تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں تشیع محض ایک سیاسی رجحان تھا جو بنو امیہ کے مقابلے میں اہل بیت کے لیے مسلمانوں کے بعض گروہوں میں موجود تھا۔ اور اس رجحان نے بہت بعد میں غلو کی صورت میں رافضیت کی شکل اختیار کی ہے۔ روافض کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کی قطعی اور صریح وصیت کی تھی۔ اس لیے پہلے تین خلفاء اور ان کی حمایت کرنے والے صحابہ و تابعین غلطی پر تھے اور نفاق کا شکار تھے اور اس وصیت کو چھپانے والے مسلمان بھی گمراہ تھے۔ اس عقیدہ کو رافضیت کہا جاتا ہے۔ اس فرقے کا یہ عقیدہ بقیہ امامیہ فرقوں میں سے شیعہ عقائد کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ اور اسی بنا پر بعض لوگ نادانستگی میں اہل تشیع کو بھی رافضہ کہہ دیتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ آئینہ مذہبِ شیعہ ‘‘ ڈاکٹر ناصر بن عبداللہ بن علی القفازی کے اس تحقیق مقالہ بعنوان ’’ أصول مذهب الشيعة الإمامية الاثنى عشرية‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔جسے انہوں نے امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ،الریا...
زیر نظر کتاب میں شیخ ابوبکر الجزائری حفظہ اللہ نے شیعہ کی سب سے مستندکتاب’’الکافی‘‘الکلینی کا بنظر غائر مطالعہ کرکے سات ایسے بدیہی حقائق سے پردہ اٹھایا ہے جوقرآن وسنت سے بالکل متصادم ہیں اور فکری ومذہبی تعصب کی عینک کو اتار کرشیعہ حضرات کو اپنے مذہب کی ان باتوں پر غائرانہ نظر ڈالنے کی نصیحت واپیل کی ہے تاکہ حق کو حق سمجھ کرباطل سے کنارہ کشی اختیار کریں مذہب شیعہ سے تعلق رکھنے والےباضمیر،صاحب عقل اور ہر حق کے متلاشی کےلیے نہایت ہی گرانقدرتحفہ ہے۔
موجودہ دور میں عالم اسلام میں امریکہ اور سامراج کا ایک بنیادی ہدف، تفرقہ و اختلافات کی آگ بھڑکانہ ہے اور اس کا بہترین طریقہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان اختلاف ڈالنا ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں سامراج کے پروردہ عناصر آج عراق کے مسائل کے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں؟! کس طرح زہرافشانی کر رہے ہیں اور دشمنی کے بیج بو رہے ہیں؟! مغرب کی تسلط پسند اور جاہ طلب طاقتیں برسہا برس سے اس کام میں مصروف ہیں۔ شیعہ سنی جنگ امریکہ کا مرغوب ترین مشغلہ ہے۔قوم وملت کی پستی کا سبب مذہب سے بے اعتنائی،لا پرواہی اور صنادیدو کبائر اسلام کی تاریخ و سیر سے نا آشنائی اور باہمی اتحاد و اتفاق کی قلت ہے۔بد قسمتی سے عالم اسلام میں ایسے بھی عناصر ہیں جو طاغوتی اور سامراجی طاقتوں کی قربت حاصل کرنے کے لئے ہر جائز ناجائز کام کرنے کو تیار ہیں اور شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے رے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اصحاب ثلاثہ کے مقام پر شیعہ سنی اتحاد" محترم عبدالرحمن عزیز الہ آبادی کی تصنیف ہے۔جس میں شیعہ سنی کے مابین اصحاب ثلاثہ پر متفق ہونے کی ایک تحقیقی کاوش کی ہےاور اہل تشیع کی معتبر کتب کشف...
فی زمانہ ہم شیعہ اور سنّی کے مابین بعد المشرقین دیکھتے ہیں۔ دونوں گروپوں کے مابین اس قدر تنازعات کی وجہ کیا ہے اور ان فاصلوں کو کم کرنے کی کیا سبیل ہو سکتی ہےاور شیعہ گروپ اپنے کن عقائد سے انحراف کر کر رہا ہے؟ یہ اس کتاب کاموضوع ہے۔ کتاب کے مصنف ایک بلند پایہ شیعہ محقق ہیں جنھوں نے کمر ہمت باندھی ہے اور شیعہ کا اصلاح کا بیڑہ اٹھایا ہے انھی اصلاحی کوششوں کے نتیجے میں اس سے قبل ان کے والد کو بے دردی کے ساتھ ذبح کر دیا گیا۔ اگر شیعہ حضرات اپنے آپ کو اہل بیت کی محبت تک محدود رکھیں تو یہ بات قابل قبول ہے لیکن اہل بیت کی محبت کےنام سے صحابہ کرام پر رقیق الزامات لگانا کسی طور بھی قرین انصاف نہیں ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر موسیٰ الموسوی نے اصلاح شیعہ کے لیے ایک منفرد اسلوب اختیار کیا ہے۔ انھوں نے درجن سے زائد شیعی بنیادی عقائد کو متعدد عناوین میں تقسیم کیا ہے پھر بالترتیب ان پر علمی اور جامع بحث کی ہے۔ ان عقائد میں امامت و خلافت، تقیہ، عاشورا محرم کے روز ماتم، متعہ، تحریف قرآن وغیرہ جیسے اساسی موضوعات شامل ہیں۔ مصنف موصوف سب سے پہلے شیعی عقیدے کا پس منظر بیان فرماتے ہیں اس کے بعد علمی و عقلی دل...
شیعہ اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کےعقائد اسلامی عقائد سے بالکل مختلف و متضاد ہیں ، اس فرقہ کی تین قسمیں ہیں غالیہ،زیدیہ، رافضہ اور ہر ایک کے مختلف فرقے ہیں ۔ شیعہ کے باطل نظریات کو عوام الناس پر عیاں کرنا کسی جہاد سے کم نہیں ۔شیعہ فرق کے باطل عقائد، افکار ونظریات کو ہر دور میں علمائے حق نے آشکار کیا ہے ۔ ماضی قریب میں فرق ضالہ کے ردّ میں شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی تقریر ی وتحریری، دعوتی وتبلیغی اور تنظیمی خدمات کو قبول فرمائے اوران کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس عطا کرے۔ زیر نظر کتاب’’ اقوال شیعہ تصویری ثبوت کے ساتھ ‘‘مرکز احیاءتراث آل لبیت کی مرتب کردہ ہے۔ کتاب ہذا مذہب شیعہ کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے جس کے مطالعہ کے بعد قاری باآسانی شیعہ مذہب کی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے۔
صحابہ کرام اور ہل بیت کی عظمت سے کون انکار کرسکتاہے۔یہ وہی پاک باز ہستیاں ہیں جن کی وساطت سے دین ہم تک پہنچا۔اہل بیت سے محبت رکھنا جز و ایمان ہے اس لیے کہ اس مسئلہ کی بڑی اہمیت ہے ا ہل علم نے اس مسئلہ پر مستقل رسائل تصنیف کیے ہیں جس میں انہوں نے اس مسئلہ کی اہمیت کو بیان کیا ہے چنانچہ اہل السنہ کے نزدیک فرمان نبویﷺ کے مطابق اہل بیت سے محبت رکھنا جزو ایما ن ہے اور کسی طرح کے قول وفعل سے ان کوایذا دینا حرام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہل بیت کے بارے میں شیعہ کا موقف ‘‘علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں شیعہ کے اہل بیت کے بارے میں معتقدات کو بیان کیاگیا ہے۔ اور اس حقیقت کوبھی آشکارا کیاگیا ہے کہ شیعہ بظاہر سیدنا علی سے گہری عقیدت ومحبت رکھنے والے ہیں لیکن باطن میں وہ ان کے دشمن ہیں۔ یہ کتاب علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی شیعہ کے متعلق ایک چشم کشا تحریر کی تلخیص ہے۔ کتاب کا نام ’’اہل بیت کے بارے میں شیعہ کا موقف‘‘ ادارۃ دعوۃ الاسلام، انڈیا کی طرف سے تجویز کردہ ہے۔ (م۔ا)
شیعہ اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کےعقائد اسلامی عقائد سے بالکل مختلف و متضاد ہیں ، شیعہ فرق (غالیہ،زیدیہ، رافضہ) کے باطل نظریات کو عوام الناس پر عیاں کرنا کسی جہاد سے کم نہیں ،ان کے باطل عقائد، افکار ونظریات کو ہر دور میں علمائے حق نے آشکار کیا ہے ۔ ماضی قریب میں فرق ضالہ کے ردّ میں شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی تقریر ی وتحریری، دعوتی وتبلیغی اور تنظیمی خدمات کو قبول فرمائے اوران کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس عطا کرے۔ زیر نظر کتاب’’ جوانان شیعہ کو راہ حق پر گامزن کرنے والے چندسوالات‘‘ سلیما ن بن صالح الخراشی کی مرتب شد ہے ۔ ہے جناب فضل الرحمٰن رحمانی الندوی (فاضل مدینہ یونیورسٹی (نے اس کتاب کے ترجمہ ...
شیعہ مذہب میں کئی فرقے ہیں انہیں رافضی بھی کہا جاتا ہے یہ اپنے آپ کو محبّان علی اور محبّان اہلیت کہتے ہیں شیعہ دین یہودیوں کا ایجاد کردہ پروردہ ہے شیعہ نے اسلام اور اہل اسلام سے انتقام لینے کی غرض سے اس دین کو ایجادکیا ہےتاکہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر اپنے افکار کی ترویج کرسکیں ۔شیعہ کے تمام فرقے خلفائے راشدین یعنی حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت کو نا ماننے پر متّفق ہیں ۔یہی نہیں بلکہ حضرات شیخین حضرت ابو بکر و عمر و عثمان و معاویہ کو کھلے عام گالیاں دیتے ہیں اس کے علاوہ ان کی مستند کتب میں بھی کئی کفریہ کلمات موجود ہیں۔شیعہ جنہوں نے ایک طرف اہل بیت اور حضرت علی کی محبت کےڈھونگ رچائے اوردوسری جانب اصحاب کرام َ اجمعین کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا ، ہمیشہ سے یہ ان لوگوں کا ساتھ دیتے رہے جونہ تو کبھی اسلامی تعلیمات کودل سے مانتے تھے اور نہ ہی ان کواسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت ایک نظر بھاتی تھی۔ کیونکہ شیعیت کی بنیاد ہی ان کھوکھلے اصولوں پر ہے جنہیں نہ تو قرآن وحدیث کی واضح وروشن تعلیمات سے کوئی سروکار ہے اور نہ عقل سلیم اسے تس...
نظامِ قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخِ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔شیعہ اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کےعقائد اسلامی عقائد سے بالکل مختلف و متضاد ہیں ، اس فرقہ کی تین قسمیں ہیں غالیہ،زیدیہ، رافضہ اور ہر ایک کے مختلف فرقے ہیں ۔شیعہ فرق کے باطل عقائد، افکار ونظریات کو ہر دور میں علمائے...
نبی کریمﷺ کی پیشینگوئی کے مطابق امت مسلمہ تہتر گروہوں میں تقسیم ہوگی۔ اور ان میں سے صرف ایک جماعت جنت میں جانے کی حقدار ہوگی، اور یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے عمل ایسے ہوں گے کہ جن پر رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام تھے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ کتاب و سنت کے ساتھ تمسک کے بجائے اپنے مخصوص نظریات پر کاربند اور اسی کے پرچار میں مصروف ہیں۔ شیعہ میں سے ایک گروہ ’اثنا عشریہ‘ کے نام سے جاناجاتا ہے، جو بہت سے صحابہ کرام کی تکفیر اور بہت سے گمراہ کن عقائد کے مالک ہیں۔ زیر نظر کتاب اسی گروہ کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ کتاب کا انداز یہ ہے کہ اس میں اثنا عشریہ سے 175 سوالات کیے گئے ہیں۔ جن کے متعلق مصنف کا کہنا ہے کہ جب وہ ان سوالات پر غور کریں گے تو ان کے سامنے کوئی راہ فرار ہوگی اور نہ ہی ان سے چھٹکارا ممکن ہوگا۔ لہٰذا وہ لازماً کتاب اللہ و سنت رسول ﷺ کو سینے سے لگائیں گے۔ سوالات واقعتاً کافی جاندار ہیں مصنف نے جابجا شیعی کتب کے حوالہ جات بھی نقل کیے ہیں۔ (ع۔م)
شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ تمام صحابہ کرام کو عمومی طور پر اور خلفائے راشدین کو خصوصی طور پر ، امت میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہے ، اس کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ انبیاء کرام کے بعدیہ مقدس ترین جماعت تھی جس نے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺکی رسالت کی تصدیق کی ، آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، اپنی جان و مال سے آپﷺکا دفاع کیا ، راہِ حق میں بے مثال قربانیاں دیں آپﷺ کی رحلت کے بعد اپنے عقیدہ وعمل کے ذریعے اس آخری دین اور اس کی تعلیمات کی حفاظت کی۔صحیح احادیث میں خلفائے راشدینکے جو فضائل بیان ہوئے ہیں ، وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔اس لیے کہ جہاں ہم ان کے ذریعے صحابہ کرامکے حقیقی مقام و مرتبہ کو جان سکتے ہیں وہیں ان کی عقیدت میں غلو کے فساد سے بھی محفوظ رہ سکتے۔ زیر نظر کتاب&rs...
اسلام کی فلک بوس عمارت عقیدہ کی اسا س پر قائم ہے ۔ اگر اس بنیاد میں ضعف یا کجی پیدا ہو جائے تو دین کی عظیم عمارت کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ عقائد کی تصحیح اخروی فوز و فلاح کے لیے اولین شرط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے بھیجی جانے والی برگزیدہ شخصیات سب سے پہلے توحید کا علم بلند کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ نے بھی مکہ معظمہ میں تیرا سال کا طویل عرصہ صرف اصلاح ِعقائدکی جد وجہد میں صرف کیا عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ عقائد کے باب میں اب تک بہت سی کتب ہر زبان میں شائع ہو چکی ہیں اردو زبان میں بھی اس موضوع پر قابل قدر تصانیف اور تراجم سامنے آئے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب’’عقائد شیعہ اثناعشریہ سوالاً جواباً ‘‘ مدینہ یونیورسٹی کےاستاد عبدالرحمٰن الشثری کی تصنیف کاترجمہ ہے۔اس کتاب میں مصنف موصوف نےشیعہ کے ایک فرقہ اثنا عشریہ کے اعتقاد پر علمی انداز...
نظام قدرت کی یہ عجیب نیرنگی اور حکمت ومصلحت ہےکہ یہاں ہر طرف اور ہر شے کے ساتھ اس کی ضد اور مقابل بھی پوری طرح سے کارفرما اور سر گرم نظر آتا ہے۔حق وباطل،خیر وشر،نوروظلمت،اور شب وروز کی طرح متضاد اشیاء کے بے شمار سلسلے کائنات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور تضادات کا یہ سلسلہ مذاہب ،ادیان اور افکار واقدار تک پھیلا ہوا ہے،اور ان میں بھی حق وباطل کا معرکہ برپا ہے۔تاریخ اسلام کے مطالعہ سے یہ افسوسناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کو خارجی حملوں سے کہیں زیادہ نقصان اس کے داخلی فتنوں ،تحریف وتاویل کے نظریوں ،بدعت وتشیع ،شعوبیت وعجمیت اور منافقانہ تحریکوں سے پہنچا ہے،جو اس سدا بہار وثمر بار درخت کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی رہی ہیں ،جن میں سر فہرست شیعیت اور رافضیت کی خطرناک اور فتنہ پرور تحریکیں ہیں ۔جس نے ایک طویل عرصے سے اسلام کے بالمقابل اور متوازی ایک مستقل دین ومذہب کی شکل اختیار کر لی ہے۔اور متعہ جیسے زنا اور اسلام کے حرام کردہ امور کو اپنا مذہب بنا رکھا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " متعہ کی شرعی حیثیت مع آئینہ شیعہ نما " محترم پیر محمد فیض احمد اویسی رضوی...