اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #526

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 11447

    جدید تحریک نسواں اور اسلام

    (اتوار 15 مئی 2011ء) ناشر : منشورات، لاہور

    عورت چھپانے کی چیز ہے سو عورت پردہ اور گھر کی چار دیواری تک محصور ہو گی تو اس کی عزت و آبرو محفوظ ،معیار ووقار برقرار رہے گا اور دنیا میں معزز اور   آخرت میں محترم ٹھہرے گی۔کتاب وسنت کے بے شمار دلائل عورتوں کو گھروں میں ٹکے رہنے ،اجنبی مردوں سے عدم  اختلاط اور غیر محرموں سے پردہ و حجاب کی پر زور تاکید کرتے ہیں اور جاہلی بناؤ وسنگھار ،بے حجابی و بے پردگی اور مخلوط مجالس کی سخت ممانعت کرتے ہیں ۔نیز فحاشی و عریانی ،بے حیائی و بے پردگی،بدکاری و زنا کاری اور بے حیائی و بے غیرتی کے خفیہ و علانیہ جتنے بھی چور دروازے ہیں اسلام نے یہ تمام راستے مسدود کردیے ہیں ۔
    اللہ تبارک اسمہ وتعالی ٰ انسانوں کو با عزت و باوقار دیکھنا پسند کرتے ہیں۔اس لیے محرم و غیر محرم رشتہ داروں کی تقسیم ،اجنبی مردوں سے عدم اختلاط ،بامر مجبوری غیر محرم مردوں سے درشت لہجے میں گفتگو اور چار دیواری کا حصارعورت کی عصمت و ناموس کی حفاظت کے  مضبوط حفاظتی حصار  مقرر کیے ہیں ۔ان پر عمل پیرا ہو کر عورت پرسکون و پرکشش زندگی گزار سکتی ہے۔لیکن یہ عظیم سانحہ ہے کہ اسلامی معیار ی تعلیمات کو قدامت پسندی اور فرسودہ تہذیب کا نام دیکر اور آزادی نسواں  کے پرکشش اور رنگین نعرے کی آڑ میں عورتوں  کو گھروں سے نکالنے ،مخلوط تقاریب و مجالس میں لتاڑنے ،مساوات مردوزن کی آڑ میں پردہ نشینوں کو ملازمتوں  میں دھکیلنے اور آئیڈیل کی تلاش میں عورت کو بے توقیر و غیر معیاری کرنے کی مغربی مہم نے اہل  اسلام سے دینی روحانیت ،مذہبی غیرت اور ملی حمیت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔پھر اس ننگی مغربی ثقافتی یلغار کے سامنے مضبوط بند ھ باندھنے کے بجائے  مسلم حکمران ،طبقہ اشرافیہ ،صحافی و دانشور اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اس زہر ناک گندگی ، جنسی آوارگی  کو پروان چڑھانے اور شیطانی مقاصد کی تعمیل میں پیش پیش ہیں۔حق تو یہ تھا کہ اہل یورپ کے آزادی نسواں کے نام پر جنسی آوارگی اور عورت کی بے توقیری کے شرمناک وار کا کتاب وسنت کے دلائل سے پوری مردانگی سے توڑ کیا جاتا اور اسلام کے حقوق  مردو زن کے فطرت کے عین موافق ہونے کے سبب اسے منوانے کی سخت سر توڑ کوشش کی جاتی۔لیکن ’’حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے ‘‘کے مصداق یہاں تو آوے کا آوا ہی مغرب کی آوارگی کا معترف و شائق ہے ۔
    ایسے سنگین حالات میں معاشرتی استحکام ،مردوزن کی عصمت و ناموس کی حفاظت اور بے حیائی و جنسی آوارگی کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ مسلم دانشور ،علماء کرام اور مذہبی تنظیموں کے سربراہان و کار پردا زان پورا سر درد لیکر فحاشی و عریانی کے اس طوفان  بدتمیزی کی روک تھام کریں اور شریعت اسلامیہ میں مردو زن کے حقوق و دائرہ کار کی حقانیت کا پرچار کریں ۔مغربی سفارتی یلغار اور فحاشی و عریانی کے منہ زور سیلاب کی روک تھام کے لیے زیر تبصرہ کتاب ایک اہم کاوش ہے ۔لیکن اسے بارش کا پہلا قطرہ خیال کیا جائے ابھی منزل تک پہنچنے کے لیے بڑی دشوار گزار اور پر پیچ مسافتیں ہیں ۔



     

  • 2 #689

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 21656

    اسلام دور جدید کا مذہب

    (پیر 18 اکتوبر 2010ء) ناشر : منشورات، لاہور

    انسانی زندگی ہرلمحہ متحرک اورمعتبرہے ۔دنیامیں ہروقت نت نئے مسائل ومعاملات ظہورپذیرہوتے رہتے ہیں جن کاحل درکارہوتاہے ۔دورجدیدایک ایسے نظام حیات کامتقاضی ہے جوتمام معاملات زندگی کاحل پیش کرسکے ۔حقیقت یہ ہے کہ ایسامذہب صرف اورصرف اسلام ہے جواگرچہ آج سے ڈیڑھ ہزاربرس پہلے  مکمل ہواتاہم آج بھی تروتازہ اورشگفتہ ہے اورزندگی کے ہرگوشے سے متعلق ہدایت وراہنمائی دینے کی صلاحیت رکھتاہے ۔زیرنظرکتابچہ میں عظیم اسلامی مفکرمولاناسیدابوالاعلی ٰ مودودی نے اسی حقیقت کوبڑے ہی مؤثراورسائینٹیفک طریقے سے اجاگرکیاہے جس سے اسلام کی حقانیت لکھ کرنظروبصرکے سامنے آجاتی ہے ۔

     

  • 3 #1767

    مصنف : مارما ڈیوک ولیم پکتھال

    مشاہدات : 6466

    اسلامی ثقافت اور دور جدید

    (اتوار 28 جولائی 2013ء) ناشر : منشورات، لاہور

    مغرب اور اسلام یا اسلام اور مغرب اس دور کا گرم موضوع ہے ۔ چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی ہمیشہ ہی ستیزہ کار رہا ہے ۔ لیکن ہر دور کے  افراد اپنے دور کو ہی تاریخ سمجھتے ہیں ۔ جب کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہوتی ہے ۔ مغرب سے تعامل کی وجہ سے آج جو تہذیبی اور ثقافتی مسائل مسلمانوں کو درپیش ہیں محسوس ہوتا ہے کہ نئے اور جدید ہیں ۔ ماضی قریب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسے نئے اور جدید بھی نہیں ستر ، پچتر برس قبل اور اس سے بھی قبل ، ہندستان پر برطانوی قبضے کے بعد جو دور گزرا یہ اس دور کے بھی مسائل ہیں ۔ ان مسائل کے حوالے سے اسلامی مؤقف کو پیش کرنے کے لیے بہت کچھ لکھا گیا ۔ لیکن جو بات مغرب کے اپنے فرزندکی زبان و قلم سے ہو سکتی ہے و کسی سکہ بند عالم کے بیان میں شائد ملے ۔ محترم محمد مارما ڈیوک پکتھال ایک نومسلم عالم دین تھے ۔ وہ اپنی ذات میں ایک عالم ، ادیب ، صحافی ، محقق ، مفکر ، مترجم قرآن اور خطیب و مبلغ تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی اسلام کے احیا اور جدید دنیا کے سامنے اسلامی مؤقف واضح کرنے کی بھرپور کوشش فرمائی ۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔ موصوف نے امت کے جدید فکر مسائل میں اسلامی موقف کی بہترین ترجمانی فرمائی ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 4 #2395

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 3032

    دعوت دین کی ذمہ داری

    (جمعرات 04 ستمبر 2014ء) ناشر : منشورات، لاہور

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادت یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داریاں  بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان ضرور ضرور خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ‘‘دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب "دعوت دین کی ذمہ داری " جماعت اسلامی پاکستان کے بانی مولانا سید ابو الاعلی  مودودی﷫  کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دعوت دین کی ذمہ داریوں،مبلغین کے اوصاف اور اس کے طریقہ کار پر بڑی مفید اور شاندار بحث کی ہے۔مبلغین اسلام کے لئے یہ کتاب ایک نادر تحفہ ہے۔اللہ تعالی اسے مولف ﷫سے قبول فرمائے اور ہمیں دعوتی ذمہ داریوں سے  کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

     

  • 5 #2864

    مصنف : سمیہ رمضان

    مشاہدات : 2238

    قرآن پر عمل

    (جمعرات 29 جنوری 2015ء) ناشر : منشورات، لاہور

    قرآن مجید کتاب ہدایت ہے جسے اللہ تعالی نے انسانیت کی راہنمائی کے لئے نازل فرمایا ہے۔اور اس کی دعوت مرد وعورت دونوں کے لئے یکساں اور مساوی طور پر پیش کی گئی ہے۔گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان اور عالم اسلام کے دیگر ممالک میں رجوع الی القرآن کی ایک تحریک برپا ہے۔جس کے سبب ادارے قائم ہو رہے ہیں،مختلف دورانیوں پر مشتمل درس قرآن کے متعدد سلسلے جاری ہیں۔جن میں ہزارہا مردو خواتین شرکت کرتے ہیں۔قرآن مجید کے احکام پر عمل کرنے کے حوالے سے کویت کے ایک رسالے "المجتمع" میں ایک سلسلہ مضامین شائع ہوا ،جس میں محترمہ سمیہ رمضان نے اپنے حلقہ درس کا احوال قلمبند کیا ہے۔چنانچہ اس حلقے کے تحت قرآن مجید کی صرف تبلیغ پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ ایک ایک آیت کا انتخاب کر کے اس پر عمل بھی کیا گیا اور اپنے تجربات سے دوسروں کو آگاہ کیا گیا۔اس کتاب میں چودہ موضوعات کے تحت جو تجربات بیان کئے گئے ہیں،ان میں قرآن پر عمل کے فوائد وثمرات دو اور دو چار کی طرح واضح ہو کر سامنے آ جاتے ہیں،بنیادی عقائد درست ہوتے ہیں اور بے شمار روحانی ثمرات بھی ملتے ہیں۔یہ مضمون عربی میں تھا ،چنانچہ اس سلسلے کی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر اسے اردو میں ڈھال دیا گیا ہے ،تاکہ اردو دان طبقہ بھی اس سے کما حقہ مستفید ہو سکے۔ترجمہ محترم محمد ظہیر الدین بھٹی نے کیا ہے۔یہ کتاب اگرچہ خواتین کے لئے لکھی گئی ہے ،لیکن یہ خواتین وحضرات سب کے لئے یکساں مفید ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنہ میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 6 #2895

    مصنف : خرم مراد

    مشاہدات : 2832

    مغرب اور عالم اسلام ایک مطالعہ

    (جمعہ 13 فروری 2015ء) ناشر : منشورات، لاہور

    اسلام اورمغربی تہذیب کی کشمکش صدیوں سے جاری ہے اس تہذیبی اور ثقافتی آویزش نے عالمِ اسلام میں تین جہات پیدا کی ہیں۔بعض طبقات نے مغربی تہذیب کوکلیۃ اپناطر زِ حیات بنالیاہے ۔ چند ایک  نے  درمیانی راہ  نکال کر اس سےایک طرزِ مفاہمت پیدا کرلی ہے  اورصرف چند صاحب کرداراور باحمیت  ایسے ہیں جنہوں نے کامل بصیرت اور گہرےادراک کے ساتھ اس تہذیب کارد کیا ہے۔مسلم دنیا میں  بجا طور پر یہ سمجھا جاتا ہے  کہ مغرب کی سیاسی،فکری اور عسکری قوتیں انہیں مغلوب رکھنے،محکوم بنانے اور ان کے وسائل پر قبضہ جمانے  کےساتھ  ساتھ ان کے  عقیدے کواپنی یلغار کا نشانہ بنارہی ہیں ۔ اخلاقیات او رروحانیت کےبحران نےبھی مغربی دنیا کو ایک  خلا میں دھکیل دیا ہے ۔ جس سے نکلنے کی دعوت صرف اسلام کےپاس  ہے ۔آج مغربی معاشروں  کی جانب مسلم آبادیوں کی نقل مکانی  سےانہیں یہ خطرہ لاحق ہوگیا ہے  کہ آنے والےکل میں یورپی علاقےبھی کہیں مسلم دنیا میں نہ تبدیل ہو جائیں۔ان گوناگوں مسائل وخدشات کے پیش نظر مغربی دنیا مسلمانوں کےخلاف پیشگی حملوں کے لیے  نئے نئےبہانےتراشنے اور پھر ظلم وزیادتی کے مختلف حربے بروے کار لانے کےلیے رہتی ہے ۔اس  بحرانی کیفیت اور مسلط کردہ جنگی صورت حال پر مسلم اورغیر مسلم دنیا کے متعدد اہل علم  نےاظہار خیال کیا۔ان اہل علم اور اصحاب ِقلم میں ایک نمایاں نام جناب خرم مراد کا ہے۔جنہوں نے زیر تبصرہ کتاب’’مغرب اور عالم ایک مطالعہ‘‘ میں زیر بحث مسئلے کوسمجھنے اور سمجھانےکےلیے بیسویں صدی کےآخری عشرے  کے دوران متعدد گراں قدر مقالات تحریر کیے  جنہیں جماعت اسلامی  کے  طباعتی  ادارے ’’منشورات‘‘نے  کتابی صورت میں حسنِ طباعت سےآراستہ کیا ہے۔ مصنف نے  اس کتاب میں مغرب اور اسلامی دنیاکے درمیان مخاصمت یا رقابت کا تجزیہ کرتے  ہوئے اس شاہراہِ مستقیم کی نشان دہی بھی کی ہے کہ جس پر چل کر مغربی دنیا پُرسکون اور مسلم دنیاپُر وقار زندگی کا انتخاب کرسکتی ہے ۔امید ہے کہ یہ   کتاب  مغربی تہذیب افکار سے مرعوب  مسلمانوں کےلیے  مفید ثابت ہوگی ۔ صاحب کتاب  جناب خرم مراد ﷫ عالمِ اسلام کے معروف دانش ور اور تحریک اسلامی کےایک ممتاز رہنما تھے وہ مختلف بیرونی ممالک میں پیشہ وررانہ خدمات انجام دیتے رہے۔انہوں نے برق  وآب کےبڑے  منصوبوں کےعلاوہ مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کی تعمیر نومیں  بھی حصہ لیا۔وہ برطانیہ میں معروف علمی وتحقیقی ادارے دی اسلامک فاؤنڈیشن کےڈائریکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ۔ ان کی رہنمائی میں علمی ریسرچ کے کئی منصوبوں کےعلاوہ 100 سےزیادہ کتابوں کی اشاعت کا کام ہوا۔علاوہ  ازیں جماعت اسلامی کے معروف مجلہ ترجمان کے ایڈیٹر بھی رہے ۔اللہ تعالیٰ تمام اہلِ اسلام کو  اسلام کا صحیح رنگ اختیارکرنے اوراسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی  توفیق دے (آمین) (م۔ا)

  • 7 #3039

    مصنف : عبد الحمید ڈار

    مشاہدات : 1818

    جلال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

    (منگل 31 مارچ 2015ء) ناشر : منشورات، لاہور

    حضور سرورکائنات ﷺ کواللہ تعالیٰ نے  تمام جہان والوں کےلیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آپ کی اس رحمت کافیضان انسانی زندگی کے کسی ایک ہی پہلو تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی زندگی  کے ہر پہلو ، انفرادی  اوراجتماعی  پر ہر لمحے محیط ہے ۔ اس رحمت کاایک رخ تو آپ کی کرم نوازی  اور اخلاق واعمال حسنہ کی تعلیم وتلقین ہے جس کا منبع ومصدر آپ ﷺ کے دل کی نرمی اور رافت ہے لیکن دوسرا رخ اعمال سئیہ پر گرفت اور اظہار ِناراضگی ہے ۔اگر پہلے  رخ کو حضور ﷺ کے جمالِ رحمت کانام دیا جاسکتا ہے تو دوسرے رخ کو  جلالِ رحمت سےموسوم کیاجاسکتا ہے۔ آپ ﷺکاجمال اور جلال دونوں ہی انسانوں کے لیے رحمت   کے مظہر ہیں۔رسول اللہ کی ذات مبارکہ بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کی زندگی کا ہر گوشہ حسین  ہے اور شان جمالی کی طرح شان جلالی کی کرنیں بھی پوری کائنات کو منور کررہی ہیں۔آپ کا چہرۂ انور اس وقت غصے سےسرخ ہوجاتا جب اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کو پامال کیا جاتا یا کوئی نامعقول سوال کیا جاتا۔ زیر نظر کتا ب’’جلال نبوی ﷺ‘‘ ماہر معاشیات    پروفیسر  عبد الحمید ڈار  صاحب کی تصنیف ہے ۔اس میں  انہوں نے  رسول اللہ ﷺ کی شان جلالی کے چند خوبصورت اور پرکشش مناظر کو معتبر کتب احادیث وسیرت سے جمع کیا ہے اوران کی بہترین تشریح پیش کی ہے  اوران سےامت مسلمہ کوجو درس ملتا ہے اس کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف  کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اوراہلِ اسلام کے لیے اسے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 8 #3052

    مصنف : رفیع الدین ہاشمی

    مشاہدات : 3787

    خطبات رسول صلی اللہ علیہ وسلم

    (جمعہ 17 اپریل 2015ء) ناشر : منشورات، لاہور

    سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع  ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو  آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،اور لکھی جا رہی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔سیرت نبوی ﷺ کے متعدد پہلو ہیں جن میں ایک پہلو آپ ﷺ کے خطبات بھی ہیں۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں بے شمار خطبات ارشاد فرمائے ،مگر یہ سب خطبے اول تا آخر مکمل صورت میں کسی ایک کتاب میں ایک جگہ نہیں ملتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " خطبات رسولﷺ  "محترم محمد رفیع الدین ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے آپﷺ کے خطبات کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 9 #3153

    مصنف : ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا

    مشاہدات : 2854

    تذکرہ تابعین

    (جمعرات 07 مئی 2015ء) ناشر : منشورات، لاہور

    محسنِ  ا نسانیت  محمد رسول اللہ  ﷺ نے  مرکزِ زمین مکہ  مکرمہ میں  جب  اسلام کی صدائے جاں فزا  بلند کی تو سلیم فطرت اور شریف نفس انسان یکے  بعد دیگرے اس صدا پر لبیک کہنے لگے ۔ اس صدائے  توحید پر دورِ اول  میں لبیک کہنے والوں کی خوشی نصیبی اور بلند بختی کا  تذکرہ اللہ تعالیٰ نے  قرآن مجید میں  وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ.... کے الفاظ سے کیا ہے ۔اتبعوا کے زمرے میں وہ لوگ بھی آتے ہیں جو اس سبقت  واوّلیت کا شرف  تو حاصل نہ کرسکے البتہ صحبت رسول کے اعزاز سے سرفراز کیے گئے۔ اور وہ لوگ بھی اس زمرے میں شامل ہیں  جو نہ سبقت واوّلیت کا اعزاز پا سکے  ، نہ صحبت رسو ل ﷺ سے فیض یاب ہوسکے ۔ البتہ  سابقون الاولوں اور دوسرے صحابہ  کرام کی صحبت میں بیٹھے ، ا ن کے سامنے زانوے تلمذ تہ کئے۔ ان کی سیرت کو اپنایا اور ان کے علم قرآن وفہم سنت سےخوب سیراب ہوئے ۔ یہ لوگ اپنے اساتذہ کےنقش قدم پر یوں چلے کہ ان اساتذہ سے دادا پائی۔ان کی موجودگی میں افتاء وارشاد کی مسند پر جلوہ آرا ہوئے اور کتاب وسنت کی تشریح کی گراں بار ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوتے رہے ۔ تاریخ نےاس دوسرے طبقے کے ان ہدایت یافتگان کو تابعی کا نام دیا ہے۔مکہ ومدینہ اور بصرہ وشام کےعلاوہ دیگر کئی شہر علم وعرفان اور عبادت ا وریاضت کی ان بے مثال نشانیوں سے جگمگاتے رہے ۔ یہ  انہی لوگوں کی علمی محنتوں اور ریاضتوں کاثمر  ہے کہ دین توحید  کاعلم روئے زمین پر اس شرح وبسط کے ساتھ  موجود ہے کہ دنیا کے کسی اور دین کی تعلیمات اس قدر مستند اور بااعتماد حیثیت میں موجود نہیں جس  قدر اسلام کی تشریح وتعبیر اپنے پورے متن کےساتھ موجود  ہے۔ ائمہ محدثین جن کی شہرت چہاردانگ عالم میں پھیلی اسی طبقہ تابعین کے حلقہ درس  کے فیض یافتہ تھے ۔جس اصحاب  رسول ﷺ کی تعداد لاکھوں میں تھی  یقیناً صحابہ  کے شاگردوں اور زائرین کی تعداد بھی لاکھوں میں ہوگی۔ تاریخ ان سب کی زندگیوں کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے تاہم یہ شہادت موجود ہے کہ لاکھوں اصحاب وعلم وفضل کے تذکرے  تفصیل سے  تاریخ کےصفحات پر محفوظ ہیں ۔
    زیرتبصرہ کتاب’’تذکرہ تابعین‘‘ ڈاکٹر عبد الرحمن رأفت پاشا   کی  کتاب  ’’صور من  حیاۃ التابعین‘‘ کا ترجمہ ہے۔ مصنف نے  اس کتاب میں  29  جلیل القدر  تابعین  کرام کے   روح افزا اورایمان افروز  تذکرے  ایک منفرد اسلوب کے ساتھ بیان کیے ہیں ۔محترم جناب ارشاد الرحمن صاحب نے اس کتاب کا اردو دان طبقہ کے  لیے   سلیس اردو ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی۔یہ ترجمہ  2001ء میں  ہفت روزہ ایشیاء میں   29 اقساط میں شائع ہوا   ۔ بعد ازاں  ادارہ منشورات  نے اسے کتابی صورت میں شائع کیا ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم او رناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے  اور امت مسلمہ  کو  صحابہ وتابعین جیسی زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 10 #5065

    مصنف : ابو مسعود ندوی

    مشاہدات : 4865

    احادیث قدسیہ

    (اتوار 08 جنوری 2017ء) ناشر : منشورات، لاہور

    علم حدیث کی اصطلاح میں ’حدیث قدسی رسول اللہﷺ سے منسوب اس روایت کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہﷺ روایت کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے ہیں، یعنی اس کی سند اللہ تعالیٰ تک بیان کی جاتی ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کے لیے ”متکلّم“ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ملا علی قاری حدیث قدسی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حدیث قدسی اسے کہتے ہیں جس کی روایت رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے فرمائی ہے کبھی حضرت جبریل کےواسطہ سے اور کبھی وحی الہام یا خواب کے ذریعہ سے اور آپﷺ نے اپنے الفاظ میں وہ مفہوم ادا فرمایا ہے۔ احادیث قدسیہ کو جمع کر کے الگ مؤلفات تیار کرنے کے لیے مختلف زمانوں میں مختلف عُلماء کرام نے حسب معمول بہت جان ریزی سے کام لیا ہے، اور مختلف کتابیں مرتب کی ہیں، اُن میں سے کچھ تو ایسی ہیں جن میں صرف روایات مذکور ہیں، اور کچھ ایسی ہیں جن میں روایات اپنے اصل مصادر کے حوالہ جات کے ساتھ مذکور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احادیث قدسی‘‘ علماء کی ایک کمیٹی کا احادیث کی مشہور ترین مجموعوں موطا امام اور صحاح ستہ سے قدسی روایات اخذ کے جمع کردہ ہے جسے دارالکتب العلمیہ، بیروت نے شائع کیا ہے اسلامک بک فاؤنڈیشن دہلی نے اس مجموعہ کو مولانا ابو مسعود ندوی کے ترجمہ کے ساتھ بمع عر بی متن شائع کیا۔ بعد ازاں منشورات، لاہور نے اس مجموعہ کا صرف اردو ترجمہ شائع کیا ہے لیکن اس میں احادیث کے حوالہ جات درج کردئیے ہیں تاکہ اہل علم کو عربی متن کی تلاش میں دقت نہ ہو۔ (م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1500
  • اس ہفتے کے قارئین 16354
  • اس ماہ کے قارئین 39894
  • کل قارئین49260088

موضوعاتی فہرست