#3804

مصنف : ڈاکٹر محمد عزیر

مشاہدات : 20031

دولت عثمانیہ جلد دوم

  • صفحات: 422
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 10550 (PKR)
(ہفتہ 23 جولائی 2016ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا

سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ سن 1299ء سے 1922ء تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دولت عثمانیہ ‘‘دار المصنفین شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ ہند کے رفیق خاص جناب ڈاکٹر محمد عزیر کی تصنیف ہے ۔ بقول سید سلیمان ندوی﷫ (سابق ناظم دارالمصنفین)یہ کتاب اپنی تصنیف کے وقت دولت عثمانیہ کے تاریخ کے متعلق تحریری کی جانی والی اردو زبان میں پہلی کتاب تھی ۔اس سے پہلے دولت عثمانیہ کے متعلق جوکچھ لکھا گیا وہ محض پورپین مصنفین کے تراجم اورخیالات تھے ۔ لیکن مصنف کتاب ہذا نے سات برس کی محنت ومطالعہ کے بعد اسے تصنیف کیا ۔ اس میں عثمانی ترکوں کی تاریخ سے متعلق انگریزی، عربی، اور فارسی کی مستند کتابوں نیز بعض منتخب ترکی اور فرانسیسی تاریخوں کے ترجموں سے مدد لے کرسلطنت کے عروج وزوال کی تاریخ اور جمہوریہ ترکیہ کے کارناموں کی دو جلدوں میں مکمل تفصیل پیش کردی ہے۔کتاب کے دیباچہ سے معلوم ہوتا کہ یہ کتاب پہلی دفعہ 1939ء میں طبع ہوئی ۔ زیر تبصرہ ایڈیشن 2009ء طبع ہونے والا جدید ایڈیشن ہے ۔(م۔ا) 

عناوین

صفحہ نمبر

 دیباچہ

5

محمود ثانی

6

ینی چری کی بغاوت

1

زار اورنپولین کاخفیہ معاہدہ

2

نگلستا ن سے صلح

4

روس سےجنگ

4

صلح نامہ بخار سٹ

5

سرویا کی خودمختاری

6

میلوش حکمراں سرویا

7

سلطنت عام کی کمزوری

7

افریقی مقبوضات

9

محمد علی

9

حجاز کی مہم

11

وہابی بغاوت کاانسداد

11

محمد علی کی بغاوت

12

بغاوت یونان

13

یونانیوں کی بحری قوت

14

ارماٹولی اورکلیفٹ

15

حکومت میں یوناینوں کااقتدار

16

عام یونانیوں کی حالت

17

تعلیم اورتحریک آزادی

19

انقلاب فرانس کااثر

21

ہستیریا

22

روس کی سازشیں

23

برات

25

علی پاشا

26

مولڈیویا کی بغاوت

29

انتقام

30

ہتیر یا سے بطریق ارزار کی مخالفت

31

بغاوت مولڈیویاکااستیصال

32

موریا میں ترکوں کاقتل عام

32

باب عالی کی طرف سے جوابی کارورئی

33

گریگوریوس کی پھانسی

34

ایک غلط فہمی کاازالہ

34

یونانیوں کاقتل

35

یونانی سفاکیاں

36

باغیوں کےساتھ مغرب کی ہمدردی

39

برطانیہ کی معاندانہ روش

40

مصرکی مدد

41

موریا کی تسخیر

43

ینی چڑی کااستیصال

43

محمود کےکارنامے

45

دول عظمی کی دشمنی

46

معاہدہ آق کرمان

48

مسیحی اتحاد

49

واقعہ نوارینو

50

نوار ینو کی شکست کااثر

52

جنگ روس

53

ایک شدید غلطی اورشدید ترغلط فہمی

55

طلسم قوت

56

صلح نامہ اورنہ

58

ہجوم مصائب

60

محمد علی کی بغاوت

60

روس کی مدد

62

معاہدہ کو تاہیہ

63

معاہدہ خونکار اسکہ سی

63

محمد علی سے دوبارہ جنگ

63

محمود کی وفات

64

محمود کی عظمت

64

محمدعلی سے صلح

69

خط شریف گلخانہ

70

دستور ثانی

76

دیگر اصلاحات

80

فوجی اصلاحات

81

اصلاحات کااثر

81

سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کی تجویز

83

جنگ کریمیا کےاسباب

84

اعلان جنگ

85

انگلستان اورفرانس کی حمایت

86

سباسٹوپول کی فتح

87

سقوط قارص

87

صلح  کی گفتگو

87

صلح نامہ پیریں

88

ضمنی معاہدے

89

صلح نامہ پیرس پر ایک نظر

89

مختلف شورشیں کریٹ

91

جد ہ پر گولہ باری

92

فتنہ لبنان

92

سلطان کی وفات

95

اس عہد کی خصوصیت

95

سلطان عبدالعزیز

97

مالی اصلاحات کی کوشش

98

سیاسی فتنے رومانیا

100

سرویا کااستقلال

101

کریٹ کی بغاوت

101

معاہد ہ پیرس کی خلاف ورزی

102

بلغار یا کاقومی کلیسا

103

باب عالی میں روس کااثر

104

جمعیۃ سلافیہ

106

مدحت پاشا کی اسکیم

107

سلطان کی فضول خرچی

108

مدحت پاشا کی صدارت

109

مالی ابتر ی

11

بغاوت ہرزیگودینا

111

اندراسی نوٹ

113

جرمن اورفرانسیسی قنصلوں کاقتل

114

بغاوت بلغاریا

115

حقیقت حال

117

یادداشت برلن

122

دولت علیہ کی مشکلات

123

سلطان کاعزل

124

سلطان مراد خامس

126

 وفات عبدلعزیز

127

کپتان حسن کاواقعہ

127

معزولی کاسوال

128

مراد کاعزل

130

سلطان عبدالحمید خاں ثانی

131

صدارت مدحت پاشا

132

دستور ساسی کااعلان

133

قسطنطینہ کی کانفرنس

137

مجلس عالیہ کافیصلہ

140

روس سےجنگ

140

پلونا

142

مضبط اورنہ

144

معاہدہ سان اسٹیفا نو

145

اس معاہد ہ کی مخالفت

146

روس اوربرطانیہ کاخفیہ معاہدہ

147

برلن کانگریس

149

عہد نامہ برلن

149

آن لائن مطالعہ وقتی طور پر موجود نہیں ہے - ان شاءالله بہت جلد بحال کر دیا جائے گا

اس کتاب کی دیگر جلدیں

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2881
  • اس ہفتے کے قارئین 12866
  • اس ماہ کے قارئین 60246
  • کل قارئین64956197

موضوعاتی فہرست