دین کا اہم رکن امر بالمعروف نہی عن المنکر(6507#)

عبد المحسن بن محمد القاسم
محمد عمران سلفی
سیف الاسلام لائبریری دارا نگر بنارس
40
1000 (PKR)

ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے  ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا  حکم دینا اور  نہی عن المنکر کا مطلب ہے  برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ  نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے  لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ  تعالیٰ  یہ بھی  چاہتے ہیں کہ  دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ  ہوں او ر نیکی کا   غلبہ رہے۔ برے  لوگ کم ہوں  اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے  اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی  سے بچنے کا حکم ہی  نہیں دیا  بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور  برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے  حکمرانوں ،علماء وفضلاء  کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن  وحدیث  میں اس  فریضہ  کواس قد ر اہمیت دی  گئی ہے کہ  تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے  اپنے  دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے ۔اوراللہ تعالیٰ  نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ  میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے  اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔   نیز ان  حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔اسلام صرف عقائد کانام نہیں  ہے۔بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس میں اوامر بھی  ہیں اور نواہی بھی۔ بعض اوامر ونواہی  کا تعلق تبلیغ ،تذکیر اوروعظ ونصیحت کے ساتھ ہے جس پر عمل کرنا والدین ، اساتذہ کرام، علماء وفضلاء اور معاشرے کے دیگر افراد پر واجب ہے جس سے افراد میں ایمان، تقویٰ ،خلوص، خشیت الٰہی جیسی صفات پیدا کر کے  روح کا تزکیہ اور تطہیر مطلوب ہے ۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق حکومت کی  طاقت اور قوتِ نافذہ کے ساتھ ہے ۔ مثلاً نظام ِصلاۃ ، نظام ِزکاۃ ،اسلامی نظامِ معیشت، اسلامی نظامِ عفت وعصمت اور قوانین حدود وغیرہ جس سے سوسائٹی میں امن وامان ، باہمی عزت واحترام اور عدل وانصاف جیسی اقدار کو غالب کر کے پورے معاشرے کی تطہیر اور تزکیہ مطلوب  ہے۔ جب تک اوامرونواہی کے ان دونوں ذرائع کو موثر طریقے  سےاستعمال نہ کیا جائے معاشرے کا مکمل طور پر تزکیہ اور تطہیر ممکن نہیں ۔عہد نبویﷺ میں  رسول اللہ  کی ذات مبارک خود بھی شریعت کے اوامر ونواہی  پر عمل کرنے  میں سب سے آگے تھی ۔ فرد اور پوری سوسائٹی کے تزکیہ اورتطہیر کے اعتبار سے آپ ﷺ کا عہد مبارک تمام زمانوں سے افضل اوربہتر  ہے ۔رسول اکرمﷺ کی وفات  کے بعد عہد صدیقی میں شدید فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔  حضرت ابوبکر صدیق   نے بڑی فراست ،دوراندیشی اور استقامت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو کر تمام فتنوں کا استیصال  فرمایا۔ اوراسی طرح سیدنا عمر فاروق   نے بھی بعض دوسرے سرکاری محکموں کی طرح نظام احتساب اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کابھی باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا۔ حضرت عثمان   اور حضرت علی  نےبھی اپنے عہد میں اس  نظام کو مضبوط بنایا  لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نےنظام احتساب کے حوالے سے ایک بار پھر حضرت عمر بن خطاب  کی یاد تازہ کردی۔اموی ،عباسی اوربعد میں عثمانی خلفاء کےادوارمیں بھی امر بالمعروف عن المنکر کانظام کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ۔دین کے مرکز حجاز یعنی سعودی عرب میں آج بھی نظام احتساب کا ادارہ  الرئاسة العامة لهئية  الامربالمعروف والنهى عن المنكر کے  نام سے  بڑا موثر کردار  کررہا ہے ۔روزانہ پانچ نمازوں کے اوقات میں  تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں کے کاروبار بند کروانا گلی گلی محلے محلے  نمازوں کے اوقات میں گھوم پھر کر لوگوں کونماز کےلیے مسجد میں آنے کی دعوت دینا، بے نمازوں کوتلاش کرنا ، انہیں پکڑ کر تھانے لانا چوبیس گھنٹے تک انہیں وعظ ونصیحت کرنا اورنماز پڑھنے کا وعدہ لے کر رہا کرنا ادارہ امربالمعروف  ونہی عن المنکر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔اور اسی طرح  زکاۃ کی ادائیگی کے بغیر کوئی کمپنی  سعودی عرب میں  اپنا کاروبار نہیں کرسکتی، رمضان المبارک کے مہینے  میں غیر مسلموں پر بھی رمضان کااحترام کرنا واجب ہے ۔ ہر سال احترام رمضان کے بارے  میں رمضان سےقبل شاہی فرمان جاری ہوتا ہے اگر کوئی نام نہاد مسلمان یا غیر مسلم احترام ِرمضان کےفرمان کی پابندی نہ کرے  تو اس کا ویزہ منسوخ کر کے  اسی وقت اسے ملک بدر کردیا جاتا ہے ۔سعودی  عرب میں رہائش پذیر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مملکت میں واقعی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ موجود ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہا ہے۔سعودی حکومت دیگر اداروں کی طرح  امربالمعروف وعن المنکر اوردینی کی اشاعت وترویج  میں مصروف عمل اداروں کو اسی طرح سالانہ بجٹ میں فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں جس  طرح مملکت کے دیگراداروں کومہیا کیے جاتے۔بلاشبہ سعودی  حکومت اس معاملے میں تمام اسلامی ممالک کےمقابلہ میں ایک   امتیازی شان رکھتی ہے۔  اور قرآن وحدیث کی روسے تمام اسلامی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے  ادارے قائم کریں اوراسلامی ریاست کو غیر اسلامی ممالک کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ ایک ماڈل کی  حیثیت سے پیش کریں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’دین کا ایک اہم رکن امر بالمعروف نہی عن المنکر ‘‘ مسجد نبوی  کے مشہور امام  وخطیب عبد المحسن  القاسم کےمرتب  شدہ عربی رسالہ ’’ الأمر باالمعروف والنهي عن المنكر أصل من أصول الدين‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔ یہ کتابچہ  اگرچہ مختصر ہے  لیکن اپنے  موضوع پر بہت  مفید اور جامع  ہے جس میں  شیخ محترم  نے موضوع کے اہم  نکات کو نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیا ہے ۔جناب محمد عمران سلفی صاحب نے  عربی رسالہ کو اردو میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اس رسالہ میں مذکور احادیث کی مکمل تخریج بھی کی ہے  جس سے  اس رسالے کی افادیت  دو چند ہوگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ  اس رسالے کو  امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے اور مصنف ،مترجم وناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) م۔ا) 

عناوین

صفحہ نمبر

ابتدائیہ

5

مقدمہ

7

رسولوں کی ذمہ داری

9

اہل سنت والجماعت کے اصول میں سے ایک

11

تمام امتوں پراسے واجب کیا گیا

13

ایسافریضہ جوایک کے ساتھ خاص نہیں ہے

15

اس فریضہ کے فوائد

15

اس فریضہ کو چھوڑنے کے نقصانات

17

بھلائی کاحکم دینے اور برائی سے روکنے والوں کے ساتھ ہمار ابرتاؤ

18

معاشرے کاباہم محبت والا ہونا

20

امربالمعروف کی ضرورت

21

نیک آدمی جوگنہگار کو نقصان پہنچاسکتا

21

یہ ایک وہم ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کافائدہ نہیں ہے

22

منکر کازائل ہونالازم نہیں

23

اس عبادت کے اہل کون ہیں؟

24

کیا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اداکرنے والے کو تکلیف دی جاتی ہے ؟

24

امربالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑنے والوں کی حالت

26

وہ انسان جو گناہ کرنے والے سے زیادہ برے حال میں ہے

27

لوگوں کے نزدیک امربالمعروف اور نہی عن المنکر کافریضہ انجام نہ دینے والوں کامقام

27

کیابرائی کرنےوالادوسروں کو برائی سے روکے؟

28

برائی کرنےوالا کیسے دوسرے کو منع کرے جبکہ وہ خود برائی کا ارتکاب کر رہا ہے

29

ہم کیوں بھلائی کاحکم دیں اور برائی سےروکیں؟

30

کیاعورت بھی اس فریضہ کو ادا کرے؟

32

اللہ کادین غالب رہےگا

34

ناممکن چیز کو طلب کرنا

36

دین کامذاق اڑانے والے کا انجام

37

عزت وبلندی کاحصول

37

اس مصنف کی دیگر تصانیف

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 800
  • اس ہفتے کے قارئین: 11706
  • اس ماہ کے قارئین: 36234
  • کل قارئین : 47157235

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں