آئینہ پرویزیت طلوع اسلام کے مخصوص نظریات حصہ دوم(4213.01#)

عبد الرحمن کیلانی
مکتبۃ السلام، وسن پورہ، لاہور
210
8400 (PKR)

انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔ دور ِجدید میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشار پیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔یورپ کے مستشرقین کی نقالی میں برصغیر پاک وہند میں ماضی قریب میں بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوئے جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز، جاوید غامدی وغیرہ نمایاں ہیں۔ غلام احمد پرویز پاکستان میں فتنہ انکار حدیث کے سرغنہ اور سرخیل تھے۔ان کی ساری زندگی حدیث رسول ﷺ کی صحت وثبوت میں تشکیک ابھارنے میں بسر ہوئی اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ تردید حدیث کا کام قرآن حکیم کے حقائق ومعارف اجاگر کرتے ہوئے سرانجام دیتے تھے۔ ہردور میں     فتنوں کی سرکوبی میں علمائے حق کی خدمات نمایاں نظر آتی ہیں ۔برصغیر پاک وہند میں فتنہ انکار کے رد میں جید علماء کرام بالخصوص اہل حدیث علماء کی کاوش ناقابل فراموش ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’آئینہ پرویزیت‘‘ کتاب وسنت ڈاٹ کام کے مدیر جناب ڈاکٹر حافظ انس نضر﷾ کے نانا جان مولانا عبدالرحمٰن کیلانی ﷫ کی پرویزیت کے رد میں لاجواب تصنیف ہے۔ مولانا کیلانی مرحوم نے اپنے خالص علمی، معلومات اور قدرے فلسفیانہ رنگ میں یہ کتاب تحریر کی ہے۔ اس ضخیم کتاب میں پرویزیت کا جامع انداز میں پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ اور مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں۔ حصہ اَول: معتزلہ سے طلوعِ اسلام تک...حصہ دوم :طلوع اسلام کے مخصوص نظریات... حصہ سوم : قرآنی مسائل...حصہ چہارم : دوامِ حدیث...حصہ پنجم: دفاعِ حدیث...حصہ ششم :طلوعِ اسلام کا اسلام۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1987ء میں چھ الگ الگ حصوں میں شائع ہوئی ۔بعدازاں اس کویکجا کر کے شائع کیا گیا۔بعد والا ایڈیشن ویب سائٹ پر موجود ہے۔ زیرتبصرہ پہلے ایڈیشن کوبھی محفوظ کر نےکی خاطر پبلش کردیاگیاہے۔ مصنف کتاب مولانا عبد الرحمٰن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے۔ کتب کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات ملک کے معروف علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان الحدیث، سہ ماہی منہاج لاہور وغیرہ) میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ا ن کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

باب اول ، حسبنا کتاب اللہ ۔

129

کتاب کے مختلف معانی

129

کتاب کا اصطلاحی مفہوم

132

کتاب وسنت یا قرآن وحدیث

132

کتاب وسنت لازم ملزوم ہیں

133

احادیث میں کتا ب اللہ کاذکر

134

واقعہ عسیف

134

کتاب اللہ اور حق تولیت

135

حسبنا کتا ب اللہ سے حضرت سے عمر کی مراد

135

کتا ب اللہ اور کلام اللہ کافرق

137

کتا ب کے پرویزی معانی کاتجزیہ

138

مدون شکل

138

سلی ہوئی شکل

139

قرآن کی ماسٹر کاپی

141

سلی ہوئی کتاب کانقلی ثبوت

142

حفاظت قرآن ک پرچادریں خلو

144

اللہ کی ذمہ دار ی پوری شریعت کی حفاظت ہے

143

قرآن کابیان

144

قرآن کے بیان لغت سے متیت کرنے کے مفاسد

145

کثیر معانی الفاظ

146

اصطلاحات

146

مقامی محاورات

147

عرفی معانی

147

پرویزی اصطلاحات

147

باب دوم ۔عجمی سازش اور زوال امت

149

اسلام میں عجمی تصورات کی آمیز ش

149

عجمی سازش کیاہے

149

سازش کے راوی

150

سازش کی ابتداء

150

جامعین حدیث کے اورصاف

151

طلوع سازش کے الطال کے دلائل

153

صحاح ستہ کامواد اور ایرانی عقائجد

153

اسلامی فقہ او رعجمی سازش

154

محدثین کامعیار صحت

154

یزوگرہ کاقاتل

154

شہادت حضرت عمر ؓ

155

اسلامی حکومت میں سازشیں

156

سازش کے لیے مناسب مقام

156

ایران میں ہی سازش کیوں

157

صحاح ستہ کے جامعین ایرانی کیوں تھے

157

عجمی سازش اور تمنا عمادی

158

امام زہر ی کا شجرہ نسب

158

تمنا عمادی اورتدوین حدیث

159

حدیث مثلہ معہ اور عجمی سازش

160

عمادی صاحب کے جھوٹ کا جواب

161

حافظ اسلم صاحب کے اعترا ض کاجواب

161

پرویز صاحب اور قرآن کی مثلیت

162

حضرت عیسی اور آدم میں مثلیت

162

ملو کیت اور پیشوائیت کاشاخسانہ

163

ایک کیمیائی مثال

164

ملوکیت سے بیر کی اصل وجہ

168

خلفائے بنوامیہ عباس

168

مذہب پرپرویز صاحب کی برہیی

169

ملوکیت اور پیشوائیت کاسمجھوتہ

171

علماءے دین کے حق گوئی وبیباکی

172

سعید بن مسیب اور اموی خلفاء

172

سالم بن عبداللہ اور ہشام بن عبدالملک

172

امام ابو حنیفہ اور عراق کاگورنر

173

خلیفہ منصور اور امام ابو حنیفہ

173

امام ابو حنیفہ کی ابےنیازی

174

امام ابوحنیفہ اور عہد وقضاء

175

خالدین عبدالرحمان اور خلیفہ منصور

175

امام مالک او رخلیفہ منصو ر

176

امام مالک اور جبری بیعت

176

ابن طاوس اتور خلیفہ منصور

177

سفیان ثوری اورعہد قضاء

178

ہارون الرشید اور فضیل بن عیاض

178

امام احمد بن حنبل اورمامو ن الرشید

179

اما م بخار ی او رحاکم بخارا

182

نتائج

180

مسلمانوں کے زوال کے اسباب اور علاج

181

مقام آدمیت اور مقام انسانیت

182

کیا فلاح آخرت او ردنیوی خوشحالی لازم لزوم ہیں

180

مومن بننے کا طریقہ

183

انبیاء اور تخیر کائنا ت

184

سائنس دان ہی حقیقی عالم ہیں

185

عقل کی بو

186

باب سوم مساوت مردورزن

187

موضو ع کا تعین

187

اسلام کے عطاکردہ حقوق

188

مرج کی فوقیت کے گوشے

189

مرکی فوقیت اورطلوع اسلام

189

عورت کی پیدائش

190

مرد کی حاکمیت

190

عورت کی فرمانبرداری

193

مردوں کاعورتوں سزردینے کااختیار

194

اپنے بیانا ت کی خود تردید

196

عورت کے شہادت

196

مذکر کے صیغے

198

جنتی معاشرہ

199

تعداد ازوح

200

حق طلاق مرد کوہے

200

عدت صرف عورت کے لیے

201

حق مہر اورعورت

201

بچپن کی شادی

202

عورت اور ولایت

203

مرد کی فوقیت کے چند دوسر ے پہلو

204

عورت کی برتری

205

باب چہارم : نظریہ ارتقاء

206

کیا انسان اولاد ارتقاء

206

سرچارلیس ڈارون

207

نظریہ ارتقاء کیا ہے

208

نظر یہ ارتقاءکے اصول

209

تنازع للبنقاء

209

طبعی انتخاب

210

ماحول سے ہم آہنگی

210

قانون وراثت

210

نظریہ ارتقاءپر اعتراضات

211

نظریہ ارتقاء اور مغربی مفکرین کے اسباب

214

نظریہ ارتقاء کی اور مفکرین قرآن

214

طلوع اسلام قرآنی دلائل

215

نفس واحدہ

215

علق کامفہوم

216

اطوار مختلفہ

217

زمین سے رویئدگی

217

نظریہ کے ابطال پر قرآنی دلائل

219

مراحل تخلیق انسانی

319

آدم کی خصوصی تخلیق

220

آدم کی بن باپ تخلیق

220

قصبہ آدم وابلیس

221

جنت شجر ممنوعنہ اور سبوط آدم

221

ابلیس او رملائکہ

222

نظریہ ارتقاء اور اسلامی تعلیمات

223

نظریہ ارتقاء کامستقبل

224

صراط مستقیم کیا ہے

225

ارتقاء کی اگلی منزل

227

آخرت کاتصور

228

اخروی زندگی

228

طلوع اسلام تضاد

229

باب پنجم ۔مرکز ملت

 

مقام رسالت

230

منصب رسالت

230

سب سے پہلامومن

230

ختم نبوت ورسالت

231

نبی اور رسو ل میں فرق

231

مبلغ رسالت

232

شارح کتا ب اللہ

232

شارح یا قانو ن ہند ہ

232

مزکی یابیت کنذہ

233

معلم کتاب وحکمت

232

مطاع

134

اللہ اور رسول کے قیام کافرق

134

اطاعت رسو ل کی مستقل حیثیت

134

اتباع رسو ل او راسوہ حسنہ

235

آپ کی اتباع تاقیامت ضرور ی ہے

235

اتباع صرف رسول   کی

236

آپ کی اتباع سے انکار کفرہے

236

قاضی او ر حاکم

236

قابل اوب واحترام ہسنی

237

مرکز ملت کے تصور کا پس منظر

238

حافظ اسلم صاحب کانظریہ مر کز ملت

238

مرکز ملت کی وضاحت

238

کیا مرکز ملت کی اطاعت رسول کی اطاعت ہے

239

رسو ل مامو ر مین اللہ ہوتاہے

239

رسو ل کی قائم مقامی

240

افتصات زمانہ

240

مرکزی وحدت

241

دوسرے نظریات سے تصادم

242

ظن دین نہیں ہوسکتاہے

242

دین ودنیا کی تفریق

243

شریعت سازی

243

اطاعت رسول کاپر ویزی مفہوم

244

مقام رسالت پرویز صاحب کی نظر میں

245

مگر رسالت بدستو ر جاری ہے

246

اللہ اور رسو ل کی اطاعت سے مراد

247

زند ہ رسول

247

زندہ رسول پرویز صاحب ہی ہیں

248

غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پر ویز

248

مرکز ملت کایہ منشو روغلط ہے

250

اللہ اور رسول کی الگ الگ اطاعت

250

اطیعو اللہ واطیعوالر سول واولی الامرمنکم کی نئی تشریح

250

علمائے دین او رپیشوائیت میں فرق

252

تاریخ سے ایک مرکز ملت کی مثال

252

شہنشاہ اکبر خداواد بصیرت

253

چند ضمنی گوشے

254

رسول اللہ سے پرویز کی محبت وغفیدت

254

اطاعت رسول کانیا مفہوم

255

مرکز ملت کی اطاعت حرام ہے

256

تشریعی امور یں مشور ہ کبھی نہ کیا گیا

256

انکا ررسالت

256

خروپرویز اور غلام احمد پرویز

256

خسر وپر ویز او ر غلام احمد

257

حجیت حدیث کے دلائل

257

فرار کی راہیں

257

طلو ع اسلام کے اعتراضات کے جوابات

258

اللہ اور رسول کی الگ الگ اطاعتو ں کا ثبو ت

258

اصل اطاعت ہی اصل ہدایت ہے

260

اطاعت رسو ل ہی اصل ہدایت ہے

261

اقوال وافعال رسول حجت ہیں

261

رسول کی اطاعت دائمی ہے

262

اتباع رسول کے منکرین کے لیے وعید

263

اتباع رسو ل کامنکر کافر ہے

265

رسو ل کامخالفف جہنمی ہے

265

نتائج

265

حجیت حدیث کے نقلی دلائل

266

صحابہ کی قرآن فہمی

266

تعامل امت

266

موضو عات کاوجو د

267

باب ششم ۔قرآنی نظا ربو بیت

268

ملکیت زمین

268

فطری قانو ن حق ملکیت

268

حق ملکیت کے عوامل

269

حق ملکیت کا اسلامی استفادہ

269

متشابہات سے استفادہ

270

طلوع اسلام کے دلائل کا جائز ہ

272

قرآنی آیات سے

272

لفظ سئل کے معانی

273

لفظ سواء کے معانی

273

برابر ی کس کس اور کس بات ہیں

274

سیاق وسباق کا طریق

275

قرآن سے حق ملکیت زمین کے دلائل

276

تاریخ اور طلوع اسلام

278

بائبل اور طلو ع اسلام

278

انظام یوسفی

279

نتائج

280

طلو ع اسلام کی علمی دیانت

280

تمام اشیاء پر ملکیت کا حق

281

طلو ع اسلا م کے دلائل

281

طلوعن اسلام کا حدیث سے احتجاج

284

باغ فدک کافصہ اور نتائج

284

لین دین کے احکام کی پرویزی تاولین

286

احکام میراث

286

طلوع او راسلام کے تضاوات

287

احکام صدقہ وخیرات

287

علاکون

288

ملاکا قصور

288

لین دین کے احکام کا عبور ی دور

289

عبوری دور کے احکام کی مزید تشریح

290

پرویز ی حیلے

291

زنا اور عبوری دور

291

عبوری دور احالات

292

عبور ی دو راور ناسخ ومسوخ

293

اجتالات کی دنیا

293

نفاذ ارو نافذ العمل کا فرقذ

294

مساکین کاوجو د

294

قسم کا کفارہ اور روزے

295

زکوۃ کاوصدقات کے احکام کاتعطل

296

انفرادی ملکیت او رارکان اسلام

297

ذاتی ملکیت او رزکوۃ

297

ذاتی ملکیت او ر حج

297

باب ہفتم ۔نظام ربو بیت کافلسفہ او رتشریف آور ی

299

ایجاد کی ضرورت

299

قرآن میں غور کرنے کاطریقہ

299

اشتراکیت اور ربو بیت کافرق

299

ربوبیت او رتصوف کافرق

300

فلسفہ ربو بیت

300

انسان کی مضمر صلاحیتیں

301

مضر صلاحیتیں او رمتقل اقداد

301

انسانی ذات کی نشوونماکا فائد ہ

302

نظریہ ربوبیت کاتجزیہ

302

اشتراکیت اور ربو بیت کاجذبہ محرکہ

303

پرویزی جذبہ محرکہ کی قوت

304

نظام ربوبیت کی تاریخ

305

رسول اللہ نے شائد متشکل فرمایا ہو

305

رسول اللہ نے نظام ربوبیت قائم کرلیا تھا

305

دور نبوی میں نبوی یہ نظام قائم نہیں ہوسکتاتھا

306

یہ نظام سب انبیاء پر نازل ہوا تھا

306

اسلام کی تاریخ میں پہلی کو شش

307

ان سے اس نظاتم کو کشید کرنے کے طریقے

307

بے جااضافوں سے

307

اس نظام کے لیے قرآنی الفاظ

308

نئی اصطلاحات کاطریقہ

309

دنیا او رآخرت کے کئی مفہوم

309

اقامت صلوۃ اوو رراتیائے زکوۃ

310

اللہ سے مرادقرآنی معاشرہ

311

چند قرآنی اصطلاحات

311

تفسیر ی اندا ز

317

سرمایہ داری اور طبقاتی تقسیم

317

نظام ربو بیت کے منکرین او رقائلین

319

جہنم صرف سرمایہ دار کے لیے

321

قانو ن ربو بیت پر یمان لانے کی فائدے

322

قانو ن کی قوت

322

نظام ربوبیت کے اپنے فائدے

323

نظام ربوبیت کافلسفہ اورمزید فوائد

224

نظام ربو بیت کب اور کیسے آئے گا

225

نظام ربو بیت کا دور منظر

227

اس کتاب کی دیگر جلدیں

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1691
  • اس ہفتے کے قارئین: 15304
  • اس ماہ کے قارئین: 43553
  • کل قارئین : 46568043

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں