زبان اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ وہ عضو ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتا ہے انسان اسی کی وجہ سے باعزت مانا جاتا ہے اور اسی کی وجہ سے ذلت و رسوائی کا مستحق بھی ہوتا ہے۔ اس نعمت کی اہمیت کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس کے منہ میں زبان ہے لیکن وہ اپنا مافی ضمیر ادا نہیں کر سکتا ہے۔اللہ کا فرمان ہے : أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ(سورۃ البلد) ’’ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنایا۔‘‘ سب سے زیادہ غلطیاں انسان زبان سے ہی کرتا ہے۔ لہٰذا عقلمند لوگ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ زبان کو غلط اور بری باتوں سے بچا کر اچھے طریقے سے استعمال کرنا زبان کی حفاظت کہلاتا ہے۔ ہمارے دین اسلام میں زبان کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ زبان کی تباہ کاریاں ‘‘ شیخ سعید بن علی قحطانی کی عربی کتاب آفات اللسان فی ضوء الکتاب و السنۃ کا ترجمہ ہے۔ ترجمہ کی سعادت مولانا عبد الرحمٰن عامرفاضل مدینہ یونیورسٹی نے حاصل کی ہے ۔ یہ کتاب آفات زبان کے موضوع پر کلام لٰہی اور فرمانِ نبوی اور اقوال سلف صالحین کا شاندار مجموعہ ہے۔انہوں نے اس کتاب میں کتاب و سنت کی روشنی میں زبان کی خرابیوں اور تباہ کاریوں کے سلسلے میں تمام تعلیمات کو ایک خوبصورت لڑی میں پرو کر اس موضوع کا حق ادا کر دیا ہے ۔ (م۔ا)
عناوین |
|
صفحہ نمبر |
تقدیم |
|
7 |
عرض مترجم |
|
11 |
طبع ثالث کا مقدمہ مؤلف |
|
14 |
غیبت |
|
20 |
چغلی |
|
48 |
اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ پر جھوٹ باندھنا |
|
58 |
عام لوگوں پر جھوٹ باندھنا |
|
68 |
جھوٹی شہادت |
|
77 |
قذف (تہمت) |
|
92 |
تنازعات و جھگڑے اور بحث و مباحثہ |
|
97 |
زبان کی فحش گوئی |
|
107 |
زبان کی حفاظت فرض ہے |
|
152 |
خاتمہ |
|
158 |