#3895.01

مصنف : سعید احمد پالن پوری

مشاہدات : 6105

رحمۃ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ جلد دوم

  • صفحات: 746
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 18650 (PKR)
(منگل 03 مئی 2016ء) ناشر : زمزم پبلشرز کراچی

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی﷫ برصغیر کی ایک معروف علمی شخصیت ہیں۔ آپ  بنیادی طور پر حنفی المسلک تھے۔جس دور میں آپ پیدا ہوئے  وہ تقلیدی جمود کا دور تھا اور فقہ حنفی کو حکومتی سرپرستی حاصل تھی۔شاہ ولی اللہ جیسے ماہر فقہ نے اسی مکتبہ فکر میں پرورش پائی تھی۔ لیکن جب آپ  حج کے لیے مکہ مکرمہ گئے تو وہاں عرب شیوخ سے درس حدیث لیاجس سے آپ کی طبیعت میں تقلیدی جمود کے خلاف ایک تحریک اٹھی۔چنانچہ  وہاں سے واپسی پر آپ نے  سب سے پہلے برصغیر کے عوام کو اپنی تحریروں سے یہ بات سمجھائی  کہ دین  کو کسی ایک فقہ میں بند نہیں کیا جا سکتا،  بلکہ وہ  چاروں اماموں کے پاس ہے۔ یہ جامد تقلید کے خلاف برصغیر میں باضابطہ پہلی کوشش تھی۔اس کے بعد شاہ صاحب نے  ساری زندگی قرآن و سنت کو عام کرنے کے لیے وقف کردی۔آپ نے اپنی معروف کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں نہایت شرح و بسط کے ساتھ احکام شرع کی حکمتوں اور مصلحتوں پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انسانوں کے شخصی اور اجتماعی مسائل، اخلاقیات،  سماجیات او راقتصادیات کی روشنی میں فلاح انسانیت کی عظیم دستاویز کا خلاصہ ہے۔اصل کتاب عربی میں ہے جس کا متعدد اہل علم نے  اردو میں  ترجمہ کیا ہے۔اور اس وقت ضرورت تھی کہ اس کی کوئی شرح بھی ہو تی چنانچہ مولف نے یہ کمی پوری کر دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"رحمۃ اللہ الواسعۃ شرح حجۃ اللہ البالغۃ" دار العلوم دیوبند کے استاذ مولانا سعید احمد پالن پوری صاحب  کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے شاہ صاحب کی اس عظیم الشان تصنیف کی شرح کر دی ہے۔یہ کتاب پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور افادیت کے پیش نظر  اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف، مترجم اور شارح سب کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

عناوین

صفحہ نمبر

فہرست مضامین

3۔18

سخن ہائے گفتنی

19۔23

حجۃ اللہ البالغہ کے مضامین کاتعارف

19

شاہ صاحب ﷫ حنفی ضرور ہیں مگر جامد مقلد نہیں ہیں بلکہ محقق حنفی ہے

21

شاہ صاحب ﷫ شیخ ابو طاہر کردی ،مدنی ،شافعی ﷫ سے بے حد متاثر ہوئے ہیں

22

یہ خیال سراسر غلط ہے ک شاہ  صاحب ﷫ تقلید سے بے زار تھے

22

رائے گرامی :حضرت مولانا محمد سالم صاحب زیر فضلہ

24

رائے گرامی :حضرت مولانابرہان الدین صاحب سنبھلی زید مجدہ

25

رائے گرامی :حضرت مولانا ڈاکٹر عبداللہ ندوی زید مجد ہم

26

رائے گرامی :حضرت مولانا زین العابدین صاحب اعظمی زید مجدہ

28

کتاب کاآغاز

31

مبحث ششم سیاست ملیہ کابیان

 

با ب (1)ملتیں استوار کرنے والے دینی راہ نماؤں کی ضرورت

31

ملتوں کے قیام وبقاء کے لئے دینی راہ نماضروری ہیں

32

دینی راہ نما (عالم دین )کے لئے ضرو رتیں

37

دینی راہ اصلاح کے طریقے وجدان سے جانتے ہیں

38

نبی کاوجدان بحکم وحی ہے

39

علماء کےوجدانیات از قبیل اجتہادات ہیں

39

یہ کیسے معلوم کیاجائے کہ وجدانیات صحیح ہیں؟

39

وجدانی علم حاصل ہونے  کی دوصورتیں

40

وجدانی علوم لوگوں کو کیسے باور کرائے جائیں؟

40

باب (2)نبوت کی حقیقت اور اس کی خصوصیات

43۔75

غیب سے علم حاصل کرنے کی صورتیں

43

مفہم کی تعریف ،مفہمین کامرتبہ اور ان کی سیرت کے بارہ عناصر

43

مفہمین کی آٹھ قسمیں :کامل حکیم خلیفہ موید بروح القدوس ہاوی مزگی اما م مندراور نبی

46

نبیوں میں سب سے بڑا مقام اس نبی کاہے جس کی بعثت دوہری ہے یعنی جس کی امت بھی مبعوث ہے اور مفہمین کے تمام انواع کاجامع ہے (نہایت اہم بحث)

50

بعثت انبیاء کے اسباب اور ان کی اطاعت کاوجوب

56

نبی کی پیروی ہر حال میں ضروری ہے اگرچہ لوگ راہ راست پر ہوں

61

بعثت رسل سے تما م حجت ہوتاہے

62

نبوت کے معاملہ کی مثال سے وضاحت

63

اہم معجزات کے اسباب

65

چیزوں میں برکت وطرح سے ہوتی ہے

65

عصمت انبیاء کابیان

68

انبیاء کرام علیہم الصلوۃ واسلام کامنہاج تعلیم وتربیت

70

باب (3)تما م سماوی مذاہب کی اصل ایک ہ او رقوانین ومناہج مختلف ہیں

76

اصل دین کیاہے اور منہاج وشریعت کیا ہے

79

آئین وشریعت کی ضرورت کیوں ہے

82

شریعت کسی طرح تشکیل پاتی ہے

86

شریعت کا فیصلہ بعثت کے فیصلہ میں مضمر ہوتاہے

91

باب (4)وہ اسباب جن کی وجہ سے مختلف زمانوں میں مختلف قوموں کے لئے مخصوص شریعتیں نازل ہوئی ہیں

93

پانچ نصوص جواختلاف شرایع کے اسباب پر دلالت کرتی ہیں

63

شریعتوں میں اختلاف کے چار اسباب

98

اختلاف شرائع کےاسباب کثیرہ کامرجع وہ انواع ہیں

104

نوع اول کابیان یعنی اختلاف شرائع کے وہ اسباب جوفطری امر کی طرح ہیں

104

شریعتوں میں مستخضر اور غیر متحضر سبھی علوم کااعتبار ہوتاہے

109

نزول شرائع میں لوگوں کے عام وخاص دونوں قسم کے علوم کادرجہ اعتبار کای جاتاہے

113

اکثرنبوت کسی ملت کے ماتحت ہوتی ہے (اختلاف شرائع کی ایک او روجہ )

114

دوسری نوع کابیان یعنی اختلاف شرائع کے وہ اسباب جوعارضی او رطاری ہیں

116

عارضی اسباب میں بنیادی سبب پیغمبر کی خصوصی توجہ اور دعاہے

118

عارضی اسباب کی مثال

119

عارضی اسباب کم سے کم پائے جائیں تو بہتر ہے

119

باب (5)شریعتوں پر مواخذہ کے اسباب

123

مجاز ات :اخلاق وملکات پر ہوگئ یااعمال ظاہر ہ پر ؟

123

حق بات یہ ہے کہ ثواب وعقاب کاترغیب ظاہری اعمال پر ہوگا اور اعمال میں یہ شان سات وجوہ سے پیدا ہوئی ہے

127

مجازات میں اعمال ظاہر ہ کے ساتھ نیتوں کابھی اعتبار ہاے

135

قو م کو ڈبوکر آدمی حر نہیں سکتا

137

باب (6)حکم اور علت کے رموز

138

حکم کابیان احکام کاراز

138

حکم کی تعریفات اور مطالبہ او رممانعت کی دوصورتیں

139

احکام خمسہ ،وجوب،ندب،اباحت،کراہیت او رتحریم

140

اصولیوں کے نزدیک حکم کی تعریف

142

علت کابیان علت کی تعریف ارو علت کاراز

143

حکم کی بنیادی دو قسمیں حکم تکفی اور حکم وضعی

145

حکم وضعی کی پانچ ہے،علت ،سبب ،شرط،علامت ،او رمائع

145

علت کی اقسام

146

کبھی لوازم علت کوعلت بنایا جاتاہے

151

علت واضح چیز ارو بنیادی مصالح کامظنہ ہونی چائیے

154

جس وصف کو علت بنایا جائے اس میں کوئی وجہ ترجیج ہونی چاہئے

155

وجوہ ترجیج پانچ ہیں تاثیر ظہور انضباط عدم مخلف او رمناسبت

156

علت دریافت کرنے کاطریقہ سیروتقسیم

157

باب (7)ارکان اور آداب وغیرہ تجویز کرنے کی حکمتیں

157۔177

سب عبادتیں اور ان کے اجزا ء یکساں کیوں نہیں

157

ارکان وشرائط کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے

160

فرائض میں محلوظ اصولی باتیں

166

طاعات کی اعلی اور ادنی حدکی وضاحت

167

آداب کی تعین کی پہلی مصلحت (مثبت پہلو سے )

169

آداب کی تعیین کی دوسری مصلحت (منفی پہلو سے )

171

فرض کفایہ کی تعیین کی مصلحتیں

175

باب (8)عبادتوں کے لیے تعیین اوقات کی حکمتیں

178۔193

تین اصول جن پر تعیین کی حکمتیں مبنی ہیں

178

اصل اول:عبادت کے لئے وہ اوقات مناسب ہیں جن میں روحانیت پھیلتی ہے

178

ظہور روحانیت کے اوقات اور نمازوں کے لئے ان کی تعیین

181

اصل دوم:عبادت کےلئے مناسب اوقات وہ ہیں جو عبادت گذاروں کے احوال کے مطابق ہوں

187

اصل سوم :تعیین اوقات میں مرعی امور چار ہیں

191

باب (9)اعداد ومقاویر کی حکمتیں

194

اصل اول :طاق عددکی رعایت

194

طاق عدد ایک مبار ک عدد ہے (دلیل نقلی وعقلی)

194

مقاویر شرعیہ میں ایک تین سات اور ان سے ترقی یافتہ عددلے گئے ہیں

196

ایک عدد ہے یانہیں اصول اعداد 1۔9ہیں باقی تمام اعداد فروعات ہیں

196

ایک تین اور سات ہی ایسے طاق اعداد ہیں جو وجوہ طاق ہیں

197

اعداد کوتر قی دینے کاطریقہ

197

اصل دوم :ترغیب وترہیب وغیرہ کے اعداد کی حکمتوں کے لئے ضوابط

202

پہلاضابط:کبھی عددوقتی اطلاع کے مطابق ذکر کیا جاتا ہے حصر مقصود نہیں ہوتا

202

دوسر ا ضابطہ کبھی عدداجتہاد سے مقرر کیاجاتاہے

205

تیسر اضابطہ :کبھی عددیامقدار بطور تمثیل ذکر کی جاتی ہے

209

اصل سوم :جومقدر متعین کی جائے وہ واضح اور معلوم ہونی چاہیے

310

کسر،جز،منطق،اصم ،کی تعریفات

210

فرائض کے سہام کابیان

211

تعیین مقدار کے تین اور ضابطے

212

رکات کی مقداریں اور ان کی حکمتیں

214

مالداری کی تعیین کیسے کی جائے

214

مائے کثیرہ کاانداز ہ قلیتن سے کیا گیاہے

215

باب (10)قضاءاور رخصت کی حکمتیں

217۔228

احکام تکلیفہ کے لحاظ سے بندوں کی دوحالتیں

217

جوہر عمل سے زیادہ عمل کی ظاہری صورت مطلوب ہے

217

جب ادفوت ہوجائے توقضا ضروری ہے اور ادائیگی میں دشواری ہوتو رخصت ضروری ہے

218

نفس کو قابو میں لانے کاطریقہ

219

رخصتوں کے تین اصول

222

اصول اول :رخصت ارکان وشروط کے اصلی درجہ میں نہیں تکمیلی درجہ میں دی جاتی ہے

222

اصل دوم :رخصت میں بدل ایسا تجویز کی جائے جواصل کو یاددلائے

225

اصول سوم :ہرتنگی باعث رخصت نہیں صرف  کثیر الوقوع تنگی جس میں ابتلاء عام ہوباعث رخصت ہے

225

رخصت کی ایک صورت بہ بھی ہے کہ ایک وقت حکم اٹھا دیاجائے

226

باب (11)ارتفاقات کی رائج کرنا اور ریت ورواج کی اصلاح کرنا

229

صالح ارتفاقات کی رائج کی ترغیب دینا او رباطل رسوم کو مٹانا مقاصد نبوت میں داخل ہے

229

ارتفاق ثانی اور ثالث کی رائیگاں کرنااللہ کی مرضی نہیں ہے

232

ارتفاقات پیش لفظ کرنے میں انبیاءکاطریقہ ہے

235

ارتفاقات او رعیش کوشی

239

بڑے جھگڑوں کاسدباب مقتول کےخون کامطالبہ میراث کے معاملات اور سود کامعاملہ

246

چھوٹے نزاعات کے لئے ضوائط

248

باب (12)بعض احکام سے بعض احکام کاپیدا ہونا

250

اقتضاء اور ایماء کے معانی

250

اس کتاب کی دیگر جلدیں

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1083
  • اس ہفتے کے قارئین 2994
  • اس ماہ کے قارئین 50154
  • کل قارئین56204117

موضوعاتی فہرست