دکھائیں کتب
  • 341 مقامع الحدید علی الکذاب العنید (اتوار 24 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:1050

    قیامت کی نشا نیوں میں سے  ایک نشانی یہ ہے کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا اور لوگ جاہلوں کو پیشو ا بنا لیں گے اور یہ جاہل پیشوا بغیر علم کے فتوی دیں گے لہذا خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔انہی میں سے ایک مولانا احمد رضا خان بریلوی ہیں، جنہوں نے انگریز کی نوکری کرتے ہوئے دین میں ایسے ایسے عقائد گھڑ لئے جن کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔اور ساتھ ہی ساتھ دیگر مسالک کے پیروکاروں پر کفر کے فتوے لگانا شروع کر دئیے۔ زیر تبصرہ کتاب"مقامع الحدید علی الکذاب العنید "محترم مولانا محمد حنیف اعظمی مبارکپوری فاضل دیو بند کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  رضاخانیوں کی جانب سے دیو بندیوں کے عقائد پر لکھے گئے رسالے"المصباح الجدید" کا دندان شکن جواب دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ رضا خانی عقائد انتہائی بد تر عقائد ہیں۔گویا  حنفیت سے تعلق رکھنے والے  دونوں مکاتب فکر (دیو بندی اور بریلوی) آپس میں ہی ایک دوسرے کا رد کر رہے ہیں جو مقلدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ جب انہوں نے قرآن وسنت کے روشن راستے کو چھوڑ دیا تو گمراہی کے راستے پر چل نکلے اور اب ایک دوسرے کی خود ہی تردید کر رہے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو قرآن وسنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں شرک وبدعات سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 342 مقیاس حقیقت بجواب مقیاس حنفیت جلد اول (منگل 26 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:1695

    مسلک اہلحدیث کی بنیاد  دو چيزوں قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ  دو جلدوں پر مشتمل کتاب"مقیاس حقیقت بجواب مقیاس حنفیت"محترم حکیم محمد اشرف سندھو صاحب کی تصنیف ہے جوایک بریلوی عالم مولوی محمد عمر اچھروی کی کتاب "مقیاس حنفیت" کا کافی وشافی جواب ہے۔ اس رضا خانی مولوی نے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی کتاب میں مسلک اہل حدیث کے خلاف نہایت گندی زبان استعمال کی ہے جسے کتاب کے اندر جابجا ملاحظہ کیاجا سکتا ہے۔محترم  حکیم محمد اشرف  سندھو ﷫نے بھی رد عمل کے طور پربعض جگہوں پر سخت زبان  کااستعمال کیا ہے۔ مصنف﷫نے اس کتاب میں بریلویوں کی طرف سے مسلک اہل حدیث پر لگائے گئے الزامات کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ یہ مسلک اہل حدیث کے حوالے سےایک لاجواب اور قابل مطالعہ نایاب کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 343 منہج اہل حدیث (پیر 04 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:987

    اہل حدیث نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد"قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے۔اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلاناہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ منہج اہل حدیث‘‘ محمد طیب محمدی صاحب کی ہے۔ جس میں وحی کا معنیٰ و مفہوم، صحابۂ کرام کے اعمال، دین اسلام کا کامل ہونا، اتباع رسول کا معنی و اہمیت، ترک سنت کی سزا ، ترک تقلید، اعمال کی قبولیت...

  • 344 منہج سلف کا تعارف (جمعرات 06 جون 2019ء)

    مشاہدات:628

    منہج عربی زبان میں اس راستے کو کہا جاتا ہے کہ جس کی روشن صفات واضح ہوں   یعنی وہ طریقہ جوظاہرواضح اور مستقیم ہو۔اور سلف کا معنی ہےگزرے ہوئے نیک لوگ۔ہر پہلے آنے والابعد میں آنے والے کے لحاظ سے سلف ہے،لیکن جب سلف مطلق طور پر بولا جاتا ہےتواس سے مراد بہترین تین زمانے کے لوگ ہیں،جن کی گواہی نبی کریمﷺنےدی ہے،لہذا سلف سے مراد صحابہ،تابعین اور تبع تابعین ہیں یہی سلف صالحین ہیں۔ان کے بعد آنے والےجو ان کے منہج کو اختیار کریں وہ سلفی کہلاتے ہیں اگرچہ ان کا زمانہ بعد میں ہےیعنی سلفی سلف صالحین کے طریقے اور منہج کو اختیار کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔اور منہج سلف سے مراددین کو سمجھنے کا وہ منہج ہے جو صحابہ کرام﷢، تابعین عظام اور تبع تابعین ﷭کے ہاں پایا گیا ۔جسے ائمہ اہل سنت نے اپنی کتب میں محفوظ کرتے ہوئے ہم تک منتقل کیا ۔اس منہج پر چلنے والوں کو کو اہل سنت والجماعت کہتے ہیں اور اس کو ترک کرنے والے اہل بدعت کہلاتے ہیں۔اہل سنت  والجماعت سے مراد  پاک وہند میں موجود اہل سنت واالجماعت(بریلوی) نہیں ہے۔بلکہ وہ جماعت ہے جو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ کےطریقے  ومنہج کو اختیار کرنے والی جماعت ہے۔ زیر نظر کتاب ’’منہج سلف کا تعارف‘‘ مولانا عبیدالرحمن عبد العزیز سنابلی نذیری﷾ کی تصنیف ہے جو اپنے موضوع میں شاندار کتاب ہے ۔فاضل مصنف نے بڑی عرق ریزی سے اس کی ترتیب کا فریضہ انجام دیا ہے اس  موضوع پر عقلی  ونقلی دلائل سے لےکر عقائد وعبادات تک ، اور مسائل واحکام سے لے کر سلوک وتعاملات تک سارے ابواب میں سلفی...

  • 345 مکالمہ بین المذاہب (اتوار 16 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:3318

    موجودہ دور میں ذرائع ابلاغ موثر اور وسیع ترین ہتھیار ہے ۔ میڈیا پر قابض قوتیں اس کے ذریعے اچھے کو برااور برے کو اچھا ثابت کردیتی ہیں ۔یورپ اورامریکہ کےتمام نشریاتی اداروں،اخبارات ،رسائل اور دیگر تمام ذرائع ابلاغ پر قابض یہود نصاریٰ جہاں اپنے   باطل اور فرسودہ عقائد نظریات کی اشاعت کررہے ہیں۔ وہاں اسلامی عقائد وتعلیمات ،پیغمبر اسلام ﷺ کی ہدایات وشخصیت اوراسلامی شعائر پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔مغربی ذرائع ابلاغ مؤثر انداز میں پوری دنیا میں یہودیت ،عیسائیت ،لادینیت ،قادیانیت اور دوسرے مذاہب باطلہ کی تبلیغ کررہا ہے ۔اور اسلام کے بارے میں لوگوں کےدلوں میں طرح طرح کےشکوک وشبہات پیدا کر کے اسے قبول کرنے سے انہیں روک رہا ہے ۔عقائد کا موضوع فلسفہ اور منطق کی طرح نہایت بوریت کا حامل ہے ،اس کی مشکل اور پچیدہ ابحاث سے عموما طبیعت اُچاٹ ہوجاتی ہے کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عقائد کواپنا موضوع بحث بناتے ہیں اور اسی کواوڑھنا بچھونا بنا کر ہر دم مشقت طلب ابحاث کی کھود کرید میں لگے ہوں۔خصوصا پاکستان اور ہندوستان میں ۔ہاں عالمِ عرب میں عقائد کا موضوع نہایت اہمیت ہے پی ایچ ڈی کے اکثر مقالات کا دائرہ موضوع عقائد کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے ۔مکالمہ بین المذاہب کو بین الاقوامی اور عالم گیرت کے اس پر فتن دور میں مختلف فورموں پر اٹھایا جارہا ہے جس سے وحدت ِ ادیان کی طرح مضر اور نقصان دہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش ہور ہی ہے اس لیے علماء کواس سے پہلوتہی نہیں کرنی چاہیے اوراس عنوان سےاپنی کوششوں اور مساعی کو مرتب کرنا چاہیے،تاکہ احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ بحسن وخوبی...

  • 346 میں اہل حدیث کیوں ہوا (جمعہ 06 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1742

    مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے ۔مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے ۔ پہلے  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا  لیکن  اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ  اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا  اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی مسلمانوں کو  اس تقلیدی  گروہ بندی سے نجات دلائی جائےاور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے۔ مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک  حقیقی دعوت پیش کرنےوالا مسلک ہے۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے  اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل ونہار،شب وروز،محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔ گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہےجو صرف  قرآن وحدیث سے عبارت، جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو اور جس پر خیر القرون کاکردار گواہ ہو ۔مسلک اہل حدیث کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے  احناف اور شیعہ مکتب فکرکے کئی جید علماء کرام نے تحقیق کرنے کےبعد مسلک اہل حدیث کو اختیار کیا ۔انہی علمائے کرام میں  مولانا عبدالرحمن فاضل دیوبند فیصل آبادی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’میں اہل حدیث کیوں ہوا؟‘‘ مولاناعبدالرحمن فاضل دیوبند، فیصل آبادی کی سوانح حیات اور حنفیت کوچھو‎ڑ  کرمسلک حقہ اہل حدیث کواختیار کرنے کےاسباب واقعات پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو  کتاب وس...

  • 347 میں اہلحدیث کیوں ہوا (منگل 05 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1364

    اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف نہیں ہے۔ "اہلحدیث "ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں نہایت حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہیں۔اس کا مطح نظر فقط عمل بالقراٰن والحدیث ہے معاشرے میں پھیلے ہوئے رسوم و رواج کو یہ جماعت میزان نبوی میں پرکھتی ہے۔جوبات قرآن و سنت کے مطابق ہو اس کو قبول کرنا اس جماعت کا خاصہ اور امتیاز ہے۔ مسلک اہل حدیث وہ دستور حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہے،بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں۔"امرین صحیحین" کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت اور لائق تعمیل نہیں مانتا۔ زیر نظر کتاب"میں اہل حدیث کیوں ہوا "خالد گرجاکھی کی تصنیف ہےجس میں مولانا عبدالرحمن فاضل دارلعلوم دیوبند کا اہل حدیث ہونے کا مکمل سفر اور درپیش مسائل کو ایک تحریری قالب میں ڈھالا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور تمام مسلک اہل حدیث اختیار کرنے والوں کو صبرو استقامت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 348 میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا (پیر 06 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1432

    مسلک اہل حدیث یا سلفی منہج ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔ اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ"اہل"ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ "حدیث" ہے۔ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔ پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، ج...

  • 349 میں نے سلفی منہج کیوں اپنایا (پیر 06 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1432

    مسلک اہل حدیث یا سلفی منہج ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔ اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ"اہل"ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ "حدیث" ہے۔ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔ پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔ کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، ج...

  • 350 پارلیمنٹ میں قادیانی شکست (ہفتہ 04 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1585

    اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم ﷤ سے شروع ہوا اور سید الانبیاء  خاتم المرسلین حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوا اس کے  بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ  دائرۂ اسلام سے خارج ہے  نبوت کسبی نہیں وہبی ہے  یعنی اللہ تعالیٰ نے  جس کو چاہا نبوت ورسالت سے  نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ وہ نبی نہیں  بن سکتا ۔قادیانیت کے یوم پیدائش سے لے کر  آج تک  اسلام  اور قادیانیت میں جنگ جار ی ہے یہ جنگ گلیوں ،بازاروں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور عدالت کےکمروں تک لڑی گئی اہل علم  نے  قادیانیوں کا ہر میدان میں تعاقب کیا تحریر و تقریر ، خطاب وسیاست میں  قانون اور عدالت میں  غرض کہ ہر میدان  میں انہیں شکستِ فاش دی ۔  سب سے پہلے قادیانیوں سے  فیصلہ کن قانونی معرکہ آرائی بہاولپور   کی سر زمیں میں ہوئی جہاں ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے مقدمہ تنسیخ نکاح  میں مسماۃ عائشہ بی بی کانکاح عبد الرزاق قادیانی  سے فسخ کردیاکہ ایک مسلمان عورت مرتد کے نکاح میں نہیں رہ سکتی  1926ء سے  1935 تک  یہ مقدمہ زیر سماعت رہا  جید  اکابر علمائے  کرام   نے عدالت   کے  سامنے  قادیانیوں کے خلاف  دلائل کے انبار لگا دیے  کہ ان  دلائل کی روشنی میں  پہلی  بار عدالت کے ذریعے  قادیانیوں کو غیر مسلم  قرار دیا گیا  ۔   پھر  اس کے بعد بھی  قادیانیوں کے خلاف...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1556
  • اس ہفتے کے قارئین: 7033
  • اس ماہ کے قارئین: 35282
  • کل قارئین : 46485903

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں