کل کتب 36

دکھائیں
کتب
  • 11 #1767

    مصنف : مارما ڈیوک ولیم پکتھال

    مشاہدات : 6473

    اسلامی ثقافت اور دور جدید

    (اتوار 28 جولائی 2013ء) ناشر : منشورات، لاہور

    مغرب اور اسلام یا اسلام اور مغرب اس دور کا گرم موضوع ہے ۔ چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی ہمیشہ ہی ستیزہ کار رہا ہے ۔ لیکن ہر دور کے  افراد اپنے دور کو ہی تاریخ سمجھتے ہیں ۔ جب کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہوتی ہے ۔ مغرب سے تعامل کی وجہ سے آج جو تہذیبی اور ثقافتی مسائل مسلمانوں کو درپیش ہیں محسوس ہوتا ہے کہ نئے اور جدید ہیں ۔ ماضی قریب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسے نئے اور جدید بھی نہیں ستر ، پچتر برس قبل اور اس سے بھی قبل ، ہندستان پر برطانوی قبضے کے بعد جو دور گزرا یہ اس دور کے بھی مسائل ہیں ۔ ان مسائل کے حوالے سے اسلامی مؤقف کو پیش کرنے کے لیے بہت کچھ لکھا گیا ۔ لیکن جو بات مغرب کے اپنے فرزندکی زبان و قلم سے ہو سکتی ہے و کسی سکہ بند عالم کے بیان میں شائد ملے ۔ محترم محمد مارما ڈیوک پکتھال ایک نومسلم عالم دین تھے ۔ وہ اپنی ذات میں ایک عالم ، ادیب ، صحافی ، محقق ، مفکر ، مترجم قرآن اور خطیب و مبلغ تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی اسلام کے احیا اور جدید دنیا کے سامنے اسلامی مؤقف واضح کرنے کی بھرپور کوشش فرمائی ۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔ موصوف نے امت کے جدید فکر مسائل میں اسلامی موقف کی بہترین ترجمانی فرمائی ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 12 #6530

    مصنف : پروفیسر جمیل واسطی

    مشاہدات : 930

    اسلامی روایات کا تحفظ

    (بدھ 23 مئی 2018ء) ناشر : مجلس فلاح و تعلیم لاہور

    اسلامی روایات کا تحفّظ انسانی بہبود کی اعلیٰ ترین کوشش کا تحفّظ ہے ۔ تمام مذاہب سچائی کے متلاشی ہیں ۔ لیکن ہر طرف منہ اٹھا کر چلتے رہنے سے ہم سچائی تک نہیں پہنچ سکتے کسی منزل تک پہنچنے کے لیے درست اور سیدھی راہ صرف ایک ہوا کرتی ہے اور مسلمانوں کے لیے نزدیک وہ شاہرہ اسلام ہے ۔ اسلام کے اصولوں پر عمل کرنا باطنی سچائی کو ظہور کا لباس پہنانا ہے ۔ روایت عمل کا تواتر ہے اس لیے اسلامی روایات کا تحفّظ انسانی زندگی میں دائمی صداقتوں کے اعلیٰ ترین اظہار کا تحفّظ ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ اسلامی روایات کا تحفظ ‘‘ پروفیسر سید محمد جمیل واسطی کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے اسلامی روایات کی موجود ہ صوت حال پر خشک منطق کی روشنی ڈالی ہے ۔ انہوں نے روایات کے متعلق مدافعت یا عذر خواہی کا رویّہ اختیار نہیں کیا بلکہ علم الاخلاق کے فلسفیوں اور ماہرین عمرانیات کی طرح نئے پید ا شدہ مسائل کے حقائق کو اضح کرنے کے عمل میں ہی پچھلے ہزار سال کے تجربہ کی روشنی میں ان مسائل کے تجزیہ او رتحلیل کی جانب رہنمائی کی ہے ۔اس کتاب میں ضروریات مضمون نے اردو زبان کے بیانی امکانات کو بھی واضح کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 13 #921

    مصنف : ول ڈیورانٹ

    مشاہدات : 16293

    انسانی تہذیب کا ارتقاء

    (جمعرات 25 اگست 2011ء) ناشر : فکش ہاؤس مزنگ لاہور

    تہذیب عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ تہذیب وہ معاشرتی ترتیب ہے جو ثقافتی تخلیق کو فروغ دیتی ہے ۔تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور فکر واحساس کی آئینہ دار ہوتی ہے۔چنانچہ زبان آلات واوزار ،پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے،رہن سہن،اخلاق وعادات،رسوم وروایات،علم وادب،حکمت وفلسفہ،عقاید،فنون لطیفہ،خاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر گردانے جاتے ہیں ۔زیر نظر کتاب معروف مفکر ول ڈیورانٹ کی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے جس میں اس نے انسانی تہذیب کے ارتقاء سے متعلق بحث کی ہے۔اس کتاب کا مقصد مغربی فکر سے قارئین کو روشناس کرانا ہے۔اسلامی نقطہ نظر جاننے کے لیے مولانا ابو الاعلی مودودی کی کتاب ’اسلامی تہذیب اور اس کے اصول مبادی‘کا مطالعہ مفید رہے گا۔(ط۔ا)

  • 14 #6766

    مصنف : خورشید احمد فاروق

    مشاہدات : 946

    برصغیر اور عرب مورخین

    (اتوار 16 ستمبر 2018ء) ناشر : نفیس اکیڈمی کراچی

    ہندوستانی موضوعات  پرلکھنے والے عہد وسطی کے عرب مصنفین ہندوؤں کو علم ودانش سے آراستہ قوم قرارد یتے ہیں۔ ان مصنفین نےہندو زندگی  سے متعلق موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔عربوں  نےقدیم ہندوستان کے بارے میں کیا اور کتنا لکھا یہ بتانا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ  ان  کی بہت سے اور بالخصوص معرکۃ الآراء کتابیں تنگ ذہن  علماء کےتعصب ،بے اعتنائی ، باہمی مسلکی او رمذہبی نزاع اور دوسرے آسمانی حوادث کی  نذر ہوگئی ہیں۔ مسلمانوں  نےاپنے  ابتدائی دور میں  سندھ کو ایک نئی تہذیب او ر کلچر سے آشنا کیاتھا  ۔ اس کی  تفصیل مختلف مؤرخوں کے بیانات سے ملتی ہے۔ جناب خورشید احمد فاروق کی زیر کتاب ’’ برصغیر او رعرب مؤرخین‘‘  مختلف مؤرخوں کےایسے ہی بیانات کا مجموعہ ہے۔ نیزیہ کتا ب محمود غزنوی سے پہلے کے ہندوستان (نویں،دسویں صدی عیسوی) کے مذہب ، تمدن ، علوم ، تاریخ اور تجارت وغیرہ سے متعلق عرب مؤلفوں کے بیانات پر مشتمل ہے۔تاکہ  اس  سے  وہ محققین مستفیض ہوسکیں جو یا تو عربی نہیں جانتے یا پھر  جن کےلیے مختلف عربی  ماخذات  تک رسائی حاصل کرنا نہایت مشکل ہے ۔(م۔ا) 

  • 15 #2971

    مصنف : مرزا محمد الیاس

    مشاہدات : 1779

    بنیاد پرستی اور تہذیبی کشمکش

    (منگل 10 مارچ 2015ء) ناشر : حرا پبلی کیشنز لاہور

    انسانی فکر میں اختلاف اور طرز فکر میں تنوع کا ہونا ایک فطری بات ہے بلکہ کسی بھی معاشرے کی نشوونما اور ارتقاءکی بہت بڑی ضرورت ہے۔ جب کوئی قوم اس دنیا کے لئے مثبت رول ادا کرنے کے قابل ہوتی ہے تو یہی فکری تنوع اس معاشرے کا ایک اثاثہ ہوتا ہے۔لیکن جب یہی قوم اس عالم کے لئے ایک بوجھ بن جاتی ہے تو پھر یہی فکری تنوع ایسا اختلاف اختیار کرلیتا ہے کہ ان کا اپنا اثاثہ ان پر بوجھ بن جاتا ہے۔مغربی تہذیب جسے مسیحی بنیاد پرستی کا نام دیا جانا ،زیادہ صحیح ہوگا،قرون وسطی کی صلیبی جنگوں بلکہ اس سے بھی قبل اسلام اور عالم اسلام کے خلاف محاذ آراء رہی ہے۔جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف روپ دھارے ہیں۔البتہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب ہو یا مسیحی بنیاد پرستی ،اسلام اور اسلامی اقدار ان کا بنیادی ہدف رہے ہیں۔بنیاد پرستی عصر حاضر کا ایک سلگتا ہوا موضوع ہے،جس کی سرحدوں کا تعین کرنا ایک مشکل امر ہے۔ایک طبقہ کے لئے ایک رویہ اگر بنیاد پرستی ہوتا ہے تو دوسرے طبقہ کے لئے وہی رویہ جائز اور عین درست ہوتا ہے۔جبکہ ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جوبنیاد پرستی کو کسی روئیے کے طور پر تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " بنیاد پرستی اور تہذیبی کشمکش " دنیا میں پائے جانے والے انہی رویوں اور بنیاد پرستی کے موضوع پر لکھی گئی ہے ،جو محترم مرزا محمد الیاس صاحب کی کاوش ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں بنیاد پرستی کا معنی ومفہوم،ہم بنیاد پرست کیوں؟اسلام یا اسلامی بنیاد پرستی،بنیاد پرستی،سیکولرازم اور سیاست،اسلام اور مغربی تہذیب،اسلام ایک سماجی عامل،مغرب کے خدشات،اسلام اہل مغرب کی نظر میں ،مغربی تہذیب کے مادی روئیے،مغرب اور قوم پرستی،اور انسانی حقوق کا مسئلہ جیسے اہم موضوعات زیر بحث لائے ہیں۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 16 #1788

    مصنف : ڈاکٹر فواد سیزگین

    مشاہدات : 6426

    تاریخ علوم میں تہذیب اسلامی کا مقام

    (پیر 19 اگست 2013ء) ناشر : ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد

    ازمنہ وسطی میں یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا ۔ توہمات و خرافات اس کے دینی عقائد کی حیثیت رکھتے تھے ۔ پھر یکایک تاریخ کے افق پرنشاۃ  ثانیہ  کے دور کا آغاز ہوا ۔جس میں یورپ بیدار ہو گیا ۔ اس  نے مذہبی توہمات کو دفن کر کے سائنس کو اپنا رہبر بنا لیا ۔ تاہم اس کےساتھ ساتھ مذہب کےخلا کو پرکرنے کے لیے الحاد کی طرف مائل ہوگیا ۔ یورپ میں عام طور پر یہ متصور کرایا جاتا ہے کہ اہل یورپ کی یہ بیداری کا سفر یونان  سے شروع ہوا ۔ اور یونان سے  یورپ  اس شاہراہ پر گامزن ہوا ۔ اس دوران مسلمانوں کو تاریخ  کے صفحات سے حذف کر دیا جاتا ہے ۔ زیرنظر کتاب اس اعتراض کو یا اس طرح دیگر اعتراضات کو رفع کرنے کے لیے خطبات کا ایک مجموعہ ہے جو محترم نو مسلم موصوف نے  ریاض  یونیورسٹی  میں  دیے تھے ۔ جن میں اسلام کی ابتدا سے  لے کر چار سو تیس ہجری  تک کے عربی زبان میں مختلف علوم و فنون کا ایک فاضلانہ جائزہ لیا گیا ہے ۔ چناچہ اس سلسلے میں اس کتاب کا مقصد قرآن ، حدیث ، تاریخ ، فقہ ، عقائد ، تصوف ، شاعری  ، لغت  ،  نحو ، بلاغت  ، طب ، بیطرہ ، علم الحیوان ،کیمیا ، نباتیات ، زراعت ، ریاضیات ، فلکیات ، احکامالنجوم ، آثارعلویہ ، فلسفہ ، منطق ، نفسیات ، اخلاق ، سیاسیات ، علم الاجتماع ، جغرافیہ ، طبعیات ، ارضیات اور موسیقی جیسے متنوع میدانوں میں مسلمانوں اور عربوں کے کام کا تعارف کروانا ہے ۔ اور ان علوم پر پائے جانے والے دنیا بھر میں عربی مخطوطات  کی  نشاندہی  کرنا ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 17 #2922

    مصنف : ڈاکٹر خالد علوی

    مشاہدات : 2792

    تعلیم اور جدید تہذیبی چیلنج

    (جمعرات 26 فروری 2015ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد

    تعلیم حیات انسانی کا وہ تجربہ ہے جس پر اس کے وجود اور بقاء کا انحصار ہے۔تعلیم ہی وہ عمل ہے جو حیات انسانی کے قافلے کو رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔تعلیم ہی کے ذریعے سے ایک نسل کے تجربات دوسری نسل تک پہنچتے ہیں اور تعلیم ہی وہ اساس ہے جس پر حیات انسانی کی عمارت قائم ہے۔اسلامی تہذیب کی اساس اگرچہ ایمان پر قائم ہے مگر وہ تعقل سے صرف نظر نہیں کرتی ہے۔اسلامی تہذیب نے  محسوسات کا ادراک کیا ہے اور اس کی حقیقت کو تسلیم کیا ہےلیکن اسے ما بعد الطبیعات سے منسلک کیا ہے۔انسان اور کائنات کے بارے میں اسلامی تہذیب کا اساسی نقطہ یہ ہے کہ ان دونوں کی تخلیق میں ایک مقصدیت پائی جاتی ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے انسان کا وجود بے مقصد ہے اور نہ ہی کائنات کی تخلیق وتنظیم بے سبب۔ارشاد باری تعالی ہے۔ أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ * فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ‏) (المؤمنون 115-116)"کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پید اکیا ہےاور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے۔پس بالا وبرتر ہے باشاہ حقیقی۔کوئی اس کے سوا معبود نہیں ،مالک ہے عرش عظیم کا۔جبکہ جدید تہذیب مادہ پرست،قوم پرسی اور خود غرضی کے اصولوں پر استوار ہے۔اس تہذیب کے متعدد ایسے پہلو ہیں جن کا تنقیدی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تعلیم اور جدید تہذیبی چیلنج " دعوہ اکیڈمی اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائرکٹر جنرل محترم ڈاکٹر خالد علوی صاحب کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے تعلیم کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے تہذیب مگرب کے نقائص کو عیاں کیا ہے۔(راسخ)

  • 18 #5895

    مصنف : ڈاکٹر صفدر سلطان اصلاحی

    مشاہدات : 1300

    تہذیب و سیاست کی تعمیر میں اسلام کا کردار

    (منگل 25 جولائی 2017ء) ناشر : ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ
  • 19 #930

    مصنف : سموئیل پی ہنٹنگٹن

    مشاہدات : 17352

    تہذیبوں کا تصادم

    (جمعرات 18 اگست 2011ء) ناشر : مثال پبلیشنگ لاہور

    یہ کتاب معروف امریکی سکالر سیموئیل پی ہنٹنگٹن کی تصنیف ہے ۔مصنف نے اس میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا عالمی سیاست کے مستقبل میں تہذیبوں کے درمیان جھگڑے جاری رہیں گے؟پھر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔مصنف کی نظر میں تہذیبوں کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا بین الاقوامی نظام،جنگ سے بچاؤ کا واحد وسیلہ ہے ۔مسٹر ہنٹنگٹن نے واضح کیا ہے کہ مسلم ممالک میں آبادی کا دھماکہ خیز اضافہ اور مشرقی ایشیاء کا معاشی ابھار عالمی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے ۔ان پیش رفتوں نے مغربی بالا دستی کو چیلنج کیا ہے اور نام نہاد مغربی آفاقی تصورات کی مخالفت کو فروغ دیا ہے نیز نیو کلیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ،ترک وطن،انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے مسائل کے حوالے سے تہذیبی جھگڑے کو بھڑکایا ہے ۔یہ کتاب یقینی طور پر دنیا میں سب سے زیادہ موضوع بحث بننے والی کتابوں سے ایک ہے۔

  • 20 #6283

    مصنف : سموئیل پی ہنٹنگٹن

    مشاہدات : 1703

    تہذیبوں کا تصادم ( ڈاکٹر سہیل انجم )

    (بدھ 07 فروری 2018ء) ناشر : اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس

    ۱۴۰۰ء سال کی تاریخ میں اسلامی دنیا اور مغرب کے درمیان تعامل کو تہذیبی تصادم کی صورت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہم صلیبی جنگوں کا حوالہ دے سکتے ہیں جو ہم نے اسلام کے خلاف مغربی ایشیا اور اَندلس میں لڑیں۔ ہم سالانہ عثمانی مہم کا یورپ میں حوالہ دے سکتے ہیں جس نے مقدس جنگ کی شکل دھار لی۔ کیا ہم اپنے آپ کو کئی سو سالوں کی مناظرانہ تحریروں کے وِرثے سے جو مغرب نے اسلام کے خلاف پیدا کیا، بیگانہ کرسکتے ہیں؟ بالکل اس طرح جیسے مسلمانوں نے اُنیسویںصدی تک یورپی تہذیب کوغیر اہم خیال کرکے کیا۔لیکن، متبادل طور پر، ہم وہ بھی کرسکتے ہیں جو زیادہ تر علما آج کررہے ہیں۔ وہ یہ کہ ہم دیکھیں کہ عیسائی اور مسلم تہذیب نے تاریخ کے ان سالوں میں کیسے فائدہ مند معاملہ کیا اور ایک دوسرے کو بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب تمام مسلم امت کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ ماضی میں کی ہوئی غلطیوں پر قابو پا لیں اوران شاء اللہ ایک دن عالمی نظام کی تشکیل مسلمانوں کے ہاتھ آ جائےگی۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو‘‘ معروف امریکی سکالر سیموئیل پی ہنٹنگٹن کی تصنیف ہے ۔ جس کا اردو ترجمہ سہیل انجم صاحب نے کیا ہے۔ مصنف نے اس میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا عالمی سیاست کے مستقبل میں تہذیبوں کے درمیان جھگڑے جاری رہیں گے؟پھر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔مصنف کی نظر میں تہذیبوں کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا بین الاقوامی نظام،جنگ سے بچاؤ کا واحد وسیلہ ہے ۔مسٹر ہنٹنگٹن نے واضح کیا ہے کہ مسلم ممالک میں آبادی کا دھماکہ خیز اضافہ اور مشرقی ایشیاء کا معاشی ابھار عالمی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے ۔ان پیش رفتوں نے مغربی بالا دستی کو چیلنج کیا ہے اور نام نہاد مغربی آفاقی تصورات کی مخالفت کو فروغ دیا ہے نیز نیو کلیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ،ترک وطن،انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے مسائل کے حوالے سے تہذیبی جھگڑے کو بھڑکایا ہے ۔یہ کتاب یقینی طور پر دنیا میں سب سے زیادہ موضوع بحث بننے والی کتابوں سے ایک ہے۔

< 1 2 3 4 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1738
  • اس ہفتے کے قارئین 7723
  • اس ماہ کے قارئین 46117
  • کل قارئین49335750

موضوعاتی فہرست