موضوع روایات(5386#)

محمد ظفر اقبال
مکتبہ رحمانیہ لاہور
311
7775 (PKR)
5.5 MB

بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث در حقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیہہ جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتن کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کےاختتام پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’موضوع روایات ‘‘ مولانا محمد ظفر اقبال کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب خود ساختہ او رمن گھڑت روایات جنہیں نبی کریم ﷺ کی طرف غلط طور پر منسوب کردیا گیا پر مشتمل ساڑھے تین صد احادیث کا مجموعہ ہے اور ملا علی قاری کی الموضوعات الکبیر کی اردو زبان میں پہلی تلخیص وتشریح ہے ۔ نیز چہل حدیث ، ثلاثیات بخاری اور معلومات صحاح ستہ کے قابل قدر اضافے کے ساتھ ایک بہترین مجموعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے عامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مسلمانوں کو موضوع ،منکر روایات سے بچنے اور صحیح احادیث پرعمل پیراہونے کی توفیق دے ۔ (آمین) (م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

مقدمہ

 

5

باب الالف

 

25

باب الباء

 

60

باب التاء

 

65

باب الثاء

 

69

باب الجیم

 

70

باب الحاء

 

72

باب الخاء

 

78

باب الدال

 

82

باب الذال

 

84

باب الراء

 

86

باب الزای

 

89

باب السین

 

91

باب الشین

 

95

باب الصاد

 

98

باب الضاد

 

101

باب الطاء

 

102

باب الظاء

 

102

باب العین

 

103

باب الغین

 

104

باب الفاء

 

107

باب القاف

 

110

باب الکاف

 

112

باب اللام

 

117

باب المیم

 

124

باب النون

 

137

باب الواو

 

139

باب الھاء

 

141

باب لا

 

142

باب الیاء

 

145

چہل حدیث

 

149

ثلاثیات بخاری

 

195

معلومات صحاح ستہ

 

223

مرویات صحابہؓ

 

270

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1696
  • اس ہفتے کے قارئین: 15124
  • اس ماہ کے قارئین: 29945
  • کل قارئین : 46431583

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں