دکھائیں کتب
  • 11 تحقیق کا فن (بدھ 08 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:6405

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تحقیق کا فن "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجو ڈاکٹر گیان چند صاحب کی وہ قابل قدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے فن تحقیق کو موضوع بحث بنایا ہے۔یہ کتاب نہ صرف ان کی زندگی کے علمی وتحقیقی تجربوں اور وسیع وگہرے مطالعے کا نچوڑ ہے بلکہ اس میں فن تحقیق کے وہ سارے پہلو آ...

  • علم  حدیث اسلامی علوم میں شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ۔آیات کے شانِ نزول اوران کی تفسیر ،احکام القرآن کی تشریح وتبین ،اجمال کی تفصیل ،عموم کی تخصیص ،مبہم کی تبین سب علم  حدیث کے  ذریعہ  معلوم ہوتی  ہیں ۔اسی طرح حامل ِقرآن حضر ت  محمد ﷺ کی سیرت اور حیات ِطیبہ اخلاق وعادات مبارکہ آپﷺ کے اقوال واعمال علم حدیث کے  ذریعہ  ہم تک پہنچے  ہیں ۔علمائے اسلام  نے  علم حدیث کی حفاظت ،جمع وتدوین، اور تحقیق وتدقیق کے سلسلہ میں  قابل قدر کاوشیں سر انجام دی ہیں۔احادیث کی چھان بین کے لیے  انہوں  نے  جرج وتعدیل کے اصول  وضع کیے ہیں جن کی بدولت اسماء الرجال  کا مستقل فن معرض وجود میں  آیا اور کم وبیش چھ صدیوں تک جرح وتعدیل اور  فن اسماء الرجال بر  پر کتابیں لکھی جاتی  رہیں ۔ایک  جرمن مستشرق ڈاکٹر سپرنگر کے بقول  علم اسماء الرجال کی وساطت سے مسلمانوں نے  کم ازکم پانچ لاکھ راویوں کی حالات محفوظ کیے ہیں  جن کا مقصد صرف ایک ذاتِ مقدس کے حالات کو معلوم اور محفوظ کرنا تھا۔زیر نظر کتاب ’’‘‘ ڈاکٹر کرنل  (ر) عمر فاروق غازی  کی   کاوش ہے جس میں  انہوں نے  تحقیق کے اصول  وضواط  کو احادیث کی   روشنی میں بڑے جامع انداز سے  پیش  کرتے ہوئے  تحقیق کی ضرورت واہمیت ،تحقیق کامفہوم ،غرض غایت،اصول حدیث  میں   تحقیق  کے اصول وضوابط،علم حدیث میں تحقیق وغیرہ جیسے&nb...

  • 13 تحقیقی طریقہ کار (منگل 07 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3998

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " تحقیقی طریقہ کار "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پروفیسر محترم ایس ایم شاہد صاحب کی  وہ قابل قدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے فن تحقیق کو موضوع بحث بنایا ہے۔یہ کتاب نہ صرف ان کی زندگی کے علمی وتحقیقی تجربوں اور وسیع وگہرے مطال...

  • 14 تنقید عقل محض (جمعہ 30 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:22109

    کانٹ اور اس کی مشہور و معروف زیر مطالعہ کتاب ’تنقید عقل محض‘ کو جو اہمیت جدید فلسفے میں حاصل ہے اسے اہل نظر بخوبی جانتے ہیں۔ اس میں فلسفے کے سب اہم مسئلہ یعنی نظریہ علم کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ لیکن یہ کتاب جس قدر اہم ہے اسی قدر مشکل ہے اس لیے کہ ایک تو موضوع کافی ادق ہے دوسرا کانٹ کا اسلوب بیان پیچیدگی سے خالی نہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں فلسفے کا ذوق رکھنے والے عموماً جرمن زبان سے واقف نہیں ہیں اس لیے ان کی دسترس صرف کانٹ کی تصانیف کے انگریزی ترجموں تک ہےجبکہ ’تنقید عقل محض‘ کے جتنے انگریزی تراجم ہوئے ہیں وہ اصل کتاب سے بھی زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اس مشکل کو محترم عابد حسین نے بہت خوش اسلوبی سے حل کیا ہے اور اس کتاب کا ایسا اردو ترجمہ کیا ہے کہ بہت سے ہندوستانیوں کو اس کتاب کے مطالب و معانی میں سمجھنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انھوں نے کتاب کے مضمون کو صحت، سلاست اور وضاحت کے ساتھ ادا کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ محترم مترجم نے ترجمہ کے لیے صرف دوسرے ایڈیشن کو سامنے رکھا ہے جو کانٹ نے اصلاح و ترمیم کے بعد شائع کیا تھا اور جو متفقہ طور پر مستند مانا جاتا ہے۔ پوری کتاب کا ترجمہ کرنے کے بجائے صرف دو تہائی ترجمے پر اکتفا کیا گیا ہے جس میں اصل مسئلے یعنی نظریہ علم کا ذکر ہے۔(ع۔م)

  • 15 جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث تنقیدی جائزہ (منگل 22 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2501

    اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی  علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں:ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان  دونوں ماخذوں میں سے کسی  ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض قاصد  کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے  سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں ۔ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین ،بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی  ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث، تنقیدی جائزہ"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا محمد اسماعیل سلفی صاحب ﷫کی مایہ ناز تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مولانا ابو ا...

  • 16 حدائق بخشش کا ایک جائزہ (پیر 14 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2600

    یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ ہمارا ملک خالص کتاب وسنت پر مبنی مکمل اسلام کے تعارفی نا م کلمہ طیبہ کے مقدس نعرہ پر معرض و جود میں آیا تھا۔جس کا ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ 1956ء، 1963ء اور پھر 1973ء کے ہر آئین میں اس ملک کانام اسلامیہ جمہوریہ پاکستان لکھا جاتا رہاہے اور سر فہرست یہ تصریح بھی ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا اور کتاب و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایاجائے گا۔ 1973ء کے منظور شدہ آئین وہ آئین ہےجس پربریلوی مکتبِ فکر کے سیاسی لیڈرشاہ احمد نورانی، مولوی عبدالمصطفیٰ الازہری وغیرہما کے بھی دستخط ثبت ہیں۔ اسی طرح جب صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے اسلامی نظام کی طرف پیش رفت کی ایمان پرور نوید سنائی تھی۔ جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب اس مملکت میں نظریاتی مقاصد ہی نہیں بلکہ در پیش سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، اور تمدنی مسائل کے حل کی راہیں بھی کھل جائیں گی۔ مگر افسوس ۔۔۔کہ احناف کے ایک گروہ نے تمام مذکورہ حقائق اور ملکی تقاضوں سے آنکھیں موندکر کتاب وسنت کو نظرانداز کرتے ہوئے فقہ حنفی کے نفاذ کا نعرہ بلند کیااور ملتان کے قاسم باغ سے یہ مطالبہ کر دیا کہ چونکہ فتاویٰ عالمگیری ہماری مکمل قانونی دستاویز ہے اور اس کا ہر ہر فتویٰ قرآن وحدیث کا عطر اور جوہر ہے۔ لہذا اس کو عوام میں نافذ کردیاجائے۔ زیر تبصرہ کتاب"حدائق بخشش کا ایک جائزہ" مولانا عبدالمعید مدنی کی تصنیف ہے۔ "حدائق بخشش" فاضل بریلوی کے کلام کا مجموعہ ہے برصغیر میں اس کتاب کو سب سے زیادہ پڑھا گیا اور چھاپا گیا۔ مگر اس کے با وجود یہ کلام دینی نقطہ نظر سے اتنہائی گمراہ...

  • 17 طاہر القادری خادم دین متین یا افاک اثیم؟ (جمعرات 02 جون 2011ء)

    مشاہدات:14541

    طاہر القادری صاحب کا نام محتاج تعارف نہیں ان کے معتقدین انہیں مفکر اسلام،نابغہ عصر، قائد انقلاب اور شیخ الاسلام ایسے پر فخر القاب سے یاد کرتے ہیں جبکہ ان کے ناقدین انہیں احسان فراموش، شہرت کا بھوکا اور حب جاہ و منصب کا حریص قرار دیتے ہیں۔موصوف کے ناقدین میں محض مسلکی مخالفین ہی شامل نہیں بلکہ بریلوی علما بھی ،جن کی طرف قادری صاحب اپنا انتساب کرتے ہیں،موصوف کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہوئے اہل سنت میں شمار کرنے پر تیار نہیں۔شہرت و ناموری کی خاطر قادری صاحب کرسمس کا کیک کاٹنے اور دشمنان صحابہ روافض کی مجالس کو رونق بخشنے سے بھی ذرا نہیں شرماتے اور اب تو نوبت بایں جا رسید کہ انہوں نے اعداے ملت یہود ونصاریٰ کے حق میں بھی فتاویٰ صادر کرنے شروع کر دیے ہیں۔زیر نظر کتاب جناب قادری کے نقاب سنیت کو الٹ کر ان کے باطنی رفض وتشیع کوآشکار کرتی ہے۔اس کتاب کے فاضل مصنف قبل ازیں طاہرالقادری کی علمی خیانتیں کے نام سے بھی ایک کتاب تحریر کر چکے ہیں۔اس کے جواب میں ایک صاحب نے قادری صاحب کا دفع کرنے کی ناکام کوشش کی جس کے جواب میں زیر تبصرہ کتاب منصہ شہود پر آئی ہے۔بہ حیثیت مجموعی اس کے مندرجات سے اتفاق ہونے کے باوجود مصنف سے التماس ہے کہ کتاب کا نام شدت و سختی کا عکاس ہے بہتر تھا کہ ذرا سنجیدہ نام منتخب کیا جاتا۔

  • عصر حاضر کی بے شمار بدعات میں سےایک بدعت یہ بھی ہے کہ ہر سال 12 ربیع الاول کے روز حضرت محمدﷺ کی پیدائش کا جشن منایا جاتا ہے اور اسے عید میلاد النبیﷺ کا نام دیا جاتا ہے۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ پر دین کی تکمیل ہو چکی اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد دین میں کسی بھی قسم کا اضافہ بدعت کے زمرے میں آئے گا۔ ’میلاد النبیﷺ‘ کے موضوع پر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے ایک ضخیم کتاب لکھی اور دور از کار تاویلات کا سہار لیتے ہوئے  میلاد النبی کا اثبات کیا۔ زیر نظر کتاب میں فاضل مؤلف عبدالوکیل عبدالناصر نے ڈاکٹر موصوف کی کتاب کا تحقیقی تجزیہ پیش کرتے ہوئے کتاب میں بیان کردہ علمی خیانتوں اور ناقابل یقین تضادات کا پردہ چاک کیا ہے۔


     

  • 19 عمار خان کا نیا اسلام اور اس کی سرکوبی (ہفتہ 19 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2023

    عمار خان ناصر ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ ، پاک و ہند کی مشہور علمی شخصیت مولانا سرفراز خان صفدر﷫کے پوتے اور دوسری مشہور شخصیت مولانا زاہد الراشدی﷾ کے صاحبزادے ہیں۔لیکن موجودہ دور کے مشہور متجدد جاوید احمد غامدی کے شاگردِ رشید بھی ہیں۔کچھ عرصے سے اُنہوں نے اپنے استاد غامدی صاحب اور اپنے افکارِ فاسدہ کے پھیلانے کو اپنا مشن بنایا ہوا ہے۔موصوف ایک رسالے"ماہنامہ الشریعہ"کے مدیر  اور غامدی صاحب  کے ادارے ’المورد‘ کے اسسٹنٹ فیلو ہیں، اسی نسبت سے انکی تحاریر غامدی صاحب کے رسالے مجلہ اشراق میں بھی چھپتی رہتی ہیں،غامدی صاحب کے تجدد پسندانہ افکار و نظریات کے دفاع،   انکی  اشاعت  و ترویج کے لیے انکی خدمات   ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انکے مکتبہ فکر کی آواز چونکہ تجدد دین کی ہے اس لیے بہت سے علماء   ان کے  اجتہادات،نظریات ، غلط فہمیوں اور افراط و تفریط پر وقتا فوقتا اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ان علماء  میں سے   ایک نام جامعہ مدنیہ، لاہور کے ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب اور مفتی شعیب احمد صاحب کابھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"عمار خان کا نیا اسلام اور اس کی سرکوبی"انہی دونوں علماء کرام کی مشترکہ کاوش ہے جس میں انہوں نے عمار خان ناصر کے باطل عقائد ونظریات کا رد کیا ہے۔ان  کا طریقہ یہ ہے کہ وہ فریقِ مخالف کے دعوے اور دلیل کو بلاکم وکاست اس کے اپنے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں اورپھر تفصیل سے اس کا جواب دیتے ہیں ۔عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات اور ان پر مفتی صاحب کی طرف سے کی جانے والی گرفت کو...

  • 20 فتاویٰ عالمگیری پر ایک نظر (منگل 19 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2837

    یہ حقیقت کسی وضاحت کی محتاج نہیں کہ ہمارا ملک خالص کتاب وسنت پر مبنی مکمل اسلام کے تعارفی نا م کلمہ طیبہ کے مقدس نعرہ پرمعرض وجود میں آیا تھا۔ جس کا ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ 1956ء، 1963ء اور پھر 1973ء کے ہر آئین میں اس ملک کانام اسلامیہ جمہوریہ پاکستان لکھا جاتا رہاہے اور سر فہرست یہ تصریح بھی ہے کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہوگا اور کتاب وسنت کےخلاف کوئی قانون نہیں بنایاجائے گا۔ 1973ء کے منظورشدہ آئین وہ آئین ہے جس پربریلوی مکتبِ فکر کے سیاسی لیڈرشاہ احمد نورانی،مولوی عبدالمصطفیٰ الازہری وغیرہما کےبھی دستخط ثبت ہیں۔اسی طرح جب صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے اسلامی نظام کی طرف پیش رفت کی ایمان پرور نوید سنائی تھی۔ جس سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب اس مملکت میں نظریاتی مقاصد ہی نہیں بلکہ در پیش سیاسی، اقتصادی، ثقافتی، اورتمدنی مسائل کے حل کی راہیں بھی کھل جائیں گی۔ مگر افسوس کہ احناف کے ایک گروہ نے تمام مذکورہ حقائق اور ملکی تقاضوں سے آنکھیں موندکر کتاب و سنت کو نظر انداز کرتے ہوئے فقہ حنفی کے نفاذ کا نعرہ بلند کیا اور ملتان کے قاسم باغ سے یہ مطالبہ کر دیا کہ چونکہ فتاویٰ عالمگیری ہماری مکمل قانونی دستاویز ہے اور اس کا ہر ہر فتویٰ قرآن وحدیث کا عطر اور جوہر ہے۔ لہذا اس کو عوام میں نافذ کردیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب"فتاویٰ عالمگیری پر ایک نظر"مفتی محمد عبید اللہ خان عفیف حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک منصفانہ تحقیقی تصنیف ہے۔ مفتی صاحب نے احناف کی معتبر ترین کتاب "فتاویٰ عالمگیری" کے فتاوجات کو قرآن سنت کے میزان میں رکھ کر یہ بات واضح اور ثابت ک...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1470
  • اس ہفتے کے قارئین: 12741
  • اس ماہ کے قارئین: 33434
  • کل مشاہدات: 45346253

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں