اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #2380

    مصنف : حافظ محمد یحیی عزیز میر محمدی

    مشاہدات : 2237

    ترتیل القرآن

    (جمعہ 29 اگست 2014ء) ناشر : ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ البدر، بونگہ بلوچاں، قصور

    نبی کریم ﷺکی  زبان عربی تھی اور قرآن حکیم اسی زبان میں نازل ہوا ۔ جنت میں بھی یہی زبان بولی جائے گی ۔اگر چہ نزولِ قرآن کا مقصد تو اس کو سمجھنا اوراس پر عمل کرنا ہے ۔ لیکن  ادب  اور محبت کےساتھ اس کی تلاوت بھی  عبادت ہے ۔تلاوت ِ قرآن مجید کے لیے  اس بات کو ملحوظ رکھنا  انتہائی ضروری ہے کہ عربی زبان میں ہر حرف کی  آواز جدگانہ ہوتی ہے ۔ اگر وہ صحیح ادا نہ ہو تو معنی بدل جاتا ہے ۔اس علم کی ضروری باتیں سیکھے بغیر قرآن کا تلفظ صحیح نہیں   ہوتا ۔اور قرآن  مجید کو غلط پڑھنا گناہ ہے اور تلاوت ِقرآن کا  بھر پور اجروثواب اس  امر پرموقوف ہے  کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم  کی تلاوت  کا صحیح  طریقہ جاننا او رسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے  ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ  وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی  حاصل کرے۔ تجوید وقراءات پر مختلف چھوٹی بڑی  کئی کتب موجود ہیں۔زیر نظرکتاب’’ ترتیل القرآن ‘‘  عالم باعمل  حافظ یحیٰ عزیز میر محمدی﷫ کی   علم تجوید پر پہلی آسان کتاب ہے ۔جس میں انہو ں  بڑے عام فہم انداز میں ضرروی اصطلاحات کو بیان کرنے کے بعد تجوید کے اصول   وضوابط کو مختصراً بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ مرحوم  کو  جنت  الفردوس   میں  اعلیٰ مقام عطا فرمائے  اور ان کی  مرقد پر  اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے  اور ان کی دینی ،تبلیغی ودعوتی خدمات کو  قبول فرمائے (آمین) ( م۔ ا)

     

  • 2 #3081

    مصنف : حافظ محمد یحیی عزیز میر محمدی

    مشاہدات : 2906

    تبلیغ و تربیت دین کے پانچ اصول

    (ہفتہ 04 اپریل 2015ء) ناشر : ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ البدر، بونگہ بلوچاں، قصور

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے  جس سلسلۂ نبوت کا آغاز  حضرت آدم   سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ کی ذات ِستودہ صفات پر کردیا گیا ہے۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے  ۔ دعوت وتبلیع  کی ذمہ داری ہر امتی  پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا  عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے  خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر  کی غیر مسلم  حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے  اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے   ضروری ہے کہ  کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام  اسی  طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس  طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام  کرتے رہے  ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل  پیرا ہونے  بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے  عمل کی  ضرورت ہوتی اور عمل  سے پہلے علم کی ۔ زیر نظر کتاب ’’ تبلیغ وتربیت دین  کے پانچ اصول ‘‘ولی  کامل  حافظ یحییٰ عزیز میرمحمدی ﷫ کی  کاوش  ہے  جسے انہوں نے اپنے ادارے  مرکز اصلاح  کے  قیام  پر مرتب کیا تھا  اس کتاب  میں انہوں نے تبلیغی ضرروت پیش نظر   حدیث  جبریل کی روشنی میں   دعوت وتبلیغ وتربیت دین  کے پانچ اصولوں (کلمہ طیبہ کی شہادت  اقامت نماز ،زکاۃ،  صیام رمصان ،  حج )کو ترتیب سے بڑے آسان فہم انداز میں  تحریر کیا ہے ۔حدیث جبریل میں امت  مسلمہ کی تعلیم کے لیے  دین کے  ایسے پانچ اصول  بیان کیے گئے ہیں  جن  میں   پورے  دین کی روح موجود ہے  انہیں اچھی طرح سمجھ لینے سے بقدرِ ضرورت دین کی واقفیت حاصل ہوجاتی ہے  اور ان پر عمل  کرنے سے صالح اور سچا مسلمان بننے کی توفیق مل جاتی  ہے  ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ صاحب کی دعوتی واصلاحی کاوشوں کو قبول فرمائے  اور انہیں  جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع  مقام عطا فرمائے اور اس کتاب  کو  عوام الناس  کےلیے نفع  بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
     

  • 3 #4259

    مصنف : قاری محمد ابراہیم میر محمدی

    مشاہدات : 2818

    المدخل الیٰ علم الوقف والابتداء و معہ تسہیل الاہتداء فی الوقف والابتداء (اردو)

    (بدھ 24 فروری 2016ء) ناشر : ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ البدر، بونگہ بلوچاں، قصور

    وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سے اعادہ۔ (النشر:۱؍۲۴۰) نشر کی رو سے یہی تعریف ممتاز اور زیادہ واضح ہے) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کا احساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سے قرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اس طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ’’وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا‘‘(المزمل:۴)’’اور قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھو۔ ‘‘سیدنا علی﷜ سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: ’’الترتیل ھو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵)اس تفسیر میں ترتیل کے دو جز بیان کیے گئے ہیں۔ تجوید الحروف اور معرفۃ الوقوف۔ زیر تبصرہ کتاب"المدخل الی علم الوقف والابتداء ومعہ تسہیل الاھتداء فی الوقف والابتداء"استاد محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب﷾ کے علم الوقف والابتداء پر لکھے دو غیر مطبوع رسائل پر مشتمل ہے۔ جسے محدث لائبریری کے نائب مدیر محترم قاری محمد مصطفی راسخ صاحب نے ترتیب دیتے ہوئے اس میں مفید اضافہ جات کئے ہیں۔ یہ کتاب وفاق المدارس السلفیہ کے نصاب میں شامل ہے، اور کلیۃ القرآن الکریم کے طلباء کو پڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مرتب دونوں کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 4 #4646

    مصنف : ڈاکٹر عبد الہادی الفضلی

    مشاہدات : 2115

    قراءات قرآنیہ تعارف و تاریخ

    (بدھ 04 مئی 2016ء) ناشر : ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ البدر، بونگہ بلوچاں، قصور

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری  کتاب ہے۔ جسے اللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے ۔قراءات قرآنیہ کے موضوع پر اب تک متعدد کتب لکھی جا چکی ہیں جن میں علم قراءات کے اصول وضوابط کو بیان کیا گیا ہے، لیکن قراءات قرآنیہ کی تاریخ کے حوالے کوئی مستقل کتاب موجود نہیں تھی۔ زیر نظر کتاب ''قراءات قرآنیہ، تعارف وتاریخ '' محترم ڈاکٹر عبد الھادی الفضلی صاحب کی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت راقم (قاری محمد مصطفی راسخ، نائب مدیر مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور) کے حصے میں آئی ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب کے پہلے باب میں قراءات قرآنیہ کے سولہ تاریخی مراحل کا تذکرہ کیا ہے، اس کے بعد قراءات کی تعریف،قراءات کے مصادر، اختلاف قراءات کے اسباب، قراءات میں اختیار، قراءات کے معیار اور قراءات وتجوید کا فرق بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی مولف اور مترجم کی ان کی ان خدمات جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 5 #5241

    مصنف : ڈاکٹر سید بن حسین العفانی

    مشاہدات : 3241

    تلاوت قرآن اور ذکر الٰہی کے سنہری اوراق

    (منگل 28 مارچ 2017ء) ناشر : ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ البدر، بونگہ بلوچاں، قصور

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مقدس اور محترم کتاب ہے۔ جو جن وانس کی ہدایت ورہنمائی کے لیے نازل کی گئی ہے ۔ اس کا پڑھنا باعث اجراوثواب ہے اوراس پر عمل کرنا تقرب الی اللہ او رنجاتِ اخروی کا ذریعہ ہے ۔ یہ قرآن باعث اجروثواب اسی وقت ہوگا کہ جب اس کی تلاوت آدابِ تلاوت کو ملحوظ ِخاطر رکھ کر کی جائے ۔آداب تلاوِت میں سے یہ ہے کہ قرآ ن مجید کی تعلیم اور تلاوت خالصۃً اللہ کی رضا کیلئے ہو جس میں ریا کاری کا دخل نہ ہو ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’تلاوت قرآن اور ذکر الہی کےسنہری اوراق ‘‘ دکتور سید بن حسین العفانی کی عربی زبان میں تحریرشدہ کتاب کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب قرآن مجید کےفضائل ، اس کی تلاوت کےآداب اور اس سے متعلقہ بہت سےاحکام پر مشتمل ہے ۔ کتاب ہذا کےمترجم فاضل دوست حافظ فیض اللہ ناصر ﷾ نے استاذ القراء قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾ کے حکم پر سلیس ،شگفتہ اور رواں ودواں ترجمہ کیا ہے۔اس کتاب میں ہمارے بہت سے اسلاف کے شوقِ تلاوت اور خصوصی رغبت واہتمام کے ایسے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں جن پر بظاہر یقین کرنا مشکل ہے لیکن وہ سیرا ورتراجم کی کتب میں محفوظ ہیں اورانہیں مصنف نے بحو الہ اس کتاب میں نقل کیاہے۔یہ کتاب اپنی افادیت کے باعث قرآن مجید کی تلاوت کا شوق رکھنے والے ہرمسلمان کےلیے بہترین تحفہ ہے۔کتاب ہذا کے مترجم فضیلۃ الاخ محترم حافظ فیض اللہ ناصر﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ) اس کتاب کے علاوہ بھی تقریبا نصف درجن سے زائد کتب کےمترجم ومصنف ہیں۔ ان دنوں حافظ شفیق الرحمٰن زاہد ﷾ کےقائم کردہ ادارہ ’’ الحکمۃ انٹرنیشل،لاہور‘‘ میں بطور سینئر ریسرچ سکالر خدمات انجام رہے ہیں وہاں تبلیغی واصلاحی ’’ سلسلۃ الکتاب والحکمۃ‘‘ سیریز کے متعدد کتابچہ جات مرتب کرچکے ہیں۔تصنیف وتالیف وترجمہ کے میدان میں موصوف کی حسن کارکردگی کے اعتراف میں ان کی مادر علمی جامعہ لاہورالاسلامیہ،لاہور نے2014ء میں انہیں اعزازی شیلڈ وسند سے نوازاہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 6 #5356

    مصنف : ڈاکٹر فہد بن عبد لرحمن الرومی

    مشاہدات : 1982

    تجوید کی تدریس کے مراحل اور اس کی تعلیم و تعلم کے احکام

    (اتوار 19 فروری 2017ء) ناشر : ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ البدر، بونگہ بلوچاں، قصور

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول و آداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔ فن تجوید پر اب تک عربی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بہت سارے رسائل و کتب لکھی جا چکی ہیں۔ جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے. زیر تبصرہ کتاب "تجوید کی تدریس کے مناہج اور اس کی تعلیم وتعلم کے احکام" محترم ڈاکٹر فہد عبد الرحمن رومی اور محترم محمد السید الزعبلاوی صاحبان کی مشترکہ کاوش ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم ڈاکٹر حافظ محمد زبیر تیمی صاحب نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں تجوید کی تدریس کے مناہج اور اسکی تعلیم وتعلم کے احکام کو مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ علم تجوید پڑھانے والے اساتذہ کرام کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے، جس کا تجوید وقراءات کے ہر مدرس کو مطالعہ کرنا چاہئے۔ اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • 7 #5664

    مصنف : قاری صہیب احمد میر محمدی

    مشاہدات : 1598

    مومن کی زینت داڑھی

    (جمعہ 11 اگست 2017ء) ناشر : ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ البدر، بونگہ بلوچاں، قصور

    مردوں کی ٹھوڑی اور گالوں پر بالغ ہونے پر اگنے والے بال داڑھی اور بالعموم بلوغت کا نشان کہلاتے ہیں۔قدیم زمانے میں یورپ اور ایشیا میں اس کو تقدیس کا درجہ دیا جاتا تھا۔ اور یہودیوں اور رومن کتھولک عیسائیوں میں بھی اس کو عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کو مصر میں غلامی کی زندگی کے دوران داڑھی منڈانے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے وہ اپنی ڈاڑھیوں کو لمبا چھوڑ دیا کرتے تھے اور اسی نشانی سے ان میں اور مصریوں میں تمیز ہوتی تھی ماضی قریب میں مسلم دنیا میں صرف طالبان کی حکومت ایسی گزری جس نے افغانستان میں داڑھی منڈوانا ایک جرم قرار دیا اور داڑھی نہ رکھنے والوں کو باقاعدہ سزا دی جاتی تھی۔اسلامی تعلیمات کے مطابق مردوں کے لئے داڑھی رکھنا واجب ہے،اور تمام انبیاء کرام ﷩کی متفقہ سنت اور شرافت و بزرگی کی علامت ہے اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے‘ آنحضرت ﷺ کا دائمی عمل ہے اور حضور ﷺنے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے‘ لہذا اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈانا گناہ کبیرہ ہے۔ مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے متعدد مواقع پر داڑھی بڑھانے اور اس کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس اعتبار سے دین اسلام میں داڑھی کی عظمت و فضیلت بہت زیادہ ہے۔ مسلمانوں پر مغربی تسلط کے بعد سے مسلمانوں میں یہ سنت بہت تیزی کے ساتھ متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیر نظر کتا ب ’’ مومن کی زینت داڑھی‘‘ محترم قاری صہیب احمد میرمحمدی ﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ و مدینہ یونیورسٹی ،مدیر کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیۃ،پھولنگر) کی تصنیف ہے ۔ قاری صاحب نے عام فہم اور سادہ اسلوب کو ا ختیار کرتے ہوئے اس رسالہ میں نبی کریم ﷺ کےاقوال وافعال کی روشنی میں داڑہی کی اہمیت وافادیت بیان کیا ہے ۔قاری صاحب نے مدعا کو متعین کر نے کے لیے لغوی بحث بھی کی ہے تاکہ مدعا واضح طور سامنے آسکے اور اس تمام احادیث صحیح پیش کرنے کا خصوصی خیال رکھا ہے ۔اختصار کے ساتھ اس موضوع کی تمام جزئیات کو بڑے احسن انداز میں بیان کردیا ہے ۔ مصنف اس کتاب کے علاوہ بھی کئی دینی ،تبلیغی اور اصلاحی وعلمی کتب کے مصنف ہیں او رایک معیاری درسگاہ کے انتظام وانصرام کو سنبھالنے کےعلاوہ اچھے مدرس ،واعظ ومبلغ اور ولی کامل حافظ یحیٰ عزیز میر محمدی ﷫ کے صحیح جانشین اور ان کی تبلیغی واصلاحی جماعت کے روح رواں ہیں ۔اللہ تعالیٰ محترم قاری صا حب کے عمل وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے اور دین اسلام کےلیے ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

  • 8 #6003

    مصنف : قاری محمد ابراہیم میر محمدی

    مشاہدات : 1712

    حجیت قراءات

    (منگل 19 دسمبر 2017ء) ناشر : ادارۃ الاصلاح ٹرسٹ البدر، بونگہ بلوچاں، قصور

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے۔جسے اللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔ اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون، روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع، مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے ۔قراءات قرآنیہ کے موضوع پر اردو زبان میں اب تک متعدد کتب لکھی جا چکی ہیں جن میں علم قراءات کے اصول وضوابط کو بیان کیا گیا ہے، لیکن حجیت قراءات کے حوالے کوئی  مستقل کتاب موجود نہیں تھی۔ زیر نظر کتاب ''حجیت قراءات''  محترم  فضیلۃ الشیخ عبد الفتاح القاضی صاحب ، محترم ڈاکٹر نبیل بن ابراہیم آل اسماعیل صاحب اور استاد محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب کے تین کتب کے اردو ترجمہ پر مشتمل ہے۔ تینوں کتب کو ایک جگہ جمع کرنے کا مقصد اسے وفاق المدارس السلفیہ کے نصاب تعلیم "حجیت قراءات" کے لئے تیار کرنا تھا۔  اردو ترجمہ کرنے کی سعادت راقم(قاری محمد مصطفی راسخ، نائب مدیر مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور)  کے حصے میں آئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ   قراء ات  قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی مولفین اور مترجم کی ان کی ان خدمات جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں  قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 443
  • اس ہفتے کے قارئین 15298
  • اس ماہ کے قارئین 38838
  • کل قارئین49250587

موضوعاتی فہرست