دکھائیں کتب
  • 121 مولانا عبد الماجد دریابادی حیات و خدمات (جمعہ 01 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2803

    مولانا عبد الماجد دریابادی 16 مارچ 1892 کو دریاباد،ضلع بارہ بنکی، بھارت میں قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مظہر کریم کو انگریز سرکار کے خلاف ایک فتویٰ پر دستخط کرنے کے جرم میں جزائر انڈومان میں بطور سزا کے بھیج دیا گیاتھا۔ آپ ہندوستانی مسلمان محقق اور مفسر قرآن تھے۔آپ بہت سی تنظیموں سے منسلک رہے۔ اور بہت سی اسلامی اور ادبی انجمنوں کے رکن تھے۔ عبدالماجد دریاآبادی نے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ایک جامع تفسیر قرآن لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پر عیسائیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی ہے، مزید ان تفاسیر میں عیسائیت کے اعتراضات رد کرتے ہوئے بائبل اور دوسرے مغربی مستشرقین کی کتابوں سے دلائل دئیے ہیں۔آپ نے 6 جنوری 1977 کو وفات پائی۔ان کے حالات وخدمات پر متعدد رسالوں ماہ ناموں نےخصوصی شمارے شائع کیے گئے ہیں اور متعدد کتب بھی لکھی گئی ہیں مختلف یونیورسٹیوں میں ان پر تحقیقی مقالہ جات بھی لکھے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’مولانا عبدالماجد دریاآبدی حیات وخدمات ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے یہ کتاب مولانا دریاآبادی کے برادرزادے اور محترم عبدلعلیم قدوائی کے قلم سے ہے ۔ موصوف نے اس کتاب میں مولاا عبد الماجد دریاآبادی کےحالات اورخدمات بڑی خوش اسلوبی سے بیان کیے ہیں۔(م۔ا)

  • 122 مولانا عبد الوہاب محدث دہلوی اور ان کا خاندان (جمعرات 15 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2030

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔(آمین) زیر نظرکتاب مولانا محمدرمضان سلفی﷾ کی تصنیف ہے جو کہ بانی جماعت غرباء اہل حدیث مولانا عبد الوہاب محدث دہلوی﷫ اوران کےخاندان کے حالات واقعات پرمشتمل ہے ۔مولانا عبدالوہاب محدث دہلوی کی دینی وتبلیغی،تدریسی وتصنیفی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے مولانا سلفی صاحب مولانا عبد الوہاب دہلوی او ران کے خاندان کے علمائےکرام سے بہت متاثر ہیں۔اس کتاب م...

  • 123 مولانا عبید اللہ سندھی (اتوار 08 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1541

    امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کی شخصیت برصغیر پاک و ہند میں کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ 28 مارچ 1876ء بمطابق 12 محرم الحرام 1289ھ کو ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں چیلانوالی کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔1884ء میں آپ نے اپنے ایک ہم جماعت سے مولانا عبیداللہ پائلی کی کتاب “تحفۃ الہند“ لے کر پڑھی۔ اس کے بعد شاہ اسماعیل شہید کی کتاب “تقویۃ الایمان“ پڑھی اور یوں اسلام سے رغبت پیدا ہوگئی۔ 15 برس کی عمر میں 19 اگست 1887ء کو مشرف با اسلام ہوئے۔اردو مڈل تک کی تعلیم آپ نے جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ پھر قبول اسلام کے بعد 1888ء میں دیوبند گئے اور وہاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور تفسیر و حدیث، فقہ و منطق و فلسفہ کی تکمیل کی۔1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈو میں دارلارشاد قائم کیا۔1909ء میں اسیر مالٹا محمود الحسن کے حکم کی تعمیل میں دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں طلباء کی تنظیم “جمیعت الانصار“ کے سلسلے میں اہم خدمات انجام دیں۔1912ء میں دلی نظارۃ المعارف کے نام سے ایک مدرسہ جاری کیا جس نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت میں بڑا کام کیا ہے۔ترکی میں 1924ء میں اپنی ذمہ داری پر تحریک ولی اللہ کے تیسرے دور کا آغاز کیا۔ اس موقع پر آپ نے آزادئ ہند کا منشور استنبول سے شائع کیا۔ترکی سے حجاز پہنچے اور 1939ء تک مکہ معظمہ میں رہے۔ اسی عرصہ میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق اور دینی مسائل کو تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ عوام تک پہنچایا۔مولانا سندھی اگر چہ ساری زندگی قائد حریت کی حیثیت سے اسلامی اور سیاسی خدمات انجام دیتے رہے لیکن ان کی...

  • مولانا مسعود عالم ندوی﷫  ہندوستان کے ایک معروف اور مایہ ناز عالم دین ہیں۔آپ کا  ہندوستان کے چوٹی کے علماء میں شمار ہوتا ہے۔آپ نے اپنے وقت کے مشاہیر اہل علم سے شرف تلمذ حاصل کیا ہے۔آپ متعدد کتب کے مصنف ومترجم ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " مولانا عبید اللہ سندھی﷫  اور ان کے افکار وخیالات پر ایک نظر " بھی آپ کی انہی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔یہ کتاب ان  کے دو مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے مولانا عبید اللہ سندھی حنفی ﷫ کی کتاب"شاہ ولی اللہ﷫  اور ان کی سیاسی تحریک" اور پروفیسر محمد سرور کی کتاب "مولانا عبید اللہ سندھی﷫  اور ان کے افکار وتعلیمات" پر تنقید اور استدراک کے طور پر لکھے تھے۔پہلا مقالہ مولانا کی زندگی میں شائع ہوا اور ان کی نظر سے گزر چکا تھا۔اس سلسلے میں انہوں نے ناقد کو مسلسل پانچ خط بھی لکھے جس میں انہوں نے اپنے افکار کی مزید توضیح کی تھی۔وہ پانچوں خطوط اس کتاب میں شامل ہیں۔ان خطوط کے علاوہ مولانا نے "برہان دہلی" میں ابھی اپنے افکار کی مزید تشریح اور 'استدراک'کے بعض شبہات کی تصحیح کی تھی۔مولف موصوف کے مطابق انہوں نے اس کتاب میں مولانا کی تردید کی بجائے ان کے خیالات کی تنقید وتنقیح فرمائی ہے۔اور ان کا کہنا ہے کہ مولانا کے "نئے افکار" سے ہم متفق نہیں ہیں ،اور ان کے یہ افکار کتاب وسنت کے سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو کتاب وسنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 125 مولانا عبید اللہ سندھی کے علوم و افکار (بدھ 05 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:3196

    امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی کی شخصیت برصغیر پاک و ہند میں کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ 28 مارچ 1876ء بمطابق 12 محرم الحرام 1289ھ کو ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں چیلانوالی کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔1884ء میں آپ نے اپنے ایک ہم جماعت سے مولانا عبیداللہ پائلی کی کتاب “تحفۃ الہند“ لے کر پڑھی۔ اس کے بعد شاہ اسماعیل شہید کی کتاب “تقویۃ الایمان“ پڑھی اور یوں اسلام سے رغبت پیدا ہوگئی۔ 15 برس کی عمر میں 19 اگست 1887ء کو مشرف با اسلام ہوئے۔اردو مڈل تک کی تعلیم آپ نے جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی۔ پھر قبول اسلام کے بعد 1888ء میں دیوبند گئے اور وہاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور تفسیر و حدیث، فقہ و منطق و فلسفہ کی تکمیل کی۔1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈو میں دالارشاد قائم کیا۔1909ء میں اسیر مالٹا محمود الحسن کے حکم کی تعمیل میں دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں طلباء کی تنظیم “جمیعت الانصار“ کے سلسلے میں اہم خدمات انجام دیں۔1912ء میں دلی نظارۃ المعارف کے نام سے ایک مدرسہ جاری کیا جس نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت میں بڑا کام کیا ہے۔ترکی میں 1924ء میں اپنی ذمہ داری پر تحریک ولی اللہ کے تیسرے دور کا آغاز کیا۔ اس موقع پر آپ نے آزادئ ہند کا منشور استنبول سے شائع کیا۔ترکی سے حجاز پہنچے اور 1939ء تک مکہ معظمہ میں رہے۔ اسی عرصہ میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق اور دینی مسائل کو تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ عوام تک پہنچایا۔مولانا سندھی اگر چہ ساری زندگی قائد حریت کی حیثیت سے اسلامی اور سیاسی خدمات انجام دیتے رہے لیکن ان کی...

  • 126 مولانا غلام رسول مہر حیات اور کارنامے (اتوار 15 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1416

    مولانا مہر غلام رسول(1895-1971) غلام رسول مہر کا وطن جالندھر ہے۔ اسلامیہ کالج لاہور میں تعلیم پائی، بعد ازاں حیدراباد دکن تشریف لے گئے اور وہاں کئی برس تک انسپکٹر تعلیمات کی خدمت انجام دی۔ 1921ء میں لاہور سے نکلنے والے اخبار"زمیندار" کے ادارہ تحریر میں شامل ہو گئے کچھ عرصہ بعد"زمیندار" کے مالک بن گئے۔ پھر مولانا سالک کے ساتھ "انقلاب" کے نام سے اپنا وہ مشہور اخبار نکالا جس نے مسلمانان ہند کے حقوق کے تحفظ میں بڑا حصہ لیا۔ مولانا مہر گول میز کانفرنس میں علامہ اقبال کے رفیق تھے۔ اس دوران انہوں نے یورپ اور مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کا سفر بھی کیا۔"انقلاب"بند ہو جانے کے بعد تصنیف و تالیف میں ہمہ تن گوش ہو گئے۔ لاہور میں سکونت پذیر رہے۔ اور لاہور میں ہی انتقال ہوا۔مولانا مہر نے ایک صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی، لیکن وہ ایک اچھے مؤرخ اور محقق بھی تھے۔ تاریخ و سیرت میں انکا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اسلام اور دینی علوم کی جانب زیادہ توجہ دی۔ انہوں نے متعدد تصانیف اور تالیفات اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ ۔ حضرت سید احمد بریلوی کی سوانح حیات انکا اہم کارنامہ ہے۔ حضرت شہید کے رفیقوں کے حالات بھی سرگزشت مجاہدین کے نام سے لکھے۔ ۔ سوانحی و تاریخی کتابوں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمے کیے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مولانا غلام رسول مہر حیات اور کارنامے ‘‘ڈاکٹر شفیق احمد کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو انہوں نے تیں ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔پہلے باب میں مولانا مہر کے سوانحی حالات دوسرے باب میں مولان...

  • مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ ﷫ بہاولپور کے معروف تاریخی مقام "اچ" کے قریب آباد ہونے والے کسرانی یا قیصرانی بلوچ قبیلے کے ایک فرد تھے۔آپ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین تھے۔آپ کو علم رجال پر خاص عبور حاصل تھا۔آپ ایک خاموش طبع اور انتہائی سادہ مزاج انسان تھے۔کسرانی قبیلے میں سب سے پہلے علم دین حاصل کرنے اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی شخصیت" مولانا سلطان محمود محدث ﷫ '' کی تھی۔آپ ان کے قریبی عزیز اور لائق شاگرد تھے۔مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ نے تحقیق حدیث خصوصا علم الرجال کے میدان کو چنا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کے لئے وقف کر دیا۔ آپ نے جب اس میدان میں کام شروع کیا تو  پورے برصغیر میں حدیث کے حوالے سے تحقیقی کام کی اشاعت کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیر تبصرہ کتاب " مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ ، ماھر علم الرجال وممتاز نقاد " دار المعارف اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ محمد اسلم شاہدروی صاحب ﷾ کی  کاوش ہے، جس میں انہوں نے مولانا فیض الرحمان ثوری صاح ﷫ ب کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں اور انکی علمی خدمات کو مرتب فرما دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی ایم فل کی اسائنمنٹ تھی، جسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مرتب موصو ف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • مولانا فیض الرحمان ثوری﷫ بہاولپور کے معروف تاریخی مقام "اچ" کے قریب آباد ہونے والے کسرانی یا قیصرانی بلوچ قبیلے کے ایک فرد تھے۔ آپ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین تھے۔ آپ کو علم رجال پر خاص عبور حاصل تھا۔ آپ ایک خاموش طبع اور انتہائی سادہ مزاج انسان تھے۔ کسرانی قبیلے میں سب سے پہلے علم دین حاصل کرنے اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی شخصیت"مولانا سلطان محمود محدث﷫'' کی تھی۔ آپ ان کے قریبی عزیز اور لائق شاگرد تھے۔ مولانا فیض الرحمان ثوری﷫ نے تحقیق حدیث خصوصا علم الرجال کے میدان کو چنا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کے لئے وقف کر دیا۔ آپ نے جب اس میدان میں کام شروع کیا تو پورے برصغیر میں حدیث کے حوالے سے تحقیقی کام کی اشاعت کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "مولانا فیض الرحمان ثوری﷫، ماھر علم الرجال وممتاز نقاد" دار المعارف اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ محمد اسلم شاہدروی صاحب﷾ کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے مولانا فیض الرحمان ثوری صاحب کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں اور انکی علمی خدمات کو مرتب فرما دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی ایم فل کی اسائنمنٹ تھی، جسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصو ف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 129 مولانا محمد حنیف ندوی ایک تعارفی مطالعہ (منگل 15 اگست 2017ء)

    مشاہدات:838

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواس کی رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے جو انسان کے لیے ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک مولانا محمد حنیف ندوی بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  مصنف نے حنیف ندوی کی علمی وفکری خدمات اور ان کے نظریات کو اجمالی طور پر بیان کیا ہے اور ان کے عظیم کارناموں‘ تصانیف  اور تالیفات کوپیش کیا ہے۔ ان کے طرز تحریر اور اسلوب کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے بہت زیادہ مفید معلومات اخذ کی جا سکتی ہیں۔ یہ کتاب’’ مولانا محمد حنیف ندوی ایک تعارفی مطالعہ ‘‘ ڈاکٹر سعادت سعید کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی     ضلع امرتسر کے ایک گاؤں’’بھوجیاں‘‘ میں 1909  کوپیداہوئے ۔ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی میاں صدرالدین حسین اور مقامی علماء  کرام  سے حاصل کی ۔اس کےبعد  پندرہ سولہ برس  کی عمر  میں مدرسہ حمیدیہ ،دہلی میں  داخل ہوئے او روہاں مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی اور ابوسعید شرف الدین دہلوی سے  بعض متداول درسی کتب  اور حدیث کا درس لیا ۔بعد ازاں لکھو کے  اور گوندالانوالہ  کے اہل حدیث مدارس میں علوم دینیہ کی تکمیل کی جہاں مولانا عطاء اللہ  لکھوی اور  حافظ محمد گوندلوی ان کے اساتذہ میں  شامل تھے ۔مولانا  نے عملی زندگی  کاآغاز اپنے  گاؤں کے اسی  مدرسہ  فیض الاسلام میں بطور مدرس کیا جس میں  انہوں نے  خود ابتدائی تعلیم حاصل کی  تھی ۔لیکن چند ماہ  قیام کے بعد  گوجرانوالہ تشریف گئے او رمختلف مدارس میں  تدریسی فرائض سرانجام  دیتے رہے ۔سالانہ تعطیلات  گزارنے گاؤں  گئے ہوئے تھے کہ  ہندوستان تقسیم ہوگیا ۔مولانا ہجر ت کر کے پاکستان آگئے اور اپنے  پرانے تعارف  وتعلق کےتحت گوندلانوالہ میں سکونت اختیار کی ۔ اسی زمانے میں گوجرانوالہ سے ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کا  ڈیکلریشن حاصل کیا اور مولانا محمد  حنیف ندوی کی ادارت میں  9اگست 1949ء کو ’’الاعتصام‘‘ کی اشاعت  کا آغاز کیا۔اس کے بعد ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1854
  • اس ہفتے کے قارئین: 8385
  • اس ماہ کے قارئین: 27678
  • کل قارئین : 47744753

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں