عنایات رحمانی شرح شاطبیہ جلد اول

  • صفحات: 617
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 24680 (PKR)
(بدھ 07 ستمبر 2022ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی لاہور

شاطبیہ امام شاطبی  رحمہ اللہ  کی قراءات سبعہ پر لکھی گئی  اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے۔بڑے بڑے مشائخ اور علماء نے اس قصیدہ کی تشریح کو اپنے لیے اعزاز سمجھا اور اس کی شروحات لکھیں۔ شاطبیہ کے شارحین کی ایک بڑی طویل فہرست ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’عنایات رحمانی شرح شاطبیہ ‘‘شاطبیہ کی منجملہ شروحات میں سے ایک ہے۔جو پاکستان میں علم قراءات کے میدان کی معروف شخصیت استاذ القراء والمجودین قاری فتح محمد  پانی پتی  ﷫کی تصنیف ہے۔یہ ایک جامع ،مفصل اور تمام امور کا احاطہ کرنے والی بڑی شاندار  اور علمی شرح ہے جو ضخیم تین جلدوں پر مشتمل ہےاور علم قراءات کے میدان میں ایک بلند پایہ کاوش ہے۔  قراءات اکیڈمی ،لاہور کا مطبوعہ ایڈیشن  اگرچہ  کتاب وسنت سائٹ پر موجود ہے  لیکن ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی حفظہ اللہ (مدیر کلیۃ القرآن جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) کی خواہش پر  اس قدیم ایڈیشن کو بھی سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)

نمبرشمار

مضامین

صفحہ نمبر

1

تمہید

1

2

قصیدۂ شاطبیہ کی چند خوبیاں

2

3

شرح شاطبیہ کی ضرورت

3

4

وہ کتابیں  جن سے شرح میں مدد لی گئی

3

5

شرح کی خصوصیات اور اصطلاحات

4

6

امید وآرزو

5

7

مقدمہ اس کے دو حصہ ہیں

6

8

معلم کے آداب

7

9

شاگرد کے آداب

9

10

پہلؔی فصل :ا ن چندا مور میں جن کا معلوم کرلینا

10

11

قرآت وروایات وطُرُق کا فرق

10

12

اختلافِ واجب  اور جائز فرق

10

13

دوسریؔ فصل افراد جمع قرآت میں

10

14

جمع کی کیفیت  میں تین مذہب ہیں

12

15

تیسریؔ فصل قرآن اوراس کے خادموں کے فضائل ہیں

13

16

چوؔتھی  فصل قرآت کا مدار نقل پر ہے

14

17

پانچویں ؔفصل صاحبا ختیار ائمہ

15

18

چھٹی فصل ؔ ضابطہ قرآت  یعنی صحیح اور شاذ قراۃ کے معلوم کرنے کاطریقہ

16

19

ضابطہ کے تینوں رکنوں کی مزید توضیح پہلا رکن نحوی وجہ کی موافقت

17

20

دوسرا رکن  رسم کی موافقت

17

21

صحابہ کی تعریف کے بارہ مں امام شافعی رحمہ اللہ کاکلام

19

22

اسی رسم کے بارے میں تین عجیب وغریب فوائد

19

23

رسم کے جملہ تغیرات ان چھ چیزو ں پر منحصر ہیں

22

24

تیسرا رکن قراء ۃ کا صحیح اور متصل سند سے ثابت ہوتا

22

25

ساتویں ؔفصل خلطِ روایات وطُرُق یعنی ایک قراٰ ۃ پڑھتے ہوئےدوسری کے پڑھ دینے کا حکم

25

26

آٹھویںؔ فصل قرآن کے سات حروف  پر نازل ہونے کی حدیث اورا س میں دس بحثیں ہیں

26

27

اوّؔل سات حروف پر نازل ہونے کا سبب امّت کو آسانی اورو سعت دینا ہے

27

28

دوؔم حروف کے معنی

28

29

سوؔم سات حروف کا مقصد

29

30

چہارؔم ا س کی وجہ کہ سات ہی حروف پر کیوں نازل ہواکم یا زیادہ پر کیوں نہیں ہوا

30

31

پنجمؔ آیات سات حروف کے اختلاف سے کچھ احکام اورعلمی فوائد بھی نکلتے ہیں

31

32

ششمؔ سات حروف کے کئی معنیٰ ہیں

32

33

ہفتمؔ  آیا یہ ساتوں حروف قرآن میں متفرق  اور پھیلے ہوئے ہیں

32

34

ہشتم ؔ آیا عثمانی مصاحف میں ساتوں حروف ہیں

33

35

نہمؔ جو قرآت اس وقت پڑھی جاتی ہیں آیا و ہ سات حروف کا کُل ہیں یا  بعض

33

36

دہمؔ قرآت کے اختلاف کی حقیقت اور اس کے فوائد

34

37

مصداق کے متحد رہنے اور بدل جانے کے لحاظ سے اختلاف کی قسمیں

35

38

نویںؔ فصل سات  احرف سے قرآت سبعہ مراد نہیں

38

39

دسوی ؔں فصل  سبعہ کے بعد کی تین قراء تیں شاذنہیں

39

40

گیارہویں ؔ فصل قرات سبعہ تیسیر وشاطبیہ اور بصرہ وعنوان وغیرہ میں منحصر نہیں ہیں

41

41

بارھویںؔ فصل  فن قرآت کے مصنف اور ان کی تصنیفات

43

42

تیسرؔی صدی  اس میں سات کتابیں لکھی گئیں

43

43

چوتھیؔ صدی اس میں پچیس کتابیں لکھی گئیں

43

44

پانچویں ؔ صدی  اس میں چوّن کتابیں لکھی گئیں

44

45

چھٹی صدی اس میں تیس کتابیں لکھی گئیں

45

46

ساتویں ؔ صدی اس میں تیس کتابیں لکھی گئیں

46

47

آٹھویںؔ صدی اس میں  اکیاون کتابیں لکھی گئیں

47

48

نویں ؔ صدی اس میں چھتیس کتابیں لکھی گئیں

48

49

دسویں ؔ صدی اس میں مصر کے علماء نے پندرہ کتابیں لکھیں

49

50

گیارہویں ؔ صدی  اس میں دو کتابیں لکھی گئیں

50

51

 بارہویں ؔ صدی اس میں صرف دو لیکن معتبر  اور محققانہ کتابیں تصنیف ہوئیں

50

52

تیرھویںؔ صدی اس میں تین کتابیں تصنیف ہوئیں

50

53

چودہویں ؔ صدی ایک سو چھیالیس کتابیں تصنیف ہوئیں

50

54

تتمہ ان فقہی مسائل میں جو تجوید وقرآت سے متعلق ہیں

62

55

ناظم یعنی علّامہ شاطبی کے مختصر حالات

64

56

قصیدۂ  الامیہ  یعنی شاطبیہ کا دیباچہ

64

57

بسم اللہ ۔ درود۔ حمد

1

58

مصیبت کا علاج

۔

59

حمدو صلوٰۃ کے بعد قرآن مجید اور قراء کے فضائل

5

60

قاری کے فضائل اورا س کے لیے بشارت

7

61

قرآن مجید کے فضائل کی طرف  رجوع

10

62

قبر کے ہولناک منظر میں قرآن مجید کی روشنی

13

63

فضائل قرآن پر تفریع

15

64

قراءت کے علماء کی تعریف  اور محسن شناسی اور شکر گزاری کے طور پر ان کے لیے دعا

20

65

سات قاریوں  اور ان کے چودہ راویو ں کا بیان جن کی مجموعی اکتیس ہے

26

66

قراء کے عربی یا عجمی النسل  ہونے کا بیان

38

67

ان چودہ راویوں کے طرق کے اجمالی بیان

39

68

وہ رموز واصطلاحات جو قصیدہ  میں استعمال کی گئی ہیں

42

69

رموز کے استعمال کے متعلق  مفید ترین فوائد

43

70

اضداد کا بیان

53

71

ضدوں کی مثالیں

53

72

تحریک کے متعلق ابوشامہ کی مفیدا ور عجیب تحقیق

60

73

اس اصطلاح کے فائدہ کی مزید وضاحت

62

74

 نہایت  مفید وضروری تنبیہات

63

75

باب اطلاق یا ایک بلیغ اور نہایت مختصراصطلاح

65

76

قصیدہ کی تعریف

69

77

طلباء اور سالکین  کی اصطلاح اور ان کے لیے عمدہ اور مفید نصیحتیں

77

78

پہلا باب اعوذ پڑھنے کے بیان میں                                         

90

79

دوسرا ؔ باب : بسم اللہ کے بیان میں

98

80

 سورۃُ اُمّ ِا لقرآن ، یعنی سورۂ فاتحہ

107

81

اس میم جمع کا حکم جس کے بعد ساکن ہو

113

82

تیسرا ؔ باب: ادغام کبیر کے بیان میں

116

83

ایک کلمہ کے مثلین کا ادغام

118

84

دوکلموں کے مثلین کا ادغام

119

85

ادغام کے چار موانع

120

86

ال کی تعلیل کا بیان

125

87

مذکورہ بالا  علّت پر نقض

126

88

چوتھا ؔ باب ان دوحرفوں کےا دغام کے بیان میں جو مخرج اور صفت کے اعتبار سے قریب قریب ہوں اور یہ ایک کلمہ  میں بھی ہوتے  ہیں اور دوکلموں میں بھی

130

89

ایک کلمہ کے متقاربین کا بیان

131

90

دوکلموں کے متقاربین کا بیان

132

91

ادغام متقاربین کے چار موانع

134

92

ان حروف کی تفصیل جن میں ان سولہ حرفوں کا ادغام ہوتا ہے

135

93

پہلی تنبیہ

145

94

دوسری تنبیہ

146

95

تیسری تنبیہ

147

96

پانچواں ؔ باب: واحد مذکر غائب کی ضمیر کے صلہ اور عدم صلہ اور سکون کے بیان میں

150

97

چھٹا ؔ باب : مد اورقصر کے بیان میں

161

98

پہلے سبب یعنی ہمزہ متصل کا بیان

162

99

دوسرے سبب یعنی ہمزہ منفصل  کا بیان

162

100

 مد متصل ومنفصل کی مثالیں

163

101

تیسرے سبب ہمزۂ مقدم یعنی مدّ بدل کا بیا ن

166

102

مد کے چوتھے اور پانچویں  سبب سکونِ لازم وسکونِ عارض کا  بیان

172

103

مقطعات کا مد

173

104

مدّ حروفِ لین

177

105

ساتواں ؔ باب : ان دوہمزوں کے احکام کے بیان میں جو ایک کلمہ میں جمع ہورہے ہوں

182

106

دوسرے ہمزہ  کی تسہیل

183

107

 دوسرے ہمزہ کا الف سےا بدال

183

108

مفتوحین کے وہ پانچ کلمات  جن کو اپنی اصل کے خلاف بعض نے ایک ہمزہ سے پڑھا ہےاور دو ہمزوں والوں میں سے  تحقیق نے بھی تسہیل کی ہے

186

109

دو متحرک ہمزوں  کی دوسری قسم میں جس میں پہلا استفہامی اور دوسرا وصلی ہو

190

110

دو قطعی ہمزوں کے جمع ہونے کی تین قسمیں  اور ان کی مثالیں اور یہ ادخال کے مسئلہ کی تمہید ہے

193

111

تیسری قسم فتحہ اور ضمہ والی دو ہمزوں کے درمیان ادخال کا بیان ہے

194

112

ادخال وتسہیل اور قرآت کی تفصیل

196

113

آٹھواں باب ؔ: دو کلموں کے دوہمزوں کے بیان میں

198

114

پہلی صورت یکساں حرکت والی ہمزوں کی تین قسمیں پہلے ہمزہ کی تخفیف

202

115

یکساں حرکت والے ہمزوں کی تینوں قسموں میں دوسرے ہمزہ کی تخفیف

205

116

دوسری صورت مختلفین دو طرح کی حرکت والے دوہمزوں کی پانچ قسمیں اور پانچوں میں دوسرے کی تخفیف

205

117

ابدال وتسہیل کی تعریف

207

118

نواں ؔ باب : اس اکیلے ہمزہ کے بیان میں جس کے ساتھ دوسرا ہمزہ نہ ہو

210

119

ابدال کے بارہ میں سوسی کا قاعدہ

211

120

دسواں ؔ باب : ہمزہ کی حرکت اس سے پہلے ساکن کی طرف نقل کرنے اور اس ساکن پر سکتہ کرنے کے بیا ن میں

218

121

لام تعریف کی طرف  نقل کرنے کی صورت میں ہمزۂ وصل  یالام سے ابتدا کرنے کا بیان

225

122

گیارہواں ؔ باب ہشام اور حمزہ کے اس مذہب کے بیان میں جو ہمزہ پروقف کرنے کے بارہ میں ہے

229

123

پہلی قسم ہمزہ ساکنہ اور اس کی چھ شاخیں ہیں

231

124

دوسری قسم  ہمزۂ متحرکہ جس سے پہلا حرف ساکن ہو اور اس کی بارہ شاخیں ہیں

238

125

تیسری قسم و ہ ہمزہ  جو خود بھی متحرک ہو  اورا س سے پہلے حرف پر بھی  حرکت ہو اور اس کی نو شاخیں ہیں

238

126

تخفیفِ قیاسی متفق علیہ کی ساتوں صورتوں سے فارغ  ہونے کے بعد  اسکے متعلق دو تنبیہیں اور رسمی تخفیف اور تخفیفِ قیاسی مختلف فیہ کی ایک صورت

243

127

رسمی تخفیف کی کیفیت  اور تخفیف قیاسی مختلف فیہ کی پہلی قسم

244

128

رسمی تخفیف

245

129

فائدہ ۱۔فَفِی الْیَایَکِی والے شعر کے متعلق چند ضروری وضاحتیں

246

130

فائدہ ۲۔جلیلہ ہمزہ  کی رسم کے قواعدمیں

247

131

فائدہ ۳۔ہمزۂ ساکنہ کے بیان میں

248

132

فائدہ ۴۔اس ہمزہ کے بیان میں جو الف کے سوا کسی اور ساکن کے بعد ہو

249

133

فائدہ ۵۔الف کے بعد ہمزہ متوسطہ بنفسہٖ کے بیان میں

249

134

فائدہ ۶۔الف کے بعد  متطرفہ کے بیان میں

250

135

فائدہ۷: اس ہمزہ متطرفہ میں جوزبر کے بعد حرکت والا ہو

250

136

فائدہ ۸۔اس ہمزۂ متوسطہ میں جو حرکت کے بعد حرکت والا ہو

251

137

متوسطہ بزائدہ

253

138

ان زائد حروف کی مثالیں جن کی بناء پر ہمزہ متوسطہ بزائدہ بن جاتا ہے

253

139

فائدہ ۱۔متوسطہ بزائدہ بھی چند کلمات میں قیاس کے خلاف لکھا ہوا ہے۔

254

140

اشمام وروم وقفی کے جائز وناجائز ہونے کے موقعوں کا بیان

257

141

تخفیفِ قیاسی مختلف فیہ کی دوسری قسم یعنی واو یائے زائدہ کی طرح اصلیہ کے بعد کے ہمزہ میں بھی ابدال وادغام

259

142

تخفیفِ قیاسی مختلف فیہ کی تیسری قسم تسہیل مع الروم

259

143

تتمہ تسہیل مع الروم کے بارہ میں دومذہبوں کا رد جن میں سےا وؔل پر تینوں حرکتو ں میں ناجائز اور دوم پر تینوں میں جائز ہے

260

144

بارھواں؏ باب : اظہار اور ادغامِ صغیر کے بیا ن میں

269

145

ایک نئی اصطلاح کا بیان

270

146

اِذْکی ذال کا بیا ن

272

147

قَدْ کی دال کا بیان

275

148

تانیث کی تَا کا بیان

278

149

ھَلْ اور بَلْ کے لام کا بیان

281

150

 تیرھواں ؔ باب : اِذْ اور قَدْ اور تانیث کی تَا اور ھَلْ اور بَلْ کے لام کے اس ادغام کے بیان میں جس پرسب کا اتفاق ہے۔

284

151

چودھواں باب : ان حروف کے ادغام کے بیان میں جس پر سب کا اتفاق ہے

288

152

ادغام کا بیان جس کی ضد اظہار ہے۔

289

153

اظہار کا بیان جس کی ضد ادغام ہے۔

292

154

پندرہواںؔ باب: نون ساکن اور تنوین کے احکام کے بیان میں

298

155

سولہواں باب : فتح اور امالہ محضہ اور امالہ بین ،کے بیان میں 

292

156

فائدہ۱ فتح وامالہ سے متعلق چند بنیادی معلومات

298

157

فائدہ ۲ امالہ کے بارہ اسباب ہیں

305

158

ان بارہ اسباب  میں سے نمبر ایک اور نمبر دو او ر پانچ کی مزید تفصیل

306

159

فائدہ 3 امالہ کی وجود میں

306

160

امالہ بوجہ  یا حمزہ  اور کسائی دونوں کے امالہ کا بیان

307

161

کلمہ کے یائی  اور واوی ہونے کی پہچان

307

162

 ذوات الیاء کی مثالیں

308

163

صَرف نہ جاننے والوں کی رعایت سے تانیث کے الف کے موقعوں کی توضیح

308

164

وہ سولہ کلمات جن میں صرف کسائی کے لیے امال  ہے حمزہ کے لیے نہیں

315

165

وہ پانچ واوی کلمات جن میں حمزہ اور کسائی دونوں کے لیے امالہ ہے

320

166

وہ پانچ کلمات جن میں کسائی کے دُوری ہی کے لیے امالہ ہے حمزہ اور ابوالحارث کے لیے نہیں

321

167

وہ گیارہ  سورتیں  جن کی آیات کے آخری الفات میں حمزہ او ر کسائی دونوں کے لیے امالہ ہے

321

168

وہ کلمات جن میں حمزہ اور کسائی کے ساتھ اوروں نے بھی امالہ کیا ہے

324

169

وہ قسم جس کے امالہ میں حمزہ اور کسائی کے ساتھ ابوعمرو نےبھی شرکت کی ہے

327

170

ورش کی تقلیل کا قاعدہ

332

171

ابوعمرو کی تقلیل کا قاعدہ

339

172

وہ چار کلمات جن میں ابو عمرہ کے دوری ہی کے لیے تقلیل ہے

341

173

ثلاثی مجرد کے دس افعال جن میں حمزہ نے اور بعض میں ان کے ساتھ اوروں نے بھی امالہ کیا ہے

342

174

امالہ بوجہ کسرہ یہ الف کے بعد ہوتا ہے را ہوجو خواہ کسی اور حرف پر اور یہ امالہ کا دوسرا سبب ہے

346

175

فائدہ ۱اس قسم میں سے مختلف کلمات کے متعلق  مفید معلومات

146

176

فائدہ ۲ علی قاری کی شرح سے اس قاعدہ کی گیارہ شرطیں اور ان کے فوائد

347

177

ان دونوں کلمات کے امالہ کی چھ شرطیں اور ان کے فوائد

349

178

اس الف کا امالہ جو دو راؤں کے درمیان ہو

350

179

وہ بارہ کلمات جن میں صرف کسائی کے دوری کے لیے امالہ محضر ہے

352

180

وہ چھ کلمات  جن میں ابن ذکوان کے لیے امالہ ہے

345

181

پہلی تنبیہ

356

182

دوسری تنبیہ

358

183

ساکن منفصل کے بعد ساکن متصل کے نحوی علم میں

360

184

سترھواں باب : تانیث  کی ھَا میں وقفاً امالہ کرنے  کے بارہ میں کسائی کے مذہب کے بیان میں

364

185

اٹھارہواں ؔ باب : قراء کے ان قواعد  کے بیان میں 

373

186

جوراء رات کے پُر اور باریک پڑھنے کے بارہ میں ہیں ورش کے قواعد

373

187

فعلاً  کے وز ن والی وہ قسم جن کی  را میں تفخیم وترقیق دونوں ہیں اور پُر پڑھنا اولیٰ ہے۔

375

188

مذکورہ بالا قاعدہ کی شرطیں اور اُس کے فوائد

378

189

یَا کی سات شرطیں اور اٗن کے فوائد

378

190

کسرہ کی شرطیں اور ان کےفوائد

378

191

تین اجماعی قواعد۔پہلا قاعدہ

384

192

دوسرا قاعدہ

385

193

تیسرا قاعدہ

385

194

جوقاعدہ ائمہ سے منقول ہو اس پر قیاس کرکے محض رائے سے دوسرا  کلیہ بنالینے کا رد

389

195

وقف اولی را کے باریک اور پُر پڑھنے کا قاعدہ

392

196

انیسواں باب : لام کے پُر اور باریک پڑھنے کےبیان میں

397

197

ان تینوں حروف کی شرطیں

397

198

وہ چار صورتیں جن میں لام میں دونوں وجوہ ہیں اور پہلی تین میں دونوں مساوی اور چوتھی میں ترقیق افضل بلکہ صرف وہی صحیح ہے۔

398

199

بیسواں باب : کلمات کے آخر پرسکون وروم واشمام سے وقف کرنے کے بیان میں

404

200

روم کی تعریف

407

201

اشمام کی تعریف

407

202

روم کی قیود کے فوائد

409

203

اشمام کی قیود کے فوائد

410

204

وہ پانچ صورتیں جن میں روم واشمام بالاتفاق ناجائزہیں

411

205

ضمیر کی ھَا کی وہ چار صورتیں جن میں اکثر کے قول پر روم واشمام منع اور بعض کے قول پر جائز ہیں

411

206

تانیث کی ھَاکی قیو د اور ان کے فوائد

416

207

وقف کے اجمالی احکام

417

208

وقف کےا ختلافی احکام

417

209

اکیسواں ؔ باب : رسم الخط کے موافق  وقف کرنے کے بیان میں ۔

422

210

رسم کی اختلافی موافقت کا بیان

425

211

ابدال

425

212

تائے مجرورہ کے وہ پانچ کلمات جن میں بعض نے اس کلیہ کے خلاف وقف کیا ہے جو ابھی شعر ۳میں بیان ہوا ہے

426

213

تائے مجرد کے جو پانچ کلمات کلیہ کے خلاف ہیں ان میں کا پانچواں کلمہ اور حذف یعنی کسی  حرف کا کم کردینا

426

214

فصل یا قطع یعنی جو کلمہ رسم میں دوسرے سے  متصل ہو اس کو وقفاً جدا کردینا ۔

428

215

زیادت یا اثبات یعنی کلمہ کے آخر میں وقفاً کوئی  حرف زیادہ کردینا

430

216

فصل وقطع ایضاً

432

217

وصل یعنی جو کلمہ رسماً دوسرے سے جدا ہو اس کو وقفاً متصل کردینا

434

218

 اثبات ایضاً

435

219

رسم کی اجماعی موافقت کا بیان

436

220

الف مدہ کا بیان

436

221

یائے مدہ کا بیان

437

222

واؤ مدہ کا بیان

438

223

دوسری بحث مقطوع وموصول کلمات پر وقف  کرنے کے بیان میں

438

224

فائدہ ۲ عجیبہ علی قاری کی علمی تحقیقات میں

240

225

وقف کی اجماعی صورتیں

 

226

تیقَّظ اور بیداری پیدا کرنے کی غرض سے علماء کی چند لغزشوں کا ذکر

442

227

بائیسواں  ؔ باب:قراء کے ان قواعد میں جو اضافت کی یَا کے ( فتحہ اور سکون کے) بارہ میں ہیں

444

228

اضافت کی یَا کی حقیقت

445

229

اضافت کی یَا کی علامت

446

230

تعریف اورعلامت کے بعد  مقصودکابیان

447

231

پہلی قسم وہ ننانوے آیات جن کے بعد فتحہ والا  ہمزۂ قطعی ہو

449

232

وہ چار آیات جن میں سب کے لیے سکون ہے اور یہ ان ننانوے کے علاوہ ہیں

450

233

پہلی قسم وہ چوبیس آیات جن وک سَما والوں میں سے بھی بعض نے اپنے قاعدہ کے خلاف ساکن پڑھا ہے۔

451

234

پہلی قسم وہ دس آیا ت جن کے فتحہ میں سَمَا والوں کےساتھ دوسرت  بعض حضرات بھی شامل ہیں اور گیارہویں وہ یَا جس میں ان تینوں میں سے ابن کثیر کے لیے دونوں وجوہ ہیں۔

453

235

دوسری قسم وہ باون آیات جن کے بعد کسر والا ہمزہ ٔ قطعی  ہو۔

457

236

باون میں سے وہ پچیس آیات جو نافع  اور ابوعمرو کے فتحہ کے عام قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں اول نہ وہ آٹھ آیات جن میں صرف نافع کے لیے فتحہ  ہے۔

458

237

وہ نو آیات جن میں سب کے لیے سکون ہے۔

459

238

تیسری قسم وہ دس آیات جن کے بعد ضمہ والا ہمزہ  ٔ قطعی ہو۔

459

239

چوتھی قسم  وہ چودہ آیات جن کے بعد ہمزہ ٔ وصلی مع لام ہے۔

461

240

اس قسم میں سے جن آیات میں اختلاف ہے ان کا شمار۔

461

241

پانچویں قسم ان سات آیات میں جن کے بعد ہمزۂ وصلی بلا لام ہے۔

463

242

چھٹی قسم وہ تیس آیات جن کے ہمزہ کے سوا دوسرے حروف آرہے ہیں۔

465

243

تئیسواں باب: قراء کے ان قواعد ہیں جو آیاتِ زوائد  کے  اثبات وحذف کے بارہ میں ہیں۔

471

244

وہ قراء جو ان آیات کو وصل ووقف  دونوں حالتوں  میں ثابت رکھتے ہیں ۔

472

245

وہ چارقراء جو ان آیات کو صرف وصل میں ثابت رکھتے ہیں

472

246

ان باسٹھ آیات کی تفصیل

475

247

باسٹھ میں سے وہ انیس آیات جن میں صرف  درش کے لیے وصلاً اثبات ہے۔

482

248

 آخری خطبہ از مؤلف

491

249

ترجمۂ امام شاطبی رحمہ اللہ

492

250

قصیدہ کے اوزان

492

 

اترج اور ترنجبین کی نفیس بحث

502

 

اَلْ کی وقفی تخفیف کی تحقیق وبحث

502

اس کتاب کی دیگر جلدیں

فیس بک تبصرے

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 22176
  • اس ہفتے کے قارئین 208737
  • اس ماہ کے قارئین 626663
  • کل قارئین100788501
  • کل کتب8693

موضوعاتی فہرست