#3348

مصنف : عبد المجید سوہدروی

مشاہدات : 3012

دولت مند صحابہ رضی اللہ عنہم

  • صفحات: 91
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 1820 (PKR)
(بدھ 15 جولائی 2015ء) ناشر : مسلم پبلیکیشنز لاہور

مسلمانوں میں عام طور پر یہ خیال رائج ہو رہا ہے کہ دنیا اور دنیا کی دولت بہت بری چیز ہے۔اور اسلام حصول دولت اور سیم وزر جمع کرنے کے بہت خلاف ہے اور فقر وفاقہ ہی کی تعلیم دیتا ہے،چنانچہ اکثر ملا  اور واعظ بھی اپنے وعظوں میں اسی قسم کی ذہنیت پیدا کرنے  اور اسی کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان دن بدن کمزور اور نادار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔افلاس اس کے سروں پر مسلط ہو رہا ہے،قرض بڑھتا جا رہا ہے ،اور اغیار سونے چاندی میں کھیلتے نظر آتے ہیں۔مسلمانوں کا وہ طبقہ جو دیندار یا روحانیت کا علمبردار کہلاتا ہے وہ تو یہی کہتا ہے کہ مسلمان  دنیوی ترقی نہیں کر سکتے نہ ہی کرنی چاہئے۔ زیر تبصرہ کتاب " دولت مند صحابہ  " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا حکیم عبد المجید سوہدروی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے بطور نمونہ دولت مند صحابہ کرام ،صحابیات کرام اور تابعین عظام ﷭کے ایمان افروز تذکرے جمع  فرما کر مسلمانوں کو یہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ وہ دولت کمانا،بچانا اور پھر اسے صحیح جگہ پر لگانا سیکھیں۔جن تک وہ کوتاہ ہمت ،کم کوش اور کام چور رہیں گے ان کی اقتصادی حالت بہتر نہیں ہوگی اور  نہ ہی وہ  اقوام عالم میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

عناوین

 

صفحہ نمبر

دیباچہ

 

9

پیش لفظ

 

10

اسلام اور دولت

 

12

دولت مند صحابہ رضی اللہ عنہم

 

28

دولت مند صحابہ رضی اللہ عنہم کا تذکرہ مقدس

 

31

حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

 

31

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ

 

35

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ

 

37

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

 

40

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

 

44

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

 

47

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا

 

50

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ

 

52

حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ

 

53

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

 

54

حضرت عباس رضی اللہ عنہ

 

55

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا

 

55

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

 

56

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا

 

56

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہا

 

57

حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ

 

57

حضرت حاطب رضی اللہ عنہ

 

58

حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ

 

59

حضرت عبد اللہ بن  عامر رضی اللہ عنہ

 

59

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ

 

60

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

 

61

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ

 

61

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ

 

62

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ

 

63

حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ

 

63

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ

 

64

حضرت حجاج بن علاط رضی اللہ عنہ

 

64

حضرت ضرار بن ازرو رضی اللہ عنہ

 

64

حضرت جویطب رضی اللہ عنہ

 

65

حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ

 

65

حضرت خباب رضی اللہ عنہ

 

65

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ

 

65

حضرت یعلی بن سہیل رضی اللہ عنہ

 

66

حضرت صعصعہ رضی اللہ عنہ

 

66

حضرت ارقم بن ابو ارقم رضی اللہ عنہ

 

66

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا

 

67

حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ

 

67

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ

 

67

حضرت اسید بن خضیر رضی اللہ عنہ

 

68

حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ

 

68

حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ

 

68

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ

 

68

دولت مند تابعین رحمۃ اللہ علہیم

 

70

حضرت زین العابدین 

 

70

حضرت قاسم بن محمد 

 

71

حضرت بکر بن عبد اللہ مزنی 

 

72

حضرت محمد بن مسلم زہری 

 

72

حضرت محمد بن سیرین 

 

72

حضرت یونس بن عیینہ 

 

73

حضرت ہشام بن عروہ 

 

74

حضرت مکحول دمشقی 

 

75

حضرت فروخ رائی 

 

75

حضرت عامر بن شراحیل شعبی 

 

75

حضرت عامر بن عبد اللہ 

 

75

حضرت ابو اسحاق سبیعی 

 

76

حضرت عمر بن عبد العزیز 

 

76

حضرت امام ابو حنیفہ 

 

77

دولت مند امہات المومنین رضی اللہ عنہن

 

81

حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا

 

81

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

 

82

حضرت زینت رضی اللہ عنہا

 

82

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا

 

83

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا

 

83

دولت مند علماء و صوفیاء 

 

84

حضرت قیس بن سعد 

 

84

حضرت خواجہ حسن بصری 

 

84

حضرت حماد 

 

85

امام لیث 

 

85

امام رائی 

 

85

شیخ شہاب الدین سہروردی 

 

86

حضرت یحیٰ برمکی 

 

86

حضرت فضل برمکی 

 

87

شیخ محمد عبدہ مصری 

 

88

آپ کے براؤزر میں پی ڈی ایف کا کوئی پلگن مجود نہیں. اس کے بجاے آپ یہاں کلک کر کے پی ڈی ایف ڈونلوڈ کر سکتے ہیں.

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1877
  • اس ہفتے کے قارئین 9887
  • اس ماہ کے قارئین 54697
  • کل قارئین50253629

موضوعاتی فہرست