دکھائیں کتب
  • 11 اسلامی ریاست اور غیرمسلم شہری (پیر 29 اپریل 2019ء)

    مشاہدات:847

    اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اسلام دینِ امن وسلامتی ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو ، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے ۔ ایک اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے ۔ غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب ﷺاور عہد خلفاے راشدین میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی. حضور ﷺنے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرما دی تھی۔جس کی تفصیلات کتب تاریخ وسیر اورکتب فقہ میں موجود ہے ۔ زیر نظرکتاب ’’اسلامی ریاست  اور  غیرمسلم شہری ‘‘ ڈاکٹر  حافظ محمد سعد  اللہ(ایڈیٹر شبعہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی ،لاہور )  کے جامعہ  پنجاب میں  ڈاکٹریٹ کے لیے  پیش کے گئے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت ہے  فاضل مصنف نے پورے دلائل اور تاریخی  شہادتوں  اور تقابلی    مطالعہ سے  اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا کے تمام بینادی حقوق کے بارے میں اسلام کی فراخدلانہ اور منفرد تعلیمات کو  یکجا کر کے  پیش کیا  ہے۔اور اسلام کے عالمی غالبہ کے زمانے  میں بعض اوقات اسلامی حکومتوں کی طرف سے غیر مسلم رعایا پر لباس کی ہیئت اور سواری وغیرہ کے م...

  • 12 اسلامی ریاست ( امین احسن اصلاحی ) (ہفتہ 04 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:1983

    اسلام خدا کی طرف سے آخری دین اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے ۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام خدا کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ اُس وحی خداوندی کی روشنی میں فطرت کی قوتوں کو مسخر کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لایا جائے۔اُس ضابطہ حیات پر کامل ایمان لاتے ہوئے قوانینِ خداوندی کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرنے کا نام اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے جو نظام اور قانون دیا ہے اس کا نام اسلام ہے۔ اس نظام زندگی کی رہنمائی انبیا اکرام کی صورت میں جاری رہی اور حضور پاک ﷺ پر یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔اور جو ریاست حکومت الہیہ کی شرائط پوری کرتی ہے وہی اصل میں اسلامی ریاست کہلاتی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسلامی ریاست‘‘مولانا امین احسن اصلاحی مدرسہ فراہی کے ایک جلیل القدر عالم دین ، مفسر قرآن اور ممتاز ریسرچ سکالر تھے آپ امام حمید الدین فراہی کے آخری عمر کے تلمیذ خاص اور انکے افکار ونظریات کے ارتقاء کی پہلی کرن ثابت ہوئے۔ آپ نے یہ کتاب دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے ۔جبکہ حصہ اوّل ریاست کے متعلق چند بنیادی مباحث پر مبنی ہے، حصہ دوم میں شہریت کے حقوق وفرائض کو واضح کیا گیا ہے،حصہ سوم میں غیر مسلموں کے حقوق کو اجاگر کیا ہے، حصہ چہارم میں اطاعت کی شروط اور حدود کو بیان کیا گیا ہے، اور حصہ پنجم م...

  • 13 اسلامی ریاست ( ڈاکٹر حمید اللہ ) (اتوار 06 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:4593

    اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔انبیاء کرام﷩ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کےلیے خالص ہو جائے اور شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔قرآن کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد،﷩ اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم بھی کی اور اسے معیاری شکل میں چلایا بھی۔اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اور کا اسی کانتیجہ...

  • 14 اسلامی ریاست میں علاقائی حقوق کا تصور (جمعہ 22 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1506

    اسلامی نظام حکومت میں تمام امور قرآن وسنت کی ہدایات کی روشنی میں انجام دئیے جاتے ہیں اور پورے نظام کی اساس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر استوار ہوتی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، تجارت ہو یا سیاست، عدالت ہو یا قیادت، طب ہو یا انجینئرنگ، اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔ اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں، بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان، سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ موجودہ دورمیں جبکہ اسلام کےخلاف بے شمار فتنے اسلام کے سیاسی، معاشی نظاموں پر اعتراضات اور شبہات کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں اور جدید تعلیم یافتہ افرادجن کی اکثریت دین کےعلم سے واقفیت نہیں رکھتی ان اعتراضات کا شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ دور حاضر کا ایک بڑا فتنہ علاقائی معاشی حقوق کےعدم تعین کی وجہ سے پیداہوا ہے۔اس کو ایک ذریعہ بنا کر ملحدانہ، قوم پرستانہ نظریات کو ہوا دی جارہی ہے۔ تاکہ ملت اسلامیہ کا شیرازہ مکمل طور پرمنتشر ہو جائے۔اور ان فتنوں میں الجھ کر مسلمان ایک دوسرے کے سے دست وگریبان ہوجائیں اور مسلم ملت کےاتحاد اور دنیا میں اسلامی ریاست کا قیام نہ ہوسکے۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی ریاست میں علاقائی حقوق کا تصور" پروفیسر عبدالخالق سہر یانی بلوچ کی ایک بے مثال تالیف ہے، جس میں موصوف نےایک نئے موضوع کو زیر بحث لایا...

  • 15 اسلامی ریاست میں محتسب کا کردار (جمعہ 19 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1922

    اسلامی نظام حکومت میں تمام امور قرآن وسنت کی ہدایات کی روشنی میں انجام دئیے جاتے ہیں اور پورے نظام کی اساس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر استوار ہوتی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔آج کی دنیا گو تہذیب وسائنس کی تمام تر کامرانیوں اور ترقیوں کے باوجود مصائب وآلام کے ایک لامتناہی دور سے گزر رہی ہے، تاہم عدل واخلاق سے محروم اور جور واستعمار سے معمور میکاولی سیاست کے برعکس ایک ایسی سیاست کے خدو خال اور اصول وضوابط بھی ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں، جس کی بنیاد اقوام عالم کے درمیان عدل وانصاف، اتحاد واتفاق اور مساوات پر رکھی گئی۔ اور یہ ریاست اسلا م کی سب سے پہلی ریاست تھی۔اسلام میں احتساب کا عمل روز اول سے ہی چلا آرہا ہے۔اور یہ انسانی کامیابی کا ضامن ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی ریاست میں محتسب کا کردار " محترم ڈاکٹر ایم ایس ناز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلامی ریاست میں محتسب کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں...

  • 16 اسلامی ریاست کے اساسی اصول و تصورات (پیر 07 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2920

    اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاستکی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا،بقول ڈاکٹرمحمود احمدغازیکے:”اسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چناں چہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کم زورپڑتاہے تو حکومت بھی کم زورپڑجاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہو تی ہے تودین بھی کم زورپڑجاتاہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔“(محاضراتِ شریعت :ص287) زیر تبصرہ کتاب&quo...

  • 17 اسلامی قانون فوجداری ترجمہ کتاب الاختیار (اتوار 29 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1647

    فوجداری ضابطہ یا ضابطہ تعزیرات ایک دستاویز ہے جس میں کسی مقام پر عمل در آمد ہونے والے تمام یا بیشتر جرائم کے قوانین کو یکجا کیا جاتا ہے۔ عموماً ایک ضابطہ تعزیرات جرائم کا احاطہ کرتا ہے جو عمل در آمد علاقے میں تسلیم کیے گئے ہیں، جرمانے جو ان جرائم پر عائد ہوتے ہیں اور کچھ مخصوص پہلوفوجداری ضابطے عمومًا دیوانی قوانین مشترک ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے قانونی نظاموں کی تشکیل پاتی ہے ان ضابطوں اور اصولوں پر جو نسبتاً مبہم ہیں اور انہیں معاملوں کی اساس پر رو بعمل لایا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شاذ و نادر ہی عام قانون عمل درآمد کرنے والے علاقوں میں نافذ العمل ہوتے ہیں۔انگریزوں کی واپسی کے بعد، تعزیرات ہند پاکستان کو ورثے میں ملا۔ بعد ازاں ان تعزیرات میں اسلامی قوانین فوجداری کی متعدد دفعات بھی شامل کی گئیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی قانون فوجداری ‘‘ مولانا سلامت علی خان المعروف حذاقت خان محمد پوری کی کتاب ’’ الاختیار‘‘ کا اردو ترجمہ ہے یہ کتاب 1212ھ میں قاضیوں اور عام تعلیم یافتہ حضرات کی رہنمائی کے لیے تیار کی گئی تھی اس کتاب کو اس وقت بڑی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ۔ قانون دان حضرات اسے استفادہ کرتے ہیں حتیٰ بعض مدارس حنفیہ میں یہ داخل نصاب ہے ۔صاحب کتاب محمد آباد میں عدالت مرافعہ میں بطور فیصلہ نویس وریسرچ آفیسر کام کرتے تھے۔انہوں نے اس کتاب میں تمام تعزیرات وجرائم کے متعلق اسلامی قانونِ فوجداری کی تمام دفعات مختلف ابواب وفصول میں فقہ حنفی کی مستند کتابوں کے حوالے سے نہایت جامعیت کے ساتھ جمع کردی ہیں ۔اس کت...

  • 18 اسلامی مملکت و حکومت کے بنیادی اصول (منگل 05 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2690

    قیامِ  پاکستان  کے ساتھ ہی یہ سوال  بہت اہمیت اختیار کرگیا کہ پاکستان میں کس قسم کانظام نافذ ہونا چاہیے ۔ مختلف ادوار میں مختلف ادارےوجود میں آئے جو ہمارے ارباب اقتدار کو یہ مشورہ دے سکیں کہ ہمارے  ملک  کانظام کس طرح اسلام کے زریں اصولوں کے مطابق ترتیب دیا جائے ۔اس  سلسلے  میں ڈاکٹر حمید اللہ او ر محمد اسد بھی مختلف ذمہ داریاں ادا کرتے  رہے۔زیر نظر کتاب ’’اسلامی مملکت وحکومت کے بنیادی اصول‘‘ محمداسد کے حکومتِ پاکستان کو  ایک اسلامی  مملکت  بنانےکے لیے کتابی صورت میں دیئے جانے والے مشورں  کا اردو ترجمہ  ہے  ۔ کتاب کے مصنف نو مسلم  ہیں  ۔انہوں نے  بڑی محنت سے  عربی زبان وادب اور علوم اسلامی کاعلم حاصل کیا اورقرآن مجیدکا انگریزی ترجمہ بھی  کیا اوراس  پر

  • 19 اسلامی نظام حکمرانی کے دنیاوی فوائد و ثمرات (منگل 13 جون 2017ء)

    مشاہدات:1155

    اسلام کا نظام ِ حکومت سیاسی دنیا کےلیے ناموسِ اکبر ہے حاکمیت کی جان ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کا مآخذ اللہ کاآخری قانون ہے۔تمام برائیوں کا خاتمہ کرتاہے ۔اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔ اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی حکومت کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور حکومت کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب &rsquo...

  • ہر مسلمان کا یہ دیرینہ مطالبہ اور تقاضا ہے کہ پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کیا جائے،اور اس کی زندگی کے تمام معاملات کا فیصلہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کیا جائے۔کیونکہ اسلام وہ عظیم الشان ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت ،عدالت ،معاشرت،سیاست اور ریاست سمیت زندگی کے ہر شعبے سے متعلق راہنمائی موجود ہے۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہر دور میں اس مطالبے اور خواہش کو زور زبر دستی ،لالچ یا حیلوں بہانوں سے دبا دیا گیا یا الجھا دیا گیا۔لیکن بعض ایسے دور اندیش افراد ہمیشہ موجود رہتے ہیں جو حالات کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے اپنے مشن پر چلتے رہتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " اکیسویں صدی کی جدید مثالی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے عظمت اسلام موومنٹ کا مجوزہ منشور "ایسے ہی ایک گمنام سپاہی میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کی "عظمت اسلام موومنٹ" نامی اپنی تحریک کے مجوزہ منشور کے طور پر مرتب کی ہے ،جس میں انہوں نے غیر اسلامی طرز حکومت کی خرابیوں اور نقائص کو اجاگر کرنے کے بعد جدید مثالی اسلامی فلاحی ریاست کے فوائد اور خدو خال کو واضح کیا ہے۔یہ کتاب تحریکی ذہن رکھنے والے حضرات اور اسلامی قانون کے نفاذ کے خواہش مند نوجوانوں کو ضرور پڑھنی چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1890
  • اس ہفتے کے قارئین: 12494
  • اس ماہ کے قارئین: 31787
  • کل قارئین : 47788770

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں