کل کتب 132

دکھائیں
کتب
  • 121 #5424

    مصنف : ابو القاسم رانا محمد جمیل خاں

    مشاہدات : 1500

    قرآن اور صحابہ رضی اللہ عنہم

    (جمعہ 31 مارچ 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب و مصدوق رسولﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرمﷺ کا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا، آپﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام﷢ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت، جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریمﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے۔ بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے   بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام﷢ وصحابیات رضی اللہ عنہن کے ایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’قرآن اور صحابہ‘‘ مولانا ابو القاسم رانا محمد جمیل خاں کی تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میں قرآن کریم کی پاکیزہ روشنی میں صحابۂ کرام کی سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں کا جامع، خوبصورت اور ایمان افروز تذکرہ کیا ہے۔ یعنی صاحب قرآنﷺ کے اصحاب کامقدمہ قرآن کی ابدی عدالت میں یاصاحب قرآن کےاصحاب کی سیرت کو قرآن کی زبان میں آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 122 #5038

    مصنف : ابو القاسم رانا محمد جمیل خاں

    مشاہدات : 1442

    قرآن اور صحابہ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ

    (پیر 09 جنوری 2017ء) ناشر : مرکز النداء الاسلامی

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم  ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔ زیر تبصرہ کتاب "قرآن اور صحابہ" محترم مولانا ابو القاسم رانا محمد جمیل خاں صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قرآن مجید کی روشنی میں صحابہ کرام کے مقام و مرتبہ اور فضیلت کو بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 123 #4698

    مصنف : ابو ضیاء محمود احمد غضنفر

    مشاہدات : 1661

    مبشر صحابہ رضی اللہ عنہم

    (ہفتہ 25 جون 2016ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی

    صحابہ نام ہے ان نفوس ِ قدسیہ کا جنہوں نے   محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے   ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے   انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے   بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔صحابہ کرام ﷢ میں سے کچھ ایسے خوش نصیب جلیل القدر صحابہ ہیں جن کو نبی کریم ﷺ نےدنیا میں جنت کی بشارت دی ۔جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی ایک روایت میں دس صحابہ کرام ﷢ کے اسماء گرامی موجود ہیں ۔ان دس صحابہ کرام سےمراد سید نا ابوبکر صدیق، سید نا عمرفاروق، سیدنا عثمان غنی ، سیدناعلی المرتضیٰ، سیدنا سعید بن زید، سیدنا سعد بن وقاص، سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف، سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح،سیدنا زبیر بن العوام ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ﷢ ہیں۔اس کے علاوہ دیگر صحابہ کو جنت کی بشارت دینے کاتذکرہ   مختلف احادیث میں موجود ہے۔ زیرتبصرہ کتاب’’مبشر صحابہ‘‘ وطن عزیز کے معروف مترجم ومنصف جناب مولانامحمود احمد غضنفر﷫ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں زبان رسالت سے جنت کی خوشخبری پانے والے 24 جلیل القدر صحابہ کرام ﷢ کا دلآویز اور اثر انگیز تذکرہ ہے۔ ان میں پہلے دس صحابہ کرام ﷢ تووہ ہیں جنہیں رسول اللہﷺ نے ایک ہی مجلس میں جنتی ہونےکی نوید سنائی باقی 14 صحابہ کرام وہ ہیں جنہیں مختلف مقامات پر انفرادی طور پر جنتی ہونےکی بشارت دی ۔یہ کتاب اپنے مندرجات اور اسلوب نگارش کے اعتبار سے منفرد نوعیت کی کتاب ہے۔(م۔ا)

  • 124 #8053

    مصنف : عبد اللہ دانش

    مشاہدات : 453

    متن اربعین حسین رضی اللہ عنہ

    (ہفتہ 21 دسمبر 2019ء) ناشر : مرکز الحرمین الاسلامی، فیصل آباد

    سیدنا حسین ﷜اپنے بھائی سیدنا حسن﷜ سے ایک سال چھوٹے تھے وہ نبی کریم ﷺ کے نواسے،سیدنا فاطمہ بنت رسول کے اور سیدنا علی  ﷜ لخت جگر تھے۔ سیدنا حسین ﷜ ہجرت کے چوتھے  سال شعبان کے مہینے میں پیدا ہوئے ۔آپ کی پیدائش پر رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ کو گھٹی دی ۔رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام حسین رکھا ۔ساتویں دن آپ کا عقیقہ کیا گیا او ر سر کے بال مونڈے گئے ۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین  دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے   اپنے سایہ عاطفت میں اپنے ان نواسوں کی تربیت کی ۔  سیدنا حسین نے پچیس حج پیدل کیے۔جہاد میں بھی حصہ لیتے رہے۔پہلا لشکر جس نے قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔اس میں بھی تشریف لے گئے۔ وہاں میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ کی وفات ہوئی تو امام کے پیچھے ان کے جنازے میں بھی شریک ہوئے۔آخری مرتبہ جب مکہ میں موجود تھے اور حج کے ایام شروع ہو چکے تھے۔ مگر کوفیوں نے دھوکا دیا اور لکھا کہ ہمارا کوئی امیر نہیں۔ ہم سب اہل عراق آپ کو امیر بنانا چاہتے ہیں آپ جلد ہمارے پاس تشریف لے آئیں۔ اگر آپ تشریف نہ لائے تو قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ سے شکایت کریں گے کہ ہمارا کوئی امیر نہیں تھا اور نواسہ رسول نے ہماری بیعت قبول نہ کی تھی۔حضرت حسین ﷜ نے ان باتوں کو سچ سمجھ لیا اور کوفہ روانہ ہو گئے۔روایات کے مطابق سیدنا حسین کو بارہ ہزار خطوط لکھے گئے۔حالات کا جائزہ لینے کے لئے سیدنا حسین نے اپنے عم زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ پہلے ہزاروں کوفیوں نے ان کی بیعت کی پھر بے دردی کے ساتھ ان کو شہید کر دیا۔ حضرت حسین مقام ثعلبہ پہنچے تو مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم ہوا۔ آپ نے مسلم بن عقیل کے بیٹوں سے مشورہ کے بعد یزید سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا۔ مسلم بن عقیل کے بیٹے ہمراہ تھے ۔کوفہ سے دور مقامِ ثعلبہ سے کوفہ کی بجائے شام کا راستہ اختیار فرما لیا۔مسلم بن عقیل کے قتل میں براہ راست شریک اور خطوط بھیجنے والے غدار کوفیوں نے سمجھ لیا کہ اگر حسین یزید کے پاس پہنچ گئے تو اصل سازش فاش ہو جائے گی۔ ہزاروں خطوط ہمارے خلاف گواہ ہوں گے،حکومت کے ساتھ ان کی مفاہمت ہو جائے گی اور ہمیں پھر کوئی نہیں بچا سکے گا۔ لہذا انہوں نے راستہ روکا ۔خطوط تو نہ ہتھیا سکے مگر ابن زیاد سے براہ راست  بیعت یزید کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سیدنا حسین  ﷜نے تین شرطیں رکھیں کہ مجھے واپس مکہ جانے دو، یا مجھے کسی سرحد پر جانے دو میں کسی جہاد میں شریک ہو جاؤں گا، یا پھر میں یزید کے پاس چلا جاتا ہوں۔وہ میرا ابن عم ہی تو ہے۔مگر ظالمو نے ایک شرط بھی نہ مانی اورنواسۂ رسول کو  شہید کر دیا۔ زیر نظر کتاب’’متن اربعین سیدنا حسین﷜‘‘امریکہ میں  طویل عرصہ سےمقیم معروف مذہبی سکالر فضیلۃ الشخ عبداللہ دانش﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے  موصوف نے بڑی   عرق ریزی سے مستنداور معتبر روایات کا سہارا لیتے ہوئے ذخیرۂ احادیث سے نبی کریم ﷺ کی اپنے  نواسے سیدنا حسین ﷜ کے متعلق چالیس صحیح احادیث مبارکہ کا مجموعہ ’’ اربعین  سیدنا  حسین﷜‘‘ کے نام مرتب کر کے بڑے  اجھےاسلوب میں سیدنا حسین ﷜ کی حیثیت، شخصیت اورکردار کو بڑے ہی باوقار انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ صاحب  تصنیف کی تحقیقی وتصنیفی ، دعوتی وتبلیغی   خدمات کو قبول فرمائے  اور ان کےعلم وعمل اور عمر میں برکت فرمائے۔ (آمین)  (م۔ا)

  • 125 #5922

    مصنف : نا معلوم

    مشاہدات : 1199

    مختصر دفاع آل و اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین

    (بدھ 15 نومبر 2017ء) ناشر : مکتبہ احمد بن حنبل

    اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہر نبی کو چند ساتھی دیے جنہیں حواری کے لفظ سے جانا جاتا ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ساتھیوں کو صحابہ کے نام سے ۔ ہر نبی کے ساتھیوں کو اتنی عظیمت وشان حاصل نہیں ہے جتنی کہ نبیﷺ کے صحابہؓ   کو حاصل ہے اور پھر آگے صحابہ کرامؓ میں سے بھی کچھ صحابہ فضائل میں دوسروں کی نسبت عظمت والے ہیں اور ہمارے اسلاف کا یہ طرز عمل رہا ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کے صحابہ کےحالات زندگی محفوظ کیے ہیں اور صحابہ کرامؓ کا دفاع کرتے رہیں ہیں۔ یقیناً شکوک وشبہات پھیلانا اور بدگمانیوں کو ہوا دینا انبیائے کرام کے دشمنان کا بہت پرانا وسیلہ ہے لیکن ان کا دفاع کرنا بھی امت کے علماء کا وطیرہ رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی  صحابہ کرامؓ پر کیے جانے والے شبہات کا دفاع کیا گیا ہے اور ان شبہات کا جائزہ لیا گیا ہے جو کہ وجہ اختلاف و نزاع  ہیں‘ اور پھر ان پر نبی کریمﷺ کے بعد اس امت کے بہترین لوگوں کے متعلق عقائد کی بنیادیں قائم کی گئی ہیں اور ان علماء کرام کے ردود بھی بیان کیا گیا ہے اور استدلال کے فاسد ہونے کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ کتاب ’’ مختصر دفاع آل اصحاب ‘‘  ادارۂ قسم الدراسات والبحوث جمعیت آل واصحاب کی عظیم کاوش ہے ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے  وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 126 #8081

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 312

    مختصر سیرت خلفائے راشدین ( مختلف علمائے کرام کے کلام سے )

    (ہفتہ 18 جنوری 2020ء) ناشر : توحید خالص ڈاٹ کام

    اسلام کی ابتدائی تاریخ کے خلفاء اربعہ کو’’خلفائے راشدین ‘‘ کہا جاتا ہے ۔یہ خلفاء کرام عہد نبوت میں ہی ہر   لحاظ سے دیگر صحابہ کرام ﷢  کےمقابلے میں ایک امتیازی شان  و مقام رکھتےتھے ۔تمام صحابہ کرام ﷢ کو عمومی طور پر اور خلفائے راشدین ﷢ کو خصوصی طور پر ، امت میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہے ، اس کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ انبیاء کرام ﷩ کے بعدیہ مقدس ترین جماعت تھی جس نے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺکی رسالت کی تصدیق کی ، آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، اپنی جان و مال سے آپﷺکا دفاع کیا ، راہِ حق میں بے مثال قربانیاں دیں ، نبی اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی بے چوں وچراں پیروی کی اور آپﷺ کی رحلت کے بعد اپنے عقیدہ وعمل کے ذریعے اس آخری دین اور اس کی تعلیمات کی حفاظت کی۔صحیح احادیث میں خلفائے راشدین﷢کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں ، وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔اس لیے کہ جہاں ہم ان کے ذریعے صحابہ کرام﷢کے حقیقی مقام و مرتبہ کو جان سکتے ہیں وہیں ان کی عقیدت میں غلو کے فساد سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ زیر  نظرکتابچہ’’مختصر سیرت خلفائے راشدین‘‘جناب طارق علی بروہی﷾ کا مرتب کردہ ہے ۔فاضل مرتب نے  مختلف  علماء کرام کے بیانات  اور تحریروں سے  مختصراً خلفاء راشدین(سیدنا ابو صدیق،سیدعمرفاروق،سیدنا عثمان غنی،سید علی ﷢) کے فضائل ومناقب اورسیرت کے  متعلق مواد  کو اخذ  کر کے  مرتب کیا اور  افادۂ عام کے لیے اسکا اردو ترجمہ کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے  اور اسے ان کےمیزانِ حسنات میں  اضافہ کا ذریعہ بنائے اور ہمیں خلفائے راشدین کی سیرت کو اختیار کی توفیق دے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 127 #5658

    مصنف : ڈاکٹر محمد الیاس عبد الغنی

    مشاہدات : 1570

    مسجد نبوی شریف کے پاس صحابہ ؓ کے مکانات

    (جمعرات 20 جولائی 2017ء) ناشر : مطابع الرشید مدینہ منورہ

    اسلامی تاریخ کے لحاظ سے مدینہ منورہ دوسرا بڑا اسلامی مرکز اور تاریخی شہر ہے ۔نبی کریمﷺ کی ہجرت سے قبل یہ کوئی خاص مشہور شہر نہیں تھا لیکن آپ ﷺ کی آمد ،مہاجرین کی ہجرت اور اہل مدینہ کی قربانیوں نے اس غیر معروف شہر کو اتنی شہرت و عزت بخشی کہ اس شہر مقدس سے قلبی لگاؤ اور عقیدت ہر مسلمان کا جزو ایمان بن چکی ہے ۔اس شہر میں بہت سے تاریخی نشانات ، اور بکثرت اسلامی آثار وعلامات پائے جاتے ہیں جن سے شہر کی عظمت ورفعت شان کا پتہ چلتا ہے۔اس کی فضیلت میں بہت سی احادیث شریفہ وارد ہوئی ہیں ۔سیدنا عبد اللہ بن زید  نبی کریمﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا:سیدناابراہیم  نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا کی، میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم  نے مکہ حرم  قرار دیا، میں مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں یہاں کے مُد میں  اس کے صاع میں (برکت ہو) جس طرح ابراہیم  نے مکہ کے لئے دعاکی۔سیدناجابر بن عبد اللہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: مدینہ لوہار کی بھٹی کے مثل ہے جو یہاں کے خبث وگندگی کو دور کرتا ہے اور اچھائی کو نکھارتا ہے،سیدناابو ہریرہ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: بلا شبہ ایمان مدینہ میں  اسطرح سمٹ کر آجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں آجاتا ہے۔یہ اور اس معنی کی متعدد احادیث سے مدینہ منورہ کے فضائل ومناقب کا علم ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسجد نبوی شریف کے پاس صحابہ  کے مکانات "محترم ڈاکٹر محمد الیاس عبد الغنی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مسجد نبوی کے ارد گرد موجود صحابہ کرام کے مکانات کی تاریخ بیان فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 128 #2240

    مصنف : ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا

    مشاہدات : 3178

    نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی تابناک زندگیاں

    (ہفتہ 05 جولائی 2014ء) ناشر : دار الکتب السلفیہ، لاہور

    صحابہ  نام  ہے  ان نفوس  قدسیہ  کا جنہوں  نے  محبوب  ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا  اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو  اپنے  ایمان  وعمل میں پوری طرح سمونے کی  کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی  سے مراد رسول  اکرم ﷺکا وہ  ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی  کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص  ہے  لہذاب  یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے  استعمال نہیں کرسکتا۔  انبیاء  کرام﷩ کے  بعد  صحابہ کرام ﷢ کی  مقدس  جماعت تمام  مخلوق سے  افضل  اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی  حاصل  ہے  کہ اللہ  نے  انہیں دنیا میں  ہی  مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے  بہت سی  قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام  سے محبت اور  نبی کریم  ﷺ نے  احادیث مبارکہ  میں جوان کی افضلیت  بیان کی ہے ان کو تسلیم  کرنا  ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام ﷢ کے ایمان  ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر  پسند آیا کہ اسے  بعد میں آنے والے  ہر ایمان  لانے والے  کے لیے کسوٹی قرار  دے  دیا۔یو  ں تو حیطہ اسلام  میں آنے  کے بعد صحابہ  کرام  ﷢ کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے  لیکن بعض  پہلو اس  قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ  ان کو  پڑہنے  اور سننے والا دنیا کا  کوئی بھی  شخص  متاثر  ہوئے بغیر  نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام ﷢ کےایمان  افروز  تذکرے سوانح حیا ت کے  حوالے  سے  ائمہ محدثین او راہل علم  کئی  کتب تصنیف کی  ہیں عربی زبان  میں  الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ  قابل ذکر ہیں  ۔اور اسی طرح اردو زبان میں  کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر تبصرہ  کتاب ’’ نبی کریم ﷺ کے  صحابہ ﷢ کی  تابناک زندگیاں‘‘  مصر کے معروف  عالم دین  ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا  کی  کتاب ’’ صور من حیاۃ الصحابۃ‘‘ کا ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں  فاضل مصنف نے  ا ٹھاون صحابہ کرام ﷢ کی زندگیوں  کے مختلف  گوشوں او را  ن کے بے  مثال کارناموں کو اس انداز اور ترتیب سے پیش کیا ہے  کہ  دورِ صحابہ کی اسلامی تاریخ  کا بہت  بڑا حصہ  سامنے آگیا ہے۔عربی کتاب کے ترجمہ کی سعادت  محترم اقبال عمد قاسمی نے  حاصل کی ہے ۔ صور من حیاۃ الصحابۃ  کا ایک  ترجمہ  ’’حیاۃ صحابہ کے درخشاں  پہلو‘‘ کے  نام  سے  مولانا  محمود احمد غضنفر کے  رواں قلم سے بھی موجود  ہے  ۔اللہ  تعالی فاضل مصنف  کی اس کاوش کو شرف قبولیت  سے  نوازے  اور  اسے  اہل اسلام کی اصلاح کا  ذریعہ بنائے  (آمین) (م۔ا)

     

  • 129 #651

    مصنف : عتیق الرحمن سنبھلی

    مشاہدات : 98580

    واقعہ کربلا اور اس کا پس منظر

    (اتوار 24 فروری 2013ء) ناشر : الفرقان بکڈپو نیا گاؤں مغربی نظیرآباد لکھنؤ

    نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہرآئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔ زیر نظر کتاب میں مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے اور اس کا مکمل  پس منظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مکمل کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب شہادت عثمان رضی اللہ عنہ ، خانہ جنگی، صلح حسین  رضی اللہ عنہ پر ہے۔ ایک باب یزید کی ولی عہدی کی تجویز اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے عنوان سے ہے جس میں یزید کی ولی عہدی سے متعلق کھل کر بحث کی گئی ہے۔ باب دہم میں واقعہ کربلا کی مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ جبکہ اس سے اگلے باب میں شہادت کے بعد کی کہانی کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔مولانا نے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ میں یزید کسی بھی حوالے سے  ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے۔(ع۔م)
     

  • 130 #5035

    مصنف : اسعد محمد الطیب

    مشاہدات : 1905

    کرامات صحابہ رضی اللہ عنہم

    (اتوار 08 جنوری 2017ء) ناشر : حدیبیہ پبلیکیشنز

    کرامت لغوی اعتبار سے عزت اور شرافت کو کہتے ہیں اور اصطلاحی طور پر اس کا اطلاق اس عمل پر ہوتا ہے جو کسی نیک بندے کے ہاتھ سے خلاف عادت ظہور پذیر ہو۔معجزے اور کرامت میں فرق یہ ہے کہ معجزے کا ظہور نبی کے ذریعے ہوتا ہے اور کرامت ولی کے ذریعے ظہور پذیر ہوتی ہے۔صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم  ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔صحابہ کرام   کے ہاتھوں بھی بے شمار کرامات کا ظہور ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب" کرامات صحابہ " محترم مولانا اسعد محمد الطیب صاحب کی تصنیف ہے، جس کا ترجمہ وتخریج محترم ابو القاسم حافظ محمود احمد نے کیا ہے جبکہ نظرثانی محترم مولانا ابو ضیاء محمود احمد غضنفر صاحب کی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے صحابہ کرام کے ہاتھوں ظہور پذیر ہونے والی کرامات کو جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 ... 6 7 8 9 10 11 12 13 14 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1891
  • اس ہفتے کے قارئین 7876
  • اس ماہ کے قارئین 46270
  • کل قارئین49341305

موضوعاتی فہرست