دکھائیں کتب
  • ہندوپاک اور بنگلہ دیش کے اکثر مدارس میں مروج نصاب تعلیم ’’درس نظامی‘‘ کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ اس کو بارہویں صدی کے مشہور عالم اور مقدس بزرگ مولانا نظام الدین سہالویؒ نے اپنی فکراور دور اندیشی کے ذریعہ مرتب کیا تھا۔ مولانا کا مرتب کردہ نصاب تعلیم اتنا کامل ومکمل تھا کہ اس کی تکمیل کرنے والے فضلاء جس طرح علوم دینیہ کے ماہر ہوتے تھے اسی طرح دفتری ضروریات اور ملکی خدمات کے انجام دینے میں بھی ماہر سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں فارسی زبان ملکی اور سرکاری زبان تھی اور منطق وفلسفہ کو یہ اہمیت حاصل تھی کہ یہ فنون معیار فضیلت تھے اسی طرح علم ریاضی (علم حساب) کی بھی بڑی اہمیت تھی ،چنانچہ مولانا نے اپنی ترتیب میں حالات کے تقاضے کے مطابق قرآن حدیث فقہ اور ان کے متعلقات کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے عصری علوم کو شامل کیا اور حالات سے ہم آہنگ اور میل کھانے والا نصاب مرتب کیا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ نصاب اس وقت بہت ہی مقبول ہوا اور اس وقت کے تقریباً تمام مدارس میں رائج ہوگیا۔آج بھی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یہ نصاب دینی مدارس میں رائج ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ظفر المحصلین باحوال المصنفین یعنی حالات مصنفین درس نظامی "مولانا محمد حنیف گنگوہی صاحب ، فاضل دار العلوم دیو بند کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  درس نظامی کے نصاب میں شامل کتب کے مصنفین کے حالات کو ایک جگہ کر دیا ہے تاکہ درس نظامی کے طلباء ان کتب کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے مصنفین کے حالات سے بھی آگاہ ہوں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائ...

  • 82 علامہ ابن باز رحمہ اللہ (منگل 20 مارچ 2012ء)

    مشاہدات:20736

    شیخ ابن باز  رحمۃ اللہ علیہ 1330ھ کو سعودی عرب کے شہر الریاض میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ سولہ برس کی عمر میں شیخ صاحب کی بینائی کمزور ہونا شروع ہوئی اور تقریباً بیس سال کی عمر تک آپ بینائی سے محروم ہو گئے۔ لیکن اس محرومی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آپ سے آگے سے آگے بڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بصارت سے محروم کیا تو حافظہ کی قوت اور بصیرت کی بے پناہ دولت سے مالا مال کیا۔ پیش نظر کتاب میں فضیلۃ الشیخ محمد منیر قمر شیخ موصوف کی زندگی کے عوام الناس سے پوشیدہ بہت سے گوشوں کو منظر عام پر لائے ہیں۔ شیخ صاحب کی علمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ سعودی عرب کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس علامہ عبداللہ بن سلیمان المنیع نے شیخ ابن باز کو عہد حاضر کے مجدد، امام فن رجال، امام حدیث، امام کرم نفس و دست، امام نصیحت، امام سماحت، امام تواضع، امام قناعت، امام تقویٰ، امام صلاح و اصلاح جیسے القابات سے نوازا۔ ایسے شخص کی زندگی یقیناً عوام و خواص کے لیے نظیر  ہے۔ اردو زبان میں علامہ صاحب کی زندگی سے متعلق اس قدر تفصیلی اور معتبر مواد سے اس سے قبل سامنے نہیں آیا۔ (عین۔ م)
     

  • 83 علامہ ابن باز ﷫ یادوں کے سفر میں (ہفتہ 03 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:1193

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک علامہ ابن باز بھی ہیں، علامہ ابن باز بصارت سے اگرچہ محروم تھے لیکن بصیرت سے مالا مال تھے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص علامہ ابن باز کے حالات زندگی‘ کارناموں اور ان کی علمی خدمات کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ ایسی شخصیت کا عوام الناس میں تعارف بہت ضروری ہے کیونکہ ایسی شخصیات نسل در نسل میں روح اور اسپرٹ پیدا کرتی ہیں جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگیوں میں بہت سارے لوگوں کی زندگیاں اور تجربات سے گزرے ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اردو زبان میں علامہ ابن باز کی سیرت وتعارف پر پہلی اور عمدہ ترین کتاب ہے اس کتاب سے قبل علامہ ابن باز کی زندگی پر کوئی کتاب مارکیٹ میں کتب خانہ کی زینت نہیں بن سکی۔اور مؤلف نہایت معتدل اور میانہ روی سے کام لیتے ہوئے اور تعصب اور اندھی عقیدت سے بچتے ہوئے علامہ ابن باز کی سیرت کو پیش کرتے ہیں۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب&rs...

  • 23 مارچ 1987 کو لاہور میں جلسہ سیرت النبی ﷺ میں مولانا حبیب الرحمن یزدانی ﷫ کی تقریر کے بعد جناب علامہ شہید کا خطاب شروع ہوا ،آپ کا باطل شکن خطاب اپنے نقطہ عروج کو پہنچ رہا تھا، ابھی آپ 20منٹ کی تقریر کرپائے تھے کہ بم کا انتہائی خوفناک لرزہ خیز دھماکہ ہوا ،تمام جلسہ گاہ میں قیامت صغریٰ کا عالم تھا ،دور دور تک دروبام دھماکے سے لرز اٹھے، ماحول مہیبت تاریخی میں ڈوب گیا، دلدوز آہوں سے ایک کہرام سا مچ گیا۔ درندہ صفت، بزدل دشمن اپنے مزموم مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا ۔اس حادثہ میں مولانا حبیب الرحمٰن یزدانی ، مولانا عبد الخالق قدوسی، محمد خان نجیب، حافظ عمران ، شیخ احسان الحق، سلیم پردیسی﷭ نے جام شہادت نوش کیا اور تقریبا 90 سامعین نے زخمی ہوئے ۔ خطیب ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫، بھی اس دھماکہ میں شدید زخمی ہوئے میوہسپتال میں زیر علاج رہے ۔ 29 مارچ کو سعودی ائیر لائن کی خاص پرواز کے ذریعہ شاہ فہد کی دعوت پر سعودی عرب علاج کے لئے روانہ ہوئے آپ کو فیصل ملیٹری ہسپتال میں داخل کیا گیا، ڈاکٹروں نے آپریشن کے لئے بے ہوش کیا لیکن آپ کا وقتِ موعود آچکا تھا۔علامہ صاحب 22 گھنٹے ریاض میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد قافلہ شہداء میں شامل ہوگئے .(انا للہ و انا الیہ راجعون)مفتی اعظم سعودیہ عرب سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز ﷫نے دیرہ ریاض کی مرکزی مسجد میں نماز جنازہ پڑھائی ۔ نمازِ جنازہ کے بعد آپ کے جسدِ خاکی کو شہرِ حبیب ﷺمدینہ منورہ لے جایا گیا، مسجدِ نبوی میں دنیا ئے اطراف سے آنے والے وفود و شیوخ،مفتیان، اساتذہ علماء اور طلباء کی وجہ سے مسجد نبوی میں انسانوں کا...

  • 85 علامہ صفی الرحمن مبارکپوری یادوں کے سفر میں (جمعرات 03 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:5184

    مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں سیرت سرور عالم  پر لکھنے  کی  سعادت ملی ہے۔آپ کا اسم گرامی جیسے زبان پر آتا  ہے ویسے ہی آپ کی   عظیم ترین  کاوش  الرحیق المختوم یاد آجاتی ہے۔آپ عصر حاضر کے ان علماء میں سے تھے  جو رسوخ فی العلم رکھتے تھے۔آپ اعظم گڑھ، مبارکپور کی سرزمین پرچھے جون انیس سو بیالیس  میں پیدا ہوئے تھے۔بستی کا نام حسین آباد جو قصبہ مبارکپور   کے شمال  میں تقریبا دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اسی طرح مولانا کی تعلیم ، تدریس اور دیگر کار ہائےنمایاں کے بارےمیں یہ کتاب رقم کی گئی ہے۔جسے موصوف مرتب  انتہائی زیادہ کاوشوں کے ساتھ  منصہ شہود پر لے کر آئے ہیں۔ساتھ ان کی طرف سے یہ شکوہ کیا گیا  ہے کہ  افسوس کی بات   ہے  کہ  ایک اتنی  بڑی شخصیت کے  آنکھوں سے اوجل ہونے کے باوجود بھی سلفی حضرات کی طرف سے کسی معروف جریدے میں کوئی کلمہء تاسف نہ لکھا گیا۔ اللہ  تعالی محتر م مؤلف کی اس  عظیم کاوش کو قبول فرمائے۔(ع۔ح)

  • 86 علامہ عبد العزیز میمن سوانح اور علمی خدمات (بدھ 19 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1453

    علامہ عبدالعزیز میمن 23 اکتوبر، 1888ء کو پڑدھری، راجکوٹ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔راجکوٹ اور جوناگڑھ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دہلی پہنچے جہاں سید نذیر حسین محدث دہلوی سے شرف تلمذ حاصل کرنے کےعلاوہ ڈپٹی نذیر احمد اور دیگر علماء سے اکتساب علم کا موقع ملا۔ 1913ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے۔ ایڈورڈ کالج پشاور، اورینٹل کالج لاہور اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی سے بطور استاد وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں شعبہ تحقیقات اسلامی اور کراچی یونیورسٹی میں شعبۂ عربی قائم کیا پھر 1964ء سے 1966ء تک پنجاب یونیورسٹی میں صدر شعبہ عربی کے فرائض انجام دیے۔پروفیسر علامہ عبدالعزیز میمن پاکستان سے تعلق رکھنے والے عربی زبان و ادب کے نامور عالم، استاد اور 30 سے زیادہ کتابوں کے مصنف، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے صدر تھے۔موصوف عربی لغت کی باریکیوں سے واقفیت کی بناپر دنیا پر چھاگئے اور کی عربی دانی کا پوری دنیا میں ڈنکا پیٹا اور عربوں نے کھل کر نہ صرف یہ کہ ان کا اعتراف کیا بلکہ اس میں ان کی استاذیت تسلیم کی ۔آپ سرعام عرب ادیبوں کوان کی لسانی غلطیوں پر ٹوکنےکی جرءت رکھتے تھے اورعرب ان کو شکریے کےساتھ قبول کرتےتھے۔حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کےطور پر انہیں14 اگست، 1965ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔موصوف نے 17اکتوبر 1978 ءکو کراچی میں وفات پائی ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’علامہ عبد العزیز میمن سوانح اور علمی خدمات &l...

  • 87 علامہ محمد یوسف خاں کلکتوی (پیر 03 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:965

    علم وعمل کے اعتبار سے برصغیر کی سرزمین ہمیشہ سرسبز وشادات رہی ہے ۔ اس میں مختلف اوقات میں بے شماراصحاب علم اور ارباب فضل پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے دور میں بے پناہ علمی خدمات سرانجام دیں اور عملی میدان میں بھی بے حد تگ وتاز کی ۔ تدریس وتصنیف ، تبلیغ واشاعت دین ، وعظ ونصیحت غرض ہر شعبۂ عمل ان کا سلسلہ جدوجہد جاری رہا۔انہی شخصیات کی فہرست میں تحریک پاکستان اور تحریک ختم نبوت میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنےوالے عظیم مجاہد علامہ یوسف کلکتوی﷫ کا نام گرامی بھی شامل ہے ۔ موصوف سن 1900ء میں گوداس پور کے ایک قصبہ بھٹویہ تحصیل دینا نگر میں پیدا ہوئے او راپنے عہد کے متعدد جلیل القدر علمائے کرام سےاستفادہ کیا ۔پھر ایک وقت آیا کہ خود مسندِ تدریس پر فائز ہوئے اور خطابت وتقریر میں بھی بڑا نام پایا۔موصوف پُر جوش خطیب تھے کلکتہ میں خطابت کے ساتھ ساتھ سیاہی وعطریات کا کاروباربھی کرتے تھے ۔خود کماکر اپنی گھریلو ضروریات پوری کرتے تھے ۔انہوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور تحریک پاکستان کے سلسلے میں پورے بنگال میں سرگرم عمل رہے ۔قیام پاکستان کےبعد کراچی آگئے اور اسی شہر میں اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور اس کےساتھ ساتھ انہوں نےتدریس وخطابت کاسلسلہ بھی جاری رکھا ۔ان کےتلامذہ کا حلقہ بڑا وسیع ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ علامہ یوسف کلکتوی ﷫‘‘ ملک بشیراحمد کی کاوش ہے ۔موصوف کو مولانا کلکتوی کے ساتھ دس سال رفاقت کا موقع ملا۔مصنف نےاپنے انداز میں مولانا کلکتوی کے علمی اور عملی کارناموں کو ضبط تحریر میں لانے کا اہتمام کیا ہےبے حد محنت سے ان کی زندگی کےمختل...

  • 88 علماء کے حقوق (جمعہ 16 فروری 2018ء)

    مشاہدات:1162

    علم، اللہ سبحانہ و تعالی کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی فضیلت اور اہمیت ہر دور میں تسلیم کی گئی ہے۔ یہ ان انعامات الٰہیہ میں سے ہے جن کی بنا پر انسان دیگر مخلوقات سے افضل ہے۔ علم ہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو عطا فرما کر اس کے ذریعے فرشتوں پر ان کی برتری ثابت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل فرمائی گئی اُس میں اُن کی تعلیم سے ابتدا کی گئی اور پہلی ہی وحی میں بطورِ احسان انسان کو دیئے گئے علم کا تذکرہ فرمایا گیا۔ دینِ اسلام میں حصولِ علم کی بہت تاکید کی گئی ہے اور علم و اہلِ علم کی متعدد فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور مسلمانوں کو علم کے حصول پر ابھارا گیا ہے۔ اور جس طرح علم کی اہمیت و فضیلت مسلّمہ ہے، اُسی طرح اِس نعمتِ عظیم کے حامل افراد کی فضیلت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امت میں تو بالخصوص اہلِ علم بہت اعلی مقام کے حامل ہیں حتیٰ کہ انہیں انبیائے کرام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: "علماء، انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم السلام دینار اور درہم کا ورثہ نہیں چھوڑتے بلکہ انہوں نے علم کا ورثہ چھوڑا ہے۔ پس جس شخص نے اس سے (علم) حاصل کیا اس نے بڑا حصہ لے لیا۔"  زیر تبصرہ کتاب ’’ علماء کے حقوق‘‘ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن معلا اللو یحق﷾ (استاذ مشارک امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض، سعودی عرب) کی تالیف ہے۔ جس کو اردو قالب میں مولانا محمد عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے ڈ...

  • 89 علمائے کرام اور ان کی ذمہ داریاں (جمعرات 09 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1665

    امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء نے انجام دیا ہے او رہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی ڈوپتی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش کی ہے ، اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے جنہوں نے حالات کو سمجھا اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے اور ان کو صحیح رخ پر لانے کے لیے انہوں نے ہر طرح کی قربانیاں دی جو اسلامی تاریخ کا سنہرا باب ہے ۔اسلامی معاشرہ میں علمائے کرام کاکرداربڑی اہمیت رکھتا ہے ۔افراد کودینی تعلیم مہیا کرنا معاشرہ کواسلامی خطوط پر قائم رکھنا ،اجتماعی اقدار واخلاق کی تشکیل کے عمل میں حصہ لینا ، معاشرتی برائیوں کےخلاف جہاد ، معاشرہ کےباثر افراد کااحتساب اور محاسبہ ۔ یہ علماء کرام کی وہ ذمہ داریاں ہیں جو اگر صحیح صحیح طریقہ سےاداہوتی رہیں توبلا شبہ نتیجہ خیز بھی ہوتی ہیں اور معاشرہ بھی اسلامی اساس پر قائم رہتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’علمائے کرام اوران کی ذمہ داریاں ‘‘ مولانانجم الحسن تھانوی نے نے دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کےزیراہتمام کروائے جانےتربیتی کورس کے شرکاء کےلیےتحریرکیا ہے ۔جس کامقصد علماء کرام کو تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کےاصول کےتحت ان کی ذمہ درایوں کو یاد دلانا ہے اوران مسائل ومشکلات کی نشاندہی کرنا ہے جو دعوت وتبلیغ کے راستہ میں درپیش ہیں ۔(م۔ا)

  • 90 غزنوی خاندان (اتوار 21 مئی 2017ء)

    مشاہدات:1352

    برصغیر پاک وہند کے علمی ودینی خاندانوں میں خاندان غزنویہ (امرتسر) ایک عظیم الشان خاندان ہے اس خاندان کی علمی ودینی اور سیاسی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اس خاندان کی علمی ودینی خدمات کااحاطہ نہیں کیا جاسکتا۔اور سیاسی خدمات بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔تحریک آزادئ وطن میں اس خاندان کے افراد نے عظیم کارنامے سرانجام دیئے۔مختلف اہل قلم نے خاندان غزنویہ کی مختلف شخصیات کے تعارف تدریسی وتبلیغی خدمات کےمتعلق مضامین لکھے اور کتب تصنیف کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ غزنوی خاندان ‘‘وطن عزیز کے معروف مضمون نگار ، سیرت نگار مصنف کتب کثیرہ محترم جنا ب عبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے۔انہوں نے اس کتا ب میں غزنوی خاندان کے جد امجد مولانا سید عبد اللہ غزنوی ﷫ (م 1298ھ) کے حالات کے علاوہ ان کےصاحبزاد گان مولانا محمد غزنوی ، مولانا عبد الجبار غزنوی ، مولاناسید عبد اللہ غزنوی ، مولانا عبد الرحیم غزنوی اور پوتوں میں سے مولانا سید محمد داؤد غزنوی ، مولانا عبد الاول غزنوی ، مولانا عبد الغفور غزنوی ، مولاناسید اسماعیل غزنوی ، مولانا حافظ محمد زکریا غزنوی ، اور پڑپوتوں میں مولانا سید ابوبکر غزنوی﷭ کا تذکرہ کیا ہے اوران حضرات کی علمی ودینی وسیاسی خدمات کا بھی تذکرہ سپرد قلم کیا ہے ۔(م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1240
  • اس ہفتے کے قارئین: 4894
  • اس ماہ کے قارئین: 33143
  • کل قارئین : 46461468

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں