محمد بن عبد الوہاب تمیمی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    title-pages-islam-aurmasail-e-jahliyat-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    کسی بھی چیز کی خوبی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے مقابل کی چیز سامنے ہو۔اشیاء کی حقیقت تو ان کی اضداد ہی سے واضح ہوتی ہے۔اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔اسلام کی یہ پاکیزہ تعلیمات اور روشن اصول اس وقت زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہیں جب اسلام سے ماقبل دور جاہلیت پر نظر ڈالی جائے۔نبی کریم ﷺ نے دور جاہلیت کے متعدد امور سے منع فرمایا ہے ۔زیر تبصرہ کتاب" اسلام  اور مسائل جاہلیت "عالم عرب کے معروف داعی اور مصلح شیخ الاسلام امام محمد بن عبد الوھاب ﷫ کی ایک عظیم الشان عربی تصنیف "مسائل الجاھلیۃ التی خالف فیھا رسول اللہ ﷺ اھل الجاھلیۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ انڈیا کے معروف سلفی عالم دین محترم جناب مولانا مختار احمد ندوی سلفی نے کیا ہے۔مولف موصوف ﷫نے اس کتاب میں دور جاہلیت میں پائے جانے والے ایسے سو مسائل کو ایک جگہ جمع فرمادیا ہے جن سے نبی کریم ﷺ نے اسلام میں منع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    Title Page---Islam Kia he
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    یہ مختصر سی کتاب شیخ محمد بن سلیمان رحمہ اللہ کی عربی کتاب''الأصول الثلاثۃ وأدلتہا'' کا اردو سلیس ترجمہ ہے –شیخ موصوف نے کتاب کی تین ابواب میں تقسیم کرتے ہوئے اسلام کے تمام اساسی اصولوں کی بڑی سادہ اور دلنشین تشریح کی ہے- ان اصولوں کے ذیلی عنوانات میں اللہ تعالی کی معرفت، اسلام، ایمان اور احسان کے مراتب، مراحل اور مدارج وضاحت سے بتائے گئے ہیں اور آخر میں حضرت محمد مصطفی ﷺکی صفات، جہات، حیثیات اور تعلیمات بیان کی گئی ہیں- دین اسلام کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے یہ ننھی سی کتاب بڑی بڑی ضخیم کتابوں پر بھاری ہے-

    title-page-deen-kay-teen-aham-usool-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    انسان كي تخليق كا مقصد الله تعالي نے اپنی عبادت رکھا ہے اس لیے انسان کو نہ تو رزق کے معاملے میں زیادہ پریشان ہونا چاہیے اور نہ ہی دنیا کے حصول کے لیے اپنے آپ کو کھپا دینا چاہیے بلکہ اللہ تعالی نے اس کے رزق کا ذمہ خود لیا ہے جبکہ انسان کو دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پابند کیا ہے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو شعور بخشا ہے اور اس کو فطرت اسلام پر پیدا فرمایا تاکہ یہ اپنی گمراہی کو بے علمی کے عذر سے پیش نہ کر سکے-اس لیے اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف طریقوں سے یہ باور کروا دیا ہے کہ کوئی خالق ومالک اور کوئی ایسی ہستی ہے جو سارا نظام چلا رہی ہے اور اس دنیا کی ہر چیز کو کنٹرول کیے ہوئے ہے-اس لیے ہر مسلمان کو جن چیزوں سے معرفت ضروری ہے مصنف نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کو موضوع بنایا ہے اور وہ اہم چیزیں درج ذیل ہیں:

    1-اللہ تعالی کی معرفت

    اللہ تعالی نے زمین وآسمان ،سورج،چاند اور ستاروں،شجر حجر اور پہاڑوں سے اور دنیا کے نظام سے اپنی معرفت کروائی ہے اور حتی کہ فرمان باری تعالی کے مطابق خود انسان کی اپنی جا ن میں بہت ساری نشانیاں موجود ہیں-

    2-دین کی معرفت

    دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو زندگی گزارنے کے لیے جو راہنمائی فراہم کی جاتی ہے اس کو وحی کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے انسان کو اللہ تعالی کی مقرر کردہ حدود وقیود کا پابند کیاجاتا ہے تاکہ اس کی زندگی میں افراط وتفرط نہ آئے اور معتدل رویے سے زندگی بسر کرے-لہذا انسان کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ اس وحی کو پہچانے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرے اسی پہچان کا نام دین کی معرفت ہے-

    3-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سے مراد یہ ہے کہ ان کو پیغمبر مان کر ان پر ایمان لایا جائے اور ان کی تعلیمات کو حرف آخر سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو اس کا پابند کیا جائے اور اس چیز کا عقیدہ رکھا جائے کہ آپ آخری پیغمبر ہیں اور آپ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے-

    مصنف نے ان تین باتوں کو بڑے اچھے انداز سے بیان کیا ہے جن کا سیکھنا اور علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے
    title-page-din-k-teen-bunyadi-osool-our-un-ki-sharha
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    یہ کتاب  ’’تین کے بنیادی اصول اور ان کی شرح‘‘کااردوترجمہ ہے کتاب ہذاکی افادیت اور اہمیت اس کےنام سے ہی واضح ہے ۔یہ کتاب طلباء اور عامۃ الناس کے لئے یکساں مفید ہی نہیں بلکہ ضروری ہے کیونکہ عقیدہ کی اصلاح اور درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل  اللہ تعالی کی بارگاہ  میں نہ ہی قابل قبول ہے اور نہ ہی باعث اجروثواب ہے خواہ وہ عمل طاہری طور پر کتنا خوشنما کیوں نہ ہواور پھر درست اعمال کے بغیر کسی بھی انسان کی اخروی نجات ممکن نہیں ۔اس کے علاوہ مصنف اور شارح کا انداز تحریر علمی ومنطقی ہے اور دقیق عبارات والفاظ کاترجمہ کرتے ہوئے قوسین میں مزید وضاحت بھی کردی گئی ہے ۔




    title-page-aqeeda-k-baray-main-shukook-ka-azaala-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی
    اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنے کا نام توحید ہے –حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے شرک کی ابتدا کی اور اپنے نیک لوگوں کی تصویریں اور مجسمے بنا کر ان کی تعظیم شروع کر دی جو بعد میں شرک جیسے گناہ کی طرف لے گئی-مشرکین مکہ بھی اپنے بنائے بتوں کی عبادت کرتے تھے اور نظریہ یہ ہوتا تھا کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کرتے ہیں-تو مصنف نے عقیدے میں پائے جانے والے ایسے شکوک وشبہات کو بیان کر کے ان کا رد کیا ہے-مصنف نے انبیاء کی بعثت کے مسئلہ کو واضح کرتے ہوئے توحید ربوبیت اور مشرکین کا عقیدے کو بیان کیا ہے- انبیاء سے دشمنی کے بارے میں اور ان کے شبہات کا جواب اور اس کے علاوہ غیراللہ سے استغاثہ اور عبادات کے بارے میں پائے جانے والی اختراعات اور اس کے ساتھ ساتھ قربانی اور شفاعت کے متعلق عقیدے کی وضاحت کی ہے اور توحید ربوبیت اور الوہیت کو تفصیلا واضح کیا ہے

    title-pages-fazail-e-quran-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔قرآن واحادیث میں  قرآن   اور حاملین قرآن  کے   بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم  ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے  ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں   قوموں کی  ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ  مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ  گواہ کہ جب تک  مسلمانوں نے  قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے  تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا  اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا   تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا :  وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر         اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر زیر نظرکتاب ’’فضائل قرآن‘‘ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب﷫  کے قرآن مجید کےفضائل کےحوالے ایک  عربی رسالے کاترجمہ ہے۔شیخ موصوف نے  اس مختصر کتابچہ میں   بڑے احسن انداز میں فضائل قرآن کو بیان کیا ہے ۔معروف مترجم  ومصنف  مولانا محموداحمد غضنفر﷫نے اس کا   سلیس اردو ترجمہ کرکے تقریبا 24 سال قبل شائع کیا ۔اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو  قرآن پر عمل کرنےاور اس کو پڑھنے اور سمجھنے کی  توفیق عنائیت فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-al-jamia-al-fareed-majmoua-aath-rasail-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    بارہویں صدی ہجری میں عالم اسلام کا زوال وانحطاط اپنی آخری حدودکو پہنچ چکا تھا، مسلمان ہراعتبارسے پستی اور تخلف کا شکارتھے، دین کی گرفت نہ صرف یہ کہ مسلمانوں پرڈھیلی پڑچکی تھی بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ دین ان کی زندگی سے پورے طور پر نکل چکا تھا، ان پرآشوب حالات میں عالم اسلام خصوصاً جزیرۃ العرب پراللہ کافیضان ہوا، اورشیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب تیمی نجدی﷫نے نجد میں ایک علمی خانوادہ کے اندرآنکھیں کھولیں۔ آپ سن شعورکو پہنچنے کے بعدتحصیل علم میں لگ گئے، اپنے والد شیخ عبدالوہاب سے جونجدکے علماء میں ممتاز تھے کسب فیض کیا اورمزید علم کی تلاش میں حجاز کا رخ کیا اورمدینہ منورہ پہنچ کر وہاں کے علماء ومشائخ سے حدیث کا درس لیا اورپھر مزید علمی تشنگی بجھانے کے لئے بصرہ کاقصدکیا اور وہاں پہنچ کر حدیث وادب میں مزید مہارت پیداکی، اور اس کے بعدآپ اپنے علاقہ نجدمیں واپس آکر دعوت وتبلیغ میں مصروف ہوئے۔ نجدواپس آنے کے بعد آپ نے شرک وبدعات کے استیصال کا عزم مصمم کیا، توحید کی دعوت عام کی ،شرک اوراس کے مفاسد کا برملا بیان کیا، غیراللہ کی عبادت اورقبرپرسجدہ کرنے سے منع کیا، اسلامی اخلاق کوعام کرنے کی کوشش کی۔ زیر تبصرہ کتاب " مختارات من الجامع الفرید "آپ کےتوحید وشرک کے موضوع پر مبنی آٹھ مختلف رسائل کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم مولانا عطاء اللہ ثاقب صاحب﷫ نے حاصل کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم  کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-masail-al-jahliya-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    مومن اور مشرک کے درمیان حدّ فاصل صرف کلمۂ توحید لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے ۔ شریعت ِ اسلامیہ اسی کلمۂ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے ۔اللہ تعالیٰ نے جہاں کچھ اعمال بجالانے کو فرض قرار دیا ہے وہاں کچھ ایسے افعال کا تذکرہ بھی فرمایاجن پر اعتقاد رکھنےاورعمل کرنے سےبڑے سے بڑا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ذرہ برابر وقعت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف اوقات میں جن امور سے اپنے بندوں کو بچنے کی ہدایت فرمائی ہے وہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر درج ہیں۔ اور کچھ امور ایسے ہیں جن کی حرمت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے بیان کرایا جن کا تذکرہ کتب حدیث میں موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب﷫ کے ایک عربی رسالہ کا ترجمہ ہے اس میں انہوں نے 123 ایسے مسائل کو یکجا کردیا ہے۔ جو رسول اللہﷺ اور مشرکین عرب کے درمیان متنازعہ فیہ تھے اور نبی کریم ﷺ نےان کی مخالفت کی اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں کہ جن کاہر مسلمان کے علم آنا ضروری ہی نہیں بلکہ   کوئی مسلمان ان سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا کیونکہ ان میں اوراسلام میں بعد المشرقین ہے۔ان مسائل کی اہمیت کے پیش نظر محترم جناب عطاء اللہ ثاقب ﷫ نے تقریبا 35 سا ل قبل اسے اردو زبان میں منتقل کیا تاکہ اردو دانہ طبقہ بھی ان مسائل کو سمجھ اور اپنے عمل وکردار میں سمو کر اپنے اعمالِ صالحہ کی حفاظت کرسکے ۔ اللہ تعالی ٰ اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

    title-pages-kitab-al-touheed--sayyad-shabir-ahmad--copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    اللہ  تبارک و تعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں  واحد اور بے  مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ  کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے  قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے  اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں  کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے  عظیم  گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی  عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی  ہدایت نظر آتی ہے  ۔نیز  شرک اعمال  کو ضائع وبرباد کرنے  والا اور ثواب سے محروم  کرنے والا ہے ۔ پہلی  قوموں کی  تباہی  وبربادی کاسبب  شرک  ہی  تھا۔ چنانچہ جس  کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں  اللہ کے علاوہ کسی  کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی  وہ مشرک ہے۔تردید شرک اور اثبات کےسلسلے میں  اہل علم نے تحریر اور تقریری صورت میں  بےشمار خدمات  انجام دیں۔ ماضی میں  شیخ الاسلام  محمد بن الوہاب﷫  کی  اشاعت  توحید  کےسلسلے میں خدمات  بڑی  اہمیت کی حامل ہیں ۔شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔علماء کا  اس بات پر اتفاق ہے کہ  اسلام میں توحید کے موضوع پرکتاب التوحید جیسی کوئی کتاب  نہیں لکھی  گئی۔یہ کتاب توحید کی طرف دعوت دینے والی ہے ۔شیخ موصوف نے اس کتاب میں ان تمام امور کی  نشان دہی کردی ہے  جن سے عقائد میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور نتیجۃً انسان ایسے عملوں کا ارتکاب کرلیتا ہے  حو شرک کے دائرے میں آتے ہیں ۔اس کتاب میں مصنف علیہ ﷫ نےہر مسئلہ کے لیے علیحدہ علیحدہ باب باندھا ہے اور ہر بات کے ثبوت کےلیے  قرآن مجید کی آیات اور احادیثِ صحیحہ بطور دلیل پیش کی  ہیں۔ بعد ازاں ہر باب کے خاتمہ پر آیاتِ قرآنی اوراحادیث  سے استنباطِ احکام کیا ہے  اور یہ اندازِ تحقیق اتنا سادہ اور علمی ہے کہ کسی  شخص کے لیے اس سے اختلاف کی گنجائش اور انکار کی جرأت باقی نہیں رہتی ۔الاّ یہ کہ وہ سرے سے احکامِ دین کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کردے ۔انہی انفرادی خصوصیات کی وجہ سے ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کتاب  کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت  و افادیت کے پیشِ نظر متعد د اہل علم  نےاس کی شروحات بھی لکھی  ہیں اور  کئی علماء نے اس کتاب  کےمتعد د زبانوں  میں ترجمہ  بھی کیا  ہے۔اردو  زبان میں بھی اس کےمتعدد علماء نےترجمے کیے  جسے   سعودی  حکومت  اور اشاعتی اداروں نے لاکھوں کی تعداد میں  شائع کر کے  فری تقسیم کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب التوحید‘‘  کا ترجمہ  محترم  جناب  سید شبیر احمد  صاحب نے کیا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کتاب میں ایک  تفصیلی مقدمہ کا اضافہ کیا ہے ۔جس میں  توحید کےبارے میں کچھ بنیادی اور اصولی گفتگو پیش کی  ہے  تاکہ ایک مسلمان یہ بات سمجھ سکے کہ دراصل توحید سے مراد کیا ہے ؟ اس کے تقاضے کیا ہیں ؟ اور ایک مسلمان اور موحد ہونے کی حیثیت سے اس پر کیا فرائض اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اس کے نتائج کیا ہیں؟اللہ تعالیٰ مترجم کی اس کوشش ومحنت  کوقبول فرمائیں اور قارئین کے لیے اس کومفید اور نفع بخش ثابت کرے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-kitab-al-kabair-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے ۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں ۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کےبارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے ۔اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے ، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بارے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چاروناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام،بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں ۔کبیرہ گناہ کا موضوع ہمیشہ علماء امت کی توجہ کامرکز رہا ہے چنانچہ اس پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور شروح حدیث وکتبِ اخلاق میں یہ بحث ضمناً بھی آئی ہے ۔مستقل تصانیف میں امام ذہبی ، شیخ احمد بن ہیثمی ،ابن النحاس، محمد بن عبدالوہاب، اور شیخ احمد بن حجر آل بوطامی ﷭ کی کتابیں قابل ذکر ہیں ۔ زير تبصره کتاب’’کتاب الکبائر‘‘ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی کتاب ’’ کتاب الکبائر‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں شیخ موصوف نے 124 ابواب کی صورت میں گناہ کبیرہ کو قرآنی آیات اور احادیث نبویہ ﷺ سے مزین کیا ہے ۔شیخ کی یہ کتاب مختصر ہونے کے باوجود اپنے موضوع میں بہترین کتاب ہے ۔ اس اہم کتاب کا ترجمہ مولانا محمود احمد غضنفر﷫(مترجم ومصف کتب کثیرہ ) نے کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کو ان کی محنتوں کابہترین صلہ عطا فرمائے ، کتاب کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے پڑھنے والوں کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1679 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں