#2489.02

مصنف : قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی

مشاہدات : 4921

تاریخ ملت جلد سوم

  • صفحات: 859
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 21475 (PKR)
(پیر 27 اپریل 2015ء) ناشر : ادارہ اسلامیات لاہور۔کراچی

تاریخ  ایک  ضروری اور مفید علم  ہے  اس  سے ہم کو دنیا کی تمام نئی اور پرانی قوموں کےحالات معلوم ہوتے ہیں او رہم ان کی ترقی اورتنزلی کےاسباب سے واقف ہوجاتے ہیں ہم جان  جاتے ہیں کہ کس طرح ایک قوم عزت کےآسمان کا ستارہ  بن کر چکمی اور دوسری قوم ذلت کے میدان کی گرد بن کر منتشر ہوگئی۔اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ  دنیا میں مذہب اسلام کی ابتداء انسان کی پیدائش کے ساتھ  ہوئی ۔ دنیا میں جس قدر پیغمبر آئے ان  سب نے  اپنی  امت کو اسلام ہی کاپیغام سنایا۔یہ ضرور ہے کہ خدا  کایہ پیغام دنیا کے ابتدائی زمانہ میں اس وقت کی ضرورتوں ہی کے  مطابق تھا جب دنیا نے ترقی کی منزل میں قدم رکھا  اور اس کی ضرورتوں میں اضافہ ہوا تو اللہ تعالیٰ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ اس پیغام  کو مکمل صورت میں لے کر آئے۔ عام طور پر اللہ تعالیٰ کے اس مکمل پیغام کو ہی اسلام کہا جاتاہے ۔ اس لیے  تاریخ ِاسلام سے اس گروہ کی تاریخ مراد لی جاتی ہے جس نے اللہ  تعالیٰ کے آخری پیغمبر  حضرت  محمد مصطفیٰﷺ  کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اس  مکمل اسلام کو قبول کیا ۔دنیا  کی اکثر قوموں کی تاریخ ، کہانیوں اور قصوں کی صورت میں  ملتی ہے  ۔ مگر اسلام کی تاریخ  میں یہ بات نہیں ہے ۔ اور مسلمانوں  نے شروع ہی سے اپنی تاریخ کو مستند طور پر لکھا  ہے اور ہر بات کا حوالہ دےدیا ہے  ۔یہی وجہ  ہے کہ دنیا کی تاریخ میں ’’ تاریخ اسلام‘‘ ایک خاص امتیاز رکھتی ہے ۔اسلام کا ماضی اس قدر شاندار ہے کہ دنیا کی کوئی ملت اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتی ۔ تاریخ اسلام کے ایک ایک باب میں   حق پرستی، صداقت شعاری ، عدل گستری او رمعارف پروری کی ہزاروں داستانیں پنہاں ہیں ۔ مسلمان بچوں کواگر پچپن ہی سے اپنے اسلاف کےان زریں کارناموں سےواقف کرادیا جائے تووہ  اپنے لیے اور ملک وملت کےلیے  بہت  مفید ثابت ہوسکتے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تاریخ ملت ‘‘ تین جلدوں پر مشتمل  جناب مفتی  زین  العابدین سجاد میرٹھی اور مفتی انتظام اللہ شہابی اکبر آبادی  کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں تاریخ عالم  قبل اسلام سے لے کر مغلیہ سنطنت کے آخری تاجدار اور بہادر شاہ ظفر تک ملت اسلامیہ کی تیرہ سوسالہ مکمل تاریخ  ہے ۔ افراد او راقوام کےنشیب  وفراز اور عروج وزوال کی دستانوں پر مشتمل  مفید عام کتاب ہے  جو تاریخ  اسلام کی  بے شمار کتب  سے بے نیاز کردیتی ہے ۔ سلیس زبان عام فہم اور آسان طرزِ بیان، مدارس،سکولوں ، کالجوں اور جامعات کے استاتذہ وطلباء کےلیے یکساں فائدہ مند ہے ۔ہر اچھی لائبریری اور  پڑھے لکھے گھرانے میں رکھنے لائق ہے ۔(م۔ا)
 

عناوین

 

صفحہ نمبر

(8)خلافت عثمانیہ

 

19

تاریخ اتراک

 

21

ترک اور عرب

 

21

ارطغرل مورث آل عثمان

 

26

خطاب

 

27

اوصاف

 

29

وفات

 

30

امیر عثمان خان غازی بانی دولت عثمانیہ

 

30

نام

 

30

تعلیم و تربیت

 

30

وقائع

 

30

تکفور

 

31

بادشاہی

 

31

آزاد حکمرانی

 

32

انتظام حکومت

 

32

فتوحات

 

32

فتح بروصہ

 

33

وصیت

 

33

وفات

 

34

اوصاف

 

34

سادہ زندگی

 

35

آثار خیر

 

35

وسعت سلطنت

 

35

اشاعت اسلام

 

35

سلطان اور خان

 

36

نام ونسب

 

36

تعلیم وتربیت

 

36

تخت عثمانیہ

 

36

صدارت عظمیٰ

 

37

مملکت کا نظام

 

37

لباس

 

37

فوجی تنظیم

 

37

انکشاریہ

 

38

فن جنگ

 

39

پاشا

 

39

فتوحات

 

39

مسجد و مدرسہ

 

40

لنگر خانہ

 

40

قراسی

 

40

نظم مملکت

 

40

رفاہ عام

 

40

علمی ترقی

 

41

زبان ترکی

 

41

یورپ کاداخلہ

 

41

یورپ میں پہلا قدم

 

43

سلیمان پاشا

 

44

وفات

 

44

اوصاف

 

44

وسعت سلطنت

 

45

علمائے عصر

 

45

سلطان مراد اول

 

46

نام ونسب

 

46

پیدائش

 

46

تعلیم وتربیت

 

46

وزارت عظمیٰ

 

46

فتوحات تھریس

 

47

جنگ مارٹیزا

 

47

دار الحکومت

 

47

شہنشاہ بایزید کی شادی

 

48

شہر آق کی خرید

 

49

فتوحات

 

49

شاہ سرویہ کی خودسری

 

50

وفات

 

50

وسعت سلطنت

 

50

کارنامے

 

51

اصلاحات

 

51

نصرانی غدار

 

52

اوصاف

 

52

علمائے عصر

 

52

سلطان بایزید اول یلدرم

 

53

نام ونسب

 

53

امیر العسکر ۔ ولادت

 

53

وقائع ۔ تعلیم وتربیت

 

53

اناطولیہ کی بقیہ ریاستیں

 

54

محاصرہ قسطنطنیہ

 

55

فتح بلغاریہ

 

55

صلیبی جنگ

 

56

فرمان خلیفہ عباسی

 

58

فتح یونان

 

58

مغلوں کی یلغار

 

59

صاحب قرن امیر تیمور

 

60

معرکہ تیمور و بایزید

 

61

معرکہ انگورہ

 

62

بایزید کا انجام

 

64

بایزید کی موت

 

65

اوصاف بایزید

 

66

عیش وعشرت

 

66

سلطنت عثمانیہ

 

67

گیتی ستاں

 

67

تاریخ وفات

 

68

علمائے عصر

 

68

سلطان محمداول چلپی

 

69

نزاع تخت

 

69

بھائیوں کی باہمی آویزش

 

70

تخت نشینی

 

71

فتنہ پیر قلیچہ

 

72

دعویدار سلطنت

 

73

دور سلطنت

 

73

اوصاف

 

73

علمی ترقی

 

74

وفات

 

74

آثار خیر

 

74

علمائے عصر

 

74

سلطان مراد ثانی

 

75

نام و نسب

 

76

مراد اور مصطفیٰ ۔ تعلیم و تربیت

 

76

قسطنطنیہ کا محاصرہ

 

76

سالونیکا اور سرویا

 

78

واقعات ہونیا ڈسفاک

 

78

شہزادہ علاء الدین کا انتقال

 

80

شاہ ہنگری ۔ خلوت نشینی

 

80

بغاوت انکشاریہ

 

81

وفات مراد

 

81

اوصاف

 

81

معاصر علماء

 

82

سلطان محمد ثانی فاتح قسطنطنیہ

 

83

تخت نشینی ۔ نام ونسب ۔ تعلیم وتربیت

 

83

معصوم بھائی کا قتل

 

83

قلعہ کی تعمیر

 

84

فتح قسطنطنیہ

 

84

محاصرہ

 

85

فتوحات

 

87

بحری بیڑہ

 

87

وقائع

 

87

جزائر بحر روم

 

88

روڈس

 

88

وفات

 

88

وفات

 

88

اوصاف

 

88

فنون جنگ

 

89

راز داری

 

89

علمی ترقی

 

90

مدارس

 

90

نظم مملکت

 

91

آئین سلطنت

 

91

قاضی عسکر

 

92

خواجہ

 

92

مفتی

 

92

نشانچی

 

92

رئیس آفندی

 

92

دیوان

 

92

ہمصعر علماء

 

93

سلطان بایزید ثانی

 

94

تخت سلطنت

 

94

امیر پرچم کی بغاوت

 

94

فتوحات

 

95

مصر

 

95

ایران

 

95

یورپ میں فتوحات

 

96

وقائع

 

96

گوشہ نشینی

 

96

وفات

 

97

علمائے عصر

 

97

سلطان سلیم اول

 

98

بھائیوں کی نزاع

 

98

فتح مصر

 

99

یونس پاشا کا حشر

 

100

خلافت پر فائز ہونا

 

100

وفات

 

101

اوصاف

 

101

علمی ترقی

 

101

سلطان سلیمان اعظم قانونی

 

102

تخت نشینی

 

102

شام میں بغاوت

 

102

فتوحات

 

102

ہنگری کےوقائع

 

103

ویانہ پرحملہ

 

104

الجزائر

 

104

ہندوستان

 

105

جزائر بحر روم

 

106

تجارتی عہد نامہ

 

107

شارلکان

 

107

شاہ طہماسپ

 

107

وفات

 

108

اوصاف

 

108

شعراء و علمائے عصر

 

108

سلطان سلیم ثانی

 

109

خلافت

 

109

صدر اعظم

 

109

معاہدات

 

109

یمن

 

110

قبرص

 

110

ترکی بیڑا

 

110

انتقال

 

111

سلطان مراد خاں ثالث

 

112

تخت نشینی

 

112

صدر اعظم

 

112

معاہدات

 

113

مراقش

 

113

دیگر فتوحات

 

113

یورپ سےجنگ

 

114

وفات

 

114

اوصاف

 

114

اولاد

 

114

سلطان محمد ثالث

 

115

تخت نشینی

 

115

انتظام مملکت

 

115

وفات

 

116

سلطان احمد اول

 

116

تخت نشینی

 

116

صدر اعظم

 

116

شاہ عباس صفوی

 

117

ممالک مغرب

 

117

وفات

 

118

سلطان مصطفےٰ اول

 

119

سلطان عثمان خاں ثانی

 

119

فتنہ و فساد

 

120

سلطان مراد رابع

 

121

وقائع بغداد

 

121

علمائے عصر

 

122

سلطان ابراہیم خاں

 

123

فتح کریٹ

 

123

سلطان محمد رابع

 

124

کوپریلی

 

125

مقدس عہد

 

126

سلطان سلیمان ثانی

 

126

وقائع

 

127

آسٹریا

 

127

وفات

 

127

اوصاف

 

127

سلطان احمد ثانی

 

128

تخت نشینی

 

128

وقائع

 

128

وفات

 

128

سلطان مصطفیٰ ثانی

 

128

محاربات

 

128

مسئلہ شرقیہ

 

129

حسین پاشا

 

130

سلطان احمد ثالث

 

131

علمی ترقی

 

131

پیٹر اعظم

 

131

بغاوت

 

132

وقائع ایران

 

133

پہلا مطبع

 

133

سلطان محمود اول

 

134

صدر اعظم

 

134

روس اور آسٹریا

 

135

محاربات عجم

 

135

انتظا سلطنت

 

135

وقائع فرانس

 

136

سلطان عثمان ثالث

 

137

سلطان مصطفیٰ ثالث

 

138

وقائع راغب پاشا

 

138

ترکی بیڑے کی تباہی

 

138

امیر سلیم کرائی خاں کی غداری

 

139

مصر میں بغاوت

 

140

سلطان عبد الحمید اول

 

141

صلح

 

141

وقائع

 

141

فتنہ روس

 

142

روس اور آسٹریا

 

142

سلطان سلیم ثالث

 

143

اصلاحات

 

144

فوجی تنظیم

 

144

سلطان کی معزولی

 

147

سلطان مصطفیٰ رابع

 

147

زار اور نپولین کا معاہدہ

 

148

سلطان محمود ثانی

 

154

خانہ جنگی

 

154

محمد بن عبدالوہاب نجدی

 

155

حملہ مکہ معظمہ

 

156

مصری ونجدی آویزش

 

157

یونان

 

158

یونان کی آزادی

 

158

الجزائر پر فرانس کا قبضہ

 

159

سربیا

 

159

مصر کی آزادی

 

160

رفاہ عام

 

161

تعلیم کی ترقی

 

161

سلطان عبدالمجید اول

 

162

اصلاحات

 

162

وفات

 

163

آثار اعظم

 

163

صدر

 

163

سلطان عبدالعزیز

 

164

معزولی سلطان

 

166

سلطان مراد خامس

 

167

سلطان عبدالحمید ثانی

 

168

ملک کی حالت

 

168

دستور کا اعلان

 

168

جنگ پلونا

 

169

کوائف مصر

 

170

ثرقی رومیلی کی بغاوت

 

172

کریٹ

 

172

ترکوں میں سیاسی بیداری

 

173

بطل حریت مدحت پاشا

 

174

عبدالقادر الجزائری

 

177

مصطفیٰ کمال پاشا

 

177

جمعیت حریت

 

182

عثمانیہ انجمن اتحاد ترقی

 

183

دستور

 

185

دستور کی طلبی

 

186

قیام حکومت دستوریہ

 

187

اشتہار

 

187

قیام جمہوریت

 

189

معزولی سلطان

 

191

شخصیت وجمہوریت کی کشمکش

 

191

سلطان محمد خامس

 

195

کوائف طرابلس

 

195

مجاہد طرابلس امیر علی پاشا

 

196

پندرہ سالہ مجاہد طرابلس

 

197

فاطمہ بنت عبداللہ

 

198

بلقائی شورش

 

199

بلقانی باہم لڑ پڑے

 

200

جنگ عمومی

 

202

شریف مکہ کی بغاوت

 

203

سلطان عبدالوحید خاں

 

205

مصطفیٰ کمال کا کارنامہ

 

205

حزب وطنی

 

207

صدارت

 

207

خلاف مآب

 

207

بالشریکوں سے معاہدہ

 

208

مصطفیٰ کمال کابڑا کارنامہ

 

208

لوازن کانفرنس

 

209

انخلائے قسطنطنیہ

 

210

قیام جمہوریت ترکیہ

 

210

سلطان عبدالمجید خاں

 

210

خاتمہ خلافت

 

210

عہد اتاترک

 

211

صنعت وحرفت

 

211

تعلیمی ترقی

 

211

جمہوریہ ترکیہ پر نظر

 

211

عصمت پاشا

 

212

جلال بائر صدر جمہوریہ

 

213

دولت عثمانیہ کاپس منظر

 

214

دور تنزل

 

216

سیاسی بیداری

 

218

نظام مملکت

 

219

مذہب

 

223

ترکوں کا علمی عہد

 

224

ترکی خواتین

 

232

ترکوں کا نظریہ خلافت

 

232

(9)تاریخ صقلیہ

 

243

جغرافیہ صقلیہ

 

244

تقسیم ملکی اور رقبہ سطح و طول و عرض

 

244

صقلیہ کی وجہ تسمیہ

 

245

صقلیہ کی قدیم تاریخ

 

245

سیکل یعنی سکائی قوم

 

246

ایتروسکی قوم

 

247

فنیقین

 

249

یونانی

 

250

سرقوسہ کی ریاست

 

251

قرطاجنہ

 

253

جیکو کے جانشین

 

254

صقلیہ کےحالت رومیوں کے زمانے میں

 

256

رومن قوم کی ابتدائی حالت

 

256

رومیوں اور قرطاجنوں کےمحاربات

 

258

صقلیہ پر رومن قوم کا قبضہ

 

260

رومیوں کا اقوام مفتوحہ سے سلوک

 

261

صقلیہ کی حالت رومن قوم کےزمانہ میں

 

263

رومن قوم کےحلام او ران کی حالت

 

263

غلاموں کی پہلی بغاوت صقلیہ میں

 

265

غلاموں کی دوسری بغاوت

 

266

رومن سلطنت کی بربادی

 

267

عربوں کی یلغار صقلیہ پر

 

270

قاضی اسد بن فرات فاتح صقلیہ

 

279

میدان جنگ

 

280

محمد بن ابی الجواری

 

282

محمدبن عبد اللہ الاغلب

 

284

ابو الاغلب ابراہیم بن عبد اللہ

 

286

اٹلی میں خلفوں اور مفرج کی سرگرمیاں

 

288

عباس بن فضل

 

289

خفاجہ بن سفیان

 

291

محمد بن خواجہ والی صقلیہ

 

293

حسین بن رباح

 

294

جعفر بن محمد والی صقلیہ

 

295

اغلب بن محمد متغلب صقلیہ

 

296

ابو العباس بن ابراہیم اغلبی

 

299

محمد بن سرقوسی

 

303

آفری اغلبی تاجدار کا انجام

 

304

دولت اغالبہ

 

305

دولت اغالبہ افریقہ

 

307

ولاۃ صقلیہ

 

308

حسن بن احمد بن ابی الخنزیر

 

309

احمد بن زیادۃ اللہ بن قرہب

 

310

ابوسعید موسیٰ بن احمد

 

311

ابو عطاف محمد بن اشعث الازدی

 

315

ابو الغنائم حسن بن علی بن ابی الحسن کلبی

 

316

ابوالقاسم بن حسن کلبی فرماں روائے معقلیہ

 

319

جعفر بن محمد کلبی

 

321

ثقۃ الدولہ ابو الفتوح یوسف بن عبد اللہ کلبی

 

322

تائید الدولہ احمد الاکحل کلبی

 

324

صقلیہ میں طوائف الملوک

 

327

صوبوں کے حکمران

 

327

صقلیہ سےاسلامی حکومت کا خاتمہ

 

329

تاریخ نارمن

 

329

ابن العباع آخری تاجدار صقلیہ

 

331

دولت فاطمیہ پرایک نظر

 

340

خلفائے فاطمیہ

 

343

عہد کلبیہ

 

344

دار الحکومت

 

345

علماء صقلیہ

 

347

صقلیہ کادور

 

347

 

آن لائن مطالعہ وقتی طور پر موجود نہیں ہے - ان شاءالله بہت جلد بحال کر دیا جائے گا

اس کتاب کی دیگر جلدیں

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2528
  • اس ہفتے کے قارئین 17098
  • اس ماہ کے قارئین 31160
  • کل قارئین65947990

موضوعاتی فہرست