عبد الرؤف رحمانی جھنڈا نگری

6 کل کتب
دکھائیں

  • 1 حقوق ومعاملات (منگل 21 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:3444

    آج ہر شخص پریشان نظر آتاہے،اورکسی کو بھی حقیقی سکون میسر نہیں ہے۔ اس پریشان حالی اور غیر مطمئن حالت کی بنیادی  وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل حل کرنےکےلیے دین حنیف سے رہنمائی  نہیں لیتے۔ بلکہ ان مادہ پرست لوگوں کے پاس جاتےہیں  جو اسلام کے دشمن اور مسلمانوں کے قاتل ہیں۔اسلام وہ عظیم دستور زندگی ہے جس نے فرد اورمعاشرے کی اصلاح،فلاح بہبوداورامن وسکون کےلیے ہر شخص کے  حقوق وفرائض مقررکردیے ہیں، جن پر عمل کر کے  ہرانسان  اپنےمعاملات کو  بطریق احسن  حل کرسکتا ہے۔مولانا عبد الروف  رحمانی جھنڈانگری  برصغیر کے معروف عالم دین  اوربلند پایہ واعظ تھے ۔ آپ  کو خطیب الہنداور خطیب الاسلام کے  پر فخر القابات سے نوازا گیا تھا۔ آپ نے تصنیف  وتالیف کے میدان میں بڑی گراں قدر خدمات  انجام دی ہیں ۔آپ نےمتعددعلمی واصلاحی  موضوعات پر  لکھا ہے اورتقریباپچاس سے  زیادہ   کتب  کے مؤلف بھی  ہیں۔زیرتبصرہ  کتاب ’’ حقوق ومعالات ‘‘ مولانا موصوف  کی  ہی ایک اہم کتاب ہے ، جس میں انہوں  قرآن واحادیث  ، وتاریخ اسلام، سیر وسوانح کی کتابوں سے حقوق  ومعاملات  کے  موضوع پر ان نصوص وواقعات کو یکجاکردیا ہے  جس سے   ہماری زندگی  میں روز مرہ کا واسطہ پڑ تا ہے ۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)
     

  • 2 العلم والعلماء(عبد الرؤف جھنڈانگری) (ہفتہ 31 دسمبر 2011ء)

    مشاہدات:15528

    علم انسانیت کی معراج ہے ،جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کرتا ،دین کی اساسیات سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ مالک الملک نے انسان کو دیگر مخلوقات سے فوقیت دی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علما کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و افع بیان ہوئے ہیں ۔وحی کے علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ علمائے امت پر عائد ہے ، اس مناسبت سے علماء کا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور دینی تعلیم سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔زیر نظر کتاب  میں علم کی فضیلت و اہمیت ،علماء کے فضائل ومناقب ، حصول علم کے لیے مصروف طلباء کی عظمت اورتعلیم سیکھنے اور سکھانے کے آداب کا بیان ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع بہترین تصنیف ہے ، جو قارئین کی علمی ذوق کو ابھارے گی اوران میں حصول علم کا نیا ولولہ پیدا کرے۔(ف۔ر)
     

  • 3 ایام خلافت راشدہ (جمعرات 03 مئی 2012ء)

    مشاہدات:18978

    خلافت راشدہ کا زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت عروج کا زمانہ رہا۔ جس میں مسلمانوں نے ہر میدان میں خوب ترقی کی۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی نصیب تھی امن و امان اور عدل و انصاف کا خصوصی اہتمام تھا۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک بھی معاشی عدم استحکام، عدل و انصاف اور امن و امان کی دگرگوں صورتحال کا شکار ہیں۔ اسی کے سبب ہنگاموں، فسادات  اور احتجاج کی لہر بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں مولانا عبدالرؤف رحمانی نے ایام خلافت راشدہ کا اسی تناظر میں جائزہ لیا ہے۔ جس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ وہ زمانہ معاشی و سماجی عد و انصاف اور امن و امان کا بہترین دور تھا۔ (ع۔م)

  • 4 علمائے دین اور امراء اسلام (منگل 20 اگست 2013ء)

    مشاہدات:4761

    علم خدا کا اپنے بندوں پر ایک بہت بڑا احسان ہے ۔ اور پھر بالخصوص علم دین  تو  ایک نعمت عظمی سے کم نہیں ۔ قرآنی آیات اور احادیث میں علم دین اور اس علم کو حاصل کرنے والوں کے بہت زیادہ فضائل نقل ہوئے ہیں ۔ کہیں فرمایا کہ فرشتے دینی طالب علم کے قدموں کے نیچے اپنے پر بچھاتے ہیں ۔ اور کہیں فرمایا کہ دنیا میں سب سے افضل اور اعلی انسان  ہی وہ  ہے جو اللہ کےقرآن کے تعلیم دیتا ہے ۔ اسی طرح عبداللہ بن مبارک  نے اس علم کی طلب میں پیدا ہونے والی لذت کے بارے میں فرمایا کہ اگر بادشاہوں کو علم ہو جائے کہ اس علم میں کس قدر لذت ہے تو وہ اپنی شان و شوکت والی زندگی چھوڑ کر ہم سے یہ چھیننے آجائیں ۔ اسی طرح  یہ بھی ایک حقیقت  ہے کہ اس علم کی اشاعت میں  امیر ورئیس مسلمانوں نے  حصہ لیا ہے وہ  اسلامی تاریخ میں حیرت انگیز مثالیں ہیں ۔ بالخصوص اس وقت جب  ان طالبان دینی اور اہل  علم معاشی کفالت  و سرپرستی حکومت نے ختم کر دی ۔ ان تاجران دینی نے رضائے الہی کے لئے اس کام بیڑا اٹھایا ۔ زیرنظرکتاب میں انہی دونوں گروہوں کی قربانیاں اور اہم شخصیات کاتذکرہ کیا گیا ہے ۔(ع۔ح)
     

  • 5 دلائل ہستی باری تعالیٰ (جمعہ 25 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:2667

    زندگی اور کائنات کی سب سے اہم حقیقت اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے ہر چیز کے معنیٰ بدل جاتے ہیں ۔ اگر اللہ ہے تو زندگی اور کائنات کی ہر چیز بامعنی اور بامقصد ہے اور اگر اللہ موجود ہی نہیں تو پھر کائنات کی ہر چیزبے معنی اور بے مقصد ہے۔ لیکن اسلام میں اہمیت اللہ کے ہونے یا نہ ہونے کو حاصل نہیں بلکہ اللہ کی الوہیت کو حاصل ہے ۔ قرآن مجید انسان کو کائنات میں غور کرنے اور اس میں  اللہ تعالی کی نشانیاں تلاش کرنے پر ابھارتا ہے۔ قرآن مجید میں زمین و آسمانوں کی تخلیق، سورج، چاند اور ستارے، جانوروں میں دودھ بننے کے پیچیدہ عمل کی طرف اشارات، انسان کی پیدائش میں اللّٰہ تعالی کی قدرت کی نشانیاں، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا، بارش بننے کا عمل، پہاڑوں کے فوائد، رات اور دن کا باری باری آنا جانا وغیرہ کو اللہ تعالی کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے اور زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور بناوٹ میں غور کرنے کی خاص طور پر ترغیب دلائی گئی ہے۔ تمام عقلاء اس بات پر متفق ہیں کے صنعت سے صانع(بنانے والا) کی خبر ملتی ہے مصنوع (جس کو بنایا گیا)اور صنعت (factory)کو دیکھ کر عقل مجبور ہوتی ہے کہ اس کے صانع کا اقرار کرے۔ دہریئے(atheist) اور لا مذہب لوگ بھی اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ فعل کے لئے فاعل کا ہونا ضروری ہے ۔ پس جب ایک بلندعمارت اور ایک بڑا قلعہ اور اونچے مینار کو اور ایک دریا کے پل کو دیکھ کر عقل یہ یقین کر لیتی ہے کہ اس عمارت کا بنانے والا کوئی ضرور ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کائنات کا وسیع وعریض نظام بغیر کسی چلانے والےکے چل رہا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب...

  • 6 احترام مسلم (منگل 26 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1382

    اسلام میں حسن اخلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔نبی کریمﷺ نے مسلمانوں کو حسن اخلاق کو اپنانے اور رذائل اخلاق سے بچنے کی پر زور ترغیب دی ہے۔ رسول کریم ﷺنے فرمایا:” قیامت کے روز میرے سب سے نزدیک وہ ہوگا جس کا اخلاق اچھا ہے۔“ حسن اخلاق انسان میں بلندی اور رفعت کے جذبات کا مظہر ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان میں پستی کے رجحانات بھی پائے جاتے ہیں جنہیں رذائل اخلاق کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل حیوانی جذبات ہیں۔ چنانچہ جس طرح حیوانوں میں کینہ ہوتا ہے۔ انسانوں کے اندر بھی کینہ ہوتا ہے۔ حیوانوں کی طرح انسانوں میں بھی انتقامی جذبہ اور غصہ ہوتا ہے۔ اسے اشتعال دیا جائے تو وہ مشتعل ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں اخلاقی بلندی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور بدخلقی کے ذیل میں آتی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ان پر کنٹرول کیا جائے۔ غصہ ، انتقام ، عداوت ، تکبر کے جذبات پر قابو پایا جائے اور تحمل و برداشت اور عاجزی و انکساری کو شعار بنایا جائے۔ اگر آدمی ایسا کرے گا تو اس کے نفس کی تہذیب ہوگی، اس کے اخلاق سنوریں گے۔ وہ اللہ کا بھی محبوب بن جائے گا اور خلق خدا بھی اس سے محبت کرنے لگے گی۔ اس کے برعکس جو شخص بداخلاقی یا رزائل اخلاق کا مظاہرہ کرے گا، وہ خدا کی نظرمیں بھی ناپسندہوگا اور مخلوق خدا بھی اسے بری نگاہ سے دیکھے گی۔ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی بے شمار بد اخلاقیوں میں سے ایک بد اخلاقی یہ بھی ہے کہ افراد ملت ایک دوسرے کے حقوق کا خیال نہیں کرتے اور ایک دوسرے کا احترام بجا نہیں لاتے۔ زیر تبصرہ کتاب "احترام مسلم" محترم مولانا عبد الرؤف رحمانی جھنڈا ن...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1510
  • اس ہفتے کے قارئین: 10445
  • اس ماہ کے قارئین: 38139
  • کل قارئین : 45982629

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں