سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا بحیثیت زوجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم(2763#)

مریم خنساء
مشربہ علم وحکمت لاہور
34
680 (PKR)
2.3 MB

سیدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی  ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ حضرت خدیجہ ؓنے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد  حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ ؓسے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان  کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام  المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہابیان کرتی  ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا :’’ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت خدیجہ کی وفات  ہجرت سے  قبل  عام الحزن کے سال ہوئی۔ زیر نظر کتابچہ’’سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بحیثیت زوجۃ النبیﷺ‘‘ عربی کے ممتاز ادیب محمد موفق کی سیدہ خدیجہ ؓ کی سیرت پر عربی کتاب کا ترجمہ ہے  ترجمہ کی سعادت  محترمہ  مریم  خنساء نے  حاصل کی  اور اس کے شروع  میں  عکس ِحیات خدیجہ کے  نام سے  محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ نے کچھ اضافہ کیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ خواتینِ اسلام کو  سیدہ خدیجہ  اوردیگر امہات المومنین  جیسی سیرت اپنانے کی   توفیق عطا فرمائے  ( آمین) (م۔ا)
 

عناوین

 

صفحہ نمبر

سخن وضاحت

 

5

عکس حیات خدیجہ

 

8

نشان راہ

 

9

امین محور احترام

 

10

حق کی جانب

 

18

دانش مند بیوی ایک نعمت عظمٰی

 

20

نیکی وہ جو فورا ہو

 

23

مجاہدہ پر سلام ہو

 

25

قربانی کے دس سال

 

28

اشک محبت

 

29

 

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1175
  • اس ہفتے کے قارئین: 8574
  • اس ماہ کے قارئین: 36823
  • کل قارئین : 46502127

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں