#6280

مصنف : علامہ سید مظہر سعید کاظمی

مشاہدات : 627

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی کتاب حدود آرڈیننس پر تبصرہ کتاب وسنت کی روشنی میں

  • صفحات: 228
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 7980 (PKR)
(جمعہ 12 فروری 2021ء) ناشر : مکتبہ مہریہ کاظمیہ ملتان

شریعت میں حدود اللہ سے مراد وہ خاص سزائیں ہیں جو مخصوص  معاصی وذنوب او غلطیوں پر ان کے ارتکاب کرنے والوں کو دی جاتی ہیں تاکہ وہ گناہوں سے باز آ جائیں اورمعاشرہ امن وسکون کا منظر پیش کرسکے۔ اللہ تعالیٰ کی  قائم کردہ حددو سے  تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے   اپنے  آپ پر ظلم کرنے والا قرار دیا ہے اور ان کے لیے   عذاب مہین کی  وعید  سنائی ہے ۔اسلام کایہ نظام  جرم وسزا عہد رسالت اورعہد خلافت راشدہ میں بڑی کامیابی سے قائم رہا  جس  کے بڑے فوائد وبرکات تھے ۔عصر حاضر کے بعض سیکولرذہنیت کےحاملین نے  اسلامی  حدود کو وحشیانہ اور ظالمانہ سزائیں کہا  ہے ۔ (نعوذ باللہ   من ذالک) اور بعض اسلام دشمنوں نےیہ کہا کہ اسلام کانظام جرم وسزا عہد رسالت وخلافت راشدہ کےبعد  کبھی کسی ملک میں کامیبابی سے نہیں  چل سکا۔معترضین کے اعتراضات  کےجوابات اور حدود اللہ کی وضاحت وتوضیح اور اثبات سے متعلق اہل علم نے  بیسوں کتب تصنیف کی ہیں ۔علامہ سید مظہر سعید کاظمی  نے زیر نظر کتاب میں   ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی  کی کتاب ’’ حدودو آرڈیننس ‘‘ پر ناقدانہ تبصرہ کیا ہے (م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

وجہ تصنیف

1

آمدبرسرمطلب

2

مصنف کی عبارت(حدودآرڈیننس میں حدودوتعزیرات کویکجاکرکےالہامی قانون اورانسانی قانون میں برابری پیداکردی گئی)پرتبصرہ

3

مصنف کااقرارکہ تعزیرات شرعی قوانین ہیں انسانی نہیں

4

مصنف کی عبارت(حدود میں کمی بیشی کاکسی کوکوئی اختیارنہیں درست نہیں ہے اوروہ زیادہ سے زیادہ سزاہے جوکسی بھیانک جرم کےارتکاب پردی جاسکتی ہے)پرتبصرہ

6

حدود آرڈیننس اوردوسرے قوانین کارابطہ مصنف کااعتراض اوراسکاجواب

13

عائلی قانون کی خرابی کااقرار

14

مصنف کاحدود آرڈیننس پرایک اوراعتراض (نکاح فاسد اورباطل پرحد کیوں ؟)

15

اعتراض کاجواب

16

صاحبین کاارشادامام صاحب کاارشاد ہوتاہے

18

محرماتِ ابدیہ سے زناپرحد میں فتوی صاحبین کےقول پرہے

19

نکاحِ فاسد اورنکاح باطل میں فرق

21

حنفیہ کےنزدیک عقوبت بالتعزیراورعقوبت بالحد کےلیے علم بالحرمت شرط ہے

21

کچھ تعزیرات کوحاکم معاف نہیں کرسکتا

24

تعزیر منصوص مشابہ حد ہے

24

حداورتعزیرکےدرمیان فرق

26

مصنف کےنزدیک زنابالجبرکےلیے چارگواہ ضروری نہیں۔اس کاجواب

28

مصنف کی بے تکی دلیل کاجواب

31

حوالہ جات کاتعارض اوراختلاف

36

مصنف کی قلابازی

37

ترجمہ قرآن میں مصنف کی صریح تحریف

39

زنابالجبرکاثبوت صرف عورت کےقول سے ہونے کےلیے مصنف کی پیش کردہ دلیل کاجواب

39

محدثین کےنزدیک روایت علقمہ بن وائل کی حیثیت

43

مذکورہ بالاروایت منقطع ہے

45

مذکورہ روایت معلل ہے

46

زیرغورروایت معلل ہے

48

فقہاءکےاقوال کی روشنی میں حدیث مذکورہ کاجائزہ

49

انقطاع باطنی کی تعریف

49

نیتجہ بحث اورہماری بحث پرممکنہ اعتراض کاجواب

51

زنابالجبرحرابہ نہیں

51

رجم کےمعنی اورمصنف کےکلام پرتبصرہ

56

رجم کی بحث میں ذکرکی گئی حدیث پرتبصرہ

57

حدیث کاحرابہ سے تعلق نہیں

60

آیت حرابہ کانزول تفاسیر کی روشنی میں

60

لاقودالابالسیف کی تشریح

63

رجم کےبارے میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کاخطبہ

65

زناکی حدود سورہ احزاب کےبعد اتریں

69

یہودیوں کی تورات کےحکم سے رجم حدیث سے ثابت ہے

75

بعض جروح میں قصاص نہیں

76

حاصل بحث

78

رجم سورۃ نورکےبعد ہواہے

79

مسلمان زانی ثیب کوقتل کرانا

81

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےزمانے میں غیر شادی شدہ کوکوڑے اورشادی شدہ کرجم اکٹھے نافذ تھے

82

آثار صحابہ سے رجم کاثبوت۔حضرت عمررضی اللہ عنہ

83

حضرت علی رضی اللہ عنہ

84

رجم تعزیر نہیں ہوسکتا

86

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ

86

غیرمسلموں پررجم(حنفیہ رعایت دیتےہیں)

89

احادیث میں جرم زناپررجم حرابہ کی قسم سے نہیں ہے

89

کیاحضرت ماعز رضی اللہ عنہ عادی مجرم تھے؟

91

حضرت ماعز کےمتعلق مصنف کےذکرکردہ دلائل پرایک نظر

93

قول سعید بن جبیر اورامام مسلم

94

مصنف کا(ماعز کےعادی مجرم ہونےکےبارے میں)جھوٹاحوالہ

97

مرجوم کےجنازہ کی نماز

102

مصنف کاایک اورسفید جھوٹ(کہ ماعز باربارپکڑےگئے)

103

مصنف عبدالرزاق کی روایت کاجائزہ

109

مسند احمد کی روایت کاجائزہ

110

عادی اوراتفاقی جرم کی سزا

113

مصنف کےدیگرغلط حوالے

114

ابن جوزی کاحوالہ جھوٹانکلا

115

زمحشری کاحوالہ جھوٹانکلا

120

"الذين في قلوفهم مرض"کی تفسیر سے ایک شبہ کاازالہ

121

غیر محصنہ کورجم:(ایک اورجھوٹادعویٰ)

123

یہودی قاتل کورجم کرناثابت نہیں

125

حداورقصاص میں فرق

126

چوری کی حدمیں رجم کارد

127

حوالہ میں مصنف کی علمی خیانت

127

مصنف کابے ربط استدلال

128

مصنف کاآخری واراورجھوٹاحوالہ(کئی شادی شدہ زانیوں کوکوئی سزانہیں دی گئی)

128

نتیجہ بحث

129

فقہاءکااختلاف اورنفاذِ حد

130

کتاب وسنت معیار

131

پاکستان میں اکثریت کامذہب اورجمہوریت کاتقاضاہے

132

دستورکےدفعہ نمبر227کوبھی تبدیل کیاجائے

133

گوئی سے رجم جائز ہے

134

دفعہ 227میں ترمیم کی ضرورت

137

نفاذِ حدثمرات کی روشنی میں

138

طریقہ اندراج میں ترمیم ہونی چاہیے(حد زناکاپرچہ کیسے درج ہو؟)

140

حدود آرڈیننس میں توبہ

141

مصنف کاایک اورغلط حوالہ(گرفتاری اورپھرعدالتی کاروائی سے قبل توبہ سے حد ساقط ہے)

142

حد زناسے غیرمسلموں کااستثناء

144

غیرمسلموں پرحد

144

دفعہ 227میں ترمیم کی جائے

145

زنامیں کوڑوں کی سزا

145

حدود میں بلوغ کی عمر

146

تتمہ

148

جلد بازی کیوں؟

149

حد قذف

 

حد قذف کادائرہ کار

149

مصنف کاتصادبیانی

150

جھوٹاالزام لگانامسیحی مردوں پربھی ظلم ہے

151

آرڈیننس کےدفعہ نمبر3میں ترمیم

152

دونوں استثناءغلط ہیں

153

چارگواہوں میں سے ایک فاسق ہوتوحد جاری نہ ہوگی

154

مصنف کاتضاد

158

حنفیہ کےموقف کی وضاحت قرآن کی روشنی میں

156

مصنف کادوسراتضاد

158

گواھی

 

قاذف کی گواہی

159

قاذف اورفاسق کی گواہی کاردکیوں؟

159

اعتراضات کاخلاصہ

159

گواہ کےلیےمسلمان ہونے کی شرط کیوں؟

160

حد سرقہ

 

انورشاہ کشمیری کی عبارت پرتبصرہ

163

پیش کردہ حدیث کاجواب

166

حد حرابہ

 

مصنف کی تصادبیانی

167

مصنف کی ایک اورتضاد بیانی

169

کیافقہاءنےمحاربہ صرف ڈاکےکوقراردیا؟

170

جبرمیں گواہوں کی ضرورت

171

حد سکر

 

استعمال خمرپردی جانے والی سزاحد ہے یاتعزیر

173

حد شراب کانفاذ اورسیدناعلی رضی اللہ عنہ

178

حضرت علی رضی اللہ عنہ پرممکنہ اعتراض کاجواب

181

ایک اوراعتراض کاجواب

182

عکس حوالہ نمبر1،2،3

184

عکس حوالہ نمبر4،5،6،7

185

عکس حوالہ نمبر8،9،10،11

186

عکس حوالہ نمبر12،13،14

187

عکس حوالہ نمبر15(بخاری ومؤطاامام مالک)

188

عکس حوالہ نمبر16(سنن کبری)وعکس حوالہ نمبر16(مسند احمد وترمذی)

189

عکس حوالہ نمبر17(تہذیب التہذیب ومیزان الاعتدال)نمبر18

191

عکس حوالہ نمبر19،20

192

عکس حوالہ نمبر21

193

عکس حوالہ نمبر22

194

عکس حوالہ نمبر23

196

عکس حوالہ نمبر24،25

197

عکس حوالہ نمبر26،27،28،29

198

عکس حوالہ نمبر29

199

عکس حوالہ نمبر30،31

200

عکس حوالہ نمبر31(تفسیر ابن جریر)اور32

201

عکس حوالہ نمبر33،34

202

عکس حوالہ نمبر35،36،37

203

عکس حوالہ نمبر37(مسلم شریف)اور38،39،40

204

عکس حوالہ نمبر41،42،43،44،45

205

عکس حوالہ نمبر46،47،48

206

عکس حوالہ نمبر49،50،51

207

عکس حوالہ نمبر52،53،54

208

عکس حوالہ نمبر54،55،56

209

عکس حوالہ نمبر57،58،59،60

210

عکس حوالہ نمبر61،62

211

عکس حوالہ نمبر63،64،65،66

212

عکس حوالہ نمبر67،68،69

213

عکس حوالہ نمبر70،71،72

214

عکس حوالہ نمبر72(ہدایہ خیرین)73،74

215

عکس حوالہ نمبر74(فتاوی عالمگیری وفتح القدیر)اور75

216

عکس حوالہ نمبر75(فتاوی عالمگیری)اور76،77

217

عکس حوالہ نمبر77،78

218

عکس حوالہ نمبر79،80

221

عکس حوالہ نمبر80(فتاوی عالمگیری وفتح القدیر)اور81

222

عکس حوالہ نمبر82،83،84

223

عکس حوالہ نمبر85،86،87

224

عکس حوالہ نمبر88،89،90

225

عکس حوالہ نمبر91،92

226

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2871
  • اس ہفتے کے قارئین 22907
  • اس ماہ کے قارئین 78164
  • کل قارئین63048188

موضوعاتی فہرست