دکھائیں کتب
  • 21 قادیانیوں سے فیصلہ کن مناظرے (جمعہ 02 اپریل 2010ء)

    مشاہدات:18354

    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کسی بھی دلیل کی محتاج نہیں۔ اس کے باوجود تاریخ کے مختلف ادوار میں ختم نبوت کے ناقابل تسخیر قلعہ میں بعض "مہم جو" سارقوں نے نقب زنی کی کوشش کی۔ اور ہر ایک کو منہ کی کھانا پڑی۔ انہی میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی طالع آزما ہو گذرے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ایسے ہی حقائق آفریں اور چشم کشا مناظروں کی فکر انگیز روداد ہے جس میں قادیانیوں کے باطل نظریات کی دلائل اور متانت سے بھرپور تردید کی گئی ہے۔ طرز گفتگو سادہ و سلیس اور اصلاحی فکر لئے سنجیدہ و پر تاثر ہے۔ تردید قادیانیت کے موضوع پر یہ کتاب ایک عمدہ اضافہ ہے۔

     

  • 22 مبادیات تحقیق (پیر 25 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2216

    تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردۂ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصۂ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔مزید واقعاتی حقائق کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات معلوم کرنے کا نام بھی تحقیق ہے ۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔تحقیق کے لغوی معنیٰ کسی شئے کی حقیقت کا اثبات ہے۔ ’’تحقیق کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ ریسرچ ہے…اس کے ایک معنیٰ توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں، دوسرے معنیٰ دوبارہ تلاش کرنا ہے۔دور حاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا باقاعدہ ایک علم بلکہ ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے ۔ اس طرح اصول تحقیق ، تحقیق نگاری، فن تحقیق یا تحقیق کا علم جامعات اورمزید علمی اداروں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔تحقیق واصول تحقیق پر متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ...

  • 23 متنازعہ ترین شخصیت (اتوار 25 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:21915

    پروفیسر طاہر القادری صاحب کا شمار پاکستان کی ان شخصیات میں سے ہوتا ہے جو اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں، لیکن تاسف کی بات یہ ہے کہ انہوں نے شہرت کی معراج پانے کے لیے مذہبی لبادہ اوڑھنا ضروری سمجھا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ ہزاروں کی تعداد میں سادہ لوح مسلمان موصوف کو اسلام کا سفیر سمجھ کر ان کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیارہو گئے۔ زیر نظر کتاب میں ہمارے ممدوح کی ’محمد طاہر‘ سے ’شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری‘ بننے اور ان کا سائیکل سے لے کر لینڈکروزر تک کا سفر ہے۔ طاہر القادری صاحب کی شخصیت ان کے شباب سے لے کر اب تک کیوں متنازعہ رہی اس کا جواب وہ تمام حقائق ہیں جن کو اس کتاب میں یکجا کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب کا مقصد ہرگز ہرگز کسی خاص مکتب فکر کو ہدف تنقید بنانا نہیں ہے بلکہ طاہر القادری صاحب کے پیروؤں کی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی کو اتارنا ہے جن کی کھلی آنکھیں انہیں یہ بتانے میں دیر نہیں کریں گی کہ ایک ایسا شخص جس نے دولت و شہرت پانے کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر ہاتھ ڈالنے سے گریز نہیں کیا ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ اسے پلکوں پر بٹھایا جائے۔ کتاب کے مصنف محمد نواز کھرل نے پروفیسر طاہر القادری سے متعلق اخبارات و جرائد میں جو کچھ شائع ہوتا رہا ہے ان تمام تحریروں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے تاکہ ان کی روشنی میں قائد انقلاب اور ان کے کارکنان اپنی سمت کا از سر نو تعین فرمائیں۔ یہ کتاب 2002ء میں شائع ہوئی، جب پروفیسر صاحب پاکستان میں رہ کر ’مذہبی خدمات‘ انجام دے رہے تھے۔ ان دنوں وہ کینیڈا میں مقیم ہیں، اپنے نام ک...

  • ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔ معاشرتی علوم اور ادبیات میں علمی نوعیت کی جدید رسمیات پر مبنی کتابیں اور تحقیقی مجلے اس وقت عام ہونے لگے تھے جب رائل ایشیا ٹک سوسائٹی نے خصوصا تاریخ کے موضوعات پر اپنے مطالعات کو جدید اصولوں کے تحت شائع کرنے کا آغاز کیا اور یورپ کے دیگر ملکوں جیسے جرمنی، اٹلی، فرانس اور ہالینڈ کے تحقیقی اور اشاعتی اداروں نے بھی اس جانب پیش قدمی کی اور اسی زمانے میں خصوصا تحقیق و ترتیب متن کی بہترین کوششیں سامنے آنے لگیں۔مغربی جامعات اور تحقیقی و طباعتی ادارے اس بارے میں اپنے اختیار کردہ یا وضع کردہ رسمیات کو بے حد اہمیت دیتے اور ان کی پابندی کرتے ہیں۔ ان اداروں اور جامعات میں ان رسمیات کے معیارات میں فرق یا اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن ہر ادارہ یا جامعہ اپنے لئے وضع کردہ اور اختیار کردہ اصولوں پر سختی سے کاربند رہتی ہیں۔ آکسفورڈ اور کیمبرج کی جامعات میں ان کے طباعتی اداروں میں یہ رسمیات باہم مختلف ہوسکتی ہیں لیکن کیمرج میں لکھا جانے والا ہر مقالہ یا وہاں سے شائع ہونے والی ہر کتاب بڑی حد تک یکساں معیارات اور اصولوں کے تحت لکھی یا شائع کی جاتی ہیں۔ یوں ہم تحقیق میں ہر مغربی جامعہ یا تحقیقی ادارے کو اپنی مخصوص رسمیات یا اسالیب و اصولوں پر عمل پیرا دیکھ سکتے ہیں۔لیکن افسوس کہ...

  • 25 مفتی تقی عثمانی کا رجوع (پیر 18 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:17364

    جناب مفتی تقی عثمانی صاحب دیوبندی مکتب فکر کی معروف شخصیت ہیں۔آپ مولانا مفتی محمد شفیع کے صاحبزادے اور بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں۔موصوف وفاقی شرعی عدالت کے جج بھی رہ چکے ہیں آج کل آپ اسلامی بینکوں کی سرپرستی فرمارہے ہیں اور حیلوک کے ذریعے ’مروجہ اسلامی بینکاری‘کے جواز کا فتوی دے رہے ہیں۔مفتی تقی عثمانی صاحب کی ایک کتاب’فقہی مقالات‘ہے جو ان کے فقہی مضامین کا مجموعہ ہے ۔اس کی چوتھی جلد میں موصوف نے ’حرام اشیاء سے علاج‘کے ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے بعض کبار حنفی علما  کے حوالے سے یہ فتوی دیا کہ علاج کی خاطر سورہ فاتحہ کو پیشاب اور خون سے لکھا جائز ہے ۔اس پر عامۃ المسلمین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تو مفتی صاحب نے ’اسلام‘اقبار میں یہ وضاحت کی وہ نجاست سے سورہ فاتحہ کے لکھنے کو جائز نہیں سمجھتے۔زیر نظر مختصر کتابچہ میں ان کے اس وضاحتی بیان کا جائزہ لیتے ہوئے اس مسئلہ سے متعلق احناف کے نقطہ نظر پر تنقیدی نگاہ ڈالی گئی ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے حق کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ان شاء اللہ۔(ط۔ا)

  • 26 مولانا سرفراز صفدر اپنی تصانیف کے آئینے میں (پیر 10 فروری 2014ء)

    مشاہدات:23970

    دین اسلام کے بنیادی اور اہم ترین اصولوں میں سے  ایک اصول یہ ہے کہ تمام انسانوں سے بالعموم اور اپنےمسلمان بھائیوں کےساتھ بالخصوص ،خیر خواہی ،ہمدردی  او ربھلائی کامعاملہ کیا جائے سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے   کو لوگو ں کو صراط مستقیم کی رہنمائی کی جائے  برائیوں اور معصیتوں سے خبردار کیا جائے اسی کا دوسرا نام ''فريضہ تبلیغ دین''  یعنی امر بالمعروف  ونہی عن المنکر ہے عصر حاضر میں جو حضرات خدمت دین کا  فريضہ  سر انجام دے رہے ہیں  ان میں ایک دیوبندی مکتب فکر کے نامور عالم دین حضرت مولانا محمدسرفراز صاحب  ہیں  جو ماشاء اللہ دو درجن کتابوں کے مصنف ہیں  اور ان کے حلقہ میں  ان کی تصانیف کو خوب پذیرائی  حاصل ہے لیکن چونکہ وہ تمام مسائل کو  اپنے مخصوص زاویہ نظر وفکر میں پیش کرتے ہیں  اس لیے اکثروبیشتر  اس کے تحفظ میں حد اعتدال سے تجاوز کرجاتے ہیں اپنے او ردوسرے مکتب فکر کے حضرات کےلیے عدل وانصاف کےپیمانے بھی ان کے ہاں مختلف ہیں جواصول اپنے دفاع میں ایک جگہ بڑی محنت وکاوش سے منتخب کرتے ہیں وہی اصول مخالف سمت میں آئے تواسکی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیتے ہیں اس طرح کی بہت سی ناانصافیاں  ان کی تصانیف میں نظر آتی ہیں جیسا کہ انشاء اللہ العزیز اس رسالہ سے عیاں ہوگابلاشبہ انسان غلطی وخطا کاپتلا ہے ہمارا یہاں مقصور الدین النصیحۃ کے ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کےتحت ان باتوں سے محض خبردار کرنا ہے ­حضرت مولانا صاحب کےحلقہ ارادت سے بالخصوص اور عام مسلمانوں سے بالعموم عرض کرناہے کہ وہ...

  • 27 مکالمات نور پوری (جمعرات 06 اگست 2009ء)

    مشاہدات:22249

    زير نظر کتاب میں مولانا عبدالمنان نوری پوری کے ان مناظرات کو جمع کیا گیا ہے جو وقتا فوقتا مختلف عنوانات پر بذریعہ خط وکتابت ہوئے-ان مکالموں میں کیا مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہے؟کیا تقلید واجب ہے؟تعداد التراویح،مسئلہ رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام جیسے مسائل قابل ذکر ہیں-کتاب کے آخر میں حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کے تین مناظروں کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن میں پہلا مناظرہ ایک دین اور چار مذہب کے نام سے  ہے،جس کا جواب قاضی حمیداللہ صاحب نے اظہار المرام کے نام سے دیا اس کا جواب بھٹوی صاحب نے کشف الظلام کی صورت میں دیا-جبکہ تیسرا مناظرہ سورۃ فاتحہ اور احناف کے نام سے سپرد قلم کیا گیا ہے-

  • 28 میزان مناظرہ حصہ اول (بدھ 19 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:23173

    حضرت مولانا عبدالقادر روپڑی اہل حدیث کے مایہ ناز مناظر، ہر دلعزیز خطیب، سیاسی رہنما اور تحریک پاکستان کے نامور مجاہد تھے۔ ایسی نابغہ روزگار شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ آپ کے علمی، دینی، تبلیغی اور ملی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے ۔ آپ مسلک اہل حدیث کے دفاع کے لیے ہر وقت آمادہ رہتے ان کی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے بسر ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے مسئلہ مسنون تراویح، صداقت مسلک اہل حدیث اور ضلالت بریلویت، فاتحہ خلف الامام، بشریت مصطفیٰﷺ، مسئلہ حاضر و ناظر، نفی علم غیب، مسئلہ استمداد لغیر اللہ، عدم سماع موتی اور ایسے ہی دیگر عنوانات پر مناظروں کی روداد قلمبند کی گئی ہے اور ان مناظروں میں حضرت حافظ صاحب نے بہت سلجھے  انداز میں کتاب و سنت کے دلائل و براہین دیتے ہوئے اپنے حریفوں کو شکست سے دوچار کر رکھا ہے یہ ایمان افروز روداد علما، طلبہ اور پڑھے لکھے احباب کے لیے یکساں مفید ہے۔اس فن سے دلچسپی رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کتاب کا ایک ایک لفظ بغور پڑھیں کیونکہ اس فن میں الفاظ کی پہچان اور ہیر پھیر بھی نتائج بدلنے میں اپنا اثر رکھتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 29 میزان مناظرہ حصہ دوم (جمعرات 20 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:23017

    حضرت مولانا عبدالقادر روپڑی اہل حدیث کے مایہ ناز مناظر، ہر دلعزیز خطیب، سیاسی رہنما اور تحریک پاکستان کے نامور مجاہد تھے۔ ایسی نابغہ روزگار شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔ آپ کے علمی، دینی، تبلیغی اور ملی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے ۔ آپ مسلک اہل حدیث کے دفاع کے لیے ہر وقت آمادہ رہتے ان کی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے بسر ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے مسئلہ مسنون تراویح، صداقت مسلک اہل حدیث اور ضلالت بریلویت، فاتحہ خلف الامام، بشریت مصطفیٰﷺ، مسئلہ حاضر و ناظر، نفی علم غیب، مسئلہ استمداد لغیر اللہ، عدم سماع موتی اور ایسے ہی دیگر عنوانات پر مناظروں کی روداد قلمبند کی گئی ہے اور ان مناظروں میں حضرت حافظ صاحب نے بہت سلجھے  انداز میں کتاب و سنت کے دلائل و براہین دیتے ہوئے اپنے حریفوں کو شکست سے دوچار کر رکھا ہے یہ ایمان افروز روداد علما، طلبہ اور پڑھے لکھے احباب کے لیے یکساں مفید ہے۔اس فن سے دلچسپی رکھنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کتاب کا ایک ایک لفظ بغور پڑھیں کیونکہ اس فن میں الفاظ کی پہچان اور ہیر پھیر بھی نتائج بدلنے میں اپنا اثر رکھتے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 30 نابغہ عصر کا مبلغ علم (بدھ 29 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:1590

    جب کوئی شخص کسی بڑے عہدے پر فائز ہو جاتا ہے تو اس کا منصب حصول علم کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔کہیں فرائض منصبی حصول علم کے لئے ضروری فراغت کا دائرہ تنگ کرنے لگتے ہیں تو کہیں احساس کمال جذبہ طلب پر چھانے لگتا ہے۔نیز مناصب کا تزک واحتشام مادی اور نفسیاتی الجھنیں پیدا کر دیتا ہے۔علاوہ ازیں جب اس کا حلقہ ارادت وسیع ہوجاتا ہے تو اس کے علم وتجربہ پر اعتماد کرنے والوں کے لئے اس کے نظریات وافکار میں سے صحیح وغلط میں امتیاز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔اور اس طرح بغیر علم حاصل کئے بلند مقام پر پہنچ جانے والے اشخاص ضلوا فاضلوا کا مصداق بن جاتے ہیں اور یہ صورت حال تابع اور متبوع دونوں کے لئے فتنہ بن جاتی ہے۔ایسا ہی کچھ معاملہ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے نامور نابغہ عصر ڈاکٹر پروفیسر طاہر القادری کے ساتھ پیش آیا ہے۔جنہیں اتفاق سے قومی ذرائع ابلاغ میں بھر پور تشہیر بھی میسر ہے۔لیکن ان کے مبلغ علم کا یہ حال ہے کہ صحیح عربی عبارت بھی نہیں پڑھ سکتے اور قرآن مجید کے ترجمہ میں بے شمار غلطیاں کرتے نظر آتے ہیں،اور ان کی یہ غلطیاں خود ان کے اپنے مسلک کے لوگ نکال نکال کر ان کے مبلغ علم پر مہر ثبت کر رہے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"نابغہ عصر کا مبلغ علم" محترم محمد رفیق اختر کاشمیری کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کی انہی خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی کی ہے،جو انہوں نے اپنے مختلف خطبات میں کی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ احقاق حق کے لئے مولف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1646
  • اس ہفتے کے قارئین: 9045
  • اس ماہ کے قارئین: 37294
  • کل قارئین : 46511986

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں