اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

ڈاکٹر علی محمد الصلابی

  • نام : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #379

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 16458

    سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے

    (سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    سیدناابوبکرصدیق  رضی اللہ  عنہ  کی ذات اقدس جود و سخا، عفو و درگزر اور حیاء وعفت کا وہ بحر بے کنار ہے جس نے بارہا زبان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی بشارتیں سنیں، ۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  کی شخصیت اور کارناموں پر متعدد کتب اشاعتی مراحل طے کر چکی ہیں لیکن سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  سے وابستہ جمیع پہلؤوں کا احاطہ معدودے چند کتب میں ہی نظر آتا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی نے نہایت خوبصورت انداز میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  کی شخصیت اور کارناموں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کتاب کے ترجمہ کے فرائض شمیم احمد خلیل السلفی نے نہایت شاندار انداز میں نبھائے ہیں۔اس میں ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی سے متعلقہ کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ آپ کے خاندان اور مقام و مرتبہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے متعلقہ تمام احادیث کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ جہاں آپ کے منہج حکومت کو زیر بحث لایا گیا ہے۔  حضرت ابوبکرصدیق  رضی اللہ عنہ پر کیے جانے والے تمام اعتراضات کا براہین قاطعہ کی روشنی میں مسکت جواب نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیاہے۔ یقینی طور پر یہ کتاب حیات ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  پر لکھی جانے والی ایک دستاویز ہے اس میں وہ سب کچھ ہے جس کے آپ منتظر ہیں۔
     

  • 2 #380

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 18020

    سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت اورکارنامے

    (سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شخصیت اورکارنامے) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    عثمان رضی اللہ  عنہ  کی ذات اقدس جود و سخا، عفو و درگزر اور حیاء وعفت کا وہ بحر بے کنار ہے جس نے بارہا زبان نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی بشارتیں سنیں، جو جامع القرآن کے لقب سے ملقب ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کی شخصیت اور کارناموں پر متعدد کتب اشاعتی مراحل طے کر چکی ہیں لیکن عثمان غنی سے وابستہ جمیع پہلؤوں کا احاطہ معدودے چند کتب میں ہی نظر آتا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی نے نہایت خوبصورت انداز میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کی شخصیت اور کارناموں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کتاب کے ترجمہ کے فرائض شمیم احمد خلیل السلفی نے نہایت شاندار انداز میں نبھائے ہیں۔اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی سے متعلقہ کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ آپ کے خاندان اور مقام و مرتبہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت عثمان سے متعلقہ تمام احادیث کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ جہاں آپ کے منہج حکومت کو زیر بحث لایا گیا ہے وہیں دور خلافت میں مال و قضا کے ادارے کو ایک مستقل فصل میں سمویا گیا ہے۔ سیدنا عثمان کے گورنروں کی حقیقت سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ شہادت عثمان کے اسباب پر بھی قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر کیے جانے والے تمام اعتراضات کا براہین قاطعہ کی روشنی میں مسکت جواب نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیاہے۔ یقینی طور پر یہ کتاب حیات عثمان پر لکھی جانے والی ایک دستاویز ہے اس میں وہ سب کچھ ہے جس کے آپ منتظر ہیں۔
     

  • 3 #1089

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 26548

    سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے

    (سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    اسلام کی اب تک کی تاریخ میں دور نبوت کے بعد خلافت راشدہ کا دور ہر اعتبار سے سب سے ممتاز اور تابناک رہا ہے، کیونکہ اس کی باگ ڈور ان ہستیوں کے ہاتھ میں تھی  جنہو ں نے جہاں بانی اور جہاں بینی میں شمع نبوت سے روشنی حاصل کی تھی۔ ڈاکٹر علی محمد محمد الصلابی ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سیرت خلفائے راشدین کے تمام پہلوؤں پر نہایت علمی انداز میں روشنی ڈالی۔ زیر مطالعہ کتاب ڈاکٹر موصوف کی دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق کی حیات و خدمات اور کارناموں پر مشتمل ہے۔ جس کا سلیس اردو ترجمہ شمیم احمد خلیل السلفی اور عبدالمعین بن عبدالوہاب مدنی نے کیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنھوں نے فکری، سماجی، سیاسی، اقتصادی اور جنگی و فتوحاتی غرض ہر میدان میں انسانیت و روحانیت اور امن و آشتی کے لئے ایسے عدیم النظیر نقوش چھوڑے جن سے آج کی ترقی یافتہ کہی جانے والی دنیا بھی درست راہ لینے پر مجبور ہے۔ اس کتاب میں آپ کے دور کی آبادیاتی ترقی اور وقتی بحران سے نمٹنے کا تذکرہ ہے۔ گزرگاہوں اور خشکی اور سمندری وسائل، فوجی چھاؤنیوں اور تمدنی مراکز کے قیام کے سلسلہ میں آپ کے شدت اہتمام کا ذکر ہے۔ اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ آپ کے زمانہ میں بصرہ، کوفہ اور فسطاط جیسے بڑے بڑے شہر کیسے آباد ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے دور کی فتوحات اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد و الہٰی سنن کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ غرضیکہ اس کتاب میں فاروق اعظم رضی اللہ کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔ اس کتاب کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی بھی چیز حوالہ کے بغیر ذکر نہیں کی گئی۔ یہ کتاب خطبا و مقررین، علما و سیاسی قائدین، دانشوروں، طلبا اور عوام کے لئے یکساں اہمیت کی حامل ہے۔(ع۔م)

  • 4 #2131

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 5394

    فکر خوارج خطرناک فتنوں کی حقیقت

    (فکر خوارج خطرناک فتنوں کی حقیقت) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    ہر وہ شخص جو کسی ایسے امام کے خلاف خروج (بغاوت)کرے جس پرمسلمانوں کی جماعت متفق ہو خارجی کہلاتا ہے خواہ یہ خروج صحابہ کرام ،تابعین یا بعدکے زمانےکے خلفاءکے خلاف ہو ۔او رخوارج وہ لوگ ہیں جوکبیرہ گناہوں کی بنا پر اہل ایمان کو کافر شمار کرتے ہیں اور اپنی عوام پر ظلم وزیادتی کرنے والے امرء المسلمین پروہ خروج وسرکشی کرتے ہیں۔خوارج کی مذمت میں نبی کریم ﷺ سے بہت ساری احادیث وارد بھی ہوئی ہیں ۔ اور اہل علم نے ان کے عقاید ونظریات پر مستقل کتب بھی تصنیف کیں جن میں خوارج کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں جنہیں زیر تبصرہ کتاب میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔زیر نظر کتاب '' فکر خوارج'' سعودی عرب میں عصر حاضر کے ایک بڑے نامور عالم،ادیب،مؤرخ ڈاکٹر فضیلۃ الشیخ علی بن محمد الصلابی ﷾ کی عربی تصنیف فكر الخوارج والشيعه في ميزان اهل السنة والجماعة کا اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف نے اس میں خارجیوں او ر رافضی شیعوں کے انحراف اور انکی فکر وسوچ کےطریق ومسلک کے بارے او ر اسی طرح امیر المومنین حضرت علی کے عہد خلافت میں ان دونوں فرقوں کی اٹھان اوران کے بارے میں حضرت علی ﷺ کے موقف اور عصر حاضر میں ا ن کے اہل اسلام اوراہل السنۃ والجماعۃکے ساتھ تنازعات پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور ان احادیث نبویہ ﷺکا بھی ذکر کیا جو ان کی مذمت کو شامل ہیں ۔اور خارجیوں کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عباس کے مناظرہ اور سیدنا علی کا ان کے ساتھ جنگ کرنے کے اسباب کو بھی بیان کیاہے ۔ڈاکٹر صلابی﷾ اس کتاب کے علاوہ مختلف عناوین پرمشتمل بیسیوں کتب کے مصنف ہیں دکتور موصوف کو تاریخ اور الفرق والادیان پر پوری دسترس حاصل ہے مملکت سعودیہ میں بالخصوص اور دیگرعرب ممالک میں بالعموم ا ن کی کتابوں کو بڑے شوق سے پڑھا جاتا ہے اللہ مصنف اور ناشرین کتاب کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور اس کتاب کوعوام کےلیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

     

     

  • 5 #3466

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 4670

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ ( الصلابی )

    (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ( الصلابی )) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت ایک خارجی نے سیدنا علی پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔لیکن عصر حاضر میں خلفائے راشدین پر سب سے عمدہ اوراعلیٰ درجے کی کتب قطر میں مقیم ڈاکٹر علی محمد محمد صلابی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی ہیں۔انہوں نےجس عمدہ انداز میں خلفائے راشدین پر کتب تالیف کی ہیں اس کا کوئی جواب نہیں۔ کسی بھی مؤلف کے کام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ جو بات بھی تحریر کرے باحوالہ صحیح اور درست تحریر کرے ۔ اس کے کام میں ادھر ادھر کی باتیں اور رطب ویابس جمع نہ کیا گیا ہو۔ اس کا اسلوب اورانداز بیان بہت واضح ہو ۔ زبان ایسی آسان استعمال کی گئی ہوکی عام آدمی بھی اسے پڑھ اور سمجھ سکے اورفلسفیانہ انداز سے ہٹ کر اس انداز میں لکھاگیاہو کہ اس کی بات پڑھنے والے کے دل ودماغ کی گہرائی تک اتر جائے۔ ڈاکٹر صلابی صاحب کی تالیفات میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ڈاکٹر صلابی موصوف نے متعد د کتب کے علاوہ سیرت النبیﷺ اور خلفائے راشدین کی سیرت پر بڑی عمدہ کتب تحریر کی ہیں۔جنہیں بڑی مقبولیت حاصل ہے اصل کتب عربی زبان میں ہیں لیکن ان کی مقبولیت کےباعث دیگر زبانوں میں اس کے ترجمے بھی ہوچکے ہیں۔  زیر تبصرہ کتاب ’’سیدنا علی ‘‘ دکتور صلابی ہی کی اہم تصنیف ہے ۔اس کتاب میں سید نا علی کی مکمل سوانح اور آپ کی سیرت انتہائی احسن انداز میں بیان کی گئی ہے ۔ یہ کتاب داماد رسول ، فاتح خیبر،خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب کی تابناک سیرت کا مستند تذکرہ ہے ۔اس اہم کتاب کا سلیس اردو ترجمہ پروفیسر عبد الغفور مدنی ﷾ نے کیا ہے اور اسلامی کتب کے عالمی ادار ے ’’دار السلام ‘‘ نے بڑ ی عمدہ حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم ، اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور قارئین کےلیے اسے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 6 #3713

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 3120

    سیدنا حسن بن علی شخصیت اور کارنامے

    (سیدنا حسن بن علی شخصیت اور کارنامے) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    سیدنا حسن﷜ دماد ِ رسول حضرت علی﷜ کے بڑے بیٹے اور نبی کریم ﷺ بڑے نواسے تھے۔حدیث نبوی ہےآپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔نبیﷺ نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت حسن کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ ﷺکے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔سیدنا حسن﷜ نےاپنی زندگی میں ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا جس نےامت کےاتحاد میں زبردست کردار ادا کیا۔ امتِ اسلامیہ اس جلیل القدر سردار کی قرض دار رہے گی جس نے وحدت اوالفت ، خونریزی سے روکنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں زبردست کردار اداکیا ۔ اپنے عمدہ جہاد اور صبرِِ جمیل کے ذریعے ایسی مثال قائم کی جس کی ہمیشہ اقتدا کی جائےگی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیدنا حسن بن علی شخصیت اورکارنامے ‘‘ حضرت حسن کی ولادت سےخلافت اور وفات کے تک کے حالات پرمشتمل مستند کتاب ہے ۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ سیدناحسن کی خلافت حقیقت میں خلافت راشدہ تھی ۔اور آپ کی مدت حکومت خلافت راشدہ کی مدت کا تتمہ تھی۔اور سیدنا حسن کی طرف کچھ غلط منسوب خطبات کی حقیقت کوبھی واضح کیا ہے۔ نیز مصنف نے اس کتاب میں حضرت حسن کی اہم صفات اورا ن کی معاشرتی زندگی کو ذکرکیا ہے او رثابت کیا ہےکہ آپ نرالی قائدانہ شخصیت کےمالک تھے آپ کے اندر ربانی قائد کے اوصاف موجود تھے آپ دوربینی ،حالات پر گہری نظر ، جمہور کی قیادت کی صلاحیت، مقرر منصوبوں کی تنفیذ کے لیے عزم مصمم جیسے اوصاف سے متصف تھے۔الغرض سیدنا حسن کی سیرت ، حیات وخدمات خلافت وامارت اور کارناموں پر جامع اور مستند کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 7 #3714

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 3662

    سیدنا علی بن ابی طالب شخصیت اور کارنامے

    (سیدنا علی بن ابی طالب شخصیت اور کارنامے) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    سیدناعلی ﷜ آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی ﷜ نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا﷞ کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی ﷜ بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے زبانِ رسالت سے سیدنا علی ﷜ کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’انت من وانا منک‘‘تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔اور ایک ارشاد نبوی ﷺ ہے:’’ جس نے علی گالی دی اس نےمجھے گالی دی ‘‘ ۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان ﷜ کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمّال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر ﷜نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی ﷜ کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت   ایک خارجی نے سیدنا علی ﷜ پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں ۔لیکن عصر حاضر میں خلفائے راشدین پر سب سے عمدہ اوراعلیٰ درجے کی کتب قطر میں مقیم ڈاکٹر علی محمد محمد صلابی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی ہیں۔انہوں نےجس عمدہ انداز میں خلفائے راشدین پر کتب تالیف کی ہیں اس کا کوئی جواب نہیں۔ کسی بھی مؤلف کے کام کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ جو بات بھی تحریر کرے باحوالہ صحیح اور درست تحریر کرے ۔ اس کے کام میں ادھر ادھر کی باتیں اور رطب ویابس جمع نہ کیا گیا ہو۔ اس کا اسلوب اورانداز بیان بہت واضح ہو ۔ زبان ایسی آسان استعمال کی گئی ہوکی عام آدمی بھی اسے پڑھ اور سمجھ سکے اورفلسفیانہ انداز سے ہٹ کر اس انداز میں لکھاگیاہو کہ اس کی بات پڑھنے والے کے دل ودماغ کی گہرائی تک اتر جائے۔ ڈاکٹر صلابی صاحب کی تالیفات میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ڈاکٹر صلابی موصوف نے متعد د کتب کے علاوہ سیرت النبیﷺ اور خلفائے راشدین کی سیرت پر بڑی عمدہ کتب تحریر کی ہیں۔جنہیں بڑی مقبولیت حاصل ہے اصل کتب عربی زبان میں ہیں لیکن ان کی مقبولیت کےباعث دیگر زبانوں میں اس کے ترجمے بھی ہوچکے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیدنا علی بن ابی طالب شخصیت اور کارنامے ﷜‘‘ دکتور صلابی ہی کی عربی تصنیف کاترجمہ ہے ۔اس کتاب میں سید نا علی ﷜ کی مکمل سوانح اور آپ کی سیرت انتہائی احسن انداز میں بیان کی گئی ہے ۔ یہ کتاب داماد رسول ، فاتح خیبر،خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب کی تابناک سیرت کا مستند تذکرہ ہے ۔ سیدنا علی ﷜ کی سیرت طیبہ جنتی درخشاں ہے اس پر لکھنا اتنا ہی حساس کام ہے لیکن ڈاکٹر صلابی نے اس موضوع کو پوری دیانت داری سے احاطہ تحریر میں لے کر تاریخ میں چھپے ان صحیح حقائق واقعات کوروشن کردیا ہےجن سے پردہ اٹھاتے ہوئے بڑے بڑے منجھے ہوئے تحریر نگار بھی دھوکے کا شکار ہوئے ۔ تاریخ کی کتابوں سے لیے گئے واقعات کوقرآن وحدیث کی کسوٹی پر پرکھ کر حق وباطل میں فرق کر کے روشن حقیقت تک رسائی ممکن بنانا ڈاکٹر صاحب کاہی حصہ ہے ۔اس اہم کتاب کا سلیس اردو ترجمہ کتاب ہذاکے مصنف ڈاکٹر صلابی﷾ کے رفیق خاص محترم شمیم احمد خلیل السلفی﷾ نے کیا ہے اور الفرقان ٹرسٹ نے   بڑ ی عمدہ حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم ، اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور قارئین کےلیے اسے مفید بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 8 #5040

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 2770

    سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے

    (سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    سیدنا حسن دماد ِ رسول حضرت علی کے بڑے بیٹے اور نبی کریم ﷺ بڑے نواسے تھے۔حدیث نبوی ہےآپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔نبیﷺ نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت حسن کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ ﷺکے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔سیدنا حسن نےاپنی زندگی میں ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا جس نےامت کےاتحاد میں زبردست کردار ادا کیا۔ امتِ اسلامیہ اس جلیل القدر سردار کی قرض دار رہے گی جس نے وحدت اوالفت ، خونریزی سے روکنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں زبردست کردار اداکیا ۔ اپنے عمدہ جہاد اور صبرِِ جمیل کے ذریعے ایسی مثال قائم کی جس کی ہمیشہ اقتدا کی جائےگی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ سیدنا حسن بن علی شخصیت اورکارنامے ‘‘ حضرت حسن کی ولادت سےخلافت اور وفات کے تک کے حالات پرمشتمل مستند کتاب ہے ۔دکتور صلابی نے اس کتاب میں دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ سیدناحسن کی خلافت حقیقت میں خلافت راشدہ تھی ۔اور آپ کی مدت حکومت خلافت راشدہ کی مدت کا تتمہ تھی۔اور سیدنا حسن کی طرف کچھ غلط منسوب خطبات کی حقیقت کوبھی واضح کیا ہے۔ نیز مصنف نے اس کتاب میں حضرت حسن کی اہم صفات اورا ن کی معاشرتی زندگی کو ذکرکیا ہے او رثابت کیا ہےکہ آپ نرالی قائدانہ شخصیت کےمالک تھے آپ کے اندر ربانی قائد کے اوصاف موجود تھے آپ دوربینی ،حالات پر گہری نظر ، جمہور کی قیادت کی صلاحیت، مقرر منصوبوں کی تنفیذ کے لیے عزم مصمم جیسے اوصاف سے متصف تھے۔الغرض سیدنا حسن کی سیرت ، حیات وخدمات خلافت وامارت اور کارناموں پر جامع اور مستند کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور کتاب ہذا کے مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 9 #5268

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 3925

    سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے

    (سیدنا معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ

    سیدنا معاویہ  ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں ،جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابتِ وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے۔سیدنا علی   کی وفات  کے بعد  ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے۔جس میں اندرونی طور پر امن اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی۔لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گردوغبار میں روپوش ہو کر رہ گیاہے۔ کئی اہل علم اور نامور صاحب قلم حضرات نے  سیدنا معاویہ ابی سفیان   کے متعلق مستند کتب لکھ کر  سیدنا معاویہ  کے فضائل ومناقب،اسلا م کی خاطر  ان کی عظیم قربانیوں کا ذکر کے  ان کے خلاف کےجانے والےاعتراضات کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان شخصیت اور کارنامے   ‘‘ بھی اسے سلسلے کی  ایک کڑی ہے ۔یہ کتاب  سعودی عرب کے  ایک جید  عالم دین  اور نامور مؤرخ وسیرت نگا ر  دکتورعلی محمد محمد الصلابی ﷾  کی تصنیف ہے  انہوں نے اس کتاب میں حضرت معاویہ کا نام ونسب،کنیت ،خاندان، عہد رسول ﷺ اور عہد خلافت راشدہ میں بنی امیہ کاکردار، امیر المومنین عمر بن خطاب   کےدورمیں دمشق ،بعلبک اور بلقان پر گورنری اورسیدنا عمر   سے سیدنامعاویہ کے تعلق  کے علاوہ  دیگر کئی  ابحاث کو اس کتاب میں تاریخ  کی مستند کتابوں سے استفادہ کر کے  بڑے خوبصورت  انداز میں  پیش کیا ہے ۔فاضل مصنف نے اسی نوعیت  کی تحقیقی  اور معیاری کتب سیرت النبی ﷺ ،سیدناابو بکر ،سیدنا ابو بکر صدیق ، سیدنا عمرفاروق ، سید عثمان غنی ، سید نا علی المرتضیٰ ،  سیدنا حسن وحسین   کے متعلق  تصنیف کی  ہیں جن کے اردو تراجم ہوکر شائع ہوکر اردو  داں طبقہ سے  داد تحسین  حاصل کر چکے ہیں۔اور کتاب وسنت سائٹ بھی پر موجود ہیں ۔(م۔ا)

  • 10 #5318

    مصنف : ڈاکٹر علی محمد الصلابی

    مشاہدات : 2360

    سیدنا ابوبکر صدیق (صلابی) جلد اول

    dsa (سیدنا ابوبکر صدیق (صلابی) جلد اول) ناشر : دار السلام، لاہور

    انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار ، امارت ، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمنین ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے کی سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیدنا ابوبکر صدیق ‘‘ عرب کےمایہ ناز مؤلف ومحقق دکتور علی محمد محمد صلابی کی سیدنا ابو بکر صدیق کی سیرت وسوانح اور فضائل و خدمات کے متعلق بڑی مستند تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے رازدان نبوت ، رفیق خاص ،یار غار ،محسن اسلام خلیفۂ اول ، مکین روضہ رسول سید ابو بکر صدیق کی سیرت کو دلنشیں اور محققانہ اسلوب میں 200 سے زائد قدیم وجدید مصادر ومراجع کی روشنی میں اس کتاب کو عربی زبان مرتب کیا ہے ۔فضیلۃ الشیخ مولانا محمد اجمل بھٹی ﷾ (ریسرچ سکالر پیغام ٹی وی ، فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے اس اہم کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ سیرت سیدنا ابو بکر صدیق کے حوالے سےیہ کتاب بیش قیمت تحفہ ہے ۔تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین) (م۔ا)

< 1 2 >

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1591
  • اس ہفتے کے قارئین 15230
  • اس ماہ کے قارئین 53624
  • کل قارئین49444357

موضوعاتی فہرست