دکھائیں کتب
  • 21 مفتی تقی عثمانی کا رجوع (پیر 18 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:17789

    جناب مفتی تقی عثمانی صاحب دیوبندی مکتب فکر کی معروف شخصیت ہیں۔آپ مولانا مفتی محمد شفیع کے صاحبزادے اور بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں۔موصوف وفاقی شرعی عدالت کے جج بھی رہ چکے ہیں آج کل آپ اسلامی بینکوں کی سرپرستی فرمارہے ہیں اور حیلوک کے ذریعے ’مروجہ اسلامی بینکاری‘کے جواز کا فتوی دے رہے ہیں۔مفتی تقی عثمانی صاحب کی ایک کتاب’فقہی مقالات‘ہے جو ان کے فقہی مضامین کا مجموعہ ہے ۔اس کی چوتھی جلد میں موصوف نے ’حرام اشیاء سے علاج‘کے ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے بعض کبار حنفی علما  کے حوالے سے یہ فتوی دیا کہ علاج کی خاطر سورہ فاتحہ کو پیشاب اور خون سے لکھا جائز ہے ۔اس پر عامۃ المسلمین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تو مفتی صاحب نے ’اسلام‘اقبار میں یہ وضاحت کی وہ نجاست سے سورہ فاتحہ کے لکھنے کو جائز نہیں سمجھتے۔زیر نظر مختصر کتابچہ میں ان کے اس وضاحتی بیان کا جائزہ لیتے ہوئے اس مسئلہ سے متعلق احناف کے نقطہ نظر پر تنقیدی نگاہ ڈالی گئی ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے حق کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ان شاء اللہ۔(ط۔ا)

  • 22 کتاب الزواج المعروف خاندانی نظام ( فقہ السنہ) (جمعرات 10 جنوری 2019ء)

    مشاہدات:1424

    خاندانی نظام کےسلسلے میں جو اصول شریعتِ اسلامیہ  نے متعارف کرائے ہیں  ان پر عمل پیرا ہو کرایک کامیاب زندگی گزاری جاسکتی ہےکیونکہ ان کی اساس حقوق کی ادائیگی اور احساسِ ذمہ داری ہے ۔اور اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے   پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش   آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے   لیے  نبی ﷺ کی  ذاتِ مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص   برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں    اور ان  رسومات میں بہت   زیادہ   فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے   جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان  مواقع پر  تمام  رسوم تو ادا کی جاتی  ہیں   ۔لیکن  لوگوں کی اکثریت  فریضہ  نکاح کے  متعلقہ مسائل  سے  اتنی غافل ہے  کہ میاں   کو بیو ی کے حقوق  علم نہ...

  • نفقہ کا لفظی معنیٰ خرچ کرنے کےہیں لغت میں اس شئی کو کہتے ہیں  جو انسان اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے ۔ اصطلاح فقہ میں ایک شخص کا دوسرے کی محنت کے عوض ضروریات زندگی فراہم کرنے کو نفقہ کہتے ہیں۔ چنانچہ شوہر کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی زوجہ کو اپنے پاس روکے رکھے جس کا معاوضہ نفقہ کی صورت میں ادا کرنا  واجب ہے ۔ اس کا وجوب کتاب اللہ  سے ثابت ہے ۔ ارشاد ربانی ہے :وَ عَلی الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَ كِسوَتهُنَّ بِالمَعْرُوفِ صاحب اولاد کا فرض ہے کہ ماؤں کی روٹی اور کپڑے کا مناسب طریقہ سے انتظام کرے۔‘‘اسی طرح  دوسری جگہ ارشاد فرمایا:اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ’’ مرد عورتوں کے حاکم اور نگراں ہیں ان فضیلتوں کی بنا پر جو خد انے بعض کو بعض پر دی ہیں اور اس بنا پر کہ انہوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ کیا ہے۔‘‘ نفقہ میں  خوراک ، لباس ، مسکن  اور دیگر اشیاء ضرورت وغیرہ شامل   ہیں ۔ کتب فقہ میں اس کے تفصیلی احکام  مختلف اوراق اور ابواب میں ایسے یھیلے ہوئے ہیں کہ  جس  سے  عام آدمی کےلیےاستفادہ کرنا مشکل کام ہے ۔محترم جناب مولانا مفتی حماد اللہ وحید صاحب (رئیس دار الافتاء جامعہ انوار القرآن ،کراچی )  نے ان منتشر جواہر پاروں کو...

  • کفالت یا تکفیل کے لغوی معنی ذمہ داری ، ضمانت، پرورش  کرنا او رکسی پر خرچ کرنے کے ہیں شرعاً کفالت اس کو کہتے ہیں کہ اصیل سےہٹا کر کفیل کے ذمہ کو ئی کام ڈال دینا۔مکفول کی کفالت کیوں کہ کفیل کے ذمہ  ہوتی ہےاس لیے نان نفقہ پر اسی کفالت کا اطلاق کیا جاتا ہے  کیوں کہ کفیل اپنے زیر کفالت افراد کو کھانے پینے ، رہنے سہنے اور دیگر اخراجات میں  اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور ان کی پرورش اور خبر گیری کرتا ہے۔تو یہ کافل یا کفیل کہلاتا ہے اورجن کی یہ کفالت کرتا ہے  وہ مکفول  کہلاتے ہیں  او ریہ عمل  کفالت کہلاتا ہے۔ نفقہ کا لفظی معنیٰ خرچ کرنے کےہیں لغت میں اس شئی کو کہتے ہیں  جو انسان اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے ۔کفالت نفقات کے ہم معنی بھی  ہے کیونکہ  عام طور پر فقہاء نے کفالت کے باب کو باب النفقات ہی کے نام  سے موسوم کیا ہے ۔ قرآن مجید میں  کہیں  ماں باپ پر اولاد کی کفالت واجب فرمائی کہیں اولادپر ماں باپ کی  کفالت کہیں یتیم کی کفالت ،کہیں فقراء ومساکین کی ، مسافرین ومجاہدین کی کفالت ، کہیں معذورین کی کفالت ، کہیں حکمران کے ذمہ اپنی رعایا کی کفالت کا  ذکر ہے۔الغرض قرآن کریم ’’ نظام کفالت‘‘ کی  تعلیم سے لبریز ہے اور جو فرد اپنے کفالتی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا اس کےلیے شدید عذاب کی وعید  ہے ۔ نفقہ کے موضوع پر مفتی حماد اللہ وحید (رئیس دار الافتاء جامعہ انوار القرآن ،کراچی )  فقہ اسلامی 

  • 25 کسی دوسرے کا بچہ گود لینا (منگل 02 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:3748

    اللہ تعالیٰ نےدنیاکی  ہر نعمت ہر انسان کوعطا نہیں کی بلکہ اس نے فرق رکھا ہے  اور یہ فرق بھی اس کی تخلیق کا کمال ہے کسی کو اس نے صحت  قابلِ رشک عطا کی  کسی کو علم دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا،کسی کودولت کم دی کسی کوزیادہ دی ،کسی کو  بولنے کی صلاحیت غیرمعمولی عطا کی ، کسی کو کسی ہنر میں طاق بنایا، کسی کودین  کی رغبت وشوق دوسروں کی نسبت زیادہ  دیا کسی کو بیٹے دئیے، کسی کو بیٹیاں ، کسی کو بیٹے بیٹیاں، کسی کو اولاد  زیادہ دی ، کسی کوکم اور کسی کو دی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اولاد کی محبت اور خواہش رکھ دی  ہے ۔ زندگی کی گہما گہمی اور رونق اولاد ہی کےذریعے قائم ہے ۔ یہ اولاد ہی ہےجس کےلیے  انسان  نکاح کرتا ہے ،گھر بساتا ہے اور سامانِ زندگی حاصل کرتا ہے لیکن اولاد کے  حصول میں انسان بے بس اور بے اختیار ہے  ۔ اللہ تعالیٰ نےاس نعمت کی عطا  کا مکمل اختیار اپنےہاتھ میں رکھا۔اس اولاد سےمحروم والدین کوجان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ  نے جس کےلیے  جومناسب جانا وہی اسے  دیا۔ لہذا  اولاد کی محرومی کی صورت میں انہیں شکوہ شکایت یا ناشکری کرنے کی بجائے قناعت اور شکر سے کا م لینا چاہیے ۔اگر علاج معالجہ کا مسئلہ ہو تو اس کے لیے   کوشش وکاوش  جاری رکھی جاسکتی ہے ۔لیکن غیرشرعی طریقوں سے حصول اولاد کی کوشش کرنا  جائز  نہیں۔دنیا کے  قدیم جاہلی معاشروں  سے لے کر دور ِ حاضر  کے ہر معاشرے میں بے اولاد والدین نے اپنی محرومی کا ازالہ کر...

  • 26 ہدایت محمدی (پیر 26 جون 2017ء)

    مشاہدات:786

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔لیکن بعد میں آنے والوں نے اسلام کی روشن تعلیمات کو چھوڑ کر اپنے علما کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور بہت ساری ایسی باتیں تحریر کر دیں جو قرآن وحدیث کے صریح مخالف ہیں۔انہی کتابوں میں سے ایک فقہ حنفی کی معروف ترین کتاب ہدایہ ہے، جس میں متعدد مسائل قرآن وحدیث کے خلاف بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "ہدایت محمدی" خطیب الہند مولانا محمد صاحب محدث جونا گڑھی﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے فقہ حنفی کی اعلی ترین کتاب ہدایہ کے 100 مسائل کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1010
    • اس ہفتے کے قارئین: 11882
    • اس ماہ کے قارئین: 45903
    • کل قارئین : 47928298

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں