انبیاء کی دعوت کا مقصد اور اس کے مقابلے میں پائی جانے والی اس دور کے کافروں کی تقلید اور آج کے مسلمانوں کی اپنے علماءتقلید کو سمجھانے کی کوشش کی ہے-اس کے لیے مختلف فقہی مسائل مثلا فاتحہ خلف الامام،رفع الیدین اور نماز بالجماعت میں آمین بالجہر کا حکم بیان کیا ہے اور دلائل سے گفتگو کی ہے-اور اس کے مقابلے میں پیدا ہونے والے مختلف مخالفین کے گروہوں کا تذکرہ اور ان کے اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر قرآن وسنت اور صحابہ وسلف کے اصولوں کے ساتھ موزانہ کر کے ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-اسی طرح جب کوئی انسان راہ ہدایت سے بھٹکتا ہے توپھر اپنی مرضی کے اصول وقواعد وضع کرتا ہے اور پھر دین کو ان اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے اور اس کی واضح مثال احناف کے اپنے بنائے ہوئے اصول فقہ اور اصول حدیث ہیں کہ جن سے شریعت پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے ایسے ایسے اصول وضع کر دیے کہ جن سے احادیث کو چھوڑنے کے چور رستے پیش کیے گئے جو کہ دین اسلام کے ساتھ زیادتی ہے-

    title-pages-asheea-wassunna
    علامہ احسان الہی ظہیر
    اس کتاب کی تالیف کا محرک یہ ہے کہ اہل سنت کو خبردار کیا جائے کہ شیعہ دین , یہودیوں کا ایجاد کردہ پروردہ ہے جو کہ اسلام کے سب سے بڑے دشمن , مسلمان اور ان کے اسلاف صحابہ کرام کے سب سے بڑے مخالف تھے انہوں نے اسلام اور اہل اسلام سے انتقام لینے کی غرض سے اس دسن کو ایجاد کیا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر اپنے افکار کی ترویج کر سکیں اس کتاب میں شیعہ قوم کا جو قرآن مجید کے متعلق عقیدہ ہے اس کو وضاحت سے بیان کرتے ہوئے ایسے شواہد و مستند دلائل کا ذکر کیا گیا ہے جن کا اس کتاب کے علاوہ کسی اور کتاب میں ملنا محال ہے ۔اسی طرح کتاب میں مصنف نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کذب ونفاق جسے شیعہ تقیہ کا نام دیتے ہیں اور اسے اللہ تعالی کے نزدیک تقرب کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ شیعہ کے دوسرے عقائد مثلاَ عقیدہ برآء , سب صحابہ , ازواج مطہرات , تفضیل آئمہ , اصول دین شیعہ و اہل سنت کے مابین اختلاف کے اسباب کا ذکر بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے الغرض یہ مختصر سی کتاب شیعہ کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے کافی ہے اس کتاب میں اسی امر کا شدت سے التزام کیا گیا ہے کہ کوئی غیر مستند شیعی نص ذکر نہ کی جائے اور ہر نص و عبارت کا حوالہ شیعہ کی مشہور و معروف کتب سے دیا گیا ہے

    alshiya-w-ahle-bait
    علامہ احسان الہی ظہیر
    صحابہ کرام ، اہل بیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایک مؤمن کے دل کا جزو لا ینفک ہے۔ لیکن مسائل کی شروعات تب ہوئی جب ایک طبقے کی طرف سے  نہ صرف صحابہ کرام پر دشنام طرازی کا بازار گرم کیا گیا بلکہ اہل بیت کی محبت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کیا جو خود اہل بیت کے نقطہ نظر ہی کے خلاف تھا۔ زیر مطالعہ کتاب میں علامہ احسان الہی ظہیر صاحب نے شیعہ حضرات کےدلفریب نعرے اہل بیت سے محبت کا خوب خوب پول کھولا ہے۔ علامہ صاحب نے شیعہ کے نامور علماء کی کتابوں کے حوالے دیتے ہوئے خلفائے راشدین کے بارے میں ان کے مؤقف پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیعیت کا اندروں کتنا تاریک ہے ۔ علاوہ ازیں علامہ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اہل بیت کی طرف منسوب شیعہ حضرات کے جھوٹوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے متعہ کے بارے میں قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں معتبر حوالوں کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے کہ شیعہ نہ صرف تمام اہل بیت اور صحابہ کرام کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں بلکہ اس کا تختہ مشق خود رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس بھی ہے۔

    alshiawalsunah-copy
    علامہ احسان الہی ظہیر
    ملحد اور گمراہ لوگوں اور گروہوں کارد کرنا ،حق کو بیان کرنا اور اس کو ثابت کرنا اور باطل کو مٹانا گروہ بندی اور تفرقہ بازی نہیں بلکہ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ خالص اسلام کی باطل افکار سے تطہیر فرقہ بندی نہیں بلکہ عین جزو ایمان ہے۔ چنانچہ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید رحمہ اللہ نے اپنی دیگر تصنیفات کی طرح اس کتاب کی صورت میں بھی ہر طالب علم کے ہاتھ میں شیعیت کے باطل افکار سے نمٹنے کیلئے مضبوط اسلحہ تھما دیا ہے۔ شیعیت کا  علمی و منطقی رد ایسے منفرد انداز میں کیا گیا ہے کہ فکر سلیم کے حامل افراد کے اذہان میں اس کتاب کے مطالعے کے بعد یقیناً انقلاب پیدا ہوگا۔ اس کتاب کا سب سے اہم مبحث یہ ہے کہ شیعہ دین میں قرآن مجید ایک مکمل کتاب نہیں بلکہ اس میں تحریف و تبدیلی کر دی گئی ہے۔ جس کے بعد دین اسلام سے شیعہ فکر کو وابستہ سمجھنا نا ممکن ہے۔

    pages-from-ahl-e-bait-key-barey-mein-shia-ka-muaqqaf
    علامہ احسان الہی ظہیر

    صحابہ کرام اور ہل بیت﷢ کی عظمت سے کون انکار کرسکتاہے۔یہ وہی پاک باز ہستیاں ہیں جن کی وساطت سے دین ہم تک پہنچا۔اہل بیت سے محبت رکھنا جز و ایمان ہے اس لیے کہ اس مسئلہ کی بڑی اہمیت ہے ا ہل علم نے اس مسئلہ پر مستقل رسائل تصنیف کیے ہیں جس میں انہوں نے اس مسئلہ کی اہمیت کو بیان کیا ہے چنانچہ اہل السنہ کے نزدیک فرمان نبویﷺ کے مطابق اہل بیت سے محبت رکھنا جزو ایما ن ہے اور کسی طرح کے قول وفعل سے ان کوایذا دینا حرام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہل بیت کے بارے میں شیعہ کا موقف ‘‘علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں شیعہ کے اہل بیت کے بارے میں معتقدات کو بیان کیاگیا ہے۔ اور اس حقیقت کوبھی آشکارا کیاگیا ہے کہ شیعہ بظاہر سیدنا علی﷜ سے گہری عقیدت ومحبت رکھنے والے ہیں لیکن باطن میں وہ ان کے دشمن ہیں۔ یہ کتاب علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی شیعہ کے متعلق ایک چشم کشا تحریر کی تلخیص ہے۔ کتاب کا نام ’’اہل بیت کے بارے میں شیعہ کا موقف‘‘ ادارۃ دعوۃ الاسلام، انڈیا کی طرف سے تجویز کردہ ہے۔ (م۔ا)

    title-pages-tasawwaf-tareekh-w-haqaiq
    علامہ احسان الہی ظہیر

    اسلام ایک دین فطرت ہے اور خدا تعالیٰ نے تمام تر احکامات انسان کی فطری ضرورتوں کے عین مطابق نازل فرمائے ہیں لیکن مسلم معاشرے میں ایک ایسے فرقے کا بھی وجود ہے جس نے اپنے عقائد میں اس قدر غلو اختیار کیا کہ عیسائیوں کے نظریہ تثلیث کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ زیر مطالعہ کتاب شہید اسلام علامہ احسان الہٰی ظہیر کی گرانقدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں صوفیت کے چہرے پر چڑھے ہوئے نقاب کو اتار پھینکا ہے۔ علامہ صاحب نے تصوف کے اصول، بنیاد اور مصادر پر تفصیلی مباحث پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کسی تصنع اور تکلف کے بغیر تصوف کی دوسرے مذاہب کے ساتھ واضح مشابہت کو بیان کیا ہے۔ مولانا نے نہ صرف صوفیت کی اپنی معتبر کتابوں کے حوالے دئیے ہیں بلکہ دیگر مذاہب کی کتابوں کے ڈھیروں حوالے موجود ہیں۔ اس کتاب میں کچھ اشیاء ایسی پیش کی گئی ہیں جن سے ابھی تک کسی اور نے بحث نہیں کی اور ایسے پہلو سامنے لائے گئے ہیں جن کی طرف عام محققین کی نظر نہیں گئی۔ مولانا نے خصوصی طور پر ایک باب صوفیاء اور شیعہ کے متلعل قائم کیاہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ صوفی اور شیعہ بہت سے عقائد میں مشترک ہیں۔

     

    title-pages-allama-ihsan-zaheer-shaheed-safar-e-hajaz-copy
    علامہ احسان الہی ظہیر

    اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سےبھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن ،لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سفر حجاز‘‘ شہیدملت علامہ احسان الٰہی ظہیر کی مرتب کردہ ۔اس سفرنامہ کا امتیازیہ کہ یہ سفر نامہ دیار حبیب کا سفر اختیار کرنے والے کسی محض حاجی کاسفرنامہ نہیں کہ جس نے ارض حجاز میں چند روز ، چند مہینے گزارے ہوں اور اپنی داستان سفر تصنیف کردی ۔اس سفر نامہ کے راقم علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نےاپنی زندگی کے کئی سال ارض حجاز میں گزارے اور ارض حجاز کاایک بار نہیں بیسیوں بار سفر کیا ۔انہو ں نے اپنی جوانی کےدور میں جذبات اور لڑکپن کےدور جنوں کوبھی اس سرزمین کےروحانی ماحول میں بسر کیا ہے ۔اس سفرنامے میں مسلمانوں کے لیے تاریخی اہمیت کی جگہ عراق کا تذکرہ بھی ہے ۔(م۔ا)

    title-page-mirzayataurislam-copy
    علامہ احسان الہی ظہیر
    دنیا میں مختلف ناموں اور کاموں کے اعتبار سے فرقے موجود ہیں-کچھ فرقے فکری ونظریاتی بنیادوں پر وجود میں آتے ہیں اور کچھ فرقے سیاسی بنیادوں پر وجود پکڑتے ہیں-فکری ونظریاتی فرقوں میں سے ایک باطل فرقہ قادیانیت ہے جس کی بنیاد ہی غلط ہے-اور وہ ان کی سب سے بڑی غلطی نبوت  اور رسالت پر حملہ ہے-ان کی اسی غلط بنیاد کی وجہ سے حکومت پاکستان بالخصوص اور دوسرے ممالک میں ان کو غیر مسلم قرار دیا جاتا ہے-اس فرقے کو دبانے کے لیے علماء کو بہت محنتیں کرنی پڑیں اور قربانیاں بھی دینی پڑیں-اسی سلسلے میں ایک بہترین کوشش علامہ احسان الہی ظہیر شہید کی ہے جنہوں نے ابتدا میں اس باطل فرقے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے خوب خبر لی-مصنف نے اس کتاب میں نبوت کے خصائل بیان کرتے ہوئے مرزا قادیانی کے افکار اور ان کے خلیفوں کی پشت پناہی کو عریاں کرتے ہوئے اس فرقے کے حاملین کی کرتوتوں کو بھی واضح کیا ہے جس میں ان کے اخلاقی کردار کے خراب ہونے کے ساتھ ساتھ دینی افکار کی خرابی کو بھی پیش کیا ہے-

    title-pages-masnoon-hajj-o-umra
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
    اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار حج فرض کیا ہے۔ حج یا عمرہ پر جانے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس فرض کو ادا کرتے وقت نبوی تعلیمات کو ملحوظ رکھے۔ زیر نظر کتابچہ میں مسنون حج و عمرہ کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ شیخ عبدالعزیز بن باز کی تالیف ہے اور اس کا اردو ترجمہ علامہ احسان الہٰی ظہیر رحمہ اللہ نے کیا ہے۔ کتاب کے مندرجات عام فہم انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ البتہ کسی بھی جگہ پر حوالہ جات رقم نہیں کیے گئے ۔ قرآنی آیات اور احادیث کے حوالوں اور تحقیق کے ذریعے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1359 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں