کل کتب 26

دکھائیں
کتب
  • 21 #870

    مصنف : ابو الاسجد

    مشاہدات : 18204

    مفتی تقی عثمانی کا رجوع

    (پیر 18 جولائی 2011ء) ناشر : www.KitaboSunnat.com

    جناب مفتی تقی عثمانی صاحب دیوبندی مکتب فکر کی معروف شخصیت ہیں۔آپ مولانا مفتی محمد شفیع کے صاحبزادے اور بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں۔موصوف وفاقی شرعی عدالت کے جج بھی رہ چکے ہیں آج کل آپ اسلامی بینکوں کی سرپرستی فرمارہے ہیں اور حیلوک کے ذریعے ’مروجہ اسلامی بینکاری‘کے جواز کا فتوی دے رہے ہیں۔مفتی تقی عثمانی صاحب کی ایک کتاب’فقہی مقالات‘ہے جو ان کے فقہی مضامین کا مجموعہ ہے ۔اس کی چوتھی جلد میں موصوف نے ’حرام اشیاء سے علاج‘کے ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے بعض کبار حنفی علما  کے حوالے سے یہ فتوی دیا کہ علاج کی خاطر سورہ فاتحہ کو پیشاب اور خون سے لکھا جائز ہے ۔اس پر عامۃ المسلمین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تو مفتی صاحب نے ’اسلام‘اقبار میں یہ وضاحت کی وہ نجاست سے سورہ فاتحہ کے لکھنے کو جائز نہیں سمجھتے۔زیر نظر مختصر کتابچہ میں ان کے اس وضاحتی بیان کا جائزہ لیتے ہوئے اس مسئلہ سے متعلق احناف کے نقطہ نظر پر تنقیدی نگاہ ڈالی گئی ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے حق کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ان شاء اللہ۔(ط۔ا)

  • 22 #6846

    مصنف : سید سابق مصری

    مشاہدات : 1600

    کتاب الزواج المعروف خاندانی نظام ( فقہ السنہ)

    (جمعرات 10 جنوری 2019ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    خاندانی نظام کےسلسلے میں جو اصول شریعتِ اسلامیہ  نے متعارف کرائے ہیں  ان پر عمل پیرا ہو کرایک کامیاب زندگی گزاری جاسکتی ہےکیونکہ ان کی اساس حقوق کی ادائیگی اور احساسِ ذمہ داری ہے ۔اور اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے   پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش   آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے   لیے  نبی ﷺ کی  ذاتِ مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص   برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں    اور ان  رسومات میں بہت   زیادہ   فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے   جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان  مواقع پر  تمام  رسوم تو ادا کی جاتی  ہیں   ۔لیکن  لوگوں کی اکثریت  فریضہ  نکاح کے  متعلقہ مسائل  سے  اتنی غافل ہے  کہ میاں   کو بیو ی کے حقوق  علم نہیں ،  بیوی   میاں  کے حقوق  سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے  نابلد ہے ۔ زیر نظر کتا ب ’’ کتاب الزواج المعروف  خاندانی نظام ‘‘مشہور   مصری عالم دین  سید سابق کی فقہ کی معروف کتاب ’’ فقہ السنۃ‘‘  میں سے کتا ب النکاح والطلاق کا اردو ترجمہ ہے ۔فقہ السنہ کےیہ ابواب  چونکہ  وفاق المدارس سلفیہ کےنصاب میں شامل ہیں۔ طلبا وطالبات  کی ضروت  وآسانی کے پیش نظر  جناب ڈاکٹر عبد الکبیر محسن ﷾ نےاسے  اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔یہ کتاب خاندانی نظام سےمتعلق بہترین معلومات اور اسلامی تعلیمات کا انسائیلوپیڈیا ہے جس میں نکاح کی اہمیت وفضلیت ، تعدد  ازواج کی حکمت، حسن  معاشرت، اورازدواجی زندگی کے مسائل سمیت طلاق کے اہم مباحث بھی شامل ہیں۔شارح بخاری مفتی جماعت  شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد الستار حماد ﷾ کی کتاب ہذا کی نظر ثانی سے اس کی اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے ۔کتاب میں موجود احادیث کو علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کے صحت وضعف کےحکم سے مزین کیاگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مترجم وناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت  سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)

  • 23 #6755

    مصنف : حماد اللہ وحید

    مشاہدات : 1129

    کتاب النفقات اور اسلامی ممالک میں رائج الوقت قوانین

    (پیر 27 اگست 2018ء) ناشر : زمزم پبلشرز کراچی

    نفقہ کا لفظی معنیٰ خرچ کرنے کےہیں لغت میں اس شئی کو کہتے ہیں  جو انسان اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے ۔ اصطلاح فقہ میں ایک شخص کا دوسرے کی محنت کے عوض ضروریات زندگی فراہم کرنے کو نفقہ کہتے ہیں۔ چنانچہ شوہر کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی زوجہ کو اپنے پاس روکے رکھے جس کا معاوضہ نفقہ کی صورت میں ادا کرنا  واجب ہے ۔ اس کا وجوب کتاب اللہ  سے ثابت ہے ۔ ارشاد ربانی ہے :وَ عَلی الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَ كِسوَتهُنَّ بِالمَعْرُوفِ صاحب اولاد کا فرض ہے کہ ماؤں کی روٹی اور کپڑے کا مناسب طریقہ سے انتظام کرے۔‘‘اسی طرح  دوسری جگہ ارشاد فرمایا:اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ’’ مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خد انے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے۔‘‘ نفقہ میں  خوراک ، لباس ، مسکن  اور دیگر اشیاء ضرورت وغیرہ شامل   ہیں ۔ کتب فقہ میں اس کے تفصیلی احکام  مختلف اوراق اور ابواب میں ایسے یھیلے ہوئے ہیں کہ  جس  سے  عام آدمی کےلیےاستفادہ کرنا مشکل کام ہے ۔محترم جناب مولانا مفتی حماد اللہ وحید صاحب (رئیس دار الافتاء جامعہ انوار القرآن ،کراچی )  نے ان منتشر جواہر پاروں کو اس کتاب ’’کتاب النفقات  ‘‘ میں یکجا کردیا ہے  ۔ فاضل مصنف نے  حتی الامکان کوشش کی  ہے  کہ موضوع سے متعلق تمام مباحث کو کتاب میں مختصراً سمو دیا  ہے ۔ (م۔ا) 

  • 24 #6754

    مصنف : ڈاکٹر مفتی عمران الحق کلیانوی

    مشاہدات : 1152

    کتاب الکفالہ و النفقات اسلام کا نظام کفالت ایک تحقیقی جائزہ

    (اتوار 26 اگست 2018ء) ناشر : دارالاشاعت اردوبازارکراچی

    کفالت یا تکفیل کے لغوی معنی ذمہ داری ، ضمانت، پرورش  کرنا او رکسی پر خرچ کرنے کے ہیں شرعاً کفالت اس کو کہتے ہیں کہ اصیل سےہٹا کر کفیل کے ذمہ کو ئی کام ڈال دینا۔مکفول کی کفالت کیوں کہ کفیل کے ذمہ  ہوتی ہےاس لیے نان نفقہ پر اسی کفالت کا اطلاق کیا جاتا ہے  کیوں کہ کفیل اپنے زیر کفالت افراد کو کھانے پینے ، رہنے سہنے اور دیگر اخراجات میں  اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور ان کی پرورش اور خبر گیری کرتا ہے۔تو یہ کافل یا کفیل کہلاتا ہے اورجن کی یہ کفالت کرتا ہے  وہ مکفول  کہلاتے ہیں  او ریہ عمل  کفالت کہلاتا ہے۔ نفقہ کا لفظی معنیٰ خرچ کرنے کےہیں لغت میں اس شئی کو کہتے ہیں  جو انسان اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے ۔کفالت نفقات کے ہم معنی بھی  ہے کیونکہ  عام طور پر فقہاء نے کفالت کے باب کو باب النفقات ہی کے نام  سے موسوم کیا ہے ۔ قرآن مجید میں  کہیں  ماں باپ پر اولاد کی کفالت واجب فرمائی کہیں اولادپر ماں باپ کی  کفالت کہیں یتیم کی کفالت ،کہیں فقراء ومساکین کی ، مسافرین ومجاہدین کی کفالت ، کہیں معذورین کی کفالت ، کہیں حکمران کے ذمہ اپنی رعایا کی کفالت کا  ذکر ہے۔الغرض قرآن کریم ’’ نظام کفالت‘‘ کی  تعلیم سے لبریز ہے اور جو فرد اپنے کفالتی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا اس کےلیے شدید عذاب کی وعید  ہے ۔ نفقہ کے موضوع پر مفتی حماد اللہ وحید (رئیس دار الافتاء جامعہ انوار القرآن ،کراچی )   کی مستقل  کتاب ’’کتاب النفقات  ‘‘  ہے  جو کتاب وسنت سائٹ موجود ہے ۔  زیر تبصرہ کتاب  ’’ کتاب الکفالہ والنفقات ‘‘     ڈاکٹر  مفتی عمران  الحق  کلیانوی ( مشیر مذہبی  امور جامعہ کراچی ) کا دراصل پی ایچ ڈی کا  وہ  تحقیقی مقالہ ہے ۔  جسے موصوف نے 2002ء  میں جامعہ کراچی  میں پیش  کر کے  ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل  کی ۔اس  میں انہوں نے  محققانہ انداز میں اسلام  کے نظام کفالت و نفقات   کا دیگر نظاموں اور مذاہب کے نظام کفالت او رنفقات سے  تقابل اور    تنقیدی جائزہ پیش کر کےیہ ثابت  کر نے کی کوشش کی ہے کہ   اسلام نے جو  انسانی ہمدردی کی تعلیم دی  ہے خصوصاً معاش   جو  کہ  جینے کے لیے  ہر ایک کا بنیادی  حق ہے تو اس کے لیے    اسلام نے جو نظام کفالت   قائم کیا ہے  آج بھی کوئی  نظام کوئی مذہب کو ئی  قوم اسلامی نظام کفالت  کےمقابلے میں ایک عشر عشیر بھی پیش نہیں کرسکتا۔اور معاشرت ، معیشت اور سیاست سے متعلق اسلام  کی جو عملی تعلیمات موجود ہیں مذاہب باطلہ  اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔(م ۔ا) 

  • 25 #2698

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3984

    کسی دوسرے کا بچہ گود لینا

    (منگل 02 دسمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    اللہ تعالیٰ نےدنیاکی  ہر نعمت ہر انسان کوعطا نہیں کی بلکہ اس نے فرق رکھا ہے  اور یہ فرق بھی اس کی تخلیق کا کمال ہے کسی کو اس نے صحت  قابلِ رشک عطا کی  کسی کو علم دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا،کسی کودولت کم دی کسی کوزیادہ دی ،کسی کو  بولنے کی صلاحیت غیرمعمولی عطا کی ، کسی کو کسی ہنر میں طاق بنایا، کسی کودین  کی رغبت وشوق دوسروں کی نسبت زیادہ  دیا کسی کو بیٹے دئیے، کسی کو بیٹیاں ، کسی کو بیٹے بیٹیاں، کسی کو اولاد  زیادہ دی ، کسی کوکم اور کسی کو دی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اولاد کی محبت اور خواہش رکھ دی  ہے ۔ زندگی کی گہما گہمی اور رونق اولاد ہی کےذریعے قائم ہے ۔ یہ اولاد ہی ہےجس کےلیے  انسان  نکاح کرتا ہے ،گھر بساتا ہے اور سامانِ زندگی حاصل کرتا ہے لیکن اولاد کے  حصول میں انسان بے بس اور بے اختیار ہے  ۔ اللہ تعالیٰ نےاس نعمت کی عطا  کا مکمل اختیار اپنےہاتھ میں رکھا۔اس اولاد سےمحروم والدین کوجان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ  نے جس کےلیے  جومناسب جانا وہی اسے  دیا۔ لہذا  اولاد کی محرومی کی صورت میں انہیں شکوہ شکایت یا ناشکری کرنے کی بجائے قناعت اور شکر سے کا م لینا چاہیے ۔اگر علاج معالجہ کا مسئلہ ہو تو اس کے لیے   کوشش وکاوش  جاری رکھی جاسکتی ہے ۔لیکن غیرشرعی طریقوں سے حصول اولاد کی کوشش کرنا  جائز  نہیں۔دنیا کے  قدیم جاہلی معاشروں  سے لے کر دور ِ حاضر  کے ہر معاشرے میں بے اولاد والدین نے اپنی محرومی کا ازالہ کرنے کےلیے  مختلف صورتیں ایجاد کیں جن میں  بعض   درج  ذیل ہیں۔کسی مفلس والدین کے ہاں بچہ پیدا ہوتے ہی یا پیدا ہونے سے پہلے ہی  خرید لیا  اور ہمیشہ  کے لیے اس کی ولدیت اور نام ونسب  کا حق محفوظ کرلیا۔بعض لوگ کسی  رشتہ دار  یا غیر آدمی کا بچہ لے کر اس کی ولدیت اپنے نام سے جوڑ لیتے ہیں اوراس بناوٹی بیٹے یا بیٹی کووہ تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں جو سگی اولاد کو  حاصل  ہوتے  ہیں۔بعض مرد اپنے سگے بھائی یا  اپنے چچا زاد بھائی  کا بیٹا یا بیٹی گود لے کر  اس کی ولدیت اپنے نام کے ساتھ نتھی کرلیتے  ہیں ۔ ہندوؤں میں بھی اس کی  مختلف صورتیں موجود ہیں۔اور اہل عرب کےہاں جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ کسی دوسرے کابچہ بڑی عمر کاہوتا یا چھوٹی عمر کا اس کے اصل والدین سے معاہدہ کر کے اس  کاحق ولدیت اپنے نام کرالیتے اور معاہدے کا اعلان کعبہ میں یا معتبر افراد کی موجودگی میں کیاجاتا ۔ لیکن اسلام نے ان  تمام   طریقوں کو ختم کردیا اور اللہ  تعالیٰ نے حکم دیا:کہ لے پالک بچوں کی نسبت ان کے حقیقی باپوں ہی کی طرف کی جائے ، جن کی پشت سے وہ پیدا ہوئے ہیں ۔ اور اگر ان کےحقیقی باپوں کاعلم نہ ہو تو وہ پھر وہ دینی بھائی اور متبنی بنانے والے اور دیگر مسلمانوں کے دوست ہیں ۔ اللہ تعالینے اس بات کو حرام قرار دے دیاکہ بچے کی لے پالک بنانےوالے کی طرف حقیقی نسبت کی جائےبلکہ بچے کے لیے بھی اس بات کو حرام قرار دے دیا کہ وہ اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے ، البتہ اگر زبان کی کسی غلطی کی وجہ سے ایسا ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، اللہ سبحانہ و تعالی نے واضح فرمایا ہے کہ یہ حکم عین عدل و انصاف پر مبنی ہے ، یہی سچی بات ہے ، اس میں انساب اور عزتوں کی حفاظت بھی ہے اور ان لوگوں کےمالی حقوق کی حفاظت بھی ، جو ان کے زیادہ حق دار ہیں ۔ ارشاد باری تعالی ہے :﴿وَما جَعَلَ أَدعِياءَكُم أَبناءَكُم ۚ ذ‌ٰلِكُم قَولُكُم بِأَفو‌ٰهِكُم ۖ وَاللَّهُ يَقولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِى السَّبيلَ ﴿٤﴾ ادعوهُم لِءابائِهِم هُوَ أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَم تَعلَموا ءاباءَهُم فَإِخو‌ٰنُكُم فِى الدّينِ وَمَو‌ٰليكُم ۚ وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورً‌ا رَ‌حيمًا ﴿٥﴾... سورةالاحزاب"اورنہ تمہارے لے پالکوں کوتمہارے بیٹے بنایا ، یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ تعالی توسچی بات فرماتا ہے اور وہ سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ مومنو! لے پالکوں کو ان کے( اصلی ) باپوں کےنام سے پکارا کرو کہ اللہ کےنزدیک یہ بات درست ہے۔ اگر تم کو ان سےباپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سےغلطی سےہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو قصد دل سے کرو ( اس پر مؤاخذہ ہے )اوراللہ بڑا بخشنے ولا نہایت  مہربان ہے ۔‘‘نبی ﷺ نے فرمایاہے :مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ، (سنن ابی داؤد: 5115)’’جو شخص اپنےباپ کے علاوہ کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعو ی کرے یا (کوئی غلام ) اپنے آقاؤں کی بجائےدوسروں کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر اللہ تعالی کی مسلسل لعنت ہو ۔‘‘اللہ سبحانہ وتعالی نے منہ لولے بیٹے کے دعوے کو ،جس کو کوئی حقیقت نہیں ہوتی ، مسترد کردیا ، اس لیے اس سے متعلق وہ تمام احکام بھی ختم ہوگئے ، جن پر زمانہ جاہلیت میں عمل ہوتا تھا اور پھر اسلام کے ابتدائی دور تک ہوتا رہا ۔ زیر نظرکتابچہ ’’  محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  کی  کاوش ہے جس میں انہوں نے کسی  دوسرےکا بچہ گود لینے کی شرعی حیثیت اور اسے کے احکام ومسائل اور  اس سلسلے میں پیش  آنے مفاسد کا  آسان فہم  میں  ذکر کیا ہے  اوراولاد سے  محروم والدین کےلیے اس کی متبادل صورتیں بھی پیش کی ہیں۔اللہ تعالیٰ  مصنفہ کی اس  کاوش کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

  • 26 #5572

    مصنف : محمد جونا گڑھی

    مشاہدات : 883

    ہدایت محمدی

    (پیر 26 جون 2017ء) ناشر :

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔لیکن بعد میں آنے والوں نے اسلام کی روشن تعلیمات کو چھوڑ کر اپنے علما کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور بہت ساری ایسی باتیں تحریر کر دیں جو قرآن وحدیث کے صریح مخالف ہیں۔انہی کتابوں میں سے ایک فقہ حنفی کی معروف ترین کتاب ہدایہ ہے، جس میں متعدد مسائل قرآن وحدیث کے خلاف بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "ہدایت محمدی" خطیب الہند مولانا محمد صاحب محدث جونا گڑھی﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے فقہ حنفی کی اعلی ترین کتاب ہدایہ کے 100 مسائل کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 523
  • اس ہفتے کے قارئین 2449
  • اس ماہ کے قارئین 40843
  • کل قارئین49273049

موضوعاتی فہرست