شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ( شفیق الرحمن الدراوی )(3495#)

شفیق الرحمٰن الدراوی
مکتبہ قدوسیہ،لاہور
350
8750 (PKR)

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور حرمت رسول ﷺ کے متعلق رسائل وجرائد میں بیسوں نئےمضامین طبع ہوئے اور کئی مجلات کے اسی موضوعی پر خاص نمبر اور متعد د کتب بھی شائع ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شاتم رسول ﷺ کی شرعی سزا ‘ پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی﷾( فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے رسول اللہ ﷺ کی رحمت کے بیان کےساتھ ساتھ آپﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے متعلق حکم بیان کیا گیا ہے ۔جس کےلیے قرآن وحدیث کےبیسیوں حوالہ جات جمع کیے گئے ہیں۔ اس کےساتھ ساتھ آپ ﷺ کا طرز عمل ، صحابہ کرام کے فیصلے ،علماء کرام﷭ کے مذاہب ،آئمہ اربعہ کے اقوال قدیم وجدید دور کےاہل علم کے آراء پیش کی گئی ہیں ۔ ساتھ ہی عصر حاضر میں یہودی ، عیسائی ، ماسونی ، اور ملحدانہ بیہودگیوں کے خلاف راست اقدام کےلیے مسلمانوں کے ممکنہ کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کےلیے شرعی دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اور سابقہ تاریخ میں اس طرح کے کردار کے اثرات ونتائج بیان کر کے لوگوں کو پیغمبر برحقﷺ کی نصرت اور آپ کےخلاف زہریلے اقدامات کرنے والوں کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں پہلے رحمت نبوت کی وضاحت کے لیے ’’نبی رحمتﷺ‘‘ کے عنوان سے باب قائم کر کے آپ کے رحمت للعالمین ہونے کے مختلف عملی پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور پھر انصاف پسندوں کے اعترافات ذکر کرنے کے بعد گستاخ ِ رسول کےموضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے اورمؤلف کوتالیف وتصنیف اور ترجمہ کے میدان میں کام کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

مقدمہ

 

 

فہرست مضا مین

 

 

انتساب:

 

 

ہدیہ تشکر

 

16

سرنغمہ ، پر سو ز :

 

18

مقدمہ ا ز مولانا منیر قمر حفظ اللہ

 

20

باب اول : نبی ر حمت ْﷺ

 

22

عموم رحمت:

 

24

مومنین کے لیے رحمت:

 

26

مو منین کے لیے رحمت کاایک منظر

 

27

عبادت رحمت

 

29

اہل خانہ کے لیے رحمت:

 

30

سلوک  رحمت کی مثالیں

 

34

اہل خانہ کے ساتھ رحمت تعلیمات

 

34

عورتوں پر رحمت

 

36

بیو ا و ں کیساتھ رحمت

 

36

بچو ں پر رحمت

 

38

یتیموں پر رحمت

 

40

بچیوں کے لیے رحمت

 

42

غلاموں پر رحمت

 

45

غلاموں کی سزادینے کی مما نعت

 

47

غلامو ں کا احساس

 

47

تعلیمات رحمت کا اثر

 

47

دعوت حق میں رحمت

 

48

دعوت میں رحمت کی ایک مثال

 

49

کفار کیلئے رحمت

 

50

مشرکین کےلیے رحمت

 

52

منافقین کے لیے رحمت

 

53

میدان کا رزار میں رحمت

 

53

تعلیمات کا اثر

 

55

محبت کرنے والوں پر رحمت

 

56

حیوانات کیلئے رحمت

 

57

حرام جانور  وں کیلئے رحمت

 

61

جمادات کا ساتھ رحمت

 

63

امن عالم اور نبی رحمت ﷺ

 

65

تکملہ باب رحمت

 

66

باب دوم : انصاف پسندوں کے اعترافات

 

68

باب سوم : محمد ﷺ سے دشمنی کی وجوہات معا ذ ین کا انجام

 

83

رسول اللہﷺ سے دشمنی کے اسباب

 

84

فصل اول : شر پسندوں کی بیہو دگیا ں اور ان کا انجام

 

88

شر پسندوں کی عاقبت

 

88

شر پسند نا کام  ہی رہیں گے

 

89

شر پسندوں کی روش

 

89

شیطانی  مہلت ملی ہے ان کو

 

91

بنی ﷺ سے د شمنی کی مو جو د لہر

 

92

قربانی ﷺ کا بکرا

 

94

آزادی ء ا ظہار رائے و فکر و نظر کی حقیقت

 

95

مغرب کی منافقت اور اظہار رائے کی ا ٓ زادی

 

98

امریکی کردار

 

100

مذہبی شخصیات اور ان کی خرافات

 

101

فصل دوم : پس پر دہ حقائق

 

103

کھلم کھلی اسرائیلی مدد

 

104

سیاسی جنگ

 

105

صحافت و ذروائع ابلاغ کی جنگ

 

106

فصل سوم :گمراہی اور استبدار کے وسائل

 

107

فصل چہارم : مسلمانو ں کا کردار

 

111

مومن کا ان حالات میں مو قف:

 

111

حالا ت  کا تقا ضا

 

113

باب چہارم: نصر ت رسول اللہﷺ کے بعض وسائل

 

117

باب پنجم : بائیکاٹ کی تعریف اور تاریخ

 

123

بائیکاٹ کی تاریخ

 

123

1۔حضرت ابراہیم ؑ کے والد کا بائیکا ٹ ۔2۔حضرت ابراہیم ؑکی با ئیکاٹ کی دھمکی

 

123

3۔حضرت یوسف ؑ کی بائیکاٹ کی دھمکی :4۔ ابو لہب کا بائیکاٹ

 

124

5۔ ابوجہل مردود کا بائیکاٹ :6۔ قریش کا بائیکاٹ

 

125

7۔ :حضرت ثمامہ بن ا ثال ؓ کا بائیکاٹ

 

125

بائیکاٹ ثمامہ  کےا ثرات و نتائج : 8۔ حضرت ابو بصیر ؓ  کا روائی

 

126

10آئر لینڈ کی تحریک بائیکاٹ : 11۔ جمرنی کاخلاف یورپ کا بائیکاٹ

 

128

12۔ گاندھی کی تحریک بائیکاٹ

 

128

13۔: عالم اسلام اور اسرائیل  سے بائیکاٹ :14۔ شاہ فیصل شہید کا یورپ سے بائیکا ٹ

 

129

15۔: روس سے  بائیکاٹ : 16۔ عراق بائیکاٹ

 

129

17۔ الیبیا پر اقتصادی پابندیا ں : 18۔ پاکستان پر پابندی :19۔ سوڈان  پر پابندی

 

130

20۔ : شام یمن اور بعض دوسرے ممالک پر   پابندیاں:

 

130

21: امریکہ اور دوسرے ممالک کا منا فقانہ کردار:

 

130

فصل اول: بائیکاٹ کا شر عی حکم

 

131

بائیکاٹ کب مستحب ہوتا ہے

 

131

بائیکاٹ کب واجب ہوتاہے

 

132

کتاب وسنت سے بائیکاٹ سے بائیکاٹ کا ثبات:

 

133

عرب علماء کے فتاوی

 

137

شیخ محمد بن صالح التثیمین رحمتہ اللہ علیہ

 

140

علامہ ناصر الدین الا لبانی رحمتہ اللہ علیہ

 

140

شیخ انب جبریل رحمتہ اللہ علیہ

 

141

شیخ صالح الحبدان حفظ اللہ:

 

142

شیخ عبدالعزیز بن عبدالل الراحجی حفظ اللہ:

 

142

بائیکاٹ کیوں کریں ؟:

 

143

بائیکاٹ کے لیے اہم اصول :

 

145

عوامی کردار:

 

147

دشمن کی چالوں سے بچیں :

 

149

فصل دوم : بائیکاٹ : آخر کب تک :

 

150

باب ششم : عصمت ابنیاء کرام ؑ

 

151

فصل اول : عصمت انبیا کرام ؑ

 

152

گناہ کا مصدر

 

152

خلا صہ ء کلام

 

155

نبو ت اخیتار الٰہی

 

156

قرعصمت انبیاء ؑ

ٍ

158

قرآن اور عصمت محمدیہ ﷺ

 

159

باب ہفتم : گستاخ رسول ﷺ کا شرعی حکم

 

161

فصل : گستا خ رسول اللہ ﷺ کافر اور واجب قتل ہے

 

162

اولا ء: کتاب اللہ سے کفر پر دلائل

 

163

پہلی دلیل : [اور علماء کے اقوال]

 

163

دوسری دلیل: [ اور علماء کے اقوال ]

 

165

تیسری دلیل : [ اور علماء کے اقوال ]

ٍ

168

چو تھی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ]

 

169

پانچوں دلیل : [ اور علماء کے اقوال ]

 

170

چھٹی دلیل : [ اور علماء کے اقوال ]

 

172

ساتویں دلیل : [ اور علما ء کے اقوال ]

 

173

اجما ع مسلمین

 

173

علامہ انور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول

 

175

قاضی عیا ض رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان

 

176

علامہ بشیر عصا م مراکشی رحمتہ اللہ علیہ کا قول

 

176

ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ کا قول

 

176

علامہ الشر بینی الشا فعی رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان

 

176

علامہ مر عی بن یو سف الکر می احسنبلی

 

177

فصل دوم : گستاخ رسول اللہﷺ کے واجب قتل ہونے کے دلائل

 

178

قرآن کریم سے شاتم رسول کے قتل کا اثبات

 

178

پہلی دلیل:

 

178

دوسری دلیل

 

179

تیسری دلیل :

 

180

چو تھی دلیل:

 

181

پا نچویں دلیل:

 

183

چھٹی دلیل :

 

184

ساتویں دلیل:

 

185

آٹھویں دلیل:

 

185

نویں دلیل:

 

186

دسویں دلیل:

 

186

فصل سوم:احادیث مبارکہ میں گستاخ رسول اللہ ﷺ کی سزا:

 

188

عہد ذمہ کا فائدہ

 

188

سنت بنوی سے عملی نمونے

 

191

1۔ سفیان بن خالد کاقتل

 

192

2۔کع بن اشرف کا قتل

 

193

3۔ ابور افع یہودی کا قتل :4۔ تکذ ب رسول اللہ ﷺ پر قتل

 

194

5۔ محبو ب کے واقعہ سے استدلال:

 

195

6: انب سبینہ کی یہودی کا قتل :7۔ نضر بن حارث اور عقبہ بن ابو معیط کا قتل:

 

196

8: بنو قریظہ کی یہودیہ کا قتل

 

197

9: عصماء بنت مردان کا قتل  : 10۔ بنو بکر کاواقعہ

 

198

11: ذو لخو یصرہ کی گستاخی اور فرمان بنوت

 

199

12: بجر بن زہیر ؓ کا خط

 

200

13: ایک شاتم رسول ﷺ کا انجام : 14۔ دوسری گستاخی عورت کاقتل : 15۔ گستاخ یہودیہ کا قتل :

 

201

16۔ ابو عفک یہودی کا قتل : 17۔ عبداللہ بن اخطل : 18 ۔ قر تنی کا قتل

 

202

فصل چہارم : حضرات صحابہ کراؓ معین ااور ائمہ کے فیصلے

 

203

1: حضرت ابو بکر ؓ کا عقیدہ و ایمان و عمل:

 

203

2: حضرت ابو بکر ؓ صدیق کا فیصلہ :3۔ حضرت  ابوبکر ؓ اور گستاخ کا سزا:

 

204

4۔ حضرت عمر ؓ کا فیصلہ : 5۔ حضر ت عبداللہ بن عباس ؓ کا فتوی:

 

205

6۔حضرت غرفہ ؓ اور ایک گستاخ معاہدہ کا قتل

 

206

7۔ ابو عبیدہ بن جراح ؓ اپنے والد کا قتل  ۔:8۔ حضر ت عمر ؓ اور ایک گستاخ کا قتل

 

206

9۔ حضرت عمر ؓ اور رافع بن کا قتل ۔ 10۔ نابینا صحابی اور گستاخ عور ت کا قتل

 

207

11۔ حضرت ابو برزہ ؓ  کا موقف :12۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کا مو قف

 

208

13۔حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا مو قف

 

208

14۔ ابن قانع کی روایت : 15۔ حضرت علی ؓ کا حکم ۔ 16۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت

 

209

17۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا فیصلہ : 18۔ حضرت محمد بن  مسلمہ ؓ

 

210

19۔حضر ت عبدالر حمن بن یزید رحمتہ اللہ علیہ :20۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کا فتویٰ

 

211

21۔ ہارون الرشیدر حمتہ اللہ علیہ کا استفاء

 

211

22۔ جنات میں  کستاخ رسول اﷺ کی سزا:

 

212

فصل پنجم : اجماع امت

 

213

1۔ امام ابن سحنون المالی  رحمتہ اللہ علیہ : 2۔ امام اسحق بن ابراہیم لمعروف بابن راہویہ رحمتہ اللہ علیہ

 

214

3۔ امام خطابی ، حمد بن محمد یہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ :5۔ امام ابو بکر الفارسی رحمتہ اللہ علیہ : 6۔ علامہ قاضی عیاضی رحمتہ اللہ علیہ

 

215

7۔ امام ابن خطاب الحنبلی رحمتہ اللہ علیہ  8۔ امام ابن الظاہری رحمتہ اللہ علیہ : 9۔ امام ابن نجیم حنفی رحمتہ اللہ علیہ

 

216

10۔ ابن عابد ین حنفی رحمتہ اللہ علیہ :11۔ امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ : 12۔ علامہ ابن قیم رحمتہ علیہ

 

217

13۔ امام تقی الدین سبکی رحمتہ اللہ علیہ : 14۔ علامہ السفارینی رحمتہ اللہ علیہ : 15۔ ابراہیم  بن حسین خالد فقیہ رحمتہ اللہ علیہ

 

218

16۔ علامہ شاہ انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ

 

218

سکو تی اجامع پر شہادت کے چند واقعات

 

219

پہلا واقعہ : دوسرا واقعہ:

 

219

تیسرا واقعہ : چو تھا واقعہ : پانچواں واقعہ : چھٹا واقعہ :

 

220

ساتواں واقعہ : ا ٓٹھواں واقعہ : نو اں واقعہ :

 

221

دسواں واقعہ : گیار ھواں واقعہ : ریجی نالڈ : بارھواں واقعہ : بہار ء اللہ

 

222

تیر ھواں واقعہ : مرزا غلام احمد قادیانی

 

223

چو د ھو اں واقعہ  : قادیانی عبدالحق کی گستاخی

 

224

غیرت مدن جج کا یمانی فیصلہ : پند ر ھواں واقعہ : ہند و مصنف مھا شاکر شن

 

225

سو لھواں واقعہ : شر دھا نند : سترھواں واقعہ  : ہند و مصنف نتھو رام:

 

226

اٹھار ھواں واقعہ : گستاخ ہیڈ مسٹر یس کا انجام : انیسواں واقعہ : رام گھو پال لعین کی دشنام طرازیا ں

 

227

بیسواں واقعہ : ہند و چوہدری کھیم : چند : اکیسواں واقعہ : پالا مل ہندہ:

 

228

بائیسواں واقعہ :  سکھ کشمیر سنگھ : تیتسواں واقعہ : ایک گستاخ ناشر

 

229

چو بیسواں واقعہ : عامر چیمہ  شہید رحمتہ اللہ علیہ

 

230

ہند و ستان  کی اسلامی عدلیہ کا فیصلہ

 

231

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1326
  • اس ہفتے کے قارئین: 3385
  • اس ماہ کے قارئین: 45247
  • کل قارئین : 46581090

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں